بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ‌ؕ قُلۡ فِيۡهِمَآ اِثۡمٌ کَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا ؕ وَيَسۡـــَٔلُوۡنَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الۡعَفۡوَ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَۙ

لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے (بھی) ہیں ‘ اور ان کا گناہ ان کے فائدہ سے زیادہ بڑا ہے ‘ اور یہ آپ سے سوال کرتے ہیں۔ کہ کیا چیز خرچ کریں ‘ آپ کہیے کہ جو ضرورت سے زائد ہو ‘ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات بیان فرماتا ہے تاکہ تم تدبر کرو

قرآن مجید سے خمر (شراب) کی تحریم کا بیان :

اس سے پہلی آیت میں جہاد کا بیان کیا گیا تھا اور عربی میں شراب پینے کا عام رواج تھا اور شراب اور جہاد دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ شراب کے نشہ میں انسان کو اپنے پرائے کی تمیز نہیں رہتی تو ایسا شخص کافروں سے جہاد کب کرسکتا ہے نیز وہ شراب کے نشہ میں جوا کھیلا کرتے تھے اور جیتی ہوئی رقم غریبوں میں تقسیم کرتے تھے اور یہ ظاہر یہ اچھا کام تھا اس لیے صحابہ نے ان دونوں کا حکم معلوم کیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اگرچہ اس میں کچھ لوگوں کا فائدہ ہے ‘ لیکن ان کا نقصان زیادہ ہے کیونکہ شراب کے نشہ سے عقل زائل ہوجاتی ہے اور انسان جھوٹ بولتا ہے اور گالم گلوچ کرتا ہے اور جوئے کے ذریعہ دوسروں کا امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

زید بن علی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خمر (شراب) کے متعلق تین آیتیں نازل کی ہیں ‘ ایک یہ آیت ہے (شراب پینے سے وقتی جوش اور ہیجان پیدا ہوتا ہے اور جوئے کے ذریعہ آسانی سے جیتی ہوئی رقم حاصل ہوجاتی ہے اور زمانہ جاہلیت میں یہ رقم غرباء پر خیرات کردی جاتی تھی ‘ ان فوائد کی بناء لوگوں نے آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اگرچہ ان میں کچھ فائدہ ہے لیکن ان کا نقصان زیادہ ہے) تب لوگوں نے شراب پینے کے معمول کو جاری رکھا حتی کہ دو آدمیوں نے شراب پی کہ نماز پڑھی اور نماز میں بدکلامی کی ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ماتقولون “۔ (النساء : ٤٣۔ ٤٢)

ترجمہ : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں تم نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کہ کہہ رہے ہو۔

پھر جو لوگ شراب پیتے تھے وہ نماز کے اوقات میں شراب سے اجتناب کرتے تھے ‘ حتی کہ ایک دن ابو القموس نے نشہ کی حالت میں مقتولین بدر کے نوحہ اور مرثیہ میں چند اشعار پڑھے جن میں مقتولین بدر کی تعظیم اور تکریم کی ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی تو آپ غضب میں گھبرائے ہوئے چادر کو گھسٹیتے ہوئے آئے جب اس نے آپ کو دیکھا تو آپ نے اس کو مارنے کے کوئی چیز اٹھائی ‘ اس نے کہا : میں اللہ اور اس کے غضب سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ‘ بہ خدا ! میں اب کبھی شراب نہیں پیوں گا تب یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنوہ لعلکم تفلحون۔ انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضآء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔۔ (المائدہ : ٩٠)

ترجمہ : اے ایمان والو ! خمر (شراب) جوا ‘ بتوں کے چڑھا ووں کی جگہ اور بتوں کے پاس فال نکالنے کے تیر محض ناپاک ہیں ‘ ان سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان کا صرف یہ ارادہ ہے کہ وہ شراب اور جوئے کے سبب سے تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کردے ‘ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے ‘ تو کیا تم باز آنے والے ہو ؟۔

حضرت عمر (رض) نے جب یہ آیت سنی تو کہا : ہم باز آئے ‘ ہم باز آئے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٢١١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اس آیت میں شراب کی حرمت پر دس دلیلیں ہیں :

(١) شراب کا ذکر ‘ جوئے ‘ بتوں کے چڑھاؤوں کی جگہ اور بتوں کے پاس فال نکالنے کے تیروں کے ساتھ کیا ہے اور یہ سب حرام ہیں۔

(٢) شراب کو رجس (نجس) فرمایا اور ہر نجس چیز حرام ہے۔

(٣) شراب کو شیطانی کام فرمایا اور شیطانی کام حرام ہیں۔

(٤) شراب پینے سے اجتناب کا حکم دیا ‘ لہذا اس سے اجتناب کرنا فرض ہوا اور جس سے اجتناب فرض ہو اس اس کا ارتکاب حرام ہے۔

(٥) حصول فلاح کو شراب سے اجتناب پر معلق فرمایا ‘ اس لیے اس سے اجتناب فرض اور اس کا ارتکاب حرام ہوا۔

(٦) شراب کے سبب سے شیطان عداوت پیدا کرتا ہے ‘ اور عداوت حرام ہے اور حرام کا سبب بھی حرام ہوتا ہے ‘ لہذا شراب حرام ہوئی۔

(٧) شراب کے سبب سے شیطان بغض پیدا کرتا ہے اور بغض حرام ہے۔

(٨) شراب کی تاثیر سے شیطان اللہ کے ذکر سے روکتا ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنا حرام ہے۔

(٩) شراب کی تاثیر سے شیطان نماز سے روکتا ہے اور نماز سے روکنا حرام ہے۔

(١٠) اللہ تعالیٰ نے استفہاما انتہائی بلیغ ممانعت کرتے ہوئے فرمایا : کیا تم (شراب نوشی سے) باز آنے والے ہو ؟

احادیث سے خمر (شراب) کی تحریم کا بیان :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دنیا میں خمر (شراب) پی وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ زنا کرتے وقت زانی میں ایمان (کامل) نہیں ہوتا اور خمر پیتے وقت شرابی میں ایمان (کامل) نہیں ہوتا اور چوری کرتے وقت چور میں ایمان (کامل) نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٣٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوعبیدہ ‘ حضرت ابوطلحہ اور حضرت ابی بن کعب کو ادھ پکی کھجوروں اور چھوراوں کی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے کہا : خمر کو حرام کردیا گیا ‘ تو حضرت ابو طلحہ نے کہا : اے انس ‘ ! اٹھو اور اس تمام شراب کو انڈیل دو ۔

حضرت ابو مالک یا حضرت ابو مالک اشعری (رض) نے بیان کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا ‘ ریشم ‘ خمر اور آلات موسیقی کو حلال کہیں گے اور عنقریب کچھ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہیں گے ‘ جب شام کو وہ اپنے جانوروں کا ریوڑ لے کر لوٹیں گے اور ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت لے کر آئے گا تو کہیں گے : کل آنا۔ اللہ تعالیٰ پہاڑ گرا کر ان کو ہلاک کردے گا ‘ اور دوسرے لوگوں (زنا ‘ شراب اور آلات موسیقی کو حلال کرنے والوں) کو مسخ کرکے قیامت کے دن بندر اور خنزیر بنا دے گا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٣٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ عمر نے دعا کی کہ اے اللہ ! خمر کے متعلق شافی حکم بیان فرما تو سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر “۔ (البقرہ : ٢١٩) عمر نے پھر دعا کی تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “ (النساء : ٤٣ ) “ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے نداء کی کہ کوئی شخص نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جائے ‘ عمر نے پھر دعا کی : اے اللہ ! خمر کے متعلق شافی حکم نازل فرما تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” فھل انتم منتھون “۔۔ (المائدہ : ٩٠) حضرت عمر نے کہا : ہم باز آگئے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٦١‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ لے وہ خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے کسی نشہ آور چیز کو پیا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقص ہوجائیں گی ‘ اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالے گا اور اگر اس نے چوتھی بار شراب پی تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو طینۃ الخبال سے پلائے۔ پوچھا گیا کہ طینۃ الخبال کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دوزخیوں کی پیپ۔

(سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٦٢‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے خمر پر لعنت فرمائی ہے اور خمر پینے والے پر ‘ پلانے والے پربیچنے والے پر ‘ خریدنے والے پر ‘ خمر کو (انگوروں سے) نچوڑنے والے پر ‘ اس کو بنانے والے پر ‘ خمر کو لادنے والے پر اور جس کے پاس لاد کر لائی جائے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٦١‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص خمر پئے اس کو کوڑے مارو ‘ اگر وہ چوتھی بار پئے تو اس کو قتل کردو۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٢٢٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں :

حسن بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خمر پینے کی بناء پر اسی کوڑے مارے۔ (المصنف ج ٧ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

امام طحاوی روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص خمر پئے اس کو اسی کوڑے مارو۔ (شرح معانی الآثار ج ٣ ص ٩١ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور ‘ ١٤٠٤ ھ)

خمرکی تعریف میں ائمہ مذاہب کا نظریہ اور امام ابوحنیفہ کے مؤقف پر دلائل :

امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور اس کے پینے پر حد واجب ہے خواہ قلیل مقدار میں پئے یاکثیر مقدار میں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٥٢ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

اور امام ابوحنیفہ (رح) کے مذہب کے متعلق شمس الائمہ سرخسی لکھتے ہیں :

قرآن مجید نے خمر کو حرام کیا ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک خمر اس کچے شیرے کا نام ہے جو پڑے پڑے جوش کھانے لگے اور جھاگ چھوڑ دے ‘ اس کو دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” ارینی اعصر خمرا “ (یوسف : ٣٦) میں نے خمر کو نچوڑ رہا ہوں ” یعنی انگوروں کو نچوڑ رہا ہوں جو خمر ہوجائیں گے۔ (المبسوط ج ٢ ص ٢٤‘ مبطوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :

امام ابوحنیفہ کے نزدیک صرف خمر حرام قطعی ہے ‘ اس کا پینا ‘ پلانا ‘ بیچنا ‘ خریدنا ‘ رکھنا سب حرام قطی ہے ‘ خمر کے علاوہ تین مشروب اور حرام ہیں : ایک بازق ہے یعنی انگور کا پکا ہواشیرہ جو پکنے کے بعد ایک تہائی رہ جائے یا جو پڑے پڑے جوش کھانے لگے اور جھاگ چھوڑ دے ‘ دوسرا سکر ہے یعنی تازہ کھجوروں کا کچا شیرہ جب جھاگ چھوڑ دے ‘ تیسرا نقیع الزبیب ہے یعنی کشمش کا کچا شیرہ جو پڑے پڑے جھاگ چھوڑ دے۔ (رد المختار ج ٥ ص ٢٩٠۔ ٢٨٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

ان تینوں مشروبات کی حرمت ظنی ہے اور ان کی نجاست حفیفہ ہے جب کہ نشہ آور مقدار میں پیا جائے اور اس سے کم مقدار میں یہ حرام ہیں نہ نجس۔

علامہ مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

خمر کا ایک قطرہ بھی پی لیا جائے تو حد واجب ہوگی ‘ اور باقی تین شرابوں کے پینے سے اس وقت حد واجب ہوگی جب نشہ ہوجائے۔ (ہدایہ اخیرین ص ٤٩٥‘ مطبوعہ شرکۃ علمیہ ‘ ملتان)

امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ خمر تو بعینہ حرام ہے اور باقی نشہ آور مشروب اگر مقدار نشہ میں پئے جائیں تو وہ بھی حرام ہیں اور اگر اس سے کم مقدار میں پئے جائیں تو وہ حرام نہیں ہیں اور باقی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک جو مشروب نشہ آور ہو وہ خمر ہو یا کوئی اور مشروب خواہ وہ قلیل مقدار میں پیا جائے یا کثیر مقدار میں وہ بہرحال حرام ہے ‘ امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ حدیث ہے۔

امام ابوحنیفہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : خمر (مطلقا) حرام کی گئی ہے خواہ قلیل ہو یا کثیر اور ہر مشروب میں سے نشہ آور (مقدار) کو حرام کیا گیا ہے۔ (مسند امام اعظم ص ٣٥٤‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ‘ کراچی)

امام ابو یوسف نے بھی اس حدیث کو امام ابوحنیفہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ (کتاب الآثار ص ٢٢٨)

امام ابن ابی شیبہ۔ ١ (امام ابوبکر احمد بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ ‘ المصنف ج ٥ ص ٨ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی)

اور امام دارقطنی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (سنن دار قطنی ج ٤ ص ٢٥٦‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان) امام طبرانی تین مختلف اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : شراب کو بعینہ حرام کیا گیا ہے اور ہر مشروب میں سے نشہ آور مقدار کو۔ ( معجم کبیر ج ١٠ ص ‘ ٣٣٩۔ ٣٣٨ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ بعض سندوں کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٥ ص ‘ ٥٣ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام نسائی نے اس حدیث کو چار مختلف سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٨ ص ‘ ٢٩٧ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

ہم نے اس حدیث کے متعدد طرق اور اسانید اس لیے بیان کیے ہیں کہ تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ جس حدیث پر امام ابوحنیفہ کے مسلک کی بنیاد ہے وہ بہت قوی حدیث ہے اور جس حدیث میں ہے کہ جس مشروب کی کثیر مقدار حرام ہے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ‘ یہ حدیث ضعیف ہے ‘ ” شرح صحیح مسلم “ جلد سادس میں ہم نے اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور امام ابوحنیفہ کی تائید میں بہت سی احادیث اور آثار نقل کیے ہیں۔

جوئے کی تعریف اور اس کے حرام ہونے کا بیان :

عربی میں جوئے کے لیے میسرا ور قمار دونوں لفظ استعمال کیے جاتے ہیں میسر کا لفظ یسر سے بنا ہے جس کا معنی آسانی ہے ‘ چونکہ جوئے میں جتنے والا آسانی سے رقم حاصل کرلیتا ہے اس لیے اس کو میسر کہتے ہیں ‘ میر سید شریف قمار کی تعریف میں لکھتے ہیں :

ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط ہو کر مغلوب کی کوئی چیز غالب کو دے دی جائے گی قمار ہے۔ (التعریفات ص ٧٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

قمار قمر سے ماخوذ ہے جو کبھی کم ہوتا ہے کبھی زیادہ اور جوئے کو قمار اس لیے کہتے ہیں کہ جوا کھیلنے والوں میں سے ہر ایک اپنا مال اپنے ساتھی کو دینے اور اپنے ساتھی کا مال لینے کو (شرط کے ساتھ) جائز سمجھتا ہے اور یہ نص قرآن سے حرام ہے اور اگر صرف ایک جانب سے شرط لگائی جائے تو جائز ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ‘ ٢٥٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

اہل علم کا قمار کے عدم جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور باہم شرط لگانا بھی قمار ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : آپس میں شرط لگانا قمار ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے مال اور بیوی کی شرط لگاتے تھے ‘ پہلے یہ مباح تھا ‘ بعد میں اس کی تحریم نازل ہوگئی ‘ جب سورة روم نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر نے رومیوں کے ایرانیوں سے غالب ہونے پر مشرکین سے شرط لگائی تھی۔ نبی کریم فرمایا : شرط میں زیادتی کرو اور مدت بڑھا دو ‘ پھر بعد میں اس سے منع فرمایا اور قمار کی حرمت نازل ہوگئی اس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ البتہ شتر سواری ‘ گھوڑے سواری اور نیزے بازی کی سابقیت کی شرط لگانے کی رخصت ہے بلکہ سب سے آگے نکلنے والے کو انعام دیا جائے اور پیچھے رہ جانے والے کو نہ دیا جائے اور اگر یہ شرط لگائی جائے کہ دونوں میں سے جو آگے نکل جائے گا وہ لے گا جو پیچھے رہ جائے گا وہ دے گا تو یہ ناجائز ہے اور اگر وہ کسی تیسرے شخص کو داخل کردیں کہ اگر وہ آگے نکل گیا تو لے گا اور اگر پیچھے رہ گیا تو کچھ نہیں دے گا یہ جائز ہے ‘ اس دخیل کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محلل فرمایا ہے (احکام القرآن ج ١ ص ٣٢٩‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

لاٹری اور انعامی بانڈز وغیرہ کا شرعی حکم :

لاٹری ‘ معمہ بازی ‘ ریس کورس میں گھڑ دوڑ ‘ تاش ‘ شطرنج ‘ کیرم اور دیگر کھیلوں میں ہار جیت پر رقمیں لگانا ‘ کرکٹ ‘ فٹ بال اور سکوائش وغیرہ کے ملکی اور بین الاقوامی کھیلوں میں سٹہ کھیلنا یہ سب قمار اور میسر (جوا) ہیں ‘ گناہ کبیرہ اور حرام قطعی ہیں ‘ انعامی بانڈز پر جو انعامی رقم ملتی ہے وہ جائز ہے ‘ قمار نہیں کیونکہ اس میں کسی فرد کی رقم ضائع نہیں ہوتی ‘ ہر شخص جب چاہے اپنے بانڈز کو بینک سے کیش کرا سکتا ہے اس میں خریداری کی ترغیب دینے کے لیے بعض نمبروں پر حکومت انعام کی رقم کا اعلان کرتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے بعض صابن ساز ادارے یا ٹوٹھ پیسٹ بنانے والے کوئی اسکیم جاری کرتے ہیں اور خریداروں کو کوئی اضافی چیز انعام میں دیتے ہیں یا بعض ٹھنڈے مشروبات والے (مثلا کو کا کو لا) بوتل کے بعض ڈھکنوں پر انعامی رقم رکھتے ہیں۔ اس کی تفصیل اور تحقیق ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد رابع ہیں بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں آپ کہئے کہ جو ضرورت سے زائد ہو۔ (البقرہ : ٢١٩)

اس آیت کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ شراب اور جوئے میں گناہ زیادہ ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ شراب اور جوائے سے روحانی اور بدنی بیماری ہوتی ہے اور ان میں پیشہ خرچ کرنا لائق مذمت۔ تب یہ سوال پیدا ہوا کہ کس چیز میں پیسہ خرچ کرنا لائق تحسین ہے ؟ اور چونکہ اس کلام کا سیاق جہاد ہے اور جہاد کا عظیم ستون اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے ‘ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اس سوال کو پھر دہرایا کہ کیا چیز خرچ کریں ؟ آپ کہیے کہ ” عفو “ جو ضرورت سے زائد ہو۔

” عفو “ (زائد از ضرورت) کے معانی اور محامل :

حافظ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :

امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ضرورت سے زائد خرچ کرنے کا حکم اس وقت تھا جب زکوۃ فرض نہیں ہوئی تھی۔

امام طبرانی اور امام بیہقی نے ” عفو “ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جو چیز اہل و عیال پر خرچ کرنے سے بچ رہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کی جائے۔

امام ابن المنذر نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ ” عفو “ کے تین معنی ہیں۔

(١) گناہ سے درگزر کرنا۔

(٢) میانہ روی سے خرچ کرنا اور اس آیت میں یہی مراد ہے یعنی اللہ کی راہ میں میانہ روی سے خرچ کرو

(٣) لوگوں کے ساتھ احسان کرنا ‘ یہ معنی اس آیت میں ہے (آیت) ” اویعفوا الذی بیدہ عقدۃ النکاح “۔ (البقرہ : ٢٣٧) (دخول سے پہلے مطلقہ عورت کو) شوہر بہ طور احسان نصف مہر سے زیادہ دے دے “۔

امام عبد بن حمید نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ ” عفو “ کا معنی ہے : ضرورت سے زائد۔

امام عبد بن حمید نے طاؤس سے روایت کیا ہے کہ ” عفو “ کا معنی ہے : جس کا خرچ کرنا آسان ہو ‘ اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد زکوۃ ہے۔

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) سے ” عفو “ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد صدقہ کی کوئی معین مقدار نہیں ہے اس کے بعد فرائض کو معین کرکے نازل کیا گیا ہے ‘ نیز امام ابن جریر نے سدی سے ” عفو “ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ اس حکم کو زکوۃ نے منسوخ کردیا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

” عفو “ کے لفظ سے سوشلزم کے جواز پر استدلال اور اس کا جواب :

جمہوری طریقہ سے رائے عامہ کو ہموار کرکے سیاسی اقتدارپرقبضہ کرنا اور اسمبلی کی منظوری سے زرعی ‘ صنعتی اور تجارتی اداروں کو انکے مالکوں سے معاوضہ دے کر یا بلامعاوضہ چھین کر قومیالینا سوشلزم ہے اور نادار اور محنت کش عوام کو منظم کرکے تاجروں ‘ صنعت کاروں اور زمینداروں کے خلاف جنگ کرکے انقلاب لانا اور تمام پیداواری اداروں کو قومیالینا کمیونزم ہے۔

١٩٧٠ ء میں جب پاکستان میں سوشلزم کا زور تھا اس وقت بعض سوشلسٹ علماء نے اس آیت سے سوشلزم کے اسلامی ہونے پر استدلال کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ضرورت سے زائد ہر چیز کو خرچ کرنے کا حکم دیا ہے ‘ لہذا تمام بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کو قومی ملکیت میں لینا جائز ہے کیونکہ وہ تمام ادارے ان کے مالکوں کی ضرورت ہے زائد ہیں ‘ اس وقت اس کے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ اس آیت میں راہ خدا میں خرچ کرنے اور دینے کا حکم ہے ‘ لوگوں کے اموال کو بالجبر لینے یا قومیانے کا حکم نہیں ہے ‘ نیز یہ حکم بہ طور استحباب ہے ‘ بہ طور فرض نہیں ہے ‘ فرض صرف زکوۃ اور زرعی پیداوار سے عشر یا نصف عشر ادا کرنا ہے۔

اب ہم اس آیت کو ذرا زیادہ گہرائی سے دیکھتے ہیں ‘ اس آیت میں لفظ ” عفو “ سے استدلال کیا گیا ہے ہم نے ائمہ تفسیر سے اس لفظ کے تین معنی نقل کیے ہیں : زائد از ضرورت ‘ میانہ روی اور آسان۔ جن صحابہ ‘ تابعین اور ائمہ تفسیر نے اس کا معنی زائد از ضرورت بیان کیا ہے انہوں نے تصریح کردی ہے کہ زائد از ضرورت مال خرچ کرنے کا حکم زکوۃ کی فرضیت اور اس کی مقدار بیان کرنے سے پہلے تھا ‘ اور اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہوگیا ‘ اور جن ائمہ تفسیر نے یہ بیان کیا کہ اس کا معنی ہے : راہ خدا میں میانہ روی سے خرچ کرو یا جس کا خرچ کرنا آسان ہو اس کو خرچ کرو ‘ سو اس معنی میں یہ حکم اب بھی باقی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر ” عفو “ کا معنی زائد ہے از ضرورت ہے تو زکوۃ کی فرضیت کے بعد یہ حکم منسوخ ہوگیا اور اگر اس کا معنی ہے : میانہ روی سے خرچ کرنا یا جس کو خرچ کرنا آسان ہو اس کو خرچ کرنا تو یہ حکم اب بھی باقی ہے۔ ہم نے جو کچھ لکھا اس کی تائید حسب ذیل احادیث سے ہوتی ہے :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام بخاری اور امام نسائی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوشحالی رہے ‘ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے (یعنی سارا مال صدقہ نہ کرو کہ اس کے بعد بھیک مانگتے پھرو) خرچ کی ابتداء اپنے اہل و عیال سے کرو ‘ بیوی کہے گی : یا مجھے نفقہ دو یا مجھے طلاق دو ‘ خادم کہے گا : مجھے کھانا دو اور مجھ سے کام لو ‘ بیٹا کہے گا : مجھے کھلاؤ تم مجھے کس پر چھوڑتے ہو ؟

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو داؤد اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوشحالی رہے اور خرچ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو

امام ابو داؤد ‘ امام نسائی ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن حبان اور امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ : میرے پاس ایک دینار ہے ‘ آپ نے فرمایا : میرے پاس ایک اور دینار ہے ‘ آپ نے فرمایا : اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو ‘ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینار ہے ‘ آپ نے فرمایا : اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو ‘ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینار ہے ‘ آپ نے فرمایا : تم اس کے خرچ کے متعلق بہتر جانتے ہو۔

امام ابن سعد ‘ امام ابوداؤد اور امام حاکم نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص انڈے کے برابر سونے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ! مجھے ایک معدن (کان) سے یہ سونا ملا ہے ‘ میں اس کو صدقہ کرتا ہوں ‘ آپ اس کو لے لیجئے میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض کیا : اس نے دوبارہ پیچھے سے آکر عرض کیا ‘ آپ نے اس سے وہ سونا لے کر اس کی طرف اتنے زور سے پھینکا کہ اگر اس کو لگ جاتا تو اس کو بہت چوٹ لگتی یا اس کی آنکھ پھوٹ جاتی ‘ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنا (کل) مال لے کر میرے پاس آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے ‘ پھر وہ بیٹھ کر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائے گا ‘ بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوشحالی رہے اور خرچ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٥٤۔ ٢٥٣‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ اپنی ضرورت سے زائد کل مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا شرعا محمود اور مستحسن بھی نہیں ہے۔ اگر ہر شخص پر یہ لازم ہوتا کہ وہ اپنی ضرورت سے زائد چیز خدا کی راہ میں دے دے تو کوئی شخص صاحب نصاب نہ ہوتا نہ کسی کے نصاب پر سال گزرتا اور پھر زکوۃ کا فرض کرنا بالکل لغو اور بےفائدہ ہوتا ‘ نہ کسی شخص پر قربانی واجب ہوتی نہ کسی پر حج فرض ہوتا ‘ نہ صدقہ فطرہوتا تو پھر قربانی اور حج کی مشروعیت کے احکام بھی عبث ہوتے ‘ کیونکہ جب مال جمع کرنا شرعا جائز ہی نہیں ہے تو پھر ان احکام کے کیا معنی ؟ اور عشر اور نصف عشر کے احکام صحیح نہ ہوتے ‘ یہ حکم نہ ہوتا کہ اپنی زرعی پیداوار کا دسواں حصہ راہ خدا میں دو بلکہ یہ حکم ہوتا کہ اپنی ضرورت کا غلہ رکھ کر باقی سارا غلہ راہ خدا میں دے دو ‘ چور کا ہاتھ کاٹنا بھی غلط ہوتا بلکہ الٹا چور مالک سے باز پرس کر تاکہ تم نے اتنا مال جمع ہی کیوں کیا جس کو چرایا جاسکے ‘ غرضیکہ سوشلسٹ علماء کے مزعوم کے مطابق اگر اس آیت کی (برخود غلط) تفسیر کی گئی تو ساری شریعت اسلامیہ ہی غلط ہوجائے گی۔ العیاذ باللہ !

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 219