سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ ریاض, سعودی عرب کے ایک شخص “حسن بن فرحان مالکی” کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے.
ہند و پاک کے رافضی, تفضیلی اور تفسیقی لوگ اس کی پھانسی کے حکم پر ماتم کناں ہیں, اور برصغیر کے انجان مسلمانوں کے سامنے اس کو اہل سنت کا بہت بڑا عالِم, محقق, مصنف, اسکالر بلکہ عاشقِ اہلِ بیت بنا کر پیش کر رہے ہیں. !!
پھانسی کے حکم میں کتنی صداقت ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں, یہ تو مجھے معلوم نہیں, مگر اس کا اعتقادی مذہب معلوم ہے جس سے تمام باخبر اہل علم واقف ہیں.
حقیقت یہ ہے کہ یہ “حسن بن فرحان مالکی” سُنی عالِم نہیں ہے. یہ بدترین گستاخِ صحابہ ہے. اس کے نام میں “مالکی” نسبت سے اس کے سُنی ہونے کا دھوکا نہ کھائیں.

علامہ حق النبی سکندری ازہری Sahibzada Haq Nabi Sikandari فرماتے ہیں :

“علم نہ ہو تو خاموشي اچھی.
یہ کوئی سنی اسکالر نہیں.
بہت بڑا تفضيلي اور صحابۂ کرام کے خلاف لکھنے والا لکھاری ہے.”

عرب شریف کے ایک معروف محقق دکتور محمد عبد القادر نصار سے مَیں نے حسن بن فرحان مالکی کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بتایا :
“هو متشيع, ولا يقبل آراء أهل السنة في الصحابة”
یہ شیعی ہے. اور صحابۂ کرام سے متعلق اہلِ سنت کے افکار قبول نہیں کرتا.”
اس لیے گزارش ہے کہ اسے اہل سنت کا عظیم محقق, مصنف اور اسکالر بتانے والی کوئی پوسٹ شیئر کر انجانے میں غلط اور جھوٹ کے فروغ میں حصہ نہ لیں.

نثارمصباحی
26محرم1440
7 اکتوبر2018

Image may contain: 1 person, text