بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِؕ وَيَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰىؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّهُمۡ خَيۡرٌ ؕ وَاِنۡ تُخَالِطُوۡهُمۡ فَاِخۡوَانُكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعۡنَتَكُمۡؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ

دنیا اور آخرت کے کاموں میں ‘ اور یہ لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ ان کی خیرخواہی کرنا بہتر ہے (رض) اور اگر تم اپنا اور ان کا خرچ مشترک رکھو (تو کوئی حرج نہیں) وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں ‘ اور اللہ جانتا ہے کہ کون خیر خواہی کرنے والا ہے اور کون بدخواہی کرنے والا اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ضرور سختی میں ڈال دیتا ‘ بیشک اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

زیر کفالت یتیم کے ساتھ طرز معاشرت :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے متعلق سوال کا ذکر کیا گیا تھا ‘ اس آیت میں مال خرچ کرنے کا ایک مصرف اور محل بتایا ہے کہ جو چیزیں تمہاری ضرورت سے زائد ہوں ان کو یتیموں پر خرچ کرو۔

اس آیت کے شان نزول کے متعلق حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابوداؤد امام نسائی ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن ابی حاتم ‘ امام حاکم اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں۔

(آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن حتی یبلغ اشدہ : (الانعام : ١٥٢)

ترجمہ : اور اچھے طریقہ کے سوا مال یتیم کے قریب نہ جاؤ حتی کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔

(آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا “۔ (النساء : ١٠)

ترجمہ : بیشک جو لوگ ناجائز طور پر یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ پھر رہے ہیں ‘ اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں پہنچیں گے “۔۔

تو ہر وہ شخص جس کی زیر کفالت کوئی یتیم تھا ‘ اس نے اپنا اور یتیم کا کھانا الگ الگ کرلیا ‘ بعض اوقات یتیم کا کھانا بچ جاتا اور بعد میں سڑ کر خراب ہوجاتا ‘ نیز الگ الگ دو سالن پکانے میں مشقت اور دشواری مستزاد تھی ‘ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یتیم کے مال کے ضیاع اور اپنی دشواری کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر تم خیرخواہی کی نیت سے اپنا اور ان کا کھانا مشترک رکھو تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر اللہ چاہتا تو (یہ آسانی مہیا نہ کرکے) تم کو مشقت میں ڈال دیتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ غالب ہونے کے ساتھ ساتھ حکمت والا بھی ہے (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٥٥‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ اللہ پر دلوں کا حال روشن ہے ‘ وہ خیرخواہ اور بدخواہ کو جانتا ہے اس کو علم ہے کہ یتیم کے مال کو ضیاع سے بچانے کے لیے کون مشترک کھانا پکایا کرتا ہے اور یتیم کے مال سے (بطور خیانت) فائدہ اٹھانے کے لیے کون ایسا کرتا ہے ‘ یتیم کی خیرخواہی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے نقد مال اور باقی رہنے والی چیزوں کو الگ اس کے حساب میں رکھو اور جو چیزیں جلد خراب ہونے والی ہیں ان میں اپنا اور یتیم کا کھاتہ بہ قدر حساب مشترک رکھو۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیک نیتی اور خیرخواہی کے ساتھ یتیم کا ولی یتیم کے مال میں تصرف کرسکتا ہے ‘ یتیم کے مال کی خریدوفروخت اور اس میں تجارت اور مضاربت کرسکتا ہے اور اگر یتیم کا فائدہ ہو تو یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر تجارت بھی کرسکتا ہے اور مضاربت بھی۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کے ساتھ اختلاط کی اجازت دی ہے تو ان کے مال کے ساتھ بھی اختلاط کرسکتا ہے اور ان کے نسب کے ساتھ بھی ‘ یتیم لڑکے کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کرسکتا ہے اور یتیم لڑکی کے ساتھ اپنے بیٹے کا نکاح کرسکتا ہے اور خود بھی اس سے نکاح کرسکتا ہے بشرطیکہ ان تمام مالی اور جسمانی تصرفات سے یتیم کی خیرخواہی مقصود ہو ‘ اس کے مال اور نفس سے اپنے خود غرضانہ فوائد مطلوب نہ ہوں۔