حدیث نمبر :120

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق جب آپ کے رب نے آدم کی پشت سے ان کی اولاد نکالی فرمایا انہیں جمع کیا انہیں جوڑے بنایا ۱؎ پھر انہیں صورت وگویائی دی ۲؎ تو وہ وہ بولے پھر ان سے عہد میثاق لیا اور انہیں خود انکی ذات پر گواہ بنایا۳؎ کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں بولے ہاں فرمایا میں تم پر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اور تمہارے والد آدم کو گواہ بناتا ہوں ۴؎ کہیں قیامت میں کہہ دو کہ ہم کو خبر نہ تھی جان لو میرے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا ۵؎ عنقریب تم تک اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد میثاق یاد دلائیں گے ۶؎ اور تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا ۷؎ بولے ہم اس کے گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہمارا معبود ہے تیرے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ معبود ۸؎ پھر سب نے اس کا اقرار کیا ان پر آدم علیہ السلام کو انہیں دیکھنے کے لیے اٹھایا گیا ۹؎ تو آپ نے امیرفقیرحسین وغیرہ دیکھے ۱۰؎ تو عرض کیا اے رب تو نے اپنے بندوں میں برابری کیوں نہ کی فرمایا میں نے چاہا کہ شکر کیا جاؤں ۱۱؎ ان میں نبیوں کو چراغوں کی طرح دیکھا جن پر نور تھا۲؎۱ ان سے دوسرا خصوصی عہد رسالت اور نبوت کےمتعلق لیا گیا وہ رب تعالٰی کا یہ فرمان ہے اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا الخ عیسیٰ ابن مریم کےقول تک۱۳؎ حضرت عیسیٰ بھی ان روحوں میں تھے انہیں بی بی مریم کی طرف بھیجا ابی سے خبر ملی کہ آپ حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئے۱۴؎ (احمد)

شرح

۱؎ یعنی نر اور مادہ یا ان کی علیحدہ قسمیں کیں کافر،مؤمن ،منافق سب الگ الگ۔

۲؎ یعنی جس شکل و صورت پر دنیا میں ہوں گے وہی شکل انہیں دی گئی یا کافر کالے مؤمن سفید اور انبیاء نورانی بنائے گئے آدم علیہ السلام کی پہچان کے لیے۔

۳؎ ایک کو دوسرے پر گواہ یا ہر ایک کے اعضا کو اس کے نفس پر گواہ۔

۴؎ یعنی آسمان و زمین کی مخلو ق کو یا خود آسمان و زمین کو دوسرے معنے زیادہ قوی ہیں کیونکہ اُن میں سے ہر چیز میں سمجھ بوجھ ہے۔اب دریاؤں کے قطرے،زمین کے ذرے نیک و بد کو پہچانتے ہیں،قیامت میں زمین لوگوں کے اعمال کی گواہی دے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ سارے انبیاء خصوصًا آدم علیہ السلام اپنی اولاد کے اعمال کی قیامت میں گواہی دیں گے،پتہ لگا کہ وہ حضرات ہماری ہر حرکت پر مطلع ہیں اس حدیث کی تفسیر وہ آیت ہے:”وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا”۔

۵؎ یعنی تمہارے لیے قیامت میں کوئی عذرباقی نہ چھوڑا تمہارے اس اقرار کے بھی صدہا گواہ ہیں اور دنیا کے سارے اعمال کےبھی بہت گواہ ہوں گے اب تم نہ یہ کرسکو گے کہ ہمیں یہ اقرار یاد نہ رہا تھا،نہ یہ کہ ہمیں خبر نہ تھی کہ ہماری ڈائری لکھی جارہی ہے اور انبیائے کرام زمین آسمان ہماے اعمال کو دیکھ کر ہمارے گواہ بن رہے ہیں۔

۶؎ رب نے اپنا وعدہ پورا فرمادیا کہ از آدم علیہ السلام تا روزِقیامت دنیا ایک آن نبوت سے خالی نہ رہی۔خیال رہے کہ زمانۂ نبی اور ہے زمانۂ نبوت کچھ اور پیغمبر کی ظاہری زندگی کا زمانہ،زمانۂ نبی ہے اور ان کے دین کی بقاء کا زمانہ،زمانۂ نبوت ہے چنانچہ قیامت تک ہمارے حضور علیہ السلام کا زمانہ ہے۔

۷؎ انبیائے کرام کے ذریعے سے،یہاں کتب سے مراد کلامِ الٰہی ہے خواہ صحیفے ہوں یا باقاعدہ کتابیں،چنانچہ آسمان سے سو۱۰۰صحیفے آئے اور چار کتابیں اور کوئی زمانہ کلام الٰہی سے بھی خالی نہ رہا،کس نبی پر کتنے صحیفے نازل ہوئے،یہ ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھیئے۔

۸؎ مرقات میں فرمایا کہ یہاں شہادت بمعنے علم ہے یعنی ہم نے مشاہدے سے تیری ربوبیت اور معبودیت جان پہچان لی یا بمعنے گواہی یعنی ہم ایک دوسرے کے اس اقرارِ توحید پر گواہ بن گئے۔

۹؎ اس طرح کی آدم علیہ السلام نے اونچے مقام پر کھڑے ہوکر ان سب کو جھانک کر دیکھا اور ایک ایک کو پہچان لیا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام اپنی ساری اولاد کو جانتے پہچانتے ہیں،پھر ہمارے حضور کے علم کا کیا پوچھنا،حضرت آدم کا علم علمِ مصطفوی کے سمندر کا قطرہ ہے۔

۱۰؎ غنی و فقیر سے مال،اعمال،ایمان سب کے غنی فقیر مراد ہیں یعنی آپ نے دل کے غنی و فقیر، کافر،متقی فاجر اور مال کے غنی و فقیر،مالدار و محتاج،شاہ و گدا،ایسے ہی خوبصورت اور بدصورت دیکھ لیئے۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ غنا اور فقر دل کے اوصاف ہیں،حسن و جمال صورت کے حالات،اﷲ تعالٰی نے اس دن تمام کی صورتوں پر ظاہری و باطنی حالات نمودار کردیئے تھے جس سے آدم علیہ السلام بے تکلف ہر شخص کے ہر حال کو ملاحظہ فرمارہے تھے۔خیال رہے کہ حضور اس سے پہلے ہی یہ سب کچھ مشاہدہ فرماچکے تھےجیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔کیوں نہ ہوتا کہ حضور علیہ السلام اﷲ تعالٰی کے گواہ اعظم اور ساری مخلوق کے شاہد اکبر ہیں۔

۱۱؎ یعنی لوگوں کے حالات کا اختلاف ان کی شاکریت اور میری شکوریت کا ذریعہ ہے اس طرح کہ ہر شخص کو اپنے سے ادنی کو دیکھ کر میرا شکر کرے کہ خدایا تیرا شکر ہے میں اس سے بہتر ہوں،مثلًا غنی فقیر کی محتاجی کو دیکھ کر سجدہ شکر کرے اور فقیر غنی کے الجھاوے زیادتی حساب میں غور کرے توشکر کرے۔ایسے ہی حسین بدصورت کی قباحت کو دیکھ کر شکرکرے اور بدصورت حسن کی بلاؤں کو دیکھ کر حسن نہ ملنے پر شکر کرے،بادشاہ رعایا کی دست نگری کو دیکھے شکر کرے۔اور رعایا بادشاہ کی فکروں،محنتوں وغیرہ مصائب کو دیکھ کر شکر کرے،شکر اعلٰی درجے کی عبادت بلکہ ساری عبادات کی اصل ہے۔

۱۲؎ نبی رسول سے عام ہے جس پر وحی آئے وہ نبی اور جن کو تبلیغ کا بھی حکم ہو وہ رسول،جو نبی شریعت بھی رکھتے ہوں وہ مرسل،نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں،رسول ۳۱۳،مرسل ۴ ہر رسول نبی ہے اس کا عکس نہیں،آدم علیہ السلام نے تمام انبیاء کو ان کی شانوں اور کمالوں کے ساتھ دیکھا،بعض مثل چراغوں کے،بعض لالٹین،بعض گیس،بعض بجلی،بعض چاند اور ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورج کی طرح تھے،کسی کی روشنی چاند کی طر ح جمالی تھی اور کسی کی دھوپ کی طرح جلالی،سُرُج ان سب کو شامل ہے۔

۱۳؎ انبیائے کرام سے خصوصی عہد دولیے گئے تھے:ایک ادائے رسالت اور تبلیغ نبوت کا عہد،اس عہد میں ہمارے حضور بھی شامل تھے اس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے۔اور دوسرا نبی آخر الزمان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا،اس میں ہمارے حضور شامل نہ تھے سب سے پہلے ہمارے حضور پر ایمان لانے کا معاہدہ لیا گیا اس کا ذکر اس آیت میں ہے "ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ "الایہ۔

۱۴؎ یعنی تمام روحیں اپنے باپوں کی پشتوں میں واپس گئیں مگر عیسیٰ علیہ السلام کی روح حضرت مریم کے شکم میں آپ کی منہ شریف کے راستے داخل ہوئی کیونکہ آپ کی ولادت بغیر والد کے ہونے والی تھی۔