بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡمَحِيۡضِ‌ۙ قُلۡ هُوَ اَذًى فَاعۡتَزِلُوۡا النِّسَآءَ فِى الۡمَحِيۡضِ‌ۙ وَلَا تَقۡرَبُوۡهُنَّ حَتّٰى يَطۡهُرۡنَ‌‌ۚ فَاِذَا تَطَهَّرۡنَ فَاۡتُوۡهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ

اور یہ آپ سے حیض کا حکم معلوم کرتے ہیں آپ کہیے کہ وہ گندگی ہے ‘ سو عورتوں سے حالت حیض میں الگ رہو ‘ اور ان سے عمل زوجیت نہ کرو حتی کہ وہ پاک ہوجائیں ‘ اور جب وہ مکمل پاک ہوجائیں تو ان کے پاس (وہاں) آؤ ‘ جہاں سے (آنے کا) اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

حیض کا حکم بیان کرنے کا شان نزول :

اس سے پہلی آیت میں نکاح کا ذکر کیا گیا تھا اور نکاح کے لوازم سے بیوی کے ساتھ جماع کرنا ہے ‘ سو ان آیتوں میں بتایا ہے کہ کس حالت میں عورت کے ساتھ جماع کرنا ہے اور کس حالت میں نہیں کرنا اور چونکہ جماع کا مقصد حصول اولاد ہے ‘ محض قضاء شہوت نہیں ہے ‘ اس لیے فرمایا کہ جس جگہ سے حصول اولاد ہو وہاں تخم ریزی کرو ‘ یعنی عمل معکوس نہ کرو ‘ خواہ اس عمل (تخم ریزی) کے لیے کوئی طریقہ اختیار کرو ‘۔

حافظ جلال الدین سیوطی اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں :

امام احمد ‘ امام دارمی ‘ امام مسلم ‘ امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام ابو یعلی ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن ابی حاتم ‘ امام ابن حبان اور امام بیہقی ‘ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ یہود کے ہاں جب کسی عورت کو حیض آجاتا تو وہ اس کو گھر سے نکال دیتے ‘ اس کے ساتھ کھاتے نہ پیتے نہ اس کے ساتھ گھروں میں رہتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان عورتوں کو گھروں میں رکھو اور عمل زوجیت کے سوا ان کے ساتھ سب کچھ کرو ‘ جب یہود کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا : یہ شخص ہر بات میں ہماری مخالفت کرتا ہے ‘ پھر حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباس بن بشر آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہود اس اس طرح کہہ رہے ہیں تو کیوں نہ ہم اپنی عورتوں سے جماع بھی کرلیں یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا حتی کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ آپ ان سے ناراض ہوگئے ہیں اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہدیہ میں دودھ آیا تو آپ نے وہ دودھ ان دونوں کے لیے بھیجا اس سے ان دونوں نے یہ جانا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٥٨‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اس سے معلوم ہوا کہ استاد یا ماں باپ ‘ شاگرد یا اولاد کو اگر کسی بات پر ڈانٹیں تو بعد میں کسی طرح ان کی دل جوئی کرکے اس کی تلافی بھی کریں۔

حائضہ سے مباشرت کرنے کی دینی اور دنیاوی خرابی :

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حائضہ عورت سے جماع کے سوا باقی سب کچھ کرسکتے ہو۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٩٤‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کی بناء پر ہمارے فقہاء نے یہ کہا ہے کہ شوہر ایام حیض میں اپنی بیوی سے جسمانی قرب اور جسمانی لذت حاصل کرسکتا ہے ‘ البتہ ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک احتراز کرے ‘ کیونکہ اگر اس میں بھی دست درازی کرے گا تو خطرہ ہے کہ وہ عمل زوجیت میں مبتلا ہوجائے گا۔

امام ابن ماجہ سنن ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے حائضہ عورت سے جماع کیا یا کسی عورت کی سرین میں دخول کیا یا کسی شخص نے کاہن کے قول، کی تصدیق کی تو اس نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل شدہ دین کے ساتھ کفر کیا۔ (سنن ابن ماجہ ص ٤٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

جدید میڈیکل سائنس سے بھی واضح ہوگیا کہ حائضہ عورت کے ساتھ مباشرت کرنے سے مرد کے عضو مخصوص میں سوزاک ہوجاتا ہے اور بعض اوقات مرد اور عورت دونوں بانجھ ہوجاتے ہیں۔

حیض کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

جو خون رحم سے وقت مخصوص میں وصف مخصوص کے ساتھ خارج ہو اس کو حیض کہتے ہیں۔

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

لغت میں حیض کا معنی ہے : سیلان (بہنا) جب کوئی وادی بہنے لگے تو کہتے ہیں : ” حاض الوادی “ اوقات مخصوص میں خون بہنے کی وجہ سے اس خون کو حیض کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں حیض اس صفت شرعیہ کو کہتے ہیں جو ان کاموں کے کرنے سے مانع ہو جن کے لیے حیض سے پاک ہونا شرط ہے ‘ مثلا نماز پڑھنا ‘ قرآن مجید کو چھونا ‘ روزہ رکھنا ‘ مسجد میں داخل ہونا اور عمل زوجیت کرنا۔

علامہ حصکفی نے حیض کی یہ تعریف کی ہے : وہ خون جو بالغہ کے رحم سے بغیر وقت ولادت کے خارج ہو۔ رحم کی قید سے استحاضہ خارج ہوگیا ‘ کیونکہ یہ خون ایک رگ سے خارج ہوتا ہے اور یہ افعال مذکورہ سے مانع نہیں ہے ‘ رحم اس ظرف کو کہتے ہیں جس میں بچہ ہوتا ہے یعنی بچہ دانی ‘ اور بغیر وقت ولادت کی قید سے نفاس خارج ہوگیا (نفاس بھی افعال مذکورہ سے مانع ہے) ولادت کے بعد عورت کے رحم سے جو خون نکلتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں :

حیض کا سبب یہ ہے کہ حضرت حواء نے شجر ممنوع کھالیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حیض میں مبتلا کردیا ‘ امام بخاری نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیض کے متعلق فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر اس کو مقدر کردیا ہے ‘ حیض کا رکن یہ ہے کہ خون رحم سے نکل کر فرج داخل کے باہر آجائے ‘ اگر وہ خون فرج داخل ہی میں رہے تو وہ حیض نہیں ہے۔ (المفردات ص ‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

ایام حیض کے تعین میں مذاہب ائمہ :

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں :

حیض کی کم از کم مدت ایک دن اور رات ہے ‘ اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے ‘ اور عموما حیض چھ یا سات دن ہوتا ہے ‘ اور دو حیضوں کے درمیان کم از کم طہر (پاکیزگی کے ایام) کی مدت پندرہ دن ہے۔ (الدرالمختار علی رد المختار ج ١ ص ١٨٩۔ ١٨٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ درد مالکی لکھتے ہیں :

حیض کی کم از کم مدت کی کوئی حد نہیں ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے۔ (روضہ الطالبین ج ١ ص ٢٤٨۔ ٢٤٧ مبطوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

حیض کی کم از کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے۔ (المغنی ج ١ ص ١٨٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

حیض کی کم از کم تین دن اور تین راتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ١ ص ١٨٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

فقہاء احناف کی دلیل حسب ذیل احادیث ہیں : امام دارقطنی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوامامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کنواری اور شادی شدہ عورت کا حیض تین دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہیں ہوتا ‘ دس دن کے بعد نکلنے والا خون استحاضہ ہے۔ حائضہ ایام حیض کے بعد کی نمازوں کی قضا کرے۔ حیض میں سرخی مائل سیاہ گاڑھا کون ہوتا ہے اور استحاضہ میں زرد رنگ کا پتلا خون ہوتا ہے۔ (سنن دارقطنی ج ١ ص ‘ ٢١٨ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

امام دارقطنی نے ایک اور سند سے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے (سنن دارقطنی ج ١ ص ‘ ٢١٨ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حیض کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہوتا ہے۔ (سنن دارقطنی ج ١ ص ٢١٩ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

امام دارقطنی نے ان احادیث کی سند کو ضعیف کہا ہے لیکن تعداد اسانید کیوجہ سے یہ احادیث حسن لغیرہ ہوگئیں اور ان سے استدلال صحیح ہے ‘ نیز ان احادیث کی تقویت حسب ذیل آثار سے ہوتی ہے :

امام دارقطنی روایت کرتے ہیں :

معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے فرمایا : حیض کی کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ وکیع نے کہا : حیض تین سے دس دن تک ہے ‘ اس کے علاوہ استحاضہ ہے۔ (سنن دارقطنی ج ١ ص ‘ ٢١٠ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

امام دارقطنی نے ایک اور سند سے بھی یہ اثر بیان کیا ‘ اور سفیان کا بھی یہی قول نقل کیا ہے (سنن دارقطنی ج ١ ص ‘ ٢١٠ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

علامہ شامی نے لکھا ہے کہ متعدد اسانید کے ساتھ چھ صحابہ سے منقول ہے کہ حیض کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دن ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ١٨٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن ھمام لکھتے ہیں :

امام ابن عدی نے ” کامل “ میں حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین دن سے کم حیض نہیں ہوتا اور دس دن سے زیادہ حیض نہیں ہوتا۔ (فتح القدیر ج ١ ص ١٤٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

امام ابن جوزی نے ” علل متناھیہ “ میں حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حیض کی کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ (العلل المتناھیہ ‘ مطبوعہ مکتبہ اثریہ ‘ فیصل آباد ‘ ١٤٠١ ھ)

حیض ‘ نفاس اور استحاضہ میں مبتلا خواتین کے مسائل :

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی لکھتے ہیں ؛

(١) حالت حیض میں طہارت (پاکیزگی) کے حصول کیلیے وضو کرنا منع ہے ‘ صفائی کے لیے غسل کرنا جائز ہے جیسے دوران حج بدن صاف کرنے کے لیے غسل کرتے ہیں اسی طرح جن وضائف کے پڑھنے کی اس کی عادت ہو ‘ مثلا تکبیر ‘ تہلیل درود شریف ان کے لیے وضو کرنا جائز ہے ‘ کیونکہ فقہاء نے کہا ہے کہ حائضہ کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے وقت وضو کرکے اتنی دیر جائے نماز پر بیٹھ کر وظیفہ پڑھتی رہے جتنی دیر میں وہ نماز پڑھتی تھی تاکہ اس کی نماز کی عادت قائم رہے اس عمل سے اس کو بہترین نماز پڑھنے کا اجر ملے گا۔

(٢) حیض کی حالت میں نماز پڑھنا منع ہے ‘ خواہ کسی قسم کی نماز ہو یا سجدہ شکر ہو حالت حیض میں جو نمازیں ہوگئیں ان کی قضا نہیں ہے۔

(٣) حائضہ کا اعتکاف کرنا منع ہے ‘ اور اگر دوران اعتکاف اس کو حیض آگیا تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔

(٤) حالت حیض میں طواف صدر (وداع) ممنوع ہے۔

(٥) حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے۔

(٦) حیض آنے سے لڑکی بالغہ ہوجاتی ہے۔

(٧) عدت پوری ہونے کا تعلق بھی حیض سے ہے ‘ آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور باندی کی عدت دو حیض ہے۔

(٨) استبراء کا تعلق بھی حیض سے ہے ‘ جب مال غنیمت سے کوئی باندی ملے یا کسی باندی کو خریدے تو ایک حیض تک اس سے وطنی نہ کرے ‘ ایک حیض گزر جانے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ اس کے رحم میں استقرار نطفہ ہے یا نہیں۔

(٩) حیض منقطع ہونے کے بعد غسل کرنا واجب ہے۔

(١٠) رمضان کے روزہ کے کفارہ اور قتل کے کفارے میں مسلسل روزے رکھے جاتے ہیں ‘ اگر ان روزوں کے درمیان حائضہ کو حیض آگیا تو اس کا تسلسل نہیں ٹوٹے گا۔

(١١) حائضہ عورت پر روزہ رکھنا منع ہے لیکن وہ ان فوت شدہ روزوں کی قضاکرے گی ‘ اس نے نفل روزہ شروع کیا اور پھر حیض آگیا تو اس کی قضاکرے گی۔

(١٢) حائضہ عورت کا مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔

(١٣) حائضہ کے لیے کعبہ کا طواف کرنا منع ہے۔

(١٤) حائضہ کی ناف سے گھٹنے تک اس کے شوہر کا قریب ہونا منع ہے۔

(١٥) تلاوت قرآن کے قصد سے قرآن پڑھنا منع ہے ‘ البتہ دعا کے قصد سے سورة فاتحہ یا کسی اور آیت کو پڑھنا یاتبرک کے قصد سے بسم اللہ پڑھنا جائز ہے۔

(١٦) قرآن مجید کو چھونا منع ہے خواہ وہ متصل یا منفصل غلاف میں ہو۔

(١٧) اللہ کا ذکر کرنا ‘ تسبیح کرنا ‘ قبروں کی زیارت کرنا جائز ہے ‘ اسی طرح عیدگاہ میں جانا جائز ہے۔

(١٨) ہاتھ دھونے اور کلی کرنے کے بعد کھانا پینا جائز ہے اور ہاتھ منہ دھوئے بغیر جنبی کے لیے کھانا مکروہ ہے ‘ حائضہ کے لیے مکروہ نہیں ہے۔

(١٩) جب اکثر مدت پوری ہونیکے بعد حیض منقطع ہو (یعنی دس دن کے بعد) تو شوہر کا اس کے ساتھ بغیر اس کے غسل کے وطی کرنا جائز ہے اور غسل کے بعد وطی کرنا مستحب ہے۔

(٢٠) اگر کم مدت گزرنے کے بعد اس کا حیض منقطع ہوا تو حائضہ وضو کرے اور آخری وقت میں نماز پڑھ لے۔

(٢١) اگر حائض کے ایام مقرر ہیں اور اس سے کم وقت میں حیض منقطع ہوگیا تو اس کے شوہر کے لیے اس سے مباشرت جائز نہیں ہے البتہ وہ احتیاط نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔

(٢٢) اگر حیض کم مدت میں منقطع ہوگیا تو شوہر کا اس سے اس وقت تک وطی کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ غسل نہ کرے۔

(٢٣) اگر حیض منقطع ہونے کے بعد حائضہ نے نماز کا اتنا وقت پالیا جس میں تکبیر تحریمہ پڑھی جاسکتی ہے تو اس پر وہ نماز فرض ہوگئی اور اس کی قضا کرے گی۔

(٢٤) جو شخص حائضہ عورت سے حلال سمجھ کر مباشرت کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔

(٢٥) مدت حیض سے کم یا مدت حیض کے بعد آنے والا خون استحاضہ ہے ‘ اس کا حکم اس طرح ہے جس طرح کسی معذور شخص کی ناک سے ہمیشہ خون جاری ہو تو اس سے نماز روزہ ساقط نہیں ہوتا ‘ اسی طرح مستحاضہ سے بھی نماز روزہ ساقط نہیں ہوتا۔ اس کی طہارت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ نماز کے ایک وقت میں وضو کرے ‘ یہ وضو اس پورے وقت میں شرعا قائم رہے گا ‘ بشرطیکہ کسی اور وجہ سے وضونہ ٹوٹے وہ اس وضو سے پورے وقت میں تمام عبادتیں کرسکتی ہے اور وقت ختم ہونے کے بعد اسے دوسرے وقت کے لیے وضو کرنا ہوگا۔

(٢٦) ولادت کے بعد رحم سے جو خون نکلتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں۔ اس کے کم ہونے کی کوئی حد نہیں ہے اور اکثر نفاس کی حد چالیس دن ہے اور چالیس دن کے بعد جو خون آتا رہے وہ استحاضہ ہے ‘ استحاضہ کے دوران وہ نمازیں پڑھے گی اور روزے رکھے گی اور معذور شخص کی طرح وضو کرے گی۔

(٢٧) نفاس کا خون نکلنے سے عدت پوری ہوجاتی ہے خواہ وہ عدت طلاق ہو یا عدت وفات ہو۔

(٢٨) حیض اور نفاس میں مبتلا دونوں عورتیں ان ایام میں نماز نہیں پڑھیں گی اور ان پر ان ایام کی قضا نہیں ہے ‘ البتہ ان ایام میں اگر رمضان کے روزے آگئے تو روزے نہیں رکھیں گی بعد میں فوت شدہ روزوں کی قضا کریں گی۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٢٠٠۔ ١٨١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 222