طورخم سے لیکر کراچی تک پھیلا ہوا تقریبا 12 ہزار کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک ، 73 ہزار سے زائد ملازمین رکھنے والا قومی ادارہ پاکستان ریلوے ۔ آئیے کچھ مزید تعارف حاصل کرتے ہیں ۔

کچھ عرصہ قبل سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوۓ چیئرمین ریلوے جاوید انور نے جو معلومات فراہم کیں انکے مطابق ریلوے کی 16159 ویگنز میں سے 9823 ویگنز اپنی مدت پوری کرچکیں ہیں ۔ 1822 مسافر کوچز میں سے 606 کوچز اپنی مقررہ مدت پوری کرچکیں ہیں ۔

ریلوے کے 13 ہزار 9 سو پلوں میں سے 11 ہزار پل سو سال پرانے ہیں

(مطلب گورے کیا کیا بنا چھوڑ گئے ، انہوں نے 1861 ء میں ہی ریلویز کی بنیاد رکھدی تھی )

زرداری دور حکومت میں 2011ء میں ریلوے کا منافع 15 ارب تھا جو نواز دور 2017ء میں 49.6 ارب ہوگیا ۔ جبکہ خسارہ 30 ارب تھا جو اب بڑھ کر 37 ارب ہوگیا ۔

زرداری دور کے وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے جس دلجمعی محنت اور جانفشانی سے ریلوے کا بیڑہ غرق کیا اسے تاریخ میں نسواری حروف میں لکھا جاۓ گا ۔ جب سعد رفیق کو وزارت ریلوے ملی اس وقت ریلوے ICU میں کومہ کی حالت میں پڑی تھی اور غلام احمد بلور احتیاطا ریلوے کی قبر بھی کھود چکے تھے کہ بعد والوں کو زیادہ کشٹ نہ اٹھانا پڑے ۔ ریلوے انجنوں میں جعلی آئل استعمال ہوتا رہا ، ڈیزل کے ٹینکر خالی تھے ۔ ایسے مشکل حالات میں سعد رفیق نے ریلوے کی بہتری کے لیے بہت کوشش کی ، جس کریڈٹ اُن کا حق ہے ، اگرچہ ویسی بہتری نہیں آئی جو پانچ سال میں آ جانی چاہیے تھی یہ ضرور ہے کہ کومےمیں پڑا ریلوے ہاتھ پاٶں مارنے لگا ، ٹرینوں کی مقررہ وقت پر آمد و روانگی میں بہت بہتری آئی ۔ آج بھی ریلوے بہت خسارے میں ہے ۔ بلکہ سپریم کورٹ میں جو آڈٹ رپورٹ پیش کی گئ اس میں حالات بدتر ہیں ۔ اب باری ہے شیخ رشید صاحب کی ، دیکھتے ہیں کہ وہ بھڑکیلی تقریروں ، ٹی وی پر جلوہ افروزیوں اور سری پاۓ کے ناشتوں کے ساتھ ساتھ کچھ ڈیلیور بھی کرتے ہیں یا نہیں ؟؟؟ پانچ سال بعد جب ان کی کارکردگی کا موازنہ کیا جاۓ گا تو تب پتا چلے گا شیخ صاحب کتنے پانی میں ہیں ۔

محمد دلشاد