حدیث نمبر :113

روایت ہے ابن دیلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں ابی ابن کعب۲؎ کی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیامیرے دل میں تقدیر کےمتعلق کچھ شکوک پڑ گئے۳؎ مجھے کوئی حدیث سنائیے شاید اﷲ میرے دل سے وہ دور فرمادے۴؎ فرمایا اگرا ﷲ تعالٰی اپنے آسمانی اور زمینی بندوں کو عذاب دے تو وہ ان پر ظالم نہیں۵؎ اور اگر ان پر رحم فرمادے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہے۶؎ اور اگر تم احد برابر سونا اﷲ کی راہ میں خیرات کرو تو اﷲ قبول نہ کرے گا،جب تک تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ۷؎ اور یہ نہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے بچ سکتا نہ تھا اور جو تم سے بچ گیا وہ تمہیں پہنچ سکتا نہ تھا۸؎ اور اگر تم اس کے سواکسی اور عقیدے پر مرے تو دوزخ میں جاؤ گے فرماتے ہیں پھر میں عبداﷲ ابن مسعود کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں حذیفہ ابن یمان کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں زید ابن ثابت ۹؎ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی۱۰؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ آپ کا نام ابوعبداﷲ یاابوعبدالرحمان ہے،ابن فیروز دیلمی حمیری فارسی النسل ہیں،آپ کے والد فیروز نے اسودعنسی کو قتل کیا جو مدعی نبوت تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرضِ وفات شریف میں جب اس قتل کی خبرپہنچی تو فرمایا کہ اسے نیک بندے نے قتل کیا،امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ۵۰ھ؁ میں انتقال ہوا،دیلمی صحابی ہیں اور ان کے بیٹے ابوعبدالرحمن تابعی،دیلم ایک پہاڑ کانام ہے۔

۲؎ آپ قراءصحابہ میں سے ہیں،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،کاتبِ وحی رہے ہیں،ان چھ صحابہ میں سے ہیں جو حضور کے زمانہ پاک میں حافظِ قرآن تھے۔اور حضور نے آپ کی کنیت ابوالمنذر رکھی تھی اور عمر فاروق نے ابوطفیل،حضورآپ کوسیدالانصار اور حضرت عمر سیّدالمسلمین کہتے تھے،مدینہ منورہ میں خلافت فاروقی ۱۹ھ؁ میں وفات پائی۔

۳؎ کہ جب ہر چیزلکھی جاچکی اور وہ ہو کے رہے گی تو شریعت کے احکام کس لیے ہیں اور سزا جزا کیوں ہے شاید یہ شبہات قدریوں کی صحبت سے پیش آئے ہوں۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ علماء کی خدمت میں،جانا اُن سے مسائل پوچھنا،اپنے شکوک نکالنا سنت صحابہ ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:”فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ”۔

۵؎ یعنی کیوں اور کیسے میں غور نہ کرو بلکہ یہ ایمان رکھو کہ رب مالک حقیقی ہے اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے۔ہم بکری ذبح کرلیتے ہیں،درختوں کو کاٹ کر جلا لیتے ہیں،کمہار ایک مٹی کو پیالہ بناتا ہے جو پانی میں رہے،دوسری کو ہانڈی جو آگ پر جلے،جب یہ کوئی ظالم نہیں،تو اگر رب تعالٰی ہمیں بے قصور جہنم میں ڈال دے تو ظالم کیوں ہو؟خیال رہے کہ یہ فرضی گفتگو ہے جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:”اِنۡ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیۡنَ “ورنہ انبیائےکرام اور جن سے جنت کا وعدہ ہوچکا اُن کا عذاب پانا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا رب کا شریک،رب تعالٰی جھوٹ سے پاک ہے،یہاں صرف یہ فرمایا گیا کہ بفرضِ محال اگر انہیں عذاب دے تو بھی ظالم نہیں کہ ظالم وہ جو دوسرے کی ملک میں بلا وجہ تصرف کرے۔

۶؎ یعنی اگر سارے بندوں کفارمرتدین وغیرہم کوبخش دے تو یہ اس کا رحم ہے،یہ کلام بھی فرضی ہے ورنہ ابلیس،اس فرعون،ابوجہل وغیرہ کا جنتی ہونا ناممکن ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:”لَا یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الْخِیَاطِ”۔

۷؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تقدیر کا انکار کفر ہے اور منکر کافر اسی لیے بعض علماء نے قدریوں کو کافر کہا ہے۔دوسرے یہ کہ کافر کی کوئی نیکی قبول نہیں جیسے بے وضو کی نماز درست نہیں۔تیسرے یہ کہ زمانۂٔ صحابہ میں اس قسم کے مسائل چھڑ گئے تھے جن کی تردید صحابۂ کبار کرتے تھے۔

۸؎ یعنی ہر مصیبت اور راحت رب تعالٰی کے ارادہ سے ہے اسباب کچھ بھی ہوں لہذا یہ نہ کہو کہ اگر اسے بخار نہ آتا تو نہ مرتا،یا اگر میں فلاں کام کرلیتا تو بیمار نہ ہوتا،موت بھی رب کی طرف سے ہے اور بخار بھی،بیماری بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہے اور وہ کام بھی۔

۹؎ آپ انصاری ہیں،کاتبِ وحی ہیں،علمِ فرائض کے بڑے عالم ہیں،صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے زمانہ میں قرآن کے جامع،عہد عثمانی میں مصحفوں میں قرآن کے ناقلین میں آپ بھی ہیں،۵۶ سال کی عمر پا کر ۴۵ھ؁ میں مدینہ پاک میں وفات پائی۔

۱۰؎ لہذا یہ حدیث مرفوع ہے اگرچہ ان تین صحابہ نے اس رفع کا اظہار نہ فرمایا۔