بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ

اور اگر انہوں نے طلاق ہی کا ارادہ کرلیا ہے تو بیشک اللہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” وان عزمو الطلاق “۔ (البقرہ : ٢٢٧) پس اگر وہ طلاق کا ارادہ کریں ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ مدت گزرنے سے از خود طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ طلاق اس وقت واقع ہوگی جب شوہر طلاق دینے کا قصد کرے گا ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ چار ماہ تک اس کا رجوع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا عزم طلاق ہے ‘ ہمارے علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ چار ماہ تک رجوع نہ کرنا اس کا ماضی ہے اور ماضی پر عزم کرنا محال ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ چار ماہ گزرنے کے بعد اگر وہ طلاق کا عزم کریں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ چار ماہ گزرنے کے بعد اس کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوگی۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٢٤٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

قاضی ابوبکر ابن العربی کا یہ استدلال درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے اگر وہ طلاق کا عزم کریں یہ نہیں فرمایا کہ وہ زبان سے طلاق دیں ‘ جب کہ ائمہ ثلاثہ کا یہ مذہب ہے کہ شوہر جب زبان سے طلاق دے گا تو طلاق واقع ہوگی ‘ اور قرآن مجید میں زبان سے طلاق دینے کا ذکر نہیں ہے بلکہ طلاق کے عزم کا ذکر ہے اور اس کا چار ماہ تک رجوع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس عزم کا ذکر ہے اور اس کا چار ماہ تک رجوع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا عزم طلاق دینا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پس اگر وہ طلاق کا عزم کریں ‘ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس مدت کے بعد وہ عزم کریں ‘ بلکہ اس کا معنی ہے : اگر وہ طلاق کے عزم پر مستمر اور برقرار رہیں تو اللہ تعالیٰ خوب سننے والا ہے ‘ بہت جاننے والا ہے ‘ یعنی ان کے دل کی بات کو سننے والا ہے اور ان کی نیت کو جاننے والا ہے ‘ سننے کا تعلق صرف کلام لفظی سے نہیں ہوتا بلکہ کلام نفسی سے بھی ہوتا ہے۔

القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 227