بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِّـلَّذِيۡنَ يُؤۡلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآٮِٕهِمۡ تَرَبُّصُ اَرۡبَعَةِ اَشۡهُرٍ‌‌ۚ فَاِنۡ فَآءُوۡ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

جو لوگ اپنی عورتوں سے مباشرت نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے ‘ اگر انہوں نے (اس مدت میں) رجوع کرلیا تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے

ایلا کا معنی اور ایلاء کے بعد وقوع طلاق میں فقہاء احناف کا مؤقف :

ایلاء کا لغوی معنی ہے : قسم کھانا ‘ اور اصطلاح شرع میں اس کا معنی ہے : مدت مخصوصہ تک اپنی منکوحہ سے جماع نہ کرنے کی قسم کھانا ‘ اور زیادہ صحیح تعریف یہ ہے کہ اپنی منکوحہ سے چار مہینے تک جماع نہ کرنے کی قسم کھانا۔

علامہ مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

جب کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ اللہ کی قسم ! میں تم سے مقاربت نہیں کروں گا ‘ یا کہے : اللہ کی قسم ! میں تم سے چار مہینے مقاربت نہیں کروں گا تو وہ ایلاء کرنے والا ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے : جو لوگ اپنی عورتوں سے مباشرت نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے ‘ اگر انہوں نے (اس مدت میں) رجوع کرلیا تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا بردبار ہے ‘ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کا ارادہ کرلیا ہے تو بیشک اللہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے۔ (البقرہ : ٢٢٧۔ ٢٢٦)

اگر اس نے چار مہینے کے اندر اپنی بیوی سے مباشرت کرلی تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس پر کفارہ لازم ہوگا اور ایلاء ساقط ہوجائے گا ‘ اور اگر اس نے چار مہینے اپنی بیوی سے مقاربت نہیں کی تو اس کی بیوی پر از خود طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی۔

امام شافعی نے کہا : کہ قاضی کے تفریق کرنے سے طلاق بائنہ واقع ہوگی جیسا کہ مقطوع الالہ اور نامرد کے مسئلہ میں قاضی کی تفریق سے طلاق بائنہ واقع ہوتی ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ اس نے عورت کے حق کو اس سے سلب کرکے اس پر ظلم کیا ہے اس لیے شریعت نے اس کو یہ سزا دی ہے کہ اس مدت کے پوری ہونے پر نکاح کی نعمت اس سے زائل ہوجائے گی۔ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ‘ اور حضرت زید بن ثابت (رض) سے اسی طرح منقول ہے اور ان کی اقتداء کرنی ہمارے لیے کافی ہے اور اس لیے کہ زمانہ جاہلیت میں قسم کھاتے ہی فورا طلاق واقع ہوجاتی تھی اور شریعت اسلامیہ نے وقوع طلاق کے لیے مدت پوری ہونے کی حد مقرر کردی۔

اگر اس نے چاہ ماہ تک مقاربت نہ کرنے کی قسم کھائی تھی تو چار ماہ کے بعد قسم ساقط ہوجائے گی اور اگر اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ میں کبھی بھی اس سے مقاربت نہیں کروں گا تو چار ماہ بعد اس کی بیوی کو طلاق بائنہ ہوجائے گی اور قسم باقی رہے گی ‘ پھر اگر اس نے اس سے دوبارہ نکاح کرلیا اور اس کے بعد مقاربت کرلی تو فبہا اور اسے اس قسم کے توڑنے کا کفارہ دینا ہوگا ‘ اور اگر اس نے پھر چار ماہ تک مقاربت نہیں کی تو اس کی بیوی پر دوبارہ طلاق بائنہ پڑجائے گی اور اگر اس نے اس سے پھر تیسری بارنکاح کرلیا تو پھر اسی طرح ہوگا یعنی اگر اس نے مقاربت کرلی تو فبہا ورنہ چار ماہ بعد پھر اس کی بیوی پر طلاق بائنہ پڑجائے گی اور اس کے بعد حلالہ شرعیہ کے بغیر وہ اس سے چوتھی بارنکاح نہیں کرسکتا اور چوتھی بار نکاح کرنے کے بعد پھر اسی طرح ہوگا۔

اگر اس نے چار ماہ سے کم کی قسم کھائی ہے تو یہ ایلاء نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : چار ماہ سے کم میں ایلاء نہیں ہے ‘ کیونکہ جس شخص نے ایک ماہ مقاربت نہ کرنے کی قسم کھائی اور پھر چار ماہ تک مقاربت نہیں کی تو بقیہ تین ماہ کے عرصہ میں اس نے بغیر قسم کے مقاربت نہیں کی اور جو بغیر قسم کے تین ماہ بلکہ اس سے زائد عرصہ تک بھی مقاربت نہ کرے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ (ہدایہ اولین ص ٤٠٢۔ ٤٠١‘ مطبوعہ شرکۃ علمیہ ‘ ملتان)

علامہ المرغینانی نے امام شافعی کا جو یہ مذہب نقل کیا ہے کہ چارماہ کی مدت گزرنے کے بعد قاضی کی تفریق سے طلاق بائن ہوگی ‘ یہ نقل صحیح نہیں ہے ‘ بلکہ امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ مدت گزرنے کے بعد شوہر کو اختیار ہے چاہے تو رجوع کرلے اور چاہے تو طلاق دے دے۔

ایلاء کے بعد وقوع طلاق میں ائمہ ثلاثہ کا مذہب اور دلائل اور فقہاء احناف کی طرف سے جوابات :

علامہ ماوردی شافعی لکھتے ہیں :

چار ماہ گزرنے کے بعد وقوع طلاق کے متعلق دو قول ہیں ‘ حضرت عثمان (رض) ‘ حضرت علی (رض) ‘ حضرت ابن زید (رض) ‘ حضرت زید بن ثابت (رض) ‘ حضرت ابن مسعود (رض) ‘ حضرت ابن عمر (رض) ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) ‘ کا قول ہے کہ اس مدت کے گزرنے کے بعد طلاق بائنہ واقع ہوجاتی ہے اور حضرت عمر (رض) اور حضرت علی (رض) کا دوسرا قول ‘ اور ایک روایت میں حضرت عثمان (رض) کا دوسرا قول یہ ہے کہ چار ماہ گزرنے کے بعد شوہر کو اختیار ہے خواہ رجوع کرے خواہ طلاق دے دے ‘ امام شافعی اور اہل مدینہ کا یہی مذہب ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٢٩٠ ‘۔ ٢٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ ابن جوزی حنبلی نے بھی مؤخر الذکر قول نقل کیا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں :

ابوصالح نے بیان کیا کہ بارہ صحابہ سے یہی (مؤخر الذکر) قول منقول ہے اور امام مالک ‘ امام احمد اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ چار ماہ گزرنے کے بعد از خود طلاق واقع ہوجائے گی ‘ اور یہ طلاق بائن ہوگی ‘ حضرت عثمان (رض) ‘ حضرت علی (رض) ‘ حضرت ابن عمر (رض) ‘ حضرت زید بن ثابت ‘ (رض) اور حضرت قبیصہ بن ذویب ‘ (رض) سے یہی منقول ہے : (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢٥٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” وان عزمو الطلاق “۔ (البقرہ : ٢٢٧) پس اگر وہ طلاق کا ارادہ کریں ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ مدت گزرنے سے از خود طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ طلاق اس وقت واقع ہوگی جب شوہر طلاق دینے کا قصد کرے گا ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ چار ماہ تک اس کا رجوع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا عزم طلاق ہے ‘ ہمارے علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ چار ماہ تک رجوع نہ کرنا اس کا ماضی ہے اور ماضی پر عزم کرنا محال ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ چار ماہ گزرنے کے بعد اگر وہ طلاق کا عزم کریں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ چار ماہ گزرنے کے بعد اس کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوگی۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٢٤٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

قاضی ابوبکر ابن العربی کا یہ استدلال درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے اگر وہ طلاق کا عزم کریں یہ نہیں فرمایا کہ وہ زبان سے طلاق دیں ‘ جب کہ ائمہ ثلاثہ کا یہ مذہب ہے کہ شوہر جب زبان سے طلاق دے گا تو طلاق واقع ہوگی ‘ اور قرآن مجید میں زبان سے طلاق دینے کا ذکر نہیں ہے بلکہ طلاق کے عزم کا ذکر ہے اور اس کا چار ماہ تک رجوع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس عزم کا ذکر ہے اور اس کا چار ماہ تک رجوع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا عزم طلاق دینا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پس اگر وہ طلاق کا عزم کریں ‘ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس مدت کے بعد وہ عزم کریں ‘ بلکہ اس کا معنی ہے : اگر وہ طلاق کے عزم پر مستمر اور برقرار رہیں تو اللہ تعالیٰ خوب سننے والا ہے ‘ بہت جاننے والا ہے ‘ یعنی ان کے دل کی بات کو سننے والا ہے اور ان کی نیت کو جاننے والا ہے ‘ سننے کا تعلق صرف کلام لفظی سے نہیں ہوتا بلکہ کلام نفسی سے بھی ہوتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 226