بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَ بَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ ‌ؕ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنۡ يَّكۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِىۡٓ اَرۡحَامِهِنَّ اِنۡ كُنَّ يُؤۡمِنَّ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ وَبُعُوۡلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ اِنۡ اَرَادُوۡٓا اِصۡلَاحًا ‌ؕ وَلَهُنَّ مِثۡلُ الَّذِىۡ عَلَيۡهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ ۖ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٌ ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ

اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک (عقد ثانی سے) روکے رکھیں ‘ اور اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں (بچہ دانیوں) میں پیدا کیا ہے اور ان کے خاوند اس مدت میں (طلاق رجعی کو) واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں بشرطیکہ ان کا ارادہ حسن سلوک کے ساتھ رہنے کا ہو ‘ اور عورتوں کے لیے بھی دستور کے مطابق مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جس طرح مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ‘ اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت ہے ‘ اور اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

مطلقہ عورتوں کی عدت مقرر کرنے کا شان نزول :

اس سے پہلے ایلاء کی دو آیتوں کو اللہ تعالیٰ نے طلاق پر ختم کیا تھا اور طلاق کو عدت لازم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عدت کا حکم بیان فرمایا ہے۔ حافظ جلال الدین سیوطی نے اس آیت کے شان نزول میں حسب ذیل احادیث ذکر کی ہیں :

امام ابوداؤد ‘ امام ابی حاتم اور امام بیہقی ‘ نے روایت کیا ہے کہ حضرت اسماء بنت یزید بن السکن انصاریہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں طلاق دی گئی ‘ اس وقت مطلقہ کے لیے کوئی عدت نہیں ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کو بیان فرمایا اور یہ آیت نازل فرمائی۔ وہ پہلی خاتون ہیں جن کے متعلق عدت طلاق نازل ہوئی۔

امام عبد بن حمید نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں طلاق کی کوئی عدت نہیں ہوتی تھی۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٧٤‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

مطلقہ عورتوں کی اقسام اور ان کی عدتوں کا بیان :

اس آیت میں مطلقات کی عدت تین قروء (تین حیض) بیان کی گئی ہے اور مطلقہ کے کئی افراد ہیں غیر مدخولہ کی سرے سے عدت ہی نہیں ہے۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا نکحتم المؤمنت ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا ‘ فمتعوھن وسرحوھن سراحا جمیلا “۔۔ (الاحزاب : ٤٩)

ترجمہ : اے مسلمانو ! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو ‘ پھر تم ان کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دو تو پھر تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو ‘ سو تم ان کو کچھ فائدہ پہنچاؤ اور حسن سلوک کے ساتھ انہیں چھوڑ دو ‘۔

اور جو عورت مطلقہ ہو اور حاملہ ہو اس کی عدت وضع حمل ہے :

(آیت) ” واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن “۔ (الطلاق : ٤)

ترجمہ : اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔

اور جو عورت مطلقہ ہو ‘ غیر حاملہ ہو لیکن صغر سن یا بڑھاپے کی وجہ سے اس کو حیض نہ آتا ہو ‘ اس کی عدت تین ماہ ہے :

(آیت) ” والی یئسن من المحیض من نسآئکم ان ارتبتم فعدتھن ثلثۃ اشھر والی لم یحضن “۔ (الطلاق : ٤)

ترجمہ : اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر تمہیں اشتباہ ہو (کہ انکی عدت کیا ہوگی ؟ ) تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن عورتوں کو ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا (انکی عدت بھی تین ماہ ہے) ۔

اور جو مطلقہ عورت مدخولہ ہو ‘ غیر حاملہ ہو ‘ بالغہ اور جوان ہو لیکن باندی ہو اس کی عدت دو حیض ہے ‘ سو اس آیت میں جس مطلقہ عورت کی عدت تین حیض بیان کی گئی ہے وہ ایسی مطلقہ عورت ہے جو مدخولہ ہو ‘ غیر بالغہ اور جوان ہو اور آزاد ہو اور مطلقات کے عموم سے مطلقہ عورتوں کے باقی افراد مستثنی ہیں اس لیے یہ آیت عام مخصوص عنہ البعض ہے۔

عدت کا لغوی اور شرعی معنی اور عدت کے احکام :

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :

(آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوھن لعدتھن واحصوالعدۃ ‘ واتقوا اللہ ربکم لاتخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ ‘ وتلک حدود اللہ ‘ ومن یتعدحدود اللہ فقد ظلمہ نفسہ “ (الطلاق : ١)

اے نبی ! (مسلمانوں سے کہیے :) جب تم (اپنی) عورتوں کو طلاق دو ‘ تو ان کو عدت کے لیے (اس زمانہ میں جس میں جماع نہ کیا ہو) طلاق دو ‘ اور عدت کو شمار کرو ‘ اور اپنے رب اللہ سے ڈرتے رہو ‘ تم مطلقہ عورتوں کو دوران عدت ان کے گھروں سے نہ نکالو اور وہ خود (بھی) نہ نکلیں ‘ البتہ اگر وہ کسی کھلی گھروں سے نہ نکالو اور وہ خود (بھی) نکلیں ‘ البتہ اگر وہ کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں (تو پھر نکال دو ) اور یہ اللہ کی حدود ہیں ‘ اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔

عدت کا لغوی معنی ہے : گننا اور شمار کرنا ‘ اور اس کا اصطلاح شرع میں یہ معنی ہے کہ زوال نکاح کے بعد عورت کا شوہر کے مکان میں ایک مدت معینہ تک ٹھہرنا اور انتظار کرنا۔ عورت کے حق میں عدت کا رکن یہ ہے کہ دوران عدت اس کا گھر سے باہر نکلنا حرام ہے ‘ اور دوران عدت نکاح کرنا یا نکاح کا پیغام کرنا حرام ہے اور مرد پر لازم ہے کہ وہ عدت کے زمانہ میں عورت کو رہائش اور کھانے کا خرچ مہیا کرے۔ اگر اس نے تین طلاقیں دی ہیں تو مطلقہ اس کے گھر میں اجنبی عورت کی طرح رہے گی اور اس سے پردہ کرے گی۔ عدت کے دوران مرد پر مطلقہ کی بہن ‘ اس کی پھوپھی ‘ اس کی خالہ ‘ اس کی بھتیجی اور اس کی بھانجی سے نکاح کرنا حرام ہے ‘ اسی طرح اگر مطلقہ اس کی چوتھی بیوی تھی اور بقیہ تین اس کے نکاح میں ہیں تو اب وہ دوران عدت مزید کسی عورت سے نکاح نہیں کرسکتا۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ٥٩٩۔ ٥٩٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

عدت مقرر کرنے کی حکمتیں :

عدت کی حکمت یہ ہے کہ عورت کے رحم کا استبراء ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں ‘ کیونکہ اگر اس کو حیض آگیا تو وہ حاملہ نہیں ہوگی اور اس کی عدت تین حیض ہوگی ‘ ورنہ وضع حمل تک اس کی عدت ہوگی ‘ دوسری حکمت یہ ہے کہ اگر عورت دوسرا نکاح کرتی ہے تو اس نکاح اور دوسرے نکاح کے درمیان واقع ہونا چاہیے تاکہ اس وقفہ میں عورت کے دل و دماغ پر پہلے شوہر کے جو اثرات نقش ہوچکے تھے وہ محو ہوجائیں اور وہ خالی الذہن ہو کر دوسرے شوہر کے نکاح میں جائے ‘ تیسری حکمت یہ ہے کہ عدت کے دوران عورت طلاق کے عواقب اور نتائج پر غور کرے کہ اس کی کس خطا یا زیادتی کی وجہ سے طلاق واقع ہوئی تاکہ دوسرے نکاح میں وہ ان غلطیوں کا اعادہ نہ کرے اور اگر شوہر کی کسی بدسلوکی یا زیادتی کے نتیجے میں طلاق واقع ہوئی ہے تو اب دوسرے نکاح میں زیادہ غور و فکر اور تامل سے کام لے اور احتیاط سے نکاح کرے تاکہ پرھ اسی قماش کے شوہر کے پلے نہ بندھ جائے ‘ چوتھی حکمت یہ ہے کہ اگر ایک طلاق ‘ یا دو طلاقوں کی عدت گزار رہی ہے تو شوہر کے لیے اس طلاق سے رجوع کرنے کا موقع باقی رہے اور جس جھگڑے یا فساد کی بناء پر یہ طلاق واقع ہوئی تھی بعد میں جب فریقین کا جوش غضب ٹھنڈا ہوجائے تو اس جھگڑے کے عوامل پر غور کریں اور شوہر حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے رجوع کرلے ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے : اور ان کے خاوند اس مدت میں (طلاق رجعی کو) واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں بشرطیکہ ان کا ارادہ حسن سلوک کے ساتھ رہنے کا ہو ‘ اس لیے یہ ضروری ہے کہ صرف ایک یا زیادہ سے زیادہ دو طلاقیں دی جائیں تاکہ رجوع کا موقع باقی رہے اور تین طلاقیں دے کر بعد میں پچھتانا نہ پڑے اور بچوں کی زندگی ویران نہ ہو ‘ ہمارے زمانہ میں یہ وبا عام ہے کہ لوگ جب طلاق دیتے ہیں تو تین طلاقوں سے کم نہیں دیتے یا وثیقہ نویس سے طلاق لکھواتے ہیں اور وہ تین طلاقیں لکھ کر دستخط کرا لیتا ہے اور جب جھگڑے کا جوش ختم ہوجاتا ہے تو میاں بیوی دونوں دربدر مارے مارے پھرتے ہیں ‘ غیر مقلد مولوی سے فتوی لیتے ہیں یا حلالہ کی ناگوار صورت اختیار کرتے ہیں۔

قرء کے معانی کے متعلق ائمہ لغت کی تصریحات :

اللہ تعالیٰ نے مطلقہ کی عدت تین قروء بیان فرمائی ہے لیکن قروء کی تفسیر میں مجتہدین کا اختلاف ہے ‘ امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک قروء کا معنی حیض ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک قروء کا معنی طہر ہے۔ لغت میں قرء کا معنی حیض اور طہر ہے اور یہ لغت اضداد سے ہے۔ علامہ فیروز آبادی لکھتے ہیں :

قرء کا معنی حیض ‘ طہر اور وقت ہے۔ (قاموس ج ١ ص ‘ ١٣٦ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ھ)

علامہ جوہری لکھتے ہیں :

قرء کا معنی حیض ہے ‘ اس کی جمع قروء اور اقراء ہے ‘ حدیث میں ہے : اپنے ایام اقراء میں نماز کو ترک کردو ‘ اس حدیث میں قروء کا اطلاق حیض پر ہے اور قرء کا معنی طہر بھی ہے ‘ یہ لغت اضداد سے ہے۔ (الصحاح ج ١ ص ٦٤‘ مطبوعہ دارا العلم ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

علامہ ابن منظور افریقی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (لسان العرب ج ١ ص ١٣٠‘ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ١٤٠٥ ھ)

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

قرء حقیقت میں طہر سے حیض میں داخل میں داخل ہونے کا نام ہے ‘ اور جب کہ یہ لفظ حیض اور طہر دونوں کا جامع ہے تو اس کا ہر ایک پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو (نکاح ثانی سے) تین قروء تک روکے رکھیں ‘ یعنی تین حیض تک روکے رکھیں ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے ایام اقراء میں نماز پڑھنے سے بیٹھی رہو ‘ یعنی اپنے ایام حیض میں۔ اہل لغت نے کہا ہے کہ قرء کا معنی ہے : جمع ہونا اور ایام حیض میں رحم میں خون جمع ہوتا ہے۔ (المفردات ص ‘ ٤٠٢ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

قرء بہ معنی حیض کی تائید میں احادیث اور فقہاء احناف کے دلائل :

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

عدی بن ثابت اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مستحاضہ کے متعلق فرمایا : تم اپنے ان ایام اقراء میں نماز چھوڑ دو جن میں تم کو حیض آتا ہے ‘ پھر تم غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو ‘ نماز پڑھو اور روزہ رکھو۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٤ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرء کا اطلاق حیض پر کیا ہے اور یہ دلیل بھی ہے کہ حیض کی کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے کیونکہ اقراء عربی قواعد کے اعتبار سے جمع قلت ہے اور اس کا اطلاق کم ازکم تین اور زیادہ سے زیادہ دس پر ہوتا ہے اور آپ نے حیض کے لیے اقراء کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔

اس حدیث کو امام ابوداؤد۔ ١ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٧ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام نسائی۔ ٢۔ (امام ابو عبدالرحمان نسائی متوفی ٣٠٣ ھ ‘ سنن نسائی ج ١ ص ٦٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اور امام دارقطنی۔ ٣ (امام علی بن عمر دار قطنی متوفی ٢٨٥ ھ سنن دارقطنی ج ١ ص ٢١٢‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان) نے بھی روایت کیا ہے۔

نیز امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : باندی کی طلاق (مغلظہ) دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں۔ (جامع ترمذی ص ‘ ١٩١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام ابوداؤد۔ ١ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٧٥ ھ ‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابن ماجہ۔ ٢ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ١٥٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)

امام مالک۔ ٣ (امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ ‘ موطا امام مالک ص ٥٢٦‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)

امام دارمی۔ ٤ (امام ابو عبدالرحمان نسائی متوفی ٣٠٣ ھ ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٢٩٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اور امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ ٥ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٦ ص، ١١٧ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اس پر اتفاق ہے کہ آزاد اور باندی کی عدت کے عدد میں فرق ہے جنس میں فرق نہیں ہے اور جب باندی کی عدت دو حیض ہے تو آزاد عورت کی عدت تین حیض ہوئی اور حدیث میں یہ تصریح ہے کہ قرء سے مراد حیض ہے۔

حافظ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :

امام عبدالرزاق ‘ امام ابن جریر اور امام بیہقی نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے کہا : الاقراء سے مراد حیض ہے۔

امام ابن جریر اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” ثلاثۃ قروء “ سے مراد تین حیض ہیں۔

امام عبد بن حمید نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد حیض ہے۔

وکیع نے حسن سے روایت کیا ہے کہ عورت حیض کیساتھ عدت گزارے خواہ اس کو ایک سال کے بعد حیض آئے۔

امام عبدا الرزاق نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ الاقراء حیض ہیں ‘ طہر نہیں ہیں۔

امام عبدالرزاق نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ الاقراء حیض ہیں طہر نہیں ہیں۔

امام عبدالرزاق اور امام بیہقی نے حضرت زید بن ثابت سے روایت کیا ہے کہ طلاق دینا مردوں پر موقوف ہے اور عدت عورتوں پر موقوف ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٧٥۔ ٢٧٤ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

فقہاء احناف نے ” ثلاثۃ قروء “ میں لفظ ” ثلثۃ “ سے بھی استدلال کیا ہے کیونکہ اگر قرء کا معنی طہر لیا جائے تو جس طہر میں طلاق دی جائے گی اس طہر کیا جائے گایا نہیں ‘ اگر اس طہر کو شمار کیا جائے تو دو طہر اور ایک طہر کا کچھ حصہ یعنی اڑھائی طہر عدت قرار پائے گی اور اگر اس طہر کو شمار نہ کیا جائے تو ساڑھے تین طہر عدت قرار پائے گی اور تین قروء صرف اسی صورت میں عدت ہوسکتی ہے جب قرء کا معنی حیض کیا جائے۔

فقہاء احناف نے قرء بہ معنی حیض لینے پر یہ عقلی استدلال کیا ہے کہ عدت مشروع کرنے کی حکمت یہ ہے کہ استبراء رحم ہوجائے یعنی یہ معلوم ہوجائے کہ عورت کے رحم میں شوہر کا نطفہ استقرار پا گیا ہے اور بچہ بننے کا عمل شروع ہوگیا ہے یا اس کا رحم خالی اور صاف ہے ‘ سو اگر عورت کو حیض آگیا تو معلوم ہوا کہ اس کا رحم خالی ہے اور اگر حیض نہیں آیا تو معلوم ہوا کہ اس میں نطفہ ٹھہر گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عدت کی حکمت حیض سے پوری ہوتی ہے نہ کہ طہر سے ‘ اس لیے صحیح یہی ہے کہ قرء کا معنی حیض کیا جائے۔

فقہاء شافعیہ اور مالکیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے : (آیت) ” فطلقوھن لعدتھن “۔ (الطلاق : ١) انہوں نے کہا : اس آیت میں لام توقیت کے لیے ہے اور آیت کا معنی ہے : ان کو حدت کے وقت میں طلاق دو ‘ اور چونکہ حیض میں طلاق دینا مشروع نہیں ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ عدت کا وقت طہر ہے اس لیے ” ثلثہ قروء “ میں قروء بہ معنی طہر ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں لام توقیت کیلیے نہیں بلکہ اختصاص کے لیے ہے یعنی طلاق عدت کے ساتھ مختص ہے اور عدت حیض سے شروع ہوتی ہے ‘ اس لیے طلاق حیض سے پہلے دینی چاہیے نہ کہ دوران حیض ‘ اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ ایک قراءت میں ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو یوں بھی پڑھا ہے : ” فی قبل عدتھن “ (روح المعانی ج ١ ص ١٣٢) یعنی ان کو عدت سے پہلے طلاق دو ‘ نیز قرء بہ معنی حیض پر یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ” ثلثۃ قروء “ کے بعد فرمایا ہے :” عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے “ اور یہ واضح ہے کہ اس کا تعلق حیض سے ہے نہ کہ طہر سے۔

قرء کے معنی کی تعیین میں دیگر ائمہ مذاہب کی آراء :

علامہ ماوردی شافعی لکھتے ہیں :

قروء کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حیض ہے ‘ یہ حضرت عمر (رض) حضرت علی (رض) ‘ حضرت ابن مسعود (رض) ‘ حضرت ابوموسی (رض) ‘ مجاہد ‘ قتادہ ضحاک ‘ عکرمہ ‘ سدی ‘ امام مالک اور ابوحنیفہ کا قول ہے (علامہ ماوردی کو نقل میں تسامح ہوا ہے ‘ امام مالک کے نزدیک اس کا معنی حیض نہیں ‘ طہر ہے ‘ البتہ امام احمد کے نزدیک اس کا معنی حیض ہے) دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا معنی طہر ہے ‘ یہ حضرت عائشہ (رض) حضرت ابن عمر (رض) حضرت زید بن ثابت (رض) ‘ زہری ‘ ابان بن عثمان ‘ امام شافعی اور اہل حجاز کا قول ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٢٩١۔ ١٩٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

اس آیت سے مراد یہ ہے کہ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین ادواریا تین انتقالات تک (عقدثانی سے) روکے رکھیں ‘ اور مطلقہ کبھی حیض سے طہر کی طرف اور کبھی طہر سے حیض کی طرف منتقل ہوتی ہے ‘ اور یہاں طہر سے حیض کی طرف انتقال تو قطعا مراد نہیں ہے کیونکہ حیض میں طلاق دینا تو اصلا مشروع نہیں ہے ‘ اور جب کہ طلاق دینا طہر میں مشروع ہے تو پھر عدت تین انتقالات ہے اور پہلا انتقال اس طہر سے ہے جس میں طلاق واقع ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ١١٥۔ ١١٤‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

اقراء کے متعلق فقہاء کے دو قول ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حیض ہے ‘ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی ‘ (رض) حضرت ابن مسعود (رض) ‘ حضرت بوموسی (رض) ‘ حضرت عبادہ بن الصامت ‘ (رض) حضرت ابوالدرداء (رض) ‘ عکرمہ ‘ ضحاک ‘ سدی ‘ سفیان ثوری ‘ اوزاعی ‘ حسن بن صالح ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب اور امام احمد بن حنبل کا یہی قول ہے ‘ امام احمد نے کہا : میں پہلے یہ کہتا تھا کہ قرء بہ معنی طہر ہے ‘ اور اب میرا مذہب یہ ہے کہ قرء کا معنی حیض ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اقراء سے مراد اطہار ہیں ‘ حضرت زید بن ثابت (رض) حضرت ابن عمر (رض) ‘ حضرت ام المؤمنین عائشہ (رض) زہری ‘ ابان بن عثمان ‘ امام مالک بن انس اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ٢٦٠۔ ٢٥٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

ہرچند کہ قرء کا اطلاق حیض اور طہر دونوں پر ہوتا ہے ‘ لیکن چند دلائل کی وجہ سے قرء بہ معنی حیض راجح ہے ‘ ایک دلیل یہ ہے کہ اہل لغت نے کہا ہے کہ قرء کا معنی کا معنی اصل لغت میں وقت ہے اور اس لحاظ سے اس کا بہ معنی حیض ہونا راجح ہے ‘ کیونکہ وقت کسی چیز کے حادث ہونے کا ہوتا ہے اور حادث حیض ہوتا ہے کیونکہ طہر تو حالت اصلی ہے اور بعض نے کہا : قرء کا معنی اصل لغت میں جمع اور تالیف ہے ‘ اس اعتبار سے بھی حیض اولی ہے کیونکہ ایام حیض میں رحم میں خون جمع ہوتا رہتا ہے ‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ اس عورت کو ذات الاقراء کہا جاتا ہے جس کو حیض آتا ہو اور جو کم سن ہو یا بڑھیا بانجھ ہو اس کو ذات الاقراء نہیں کہا جاتا ہے ‘ حالانکہ طہر تو ان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے ‘ تیسری دلیل یہ ہے کہ لغت قرآن پر اتھارٹی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرء کو حیض کے معنی میں استعمال فرمایا ہے ‘ طہر کے معنی میں استعمال نہیں فرمایا کیونکہ آپ نے فرمایا : مستحاضہ اپنے ایام اقراء میں نماز پڑھنا چھوڑ دے ‘ اور آپ نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش سے فرمایا : جب تمہارا قرء آئے تو نماز چھوڑ دے ‘ اور آپ نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش سے فرمایا : جب تمہارا قرء آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب وہ چلا جائے تو غسل کرکے نماز پڑھو ‘ اور حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : باندی کی طلاقیں دو ہیں اور اس کا قرء دو حیض ہیں ‘ اور ایک روایت میں فرمایا : اس کی عدت دو حیض ہیں ‘ اور حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس کی باندیوں کے متعلق فرمایا : وضح حمل سے پہلے حاملہ سے وطی نہ کی جائے اور جب تک ایک حیض سے استبراء نہ ہوجائے غیر حاملہ سے وطی نہ کی جائے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٣٦٧۔ ٣٦٤ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

امام بخاری بیان کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : جب وطی شدہ باندی کو ہبہ کیا جائے یا اسے فروخت کیا جائے یا وہ آزاد ہوجائے تو ایک حیض کے ساتھ اس کے رحم کا استبراء کیا جائے اور کنواری باندی کا استبراء نہ کیا جائے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٩٨۔ ٢٩٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور عورتوں کے لیے بھی دستور کے مطابق مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جس طرح مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت ہے۔ (البقرہ : ٢٢٨)

اسلام میں عورتوں کے مردوں پر حقوق :

اس آیت کی تفسیر میں ہم پہلے یہ بیان کریں گے کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیئے ہیں ‘ اس کے بعدمرودں کے حقوق اور ان کی فضیلت بیان کریں گے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ :

(آیت) ’ یایھا الذین امنوا لایحل لکم ان ترثوالنسآء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبوا بعض ما اتیتموھن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینہ وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیاویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا۔ وان ارتم الستبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلاتاخذوا منہ شیئا اتاخذونہ بھتانا واثمامبینا۔ وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا “۔۔ (النساء : ٢٠۔ ١٨)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تمہارے لیے زبردستی عورتوں کا وارث بنا جانا جائز نہیں ہے اور ان سے اپنے دیئے ہوئے مہر کا بعض حصہ لینے کے لیے ان کو نہ روکو ‘ ماسوا اس کے کہ وہ کھلی ہوئی بےحیائی کا کام کریں ‘ اور تم ان کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزارو ‘ پس اگر تم ان کو ناپسند کرو گے تو یہ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کو اور اللہ تمہارے لیے اس میں خیر کثیر رکھ دے۔ اور اگر تم ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی سے نکاح کا ارادہ کرو اور تم ان میں سے کسی ایک کو بہت زیادہ مال دے چکے ہو تو اس سے کوئی چیز واپس نہ لو ‘ کیا تم اس مال کو بہتان باندھ کر واپس لو گے اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرو گے۔ اور تم اس مال کو کیسے واپس لو گے حالانکہ تم (خلوت میں) ایک دوسرے سے باہم مل چکے ہو ؟ اور وہ تم سے (عقد نکاح کے ساتھ) پختہ عہد لے چکی ہیں۔

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا تو اس کے خاوند کا سوتیلا بیٹا یا بھائی یا کوئی اور رشتہ دار اس سے بالجبر نکاح کرلیتا یا کسی دوسرے شخص سے اس کا بالجبر نکاح کردیتا اور اس کے کل مہر یا آدھے مہر پر قبضہ کرلیتا ‘ اسلام نے عورتوں پر اس ظلم اور بری رسم کو مٹایا اور زبردستی عورتوں کا کسی سے بھی نکاح کرنے سے منع فرمایا ‘ دوسری اہم چیز ہے مہرکا تحفظ کرنا۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ مختلف حیلوں بہانوں سے عورتوں کا مہردبا لیتے تھے اسلام نے اس بری رسم کو مٹایا ‘ واضح رہے کہ دنیا کے کسی مذہب نے بھی عورتوں کے لیے مہر کو لازم نہیں کیا ‘ صرف اسلام ہی عورتوں کو یہ حق دیا ہے، مہرکا فائدہ یہ ہے کہ اگر خاوند عورت کو طلاق دے دے یا مرجائے تو عورت کے پاس مہر کی صورت میں ایک معقول آمدنی ہو جس کے زریعہ وہ اپنے نئے مستقبل کا آغاز کرسکے۔

ان آیتوں میں عورتوں کا خاوند پر تیسرا حق یہ بیان کیا ہے کہ مردوں کو ہدایت دی کہ وہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ رہائش میں کھانے پینے بات چیت کرنے میں اور دیگر عائلی اور خانگی معاملات میں ان کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ رہیں۔

چوتھا حق یہ بیان کیا ہے کہ اگر عورت کی صورت یا سیرت تم کو ناپسند ہو پھر بھی اس کے ساتھ ازدواج کے ناطے نہ توڑو اور صبر و شکر کے ساتھ اس کے ہمراہ زندگی گزارو ‘ ہوسکتا ہے کہ اس سے ایسی صالح اولاد پیدا ہو کہ اسے دیکھ کر تم بیوی کی بدصورتی یا اس کی بری عادتوں کو بھول جاؤ یا کسی اور وجہ یا کسی اور وجہ سے اللہ تمہارے لیے اس نکاح میں ڈھیروں برکتیں نازل فرمائے۔

پانچواں حق یہ بیان کیا ہے کہ اگر عورت کو تم سونے چاندی کے پل کے برابر ڈھیروں مال بھی دے چکے ہو خواہ مہر کی صورت میں یا ویسے ہی بہ طور ہبہ تو اس مال کو اب اس سے واپس نہ لو ‘ تم نے صرف مال دیا ہے عورت تو اپنا جسم اور بدن تمہارے حوالے کرچکی ہے اور جسم وجان کے مقابلہ میں مال کی کیا حقیقت ہے۔

(آیت) ” فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ اوماملکت ایمانکم ذلک ادنی الا تعولوا۔ واتوالنسآء صدقتھن نحلۃ “۔ (النساء : ٤۔ ٣)

ترجمہ : پھر اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ تم ان (متعدد ازواج) میں عدل قائم نہ رکھ سکو گے ‘ تو فقط ایک سے نکاح کرو ‘ یا اپنی مملوکہ باندیوں پر اکتفاء کرو ‘ یہ کسی ایک زوجہ کی طرف بہت مائل ہونے سے زیادہ قریب ہے۔ اور عورتوں کو ان کا مہر خوشی سے ادا کرو۔

اسلام نے ضرورت کی بناء پر تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے لیکن جو ان میں عدل کرسکے ‘ اور جو عدل نہ کرسکے اس کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ صرف ایک نکاح پر اکتفاء کرے۔ ان آیتوں میں عورتوں کا مردوں پر ایک حق یہ بیان کیا ہے کہ ان میں عدل و انصاف کیا جائے اور دوسرا حق یہ بیان کیا ہے کہ ان کا مہر خوشی سے ادا کیا جائے۔ سورة نساء کی ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے مہر کی ادائیگی کے متعلق بہت تاکید کی ہے اور ہمارے دور میں اس معاملہ میں بہت سستی کی جاتی ہے۔

(آیت) ” وعلی المولودلہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف “۔ (البقرہ : ٢٣٣) ا

ترجمہ : اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق اس شخص کے ذمہ ہے جس کا بچہ ہے۔

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ عورتوں کا مردوں پر یہ حق ہے کہ وہ ان کو کھانا اور کپڑا مہیا کریں ‘ اگر عورتیں امور خانہ داری انجام دیتی ہیں اور کھانا پکاتی ہیں تو یہ ان کی طرف سے احسان ہے اور ازواج مطہرات اور صحابیات کی سنت ہے۔

(آیت) ” فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن واتمروا بینکم بمعروف وان تعاسرتم فسترضع لہ اخری “۔۔ (الطلاق : ٦)

ترجمہ : پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچہ کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو ‘ اور آپس میں دستور کے ساتھ مشورہ کرو اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو بچہ کو کوئی اور عورت دودھ پلا دے گی۔۔

اس آیت میں بتایا ہے کہ بچہ کو دودھ پلانا عورت کی ذمہ داری نہیں ہے ‘ اور عورت مرد کی غلام نہیں ہے ‘ اور مرد ڈکٹیٹر نہ بنے بلکہ گھریلو معاملات کو باہمی مشاورت سے چلائیں اور اگر عورت بچہ کو دودھ پلائے تو اس کا یہ حق ہے کہ مرد سے اس کی اجرت لے لے اور یہ کہ عورت کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

اگر شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی مناقشہ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق کی محافظت کرتے ہوئے فرمایا :

(آیت) ” والتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن ‘ فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا “۔ (النساء : ٣٤)

ترجمہ : اور جن عورتوں سے تمہیں نافرمانی کا خوف ہو ‘ ان کو (نرمی سے) نصیحت کرو اور انہیں ان کی خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو (اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں) تو انہیں (تادیبا خفیف سا) مارو ‘ پھر وہ اگر تمہاری فرمانبرداری کریں تو انہیں تکلیف پہنچانے کا کوئی بہانہ تلاش نہ کرو۔

تعدداز دواج کی صورت میں عدل و انصاف کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا :

(آیت) ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ وان تصلحوا وتتقوا فان اللہ کان غفورا رحیما ، A وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ “۔ (النساء : ١٢٩)

ترجمہ : اور خواہ تم عدل کرنے پر حریص ہو پھر بھی تم متعدد ازواج میں عدل نہ کرسکو گے (تو جسکی طرف تم کو رغبت نہ ہو) اس سے مکمل اعراض نہ کرو کہ اسے یوں چھوڑ دو گویا وہ درمیان میں لٹکی ہوئی ہے ‘ اور اگر تم اپنی اصلاح کرلو اور خدا سے ڈرو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ اور اگر شوہر اور بیوی علیحدگی اختیار کرلیں ‘ تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنی وسعت سے مستغنی کر دے گا۔

اگر عورت کو طلاق دے دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے دوران عدت عورت کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا :

(آیت) ” اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ولا تضاروھن لتضیقوا علیھن وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن “۔ (الطلاق : ٦)

ترجمہ : ان عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وہ عورتیں حاملہ ہوں تو وضع حمل تک انکو خرچ دیتے رہو۔

یہ تو اس مطلقہ عورت کے حقوق تھے جس کے ساتھ مباشرت ہوچکی ہو اور جس عورت کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی ہو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

(آیت) ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم “۔ (البقرہ : ٢٣٧)

ترجمہ : اگر تم نے عورتوں کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی درآں حالیکہ تم ان کا مہر مقرر کرچکے تھے تو تم پر آدھا مہر ادا کرنا واجب ہے۔

(آیت) ” لاجناح علیکم ان طلقتم النسآء مالم تمسوھن اوتفرضوالھن فریضۃ ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقترقدرہ “۔ (البقرہ : ٢٣٦)

ترجمہ : اگر تم مباشرت سے پہلے عورتوں کو طلاق دے دو تو کوئی حرج نہیں ہے ‘ یا تم نے ان کا کچھ مہر مقرر نہ کیا ہو ‘ اور ان کو استعمال کی کچھ چیزیں دو ‘ خوشحال اپنی وسعت کے مطابق اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق :

(آیت) ” ولا تمسکوھن ضرارالتعتدوا “۔ (البقرہ : ٢٣١)

ترجمہ : اور ان کو ضرر پہنچانے کے لیے ان کو (اپنے نکاح میں) نہ روکو تاکہ تم ان پر زیادتی کرو۔

اس آیت سے ائمہ ثلاثہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر خاوند عورت کو خرچ دے نہ طلاق دے تو عدالت اس نکاح کو فسخ کرسکتی ہے اور ضرورت کی بنا پر علماء احناف کو بھی اسی قول پر فتوی دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ اگر شوہر نامرد ہو تو فقہاء احناف کے نزدیک بھی عدالت نکاح کو فسخ کرسکتی ہے جب کہ نفقہ پر بقاء حیات کا مدار ہے اور شوہر کے مرد ہونے پر صرف خواہش نفسانی کی تکمیل کا مدار ہے۔

عورتوں کے حقوق کے سلسلہ میں قرآن مجید کی آیات ذکر کرنے کے بعد اب ہم اس سے متعلق چند احادیث پیش کررہے ہیں :

حافظ سیوطی لکھتے ہیں :

امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ ‘ نے حضرت عمرو بن الاحوص سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! تمہاری ازواج پر تمہارا حق ہے اور تمہاری ازواج کا تم پر حق ہے ‘ تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو نہ آنے دیں ‘ اور نہ تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو تمہارے گھروں میں آنے دیں ‘ اور ان کا تم پر حق یہ ہے کہ تم ان کو اچھے کپڑے پہناؤ اور اچھے کھانے کھلاؤ۔

امام احمد ‘ ابوداؤد ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام ابن جریر ‘ امام حاکم اور امام بیہقی نے حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ عورت کا اس کے خاوند پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب وہ کھانا چاہے تو اس کو کھانا کھلائے اور جب پہننا چاہے تو اس کو پہنائے اس کے چہرے پر نہ مارے ‘ اس کو برا نہ کہے اور (تادیبا) صرف گھر میں اس سے علیحدگی اختیار کرے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٧٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

حافظ منذری بیان کرتے ہیں۔

میمون اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا : جو شخص کسی عورت سے کوئی مہر مقرر کرکے نکاح کرے خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ اور اس کا ارادہ مہر ادا کرنے کا نہ ہو اور وہ اسے دھوکے میں رکھے اور تادم مگ اس کا مہر ادا نہ کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے زانی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔

امام ترمذی اور امام ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : مومنوں میں سے اس شخص کا ایمان کامل ہوگا اور اس شخص کے اخلاص سب سے اچھے ہوں گے جس کے اخلاق اپنی ازواج کے ساتھ اچھے ہوں گے۔

امام ابن حبان حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ بہتر ہو اور میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل کے ساتھ بہتر ہوں۔

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے ساتھ خیرخواہی کرو ‘ کیونکہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور سب سے زیادہ ٹیڑھی پسلی سب سے اوپر والی ہوتی ہے ‘ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ‘ سو عورتوں کے ساتھ خیرخواہی کرو۔

امام ابن ماجہ اور امام ترمذی حضرت عمر و بن الاحوص (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں اللہ کی حمد وثنا اور وعظ و نصیحت کے بعد فرمایا : سنو ! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو ‘ وہ صرف تمہاری مددگار ہیں ‘ تم ان پر صرف اس صورت میں حق رکھتے ہو جب وہ کھلی بدکاری کریں ‘ اگر وہ ایسا کریں تو انکو ان کی خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو ‘ اور ان کو معمولی سا مارو ‘ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو ان کو مزید مارنے کے لیے کوئی بہانہ نہ بناؤ سنو ! تمہارا تمہاری بیویوں پر حق ہے اور تمہاری بیویوں کا تم پر حق ہے ‘ تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر ان کو نہ آنے دیں ‘ جن کو تم ناپسند کرتے ہو ‘ اور نہ ان کو گھروں میں آنے دیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو ‘ سنو ان کا تم پر حق یہ ہے کہ تم ان کے کھانے اور پینے میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو ‘ (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٥٠۔ ٤٨‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ)

اسلام میں مردوں کے عورتوں پر حقوق :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” الرجال قوموں علی النسآء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض وبما انفقوا من اموالہم ‘ فالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ ‘ والتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن ‘ فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا “۔ (النساء : ٣٤)

ترجمہ : مرد عورتوں کے (حاکم یا) منتظم ہیں ‘ کیونکہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ‘ اور اس لیے بھی کہ انہوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے ہیں سو نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں ‘ مردوں کی غیرحاضری میں بھی اللہ کی حفاطت کے ساتھ (شوہر کی عزت اور اس کے مال کی) حفاظت کرتی ہیں اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی کرنے کا خدشہ ہو ان کو نصیحت کرو اور انہیں ان کی خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو ‘ اور انہیں (تادیبا) مارو ‘ اور اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو پھر ان کو مارنے کے لیے بہانے تلاش نہ کرو۔

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے اور ان کو جسمانی اور عقلی قوت زیادہ عطا کی ہے ‘ دوسری فضیلت یہ ہے کہ مرد کو عورت کے اخراجات کا کفیل بنایا ہے اور اس کے گھرکا منتظم بنایا ہے ‘ تیسری فضیلت یہ ہے کہ مرد کو عورت پر حاکم بنایا ہے اور عورت کو مرد کی فرمانبرداری کا پابند کیا ہے ‘ چوتھی فضیلت یہ ہے کہ مرد کو عورت پر یہ فوقیت دی ہے کہ وہ اس کو اس کی نافرمانی پر تادیبا مار سکتا ہے ‘ اور پانچویں فضیلت یہ دی ہے کہ عورت کو اس کا پابند کیا ہے کہ وہ مرد کی غیر حاضری میں اس کی عزت کی حفاظت کرے اور اپنی پارسائی کو مجرورح نہ کرے اور شوہر کی غیر حاضری میں اس کے مال کی بھی حفاظت کرے ‘ غرضیکہ جسمانی قوی ‘ کھانے پینے ‘ رہائش اور لباس کے اخراجات اور شوہر کے احکام کی تعمیل اور اس کے مال اور اپنی عفت کی حفاظت ‘ ہر اعتبار سے عورت کو مرد کا تابع اور محکوم قرار دیا ہے۔

(آیت) ” بیدہ عقدۃ النکاح “۔ (البقرہ : ٢٣٧)

ترجمہ : نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ نکاح کی گرہ کو قائم رکھنے یا طلاق کے ذریعہ اس کو توڑنے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے مرد کے ہاتھ میں رکھا ہے۔ عورت کے ذمہ مرد کے فرائض اور مرد کے ذمہ جو عورتوں کے حقوق ہیں ان کا بیان حسب ذیل احادیث میں ہے :

حافظ منذری بیان کرتے ہیں :

امام ترمذی ‘ امام ابن ماجہ اور امام حاکم نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو عورت اس حال میں مری کہ اس کا خاوند اس سے راضی تھا وہ جنت میں داخل ہوگئی۔

امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو عورت پانچ وقت کی نمازیں پڑھے ‘ اپنی پارسائی کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے وہ جس دروازے سے چاہے گی جنت میں داخل ہوجائے گی۔

امام بزار اور امام حاکم حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی ‘ اس نے کہا : میں فلانہ بنت فلاں ہوں ‘ آپ نے فرمایا : میں تمہیں پہچانتا ہوں ‘ بتاؤ کیا کام ہے ؟ اس نے کہا : فلاں عبادت گزار میرا عم زاد ہے۔ آپ نے فرمایا : میں اس کو جانتا ہوں ‘ اس نے کہا : وہ مجھے نکاح کا پیغام دے رہا ہے ‘ مجھے بتائیں کہ مرد کا بیوی پر کیا حق ہے ؟ اگر میں اس کا حق ادا کرنے کی طاقت رکھوں گی تو اس سے نکاح کرلوں گی۔ آپ نے فرمایا : مرد کا حق یہ ہے کہ اگر بالفرض مرد کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہ رہا ہو اور تم اس کو چاٹ لو پھر بھی اس کا حق ادا نہیں ہوا۔

اگر کسی بشر کے لیے سجدہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب خاوند آئے تو عورت اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ امام حاکم نے کہا : اس حدیث کو سند صحیح ہے۔

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں آنے کی اجازت دے۔

امام حاکم نے حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں کسی ایسے شخص کو آنے کی اجازت دے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو ‘ اور نہ اس کی مرضی کے بغیر گھر سے نکلے اور نہ اس معاملہ میں کسی اور کی اطاعت کرے ‘ اور نہ اس سے الگ بستر پر سوئے اور نہ اس کو ستائے ‘ اگر اس کا خاوند ظلم کرتا ہو تو وہ اس کے پاس جائے حتی کہ اس کو راضی کرے ‘ اگر وہ اس کی معذرت قبول کرلے تو فبہا اور اللہ بھی اس کے عذر کو قبول کرلے گا ‘ اس کی حجت صحیح ہوگی اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اگر خاوند پھر بھی اس سے راضی نہیں ہوا تو اللہ کے نزدیک اس کی حجت تمام ہوگئی ‘ امام حاکم نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔

امام طبرانی نے سند جید کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتائیے کہ خاوند کے بیوی پر کیا حقوق ہیں ؟ میں بےنکاح عورت ہوں ‘ اگر میں نے ان حقوق کے ادا کرنے کی طاقت پائی تو نکاح کرلوں گی ورنہ بےنکاح رہوں گی ‘ آپ نے فرمایا : بیوی پر شوہر کے حقوق میں سے یہ ہے کہ اگر وہ اونٹ کے کجاوہ پر بیٹھی ہو اور شوہر اسے مباشرت کے لیے بلائے تو وہ انکار نہ کرے ‘ اور اس کا بیوی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے ‘ اگر وہ اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلی تو اس کے واپس آنے تک آسمان کے فرشتے ‘ رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۔ اس عورت نے کہا : یہ حقوق ضروری ہیں اور میں کبھی نکاح نہیں کروں گی۔

امام ترمذی اور امام ابن ماجہ ‘ حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی دنیا میں کوئی عورت اپنے خاوند کو ایذاء پہنچاتی ہے کہ جنت میں اس کی بیوی بڑی آنکھوں والی حور اس سے کہتی ہے : اللہ تجھے ہلاک کرے تو اس کو نہ ستا ‘ یہ تیرے پاس عارضی طور پر ہے اور عنقریب ہمارے پاس آنے والا ہے۔

امام ترمذی ‘ امام نسائی اور امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت طلق بن علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مرد عورت کو اپنے کسی کام سے بلائے تو عورت فورا آجائے خواہ تنور پر بیٹھی ہو۔

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو دؤاد اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مرد عورت کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے اور شوہر ناراضگی میں رات گزارے تو صبح تک اس پر فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔

امام ترمذی ‘ امام ابن ماجہ اور امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی۔ جو شخص کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس کو (کسی شرعی عیب کی وجہ سے) ناپسند کرتے ہو ‘ اور جو عورت اس حال میں رات گزارے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو ‘ اور دو مسلمان بھائی جو آپس میں لڑے ہوئے ہوں۔

امام طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو عورت اپنے خاوند کی مرضی کے بغیر گھر سے نکلے اس کے واپس آنے تک آسمان کے سارے فرشتے اور جن انسانوں اور جنوں کے پاس سے وہ گزرتی ہے سب اس پر لعنت کرتے ہیں (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٥٩۔ ٥٢‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ ١٤٠٧ ھ)

آیا عورت پر مرد کی خدمت واجب ہے یا نہیں :

فقہاء مالکیہ کا اس میں اختلاف ہے ‘ بعض علماء مالکیہ نے کہا ہے کہ بیوی پر شوہر کی خدمت کرنا واجب نہیں ہے ‘ کیونکہ عقد نکاح کا تقاضا یہ ہے کہ عورت اس کو مباشرت کا موقع دے نہ کہ خدمت کا ‘ کیونکہ یہ مزدوری کا عقد نہیں ہے اور نہ نکاح کے ذریعے عورت اس کی باندی بن گئی ‘ یہ عقد اجارہ ہے نہ عقد تملیک ‘ یہ صرف عقد مباشرت ہے (نکاح کا معنی مباشرت ہے) لہذا عورت سے شوہر مباشرت کے علاوہ اور کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو تم ان کو مارنے کے لیے بہانے نہ ڈھونڈو۔ (النساء : ٣٤)

اور بعض علماء نے کہا ہے کہ عورت پر خاوند کی خدمت کرنا واجب ہے۔ اگر اس کا تعلق معزز اور خوشحال گھرانے سے ہو تو گھر کی دیکھ بھال اور خانگی امور کی نگرانی اس کے ذمہ ہے اور اگر وہ متوسط گھرانے کی ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ خاوند کا بستر وغیرہ بچھائے اور اگر وہ غریب گھرانے کی ہو تو اس پر گھر کی صفائی کرنا ‘ کپڑے دھونا اور کھانا پکانا لازم ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : عورتوں کے اتنے ہی حقوق ہیں جتنے دستور کے مطابق انکے فرائض ہیں۔ (البقرہ : ٢٢٨) اور یہ معقول رائے ہے اور ہر زمانے میں مسلمانوں کے گھرانوں میں اس پر عمل ہوتا رہا ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کی ازواج محترمات چکی سے آٹا پیستی تھیں ‘ کھانا پکاتی تھیں ‘ بستر بچھاتی تھیں اور اپنے خاوندوں کے لیے کھانا لا کر رکھتی تھیں اور دیگر انواع کی خدمت کرتی تھیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاشرت کی ذمہ داریوں کو مرد اور عورت پر تقسیم کردیا تھا ‘ حضرت سیدنا فاطمہ (رض) کے ذمہ خانگی ذمہ داریاں تھیں اور حضرت مولی علی (رض) کے ذمہ کسب معاش اور کمانے کی ذمہ داریاں تھیں۔

حاصل بحث :

حاصل بحث یہ ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں۔ مردوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک کے ساتھ رہیں ‘ ان کو ضرر نہ پہنچائیں۔ ہر فریق اس معاملہ میں اللہ سے ڈرے ‘ بیوی خاوند کی اطاعت کرے اور ہر ایک دوسرے کے لیے بن سنور کر رہے۔ امام ابن جریر طبری نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں اپنی بیوی کے لیے بن سنور کر رہتا ہوں جیسے وہ میرے لیے بن ٹھن کر رہتی ہے ‘ ضرورت کے وقت ہر فریق دوسرے کے کام آئے اور بیماری میں ہر فریق دوسرے کا علاج اور خدمت کرے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 228