بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ

کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی تم پر ایسی آزمائشیں نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں ‘ ان پر آفتیں اور مصیبتیں پہنچتیں اور وہ (اس قدر) جھنجھوڑ دیئے گئے کہ (اس وقت کے) رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سنو ! بیشک اللہ کی مدد عنقریب آئے گی

راہ حق میں پیش آنے والے مصائب :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ جسے چاہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے اور صراط مستقیم پر چلنے سے جنت حاصل ہوتی ہے ‘ اب اللہ تعالیٰ یہ بیان فرما رہا ہے کہ جنت کے حصول کے لیے صراط مستقیم پر چلنا آسان نہیں ہے ‘ اس راہ میں بہت مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور بہت مصیبتیں اٹھانی پڑتی ہیں ‘ بہت آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بہت قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلمان ہونا :

چوں میگویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلات لا الہ را۔

مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری اور مشرکین کی مخالفت ان کے ساتھ آئے دن کی لڑائیوں ‘ ان کے طعنوں ‘ استہزاء اور ان کی فتنہ سامانیوں سے گھبرانہ جانا ابھی تو تمہارا ایسی آزمائشوں سے سابقہ نہیں پڑا ہے جن آزمائشوں سے تم سے پہلے مسلمان گزر چکے ہیں۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت خباب بن ارت (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی ‘ اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے ‘ انہوں نے کہا : آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب کرتے اور ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اس کو گڑھے میں کھڑا کیا جاتا ‘ پھر آرے کو اس کے سر پر رکھ کر اس کا سارا جسم چیر دیا جاتا اور یہ چیز اس کو اس کے دین سے نہیں ہٹا سکتی تھی ‘ اور کسی شخص کے جسم کو لوہے کی کنگھی سے چھیل دیا جاتا ‘ وہ کنگھی اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں کو کاٹتی ہوئی چلی جاتی اور اس کے پائے ثبات میں جنبش نہیں آتی تھی۔ الحدیث (صحیح بخاری ج ١ ص ٥١٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ١١١، ١١٠۔ ١٠٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اس آیت کے شان نزول کے متعلق متعدد اقوال ہیں ‘ بعض نے کہا : یہ ہجرت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی ‘ بعض نے کہا : جنگ احد کے موقع پر نازل ہوئی ‘ امام ابن جریر طبری نے قتادہ کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ یہ آیت جنگ خندق کے موقع پر نازل ہوئی۔ ١ (امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٠ ا ٣ ھ ‘ جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٩٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) جب ٥ ہجری میں کفار کی متعدد جماعتیں مدینہ پر حملہ آور ہوئیں اور مسلمانوں نے شہر کے گرد خندق کھود کر مدینہ کا دفاع کیا ‘ ان دونوں میں سخت سردی پڑ رہی تھی اور مسلمانوں کے پاس ہتھیار اور خوراک کی بہت کمی تھی اور یہود کے تعاون سے مشرکین کے متعدد قبائل نے مرکز اسلام کا محاصرہ کیا ہوا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے سورة احزاب میں اس وقت مسلمانوں کی حالت کا اس طرح نقشہ کھینچا ہے :

(آیت) ” اذ جآء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر وتظنون باللہ الظنونا۔ ھنالک ابتلی المؤمنون وزلزلوا زلزالا شدیدا۔ (الاحزاب : ١١۔ ١٠)

ترجمہ : جب تمہارے اوپر اور نیچے سے کافر تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پتھرا کر رہ گئیں اور دل منہ کو آنے لگے ‘ اور تم اللہ کے متعلق (امید وبیم میں) طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کی آزمائش کی گئی تھی اور وہ نہایت سختی سے جھنجھوڑ دیئے گئے تھے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 214