بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِىۡٓ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰـكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ

2:225

اللہ تم سے تمہاری بےارادہ کھائی ہوئی قسموں پر مواخذہ نہیں فرمائے گا ‘ لیکن ان قسموں پر تم سے مواخذہ فرمائے گا جو تم نے پختہ ارادوں سے کھائی ہیں ‘ اور اللہ بہت بخشنے والا بہت بردبار ہے

کفارہ کی تفصیل اور اس کی دلیل یہ آیت ہے :

(آیت) ” لا یؤاخذکم اللہ باللغوفی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما عقدتم الایمان ‘ فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین من اوسط ماتطعمون اھلیکم اوکسوتھم او تحریر رقبۃ فمن لم یجد فصیام ثلثۃ ایام ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم واحفظوا ایمانکم “۔ (المائدہ : ٨٩)

ترجمہ : بلاقصد کھائی ہوئی قسموں پر اللہ تم سے مواخذہ نہیں فرمائے گا لیکن تمہاری بالقصد کھائی ہوئی قسموں (یمین منعقدہ) پر تم سے مواخذہ فرمائے گا ‘ تو اس قسم کا کفارہ تمہارے درمیانی قسم کے کھانوں میں دس مسکینوں کا کھانا دینا ہے جو تم اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو یا دس مسکینوں کو کپڑے دینا ہے یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جس کو ان میں سے کسی پر قدرت نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا کر (توڑ دو ) اور اپنی قسموں کی (ٹوٹنے سے) حفاظت کرو۔

احکام شرعیہ کے اعتبار سے قسم کی اقسام :

حالات اور واقعات کے اعتبار سے قسم کھانے کی یہ قسمیں ہیں : فرض واجب ‘ مستحب ‘ مباح ‘ مکروہ ‘ اور حرام۔

(١) اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت پر قسم کھانا فرض ہے۔

(٢) اگر اپنی جان یا کسی مسلمان کی جان کو بچانا قسم کھانے پر موقوف ہو تو قسم کھانا واجب ہے ‘ مثلا کوئی شخص قتل کے الزام سے بری ہو اور اس پر قسامت کے ذریعہ قسم لازم آرہی ہو یا کوئی اور مسلم بری ہو اور اس کو علم ہو تو اس پر قسم کھاکر اپنی اور اس مسلمان کی جان بچانا واجب ہے۔

(٣) اگر دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے یا کسی مسلمان کے دل سے بغض زائل کرنے کے لیے یا دفع شر کے لیے قسم کھانی پڑے تو قسم کھانا مستحب ہے۔

(٤) کسی مباح کام پر قسم کھانا مباح ہے ‘ محمد بن کعب القرضی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) منبر پر عصا لیے ہوئے کھڑے تھے انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! تم اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے قسم کھانے سے گریز نہ کرو ‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! میرے ہاتھ میں عصا ہے۔

(٥) کسی مستحب کام کے ترک پر یا کسی مکروہ کام کے ارتکاب پر قسم کھانا مکروہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناس “۔ (البقرہ : ٢٢٤)

ترجمہ : اور تم نیکی تقوی اور لوگوں کی خیر خواہی سے بچنے کے لیے اللہ کے نام کی قسمیں کھانے کو بہانہ نہ بناؤ۔

روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کو معلوم ہوا کہ حضرت مسطح نے حضرت عائشہ (رض) پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو انہوں نے قسم کھالی کہ وہ حضرت مسطح کو جو صدقات اور خیرات دیا کرتے تھے اب اس کو بند کردیں گے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

(آیت) ” ولا یاتل اولو الفضل منکم والسعۃ ان یؤتوا اولی القربی والمسکین والمھجرین فی سبیل اللہ ولیعفوا ولیصفحوا الاتحبون ان یغفر اللہ لکم “۔ (النور : ٢٢)

ترجمہ : اور تم میں سے جو لوگ اصحاب فضل اور ارباب وسعت ہیں وہ یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں ‘ مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہیں کریں گے انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے ‘ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے۔

(٦) جھوٹی قسم کھانا حرام ہے۔ قرآن مجید میں منافقوں کے متعلق ہے :

(آیت) ” ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون “۔۔ (المجادلہ : ١٤)

ترجمہ : اور وہ دانستہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

امام بخاری حرام روایت کرتے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی مسلمان کا مال کھانے کے لیے جھوٹی قسم کھائی وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٨٧)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 225