بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ مَاذَا يُنۡفِقُوۡنَ ؕ قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ کہیے کہ تم ماں باپ ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں پر جو اچھی چیز بھی خرچ کرو گے ‘ تو وہ ان کا حق ہے ‘ اور تم جو نیک کام بھی کرو گے تو بیشک اللہ کو اس کا علم ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ کہیے کہ تم ماں باپ ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں پر جو اچھی چیز بھی خرچ کرو گے تو وہ ان کا حق ہے۔ (البقرہ : ٢١٥)

راہ خدا میں مال خرچ کرنے کے مصارف :

اس سورت میں جن چیزوں کو زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے ‘ جیسا کہ شروع میں فرمایا تھا : (آیت “ ومما رزقنہم ینفقون “۔ (البقرہ : ٣) پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم بار بار دہرایا اور حج سے متعلق جن آیات کا ابھی ذکر ہوا ہے ان میں بھی صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ‘ نیز اس کے بعد آنے والی آیات میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے اور جہاد کا عظیم ستون بھی اللہ کی راہ میں مال کو خرچ کرنا ہے ‘ اس لیے اس آیت میں صدقہ اور خیرات کا ذکر فرمایا ہے ‘ نیز اس سے پہلی آیت میں بتایا تھا کہ مصائب پر صبر کرنا دخول جنت کا سبب ہے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا اور اس خرچ کرنا اور اس خرچ کی وجہ سے مالی نقصان پر صبر کرنا بھی دخول جنت کا سبب ہے۔ بہ ظاہر اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا کہ وہ اللہ کی راہ میں کیا چیز خرچ کریں ؟ لیکن سوال کے لائق یہ چیز نہیں تھی کہ وہ کیا خرچ کریں بلکہ سوال اس چیز کا کرنا چاہیے تھا کہ وہ مال کو کس طرح خرچ کریں ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جواب میں صدقہ کے مادہ کی بجائے پہلے صدقہ کے مصرف کا بیان فرمایا کہ تمہارے صدقات کے مستحق تمہارے والدین ‘ رشتہ دار ‘ یتیم ‘ مسکین اور مسافر ہیں ‘ اس آیت میں صدقہ کی مقدار کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ یہ آیت زکوۃ کی فرضیت سے پہلے نازل ہوئی تھی اور جب زکوۃ فرض ہوئی تو یہ بیان کردیا گیا کہ کس قدر مال پر کتنا وقت گزرنے کے بعد کتنی مقدار میں زکوۃ ادا کرنا واجب ہے اور اس کے کیا کیا مصارف ہیں ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں ‘ سدی نے کہا : یہ آیت زکوۃ کی فرضیت سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ ابن جریج نے کہا : یہ آیت نفلی صدقات سے متعلق ہے اور زکوۃ اس کے علاوہ ہے ‘ ابن زید کا بھی یہی قول ہے۔ جامع البیان ج ٢ ص ‘ ٢٠٠ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حافظ سیوطی ذکر کرتے ہیں :

امام ابن منذر نے امام ابن حبان سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمرو بن جموح نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہم اپنے مال میں سے کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٤٣‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

صدقہ کا مصرف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے صدقہ کا مادہ بیان فرمایا : تم جو ” خیر “ بھی خرچ کرو ‘ اور خیر حلال اور طیب چیز ہوتی ہے ‘ حلال سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز فی نفسہ حلال ہو جیسے بکری نہ کہ کتا اور خنزیر ‘ اور طیب سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز حلال ذرائع سے حاصل ہوئی ہو یعنی وہ چوری یا ڈاکہ سے حاصل شدہ بکری نہ ہو اگر وہ چوری یا ڈاکہ سے حاصل شدہ بکری ہے تو وہ فی نفسہ حلال تو ہے لیکن طیب نہیں ہے ‘ اس لیے اللہ کی راہ میں خیر کو خرچ کرو جو حلال اور طیب ہو ‘ اور تم اللہ کی راہ میں جس خیر کو بھی خرچ کرو گے اللہ کو اس کا علم ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 215