بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ اُولٰٓٮِٕكَ يَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ‘ وہ لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ‘ اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔۔ (البقرہ : ٢١٨)

. دارالاسلام ‘ دارالکفر ‘ اور دارالحرب کی تعریفات :

پہلے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بیان فرمایا تھا جن کے لیے قطعی طور پر جہنم ہے ‘ اب ان لوگوں کا بیان فرمایا رہا ہے جو جنت کی امید رکھنے کے حق دار ہیں۔ مسلمانوں پر پہلے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا اور فتح مکہ کے بعد ہجرت منسوخ ہوگئی کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت ہے ‘۔ ١ (امام محمد اسماعیل بخاری (رح) متوفی ٢٥٧ ھ صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٣٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

البتہ جب کبھی کہیں مکہ جیسے حالات پیدا ہوں جہاں اس کا ایمان ‘ جان ‘ مال اور عزت محفوظ نہ ہو تو اس کے لیے وہاں سے ہجرت کرنا واجب ہے۔ آج کل جس قدر کافر ملک ہیں کسی میں ایسے حالات نہیں ہیں ‘ ہوسکتا ہے اسرائیل میں یہ کیفیت ہو ‘ اس لیے ان ممالک سے ہجرت کرنا واجب نہیں ہے ‘ بلکہ برطانیہ ‘ مغربی جرمنی ‘ کینیڈا فرانس اور ہالینڈ میں رہنے والے مسلمان پاکستان سے زیادہ مامون اور محفوظ ہیں ‘ یہ تمام ملک دارالکفر ہیں اور جن ملکوں سے بالفعل حالت جنگ بر پا ہو وہ دارالحرب ہیں اور جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور ان میں نظام اسلام جاری کرنے کی اہلیت ہو وہ دارالاسلام ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 218