حدیث نمبر :119

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں اﷲ تعالٰی نے پشت آدم سے نعمان یعنی عرفات میں عہد لیا ۱؎ اس طرح کہ ان کی پشت سے ساری اولاد نکالی انہیں حضرت آدم کے ساتھ چیونٹیوں کی طرح بکھیردیا ۲؎ پھر ان کے آمنے سامنے گفتگو فرمائی فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب بولے ہاں ہم گواہ ہیں۳؎ کہ کہیں قیامت کے دن یہ کہہ دو کہ ہم اس سے غافل تھے یا کہہ دو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادوں نے کیا ہم تو ان کے بعد کی پیداوار تھے تو کیا تو ہم کو جھوٹوں کے جرموں سے ہلاک فرماتا ہے۴؎ (احمد)

شرح

۱؎ نعمان پہاڑ مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان سے شروع ہوکر عرفات تک پہنچتا ہے اس پہاڑ پر یہ واقعہ ہوا لہذا یہ حدیث بھی درست ہے کہ عرفات میں یہ عہد لیا گیا اور یہ بھی کہ طائف کے قریب لیا گیا۔

۲؎ تاکہ آدم علیہ السلام سب کو جان پہچان لیں اور یہ معاہدہ سن لیں اور دیکھ لیں۔

۳؎ رب اور بندوں کی یہ گفتگو بلاواسطہ اس طرح ہوئی کہ بندوں نے رب کو دیکھا جیسا کہ”قُبُلًا “سےمعلوم ہوا،یہ اقرارِ ربوبیت سارے بندوں سے لیا گیا جن میں انبیاء،اولیاء،مؤمن ین،کفار سب شامل تھے۔حضور علیہ السلام کی اتباع کا عہد صرف انبیاء سے لیا گیا اور تبلیغ کا معاہدہ علمائے بنی اسرائیل سے،یہ تینوں عہد قرآن حکیم میں موجود ہیں۔

۴؎ یعنی توحید سے تمہیں یہاں خبردار کردیا گیا تم سے اس کا اقرار لیا گیا،اس کی یاد دہانی کے لئے انبیاء اور کتابیں بھیجی جائیں گی،لہذا اب کوئی بھی معذور نہ ہوگا۔اس سےمعلوم ہوا کہ عقیدۂ توحید ہرشخص پر لازم ہے اور کفّار کے چھوٹے فوت شدہ بچے دوزخی نہیں۔