بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ‌ؕ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ‌ۚ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ‌ؕ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡؕ اُولٰٓٮِٕكَ يَدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ  ۖۚ وَاللّٰهُ يَدۡعُوۡٓا اِلَى الۡجَـنَّةِ وَالۡمَغۡفِرَةِ بِاِذۡنِهٖ‌ۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ

اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو حتی کہ وہ ایمان لے آئیں ‘ اور مسلمان باندی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے ‘ خواہ وہ تم کو اچھی لگتی ہو ‘ اور مشرک مردوں سے (اپنی عورتوں کا) نکاح نہ کرو حتی کہ وہ ایمان لے آئیں ‘ اور مسلمان غلام (آزاد) مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ تم کو اچھا لگتا ہو ‘ یہ (مشرکین) دوزخ کی آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے ‘ اور لوگوں کے لیے اپنی آیات بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کے ساتھ مسلمانوں کے نکاح کا عدم جواز “

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یتیم کے ساتھ مخالطت کا جواز بیان فرمایا تھا ‘ جس کا تقاضا یہ تھا کہ یتیم کے مال کے ساتھ اپنا مال مخلوط کرنا بھی جائز ہے اور یتیم لڑکے یا یتیم لڑکی کے ساتھ اپنا یا اپنی اولاد کا نکاح کرنا بھی جائز ہے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے بعض مسائل بیان فرمائے کہ مشرک مردوں کے ساتھ مسلمان عورتوں کا اور مشرک عورتوں کے ساتھ مسلمان مردوں کا نکاح جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ نکاح کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے ساتھ جسمانی اور ذہنی قرب ہوتا ہے وہ دونوں ایک دوسرے کے عقائد ‘ نظریات ‘ افکار اور خیالات سے متاثر ہوتے ہیں اس لیے یہ خدشہ ہے کہ مشرک شوہر کے عقائد سے بھی ہوسکتا تھا کہ مسلمان بیوی متاثر ہو یا مشرک عورت کے نظریات سے مسلمان شوہر متاثر ہو ‘ اس لیے اسلام نے یہ راستہ ہی بند کردیا ‘ اگرچہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ مسلمان شوہر یا بیوی سے مشرک بیوی یا شوہر متاثر ہوجائے لیکن جب کوئی چیز نفع اور نقصان کے درمیان دائر ہو تو نقصان سے بچنے کو نفع کے حصول پر مقدم کیا جاتا ہے اس لیے اسلام نے مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان مناکحت کا معاملہ کلیۃ منقطع کردیا۔ یہاں شرک سے مراد کفر ہے ‘ اس لیے ملحد ‘ مجوسی ‘ بت پرست اور کسی قسم کے بھی کافر سے نکاح جائز نہیں ہے مسلمان مرد کا نہ مسلمان کا عورت کا۔

حافظ جلال الدین سیوطی اس آیت کے شان نزول متعلق لکھتے ہیں :

امام ابن ابی حاتم اور امام ابن المنذر نے مقاتل بن حیان سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابو مرثد غنوی کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی کہ وہ عناق نامی ایک مشرکہ عورت سے نکاح کرلیں جو نہایت ہوئی ہے ‘ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی کہ وہ عناق نامی ایک مشرکہ عورت سے نکاح کرلیں جو نہایت حسین و جمیل عورت تھی اور حضرت ابو مرثد مسلمان ہوچکے تھے ‘ انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! وہ عورت مجھے بہت اچھی لگتی ہے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ الایۃ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٥٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اس آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ آزاد مشرک کی بہ نسبت مسلمان غلام بہتر ہے ‘ اور کسی آزاد مسلمان عورت کا نکاح مسلمان غلام سے کردینا اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ اس کا نکاح آزاد مشرک سے کیا جائے حالانکہ غلام آزاد کا کفو نہیں ہے ‘ سو غیر کفو میں نکاح کے جواز کے لیے یہ آیت صریح جزیہ ہے ‘ ہم انشاء اللہ سورة نساء میں اس موضوع پر مفصل گفتگو کریں گے ‘ ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثالث اور جلد سادس میں ہم نے اس موضوع پر بہت تفصیل اور تحقیق سے بحث کی ہے۔

مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت کے باوجود اہل کتاب سے نکاح کے جواز کی توجیہ :

اسلام میں یہ جائز ہے کہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ مسلمان مرد نکاح کرلیں لیکن اہل کتاب مردوں کے ساتھ مسلمان عورتوں کا نکاح کرنا جائز نہیں ہے ‘ قرآن مجید نے مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت کے باوجود کتابیہ یعنی یہودی یاعیسائی عورت کے ساتھ نکاح کی اجازت دی ہے۔

(آیت) ” وطعام الذین اوتوالکتب حل لکم وطعامکم حل لہم والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتو الکتب من قبلکم اذا اتیتموھن اجورھن محصنین غیر مصفحین ولا متخذی اخدان “۔ (المائدہ : ٥)

ترجمہ : اور اہل کتاب کا ذیبحہ تمہارے لیے حلال ہے ‘ اور تمہارا ذبیحہ ان کے لیے حلال ہے اور (تمہاری) آزاد پاک دامن مسلمان عورتیں اور تم سے پہلے اہل کتاب کی آزاد پاک دامن عورتیں (تمہارے لیے حلال ہیں) جب کہ تم ان سے نکاح کرکے ان کا مہر ادا کرو ‘ نہ ان سے ظاہرا بدکاری کرور اور نہ خفیہ آشنائی کرو۔

اب یہ سوال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت کردی تھی تو پھر کتابیہ سے نکاح کی اجازت کیوں دی جب کہ اہل کتاب یہودی اور عیسائی بھی مشرک ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وقالت الیھود عزیر ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ “۔ (التوبہ : ٣٠)

ترجمہ : اور یہود نے کہا : عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاری نے کہا : مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ یہود و نصاری دونوں مشرک ہیں لیکن قرآن مجید کی اصطلاح ہے کہ اس نے بت پرستوں پر مشرکین کا اطلاق کیا ہے اور یہود و نصاری پر اہل کتاب کا ‘ قرآن مجید میں ہے ؛

(آیت) ” ما یود الذین کفروا من اھل الکتب ولا المشرکین “۔ (البقرہ : ١٠٥)

ترجمہ : کافروں میں سے اہل کتاب اور مشرکین یہ پسند نہیں کرتے کہ ………….

(آیت) ” لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ “۔۔ (البینۃ : ١)

ترجمہ : کافر اہل کتاب اور مشرکین بغیر واضح دلیل کے اپنے دین کو چھوڑنے والے نہ تھے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ مشرک عورتوں میں اہل کتاب عورتیں بھی داخل تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں میں اہل کتاب عورتیں بھی داخل تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مشرکات کے عموم سے اہل کتاب عورتوں کو مستثنی کرلیا ‘ اور یہ اصطلاح میں عام مخصوص عنہ المبعض ہے ‘ حافظ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :

امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن ابی حاتم اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے (آیت) ” ولا تنکحوا المشرکت “۔ (البقرہ : ٢٢١) کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے اہل کتاب کی عورتوں کو مستثنی کرلیا ہے اور دلیل استثناء یہ آیت ہے :

(آیت) ” والمحصنت من الذین اوتوا الکتب “۔ (المائدہ : ٥)

ترجمہ : اور اہل کتاب کی آزاد پاک دامن عورتیں (تمہارے لیے حلال ہیں) (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٥٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

باقی رہی یہ بحث کہ خالص مشرک عورتوں اور اہل کتاب میں نکاح کے جواز کا فرق کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مشرک نہ خدا کو مانتا ہے نہ کتاب کو نہ رسول اللہ کو نہ قیامت اور جزاء اور سزاء کو ‘ نہ حلال اور حرام کا قائل ہوتا ہے ‘ اس کے برعکس اہل کتاب ان تمام امور کو مانتے ہیں ان کے کفر کی صرف یہ وجہ ہے کہ انہوں نے غلو محبت میں اپنے اپنے رسول کو خدا اور خدا کا بیٹا کہہ دیا۔

دوسری بحث یہ ہے کہ مسلمان مردوں کا اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح جائز قرار دیا ہے اور مسلمان عورتوں کا اہل کتاب مردوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں کیا ‘ اس فرق کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عائلی اور گھریلو زندگی میں مرد حاکم ہوتا ہے اور اس کا گھر میں قبضہ اور اقتدار ہوتا ہے اور عورت فطرۃ منفعل مزاج اور گھر میں محکوم ہوتی ہے۔ اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح جائز ہوتا تو عین ممکن تھا کہ وہ مسلمان عورت اپنے کافر شوہر کے معتقدات اور خیالات سے متاثر ہوجاتی اور اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجاتی۔ اس کے برعکس جب شوہر مسلمان ہو اور بیوی یہودی یاعیسائی ہو تو چونکہ گھر میں حاکم اور مقتدر شوہر ہوتا ہے اس لیے گھر میں اسلامی ماحول اور لٹریچر فراہم ہوگا اور اس اہل کتاب عورت کو اسلام کو قریب سے دیکھنے پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا ‘ اسلامی معاشرہ ‘ اسلام کی تہذیب اور مسلمان خاندان سے میل جول اور ربط وضبط کی وجہ سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بہت ذرائع میسر ہوں گے اور وہ جلد یا بہ دیر مسلمان ہوجائے گی اور اگر بالفرض وہ مسلمان نہ بھی ہو تو بچے بہرحال باپ کے دین کے تابع رہیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام مواقع دارالسلام میں ہی میسر ہوتے ہیں ‘ اس لیے ہمارے فقہاء نے لکھا ہے کہ دارالکفر میں اہل کتاب عورت کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہاں کفر کا غلبہ ہوتا ہے اور جس حکمت کی وجہ سے اہل کتاب عورت کیساتھ نکاح کو جائز قرار دیا گیا ہے اس کے پورے ہونے کے مواقع وہاں میسر نہیں ہیں۔ باقی اس مسئلہ میں فقہاء و صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین کے مذاہب ہم انشاء اللہ سورة مائدہ میں اس آیت کی تفسیر میں بیان کریں گے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 221