حدیث نمبر :118

روایت ہےحضرت ابی نضرہ سے ۱؎ کہ حضور کے صحابہ میں سے ایک صاحب جنہیں ابوعبداﷲ کہا جاتا تھا ان کی بیمار پُرسی کے لیئے ان کے دوست گئے وہ رو رہے تھے۲؎ تو یہ حضرات بولے کیوں روتے ہو؟کیا تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا تھا اپنی مونچھیں کٹواؤ پھر اس کے پابند رہو یہاں تک کہ مجھے ملو۳؎ وہ بولے ہاں لیکن میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ عزوجل نے اپنے داہنے ہاتھ میں ایک مٹھی لی اور دوسری دوسرے ہاتھ میں۴؎ اور فرمایا کہ یہ اس کے لیئے ہے اور یہ اس کے لیئے۵؎ اور مجھے پروا ہ نہیں اور مجھے خبر نہیں کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۶؎(احمد)

شرح

۱؎ آپ نضرہ ابن منذر ابن مالک جوہدی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،خواجہ حسن بصری سے کچھ پہلے بصرہ میں ہوئے، ۱۰۷ھ؁ میں وہیں وفات پائی۔

۲؎ موت کے خوف یا بیماری کی تکلیف سے نہیں بلکہ خوفِ خدا سے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے اس وقت یہ حالت اﷲ کی خاص رحمت ہے ان صحابی کا نام معلوم نہ ہوسکا،ظاہر ہے کہ عیادت کرنے والے حضرات صحابہ کرام بھی تھے اور تابعین بھی۔

۳؎ یعنی اے صحابی رسول تمہیں آیندہ کا کیا کھٹکا ہے،تمہیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے دو خوشخبریاں دے دی ہیں ایک یہ کہ تم جنتی ہو،دوسرے یہ کہ تم جنت میں حضور کے قرب کے مستحق ہو۔خیال رہے کہ داڑھی بڑھانا اور مونچھ کتروانااتنا کہ اوپر کے ہونٹ کا سارا کنارہ کھل جائے سنت مؤکّدہ بلکہ واجب ہے اور اس کی پابندی جنتی ہونے اور حضور کے قرب ملنے کا ذریعہ ہے جیسے کہ ترک سُنت کی عادت حضور علیہ السلام سے دوری کا سبب ہے۔

۴؎ دستِ قدرت کی ان مٹھیوں میں انسانوں کی روحیں تھیں،یہ حدیث متشابہات میں سے ہے،رب تعالٰی مٹھی کے ظاہر معنے سے پاک ہے۔

۵؎ یعنی داہنی مٹھی والے جنت کے لیے ہیں،اور بائیں والے دوزخ کے لیے۔

۶؎ داہنی میں یا بائیں میں لہذا میں جنتی ہوں یا دوزخی،یہاں علم کی نفی نہیں،بلکہ درایت کی نفی ہے۔درایت اٹکل اور قیاس سے جاننے کو کہتے ہیں۔حضور کی بشارت سے ان کو اپنے جنتی ہونے کا علم یقینی حاصل ہوچکا تھا۔آج صدیق اور فاروق کے جنتی ہونے پر ہمارا ایمان ہے،جو ان کے جنتی ہونے میں شک کرے وہ بے ایمان ہے۔آپ کے جواب کا مقصد یہ ہے کہ اس مٹھیوں والی حدیث میرے سامنے ہونے کی وجہ سے میری نظر اس بشارت پر رہی ہی نہ تھی اس لیے میں رو رہا تھا۔خیال رہے کہ ان صحابہ کا یا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف،خوفِ جلال ہے نہ کہ خوفِ عتاب،انہیں خدا کے وعدوں پر بے اعتباری نہ تھی جیسے وزیر اعظم کو دربارِ شاہی کی ہیبت ہوتی ہے،جو خدا کے وعدوں پر اعتماد نہ کرے وہ کافر ہے خوفِ جلال قوتِ ایمان کی دلیل ہے،موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے ایذاء کا خوف تھا ا گرچہ رب نے اُن کی حفاظت کا وعدہ فرمالیا تھا لہذا اس حدیث سے مسئلۂ امکانِ کذب ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا۔