باب اثبات عذاب القبر

عذاب قبر کا ثبوت ۱؎

الفصل الاوّل

پہلی فصل

۱؎ عذاب قبر کے متعلق چند مسائل عذاب قبر یاد رکھنے چاہئیں:

(۱)یہاں قبر سے مر اد عالمِ برزخ ہے جس کی ابتداء ہر شخص کی موت سے ہے انتہا قیامت پر،عرفی قبر مراد نہیں،لہذا جو مردہ دفن نہ ہوا بلکہ جلادیا گیا،یا ڈبو دیا گیا،یا اُسے شیر کھا گیا اُسے بھی قبر کا حساب و عذاب ہے۔´

(۲)عذابِ قبر کا ثبوت بہت سی آیات اور بے شمار احادیث سے ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:”یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ”الآیہ۔فرماتا ہے: “اُغْرِقُوۡا فَاُدْخِلُوۡا نَارًا” اور فرماتا ہے:” اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا” یہ سب آیتیں عذابِ قبر کے متعلق ہیں۔دیکھو ہماری فہرست القرآ ن اور فتاویٰ نعیمیہ لہذا عذاب قبر کا منکر گمراہ ہے۔

(۳)قبر میں صرف ایمان کا حساب ہے حشر میں ایمان و اعمال دونوں کا۔

(۴)حساب قبر ہمارے حضور کے زمانہ سے شروع ہوا پچھلی اُمتوں میں نہ تھا نہ اُن سے اپنے نبی کی پہچان کرائی جاتی تھی۔

(۵)حسابِ قبر آٹھ شخصوں سے نہیں ہوتا:نبی،شہید،جہاد کی تیاری کرنے والا،طاعون میں مرنے والا،طاعون میں صابر،چھوٹے بچے،جمعہ کے دن یا رات میں مرنے والا،ہر رات سورہ ملک پڑھنے والا،مرض موت میں “قُلْ ہُوَ اللہُ”پڑھنے والا۔(شامی)

(۶)حسابِ قبر اور ہے،عذاب قبر کچھ اور،بعض لوگ حسابِ قبر میں کامیاب ہوں گے،مگر بعض گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا،جیسے چغل خور اور گندا

(۷)کافر کو عذابِ قبر دائمی ہوگا گنہگار کو عارضی حتی کہ بعض کا عذاب جمعہ کی شب آتے ہی ختم ہوجاتا ہے،اسی لیئے بعد دفن سے شبِ جمعہ تک قبر پر تلاوتِ قرآن کرائی جاتی ہے۔

(۸)حشر کے بعد بندوں کو جنت یا دوزخ میں داخل فرما کر ثواب یا عذاب دیا جاوے گا،برزخ میں جنت دوزخ کا ثواب و عذاب قبر میں پہنچتا ہے جسمِ میت وہاں نہیں پہنچتا،لہذا دونوں عذابوں ثوابوں میں فرق ہے۔

(۹)عذابِ قبر روح کو ہے جسم اُس کے تابع مگر حشر کے بعد والا عذاب و ثواب روح وجسم دونوں کو ہوگا