اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‌ ۖ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ‌ ؕوَلَا يَحِلُّ لَـکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّآ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ شَيۡـــًٔا اِلَّاۤ اَنۡ يَّخَافَآ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ‌ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيۡمَا افۡتَدَتۡ بِهٖؕ‌ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَعۡتَدُوۡهَا ‌ۚ‌ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ- سورۃ 2 – البقرة – آیت 229

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‌ ۖ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ‌ ؕوَلَا يَحِلُّ لَـکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّآ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ شَيۡـــًٔا اِلَّاۤ اَنۡ يَّخَافَآ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ‌ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيۡمَا افۡتَدَتۡ بِهٖؕ‌ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَعۡتَدُوۡهَا ‌ۚ‌ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

دوبارطلاق دینے کے بعد یا تو دستور کے مطابق روک لینا ہے ‘ یا اس کو حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لیے اس (مہر یا ہبہ) سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے تو تم ان کودے چکے ہو ‘ مگر جب دونوں فریقوں کو یہ خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے ‘ سو (اے مسلمانو ! ) اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدود کی قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت نے جو بدل خلع دیا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے یہ اللہ کی حدود ہیں سو تم اللہ کی حدود سے تجاوز نہ کرو ‘ اور جنہوں نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا تو وہی لوگ ظالم ہیں

طلاق کا لغوی معنی :

امام اللغت سید زبیدی طلاق کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” عباب “ میں ہے کہ عورت کی طلاق کے دو معنی ہیں : (١) نکاح کی گرہ کو کھول دینا (ب) ترک کردینا ‘ چھوڑدینا۔ ” لسان العرب “ میں ہے کہ عثمان اور زید کی حدیث ہے : طلاق کا تعلق مردوں سے ہے اور عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ (تاج العروس ج ٦ ص ‘ ٤٢٥ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

طلاق کا اصطلاحی معنی :

علامہ ابن نجیحم طلاق کا فقہی معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : الفاظ مخصوصہ کے ساتھ فی الفور یا از روئے مآل نکاح کی قید کو اٹھا دینا ‘ طلاق ہے۔ الفاظ مخصوصہ سے مراد وہ الفاظ ہیں جو مادہ طلاق پر صراحۃ یا کنایۃ مشتمل ہوں ‘ اس میں خلع بھی شامل ہے اور نامردی اور لعان کی وجہ سے نکاح کی قید از روئے مآل اٹھ جاتی ہے۔ (البحرالرائق ج ٣ ص ٢٣٥‘ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ ‘ کوئٹہ)

طلاق کی اقسام :

طلاق کی تین قسمیں ہیں : احسن ‘ حسن ‘ بدعی۔

طلاق احسن : جن ایام ماہواری سے پاک ہو اور ان ایام میں بیوی سے مقاربت بھی نہ کی ہو ‘ ان ایام میں صرف ایک طلاق دی جائے ‘ اس میں دوران عدت مرد کو رجوع کا حق رہتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد عورت بائنہ ہوجاتی ہے اور فریقین کی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

طلاق حسن : جن ایام میں عورت پاک ہو اور مقاربت بھی نہ کی وہ ان ایام میں ایک طلاق دی جائے اور جب ایک ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کیے دوسری طلاق دی جائے اور جب دوسری ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کیے تیسری طلاق دی جائے ‘ اس کے بعد جب تیسری ماہواری گزر جائے تو عورت مغلظہ ہوجائے گی اور اب شرعی حلالہ کے بغیر اس سے دوبارہ عقد نہیں ہوسکتا۔

طلاق بدعی : اس کی تین صورتیں ہیں :

(١) ایک مجلس میں تین طلاقیں دفعۃ دی جائیں خواہ ایک کلمہ سے مثلا تم کو تین طلاقیں دیں یا کلمات متعددہ سے ‘ مثلا کہے : تم کو طلاق دی ‘ تم کو طلاق دی ‘ تم کو طلاق دی (ب) عورت کی ماہواری کے ایام میں اس کو ایک طلاق دی جائے اس طلاق سے رجوع کرنا واجب ہے اور یہ طلاق شمار کی جاتی ہے۔ (ج) جن ایام میں عورت سے مقاربت کی ہو ‘ ان ایام میں عورت کو ایک طلاق دی جائے طلاق بدعی کسی صورت میں ہو اس کا دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ٥٧٨۔ ٥٧٣ مطبوعہ استنبول ‘ ١٣٤٧ ھ)

صریح لفظ طلاق کے ساتھ ایک یا دو طلاقیں دی جائیں تو یہ طلاق رجعی ہے اور اگر صریح لفظ طلاق نہ ہو ‘ کنایہ سے طلاق دی جائے تو یہ طلاق بائن ہے ‘ مثلا طلاق کی نیت سے بیوی سے کہا : تو میری ماں کی مثل ہے ’‘ طلاق رجعی میں دوبارہ رجوع کیا جاسکتا ہے ‘ لیکن پچھلی طلاقیں شمار ہوں گی ‘ اگر پہلے دو طلاقیں دی تھیں تو رجوع کے بعد صرف ایک طلاق کا مالک رہ جائے گا۔ طلاق بائن سے فی الفور نکاح منقطع ہوجاتا ہے لیکن اگر تین سے کم طلاقیں بائن ہوں تو باہمی رضا مندی سے دوبارہ عقد ہوسکتا ہے لیکن پچھلی طلاقوں کا شمار ہوگا۔

طلاق کیوں مشروع کی گئی :؟

اسلام کا منشاء یہ ہے کہ جو لوگ رشتہ نکاح میں منسلک ہوجائیں ان کے نکاح کو قائم اور برقرار رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے اور اگر کبھی ان کے درمیان اختلاف یا نزاع پیدا ہو تو رشتہ دار اور مسلم سوسائٹی کے ارباب حل وعقد اس اختلاف کو دور کرکے ان میں صلح کرائیں اور اگر ان کی پوری کوشش کے باوجود زوجین میں صلح نہ ہو سکے تو یہ خطرہ ہو کہ اگر یہ بدستور رشتہ نکاح میں بندھے رہے تو یہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور نکاح کے مقاصد فوت ہوجائیں گے تو ان کو عدم موافقت اور باہمی نفرت کے باوجود ان کو نکاح میں رہنے پر مجبور نہ کیا جائے ‘ اس صورت میں ان کی ‘ ان کے رشتہ داروں اور معاشرہ کے دیگر افراد کی بہتری اور مصلحت اسی میں ہے کہ عقد نکاح کو توڑنے کے لیے شوہر کو طلاق دینے سے نہ روکا جائے۔ طلاق کے علاوہ عقد نکاح کو فسخ کرنے کے لیے دوسری صورت یہ ہے کہ عورت شوہر کو کچھ دے دلا کر خلع کرا لے اور تیسری صورت قاضی کی تفریق ہے اور چوتھی صورت یہ ہے کہ جن دو مسلمان حکموں کو نزاعی حالت میں معاملہ سپرد کیا گیا ہو اوہ نکاح کو فسخ کرنے کا فیصلہ کردیں۔

صرف ناگزیر حالت میں طلاق دیجائے۔

قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے کہ اگر شوہر کو بیوی ناپسند ہو پھر بھی وہ اس سے نباہ کرنے کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسی ان تکرھواشیئاویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا “۔۔ (النساء : ١٩)

ترجمہ : اور اپنی بیویوں کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک کے ساتھ رہو ‘ اور اگر تم کو وہ ناپسند ہو تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے۔

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے :

حضرت محارب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٩٦ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ طلاق ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٩٦ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

قرآن اور سنت کی ان ہدایات کی روشنی میں شوہر پر یہ لازم ہے کہ اختلاف اور نزاع کی حالت میں حتی الامکان طلاق سے گریز کرے اور اگر طلاق دینا ناگزیر ہو تو صرف ایک طلاق رجعی دے کیونکہ اس کے بعد عدت کے تین ماہ تک اس معاملہ نظر ثانی کا موقع رے گا ورنہ عدت کے بعد عورت علیحدہ ہوجائے گی ‘ آج کل کے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تین بار کہے بغیر طلاق نہیں ہوتی ‘ اس لیے یا تو وہ خود تین طلاقیں دیتے ہیں ‘ وکیل اور وثیقہ نویس ان کو تین طلاقیں لکھ دیتے ہیں اور جب طلاق نافذ ہوجاتی ہے تو یہ لوگ پشیمان ہوتے ہیں اور مفتیوں کے پاس جاتے ہیں کہ دوبارہ نکاح یا رجوع کا کوئی حیلہ بتلائیں ‘ حتی کہ یہ لوگ حلالہ کی ناگوار صورت کو قبول کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں ‘ حالانکہ اس قسم کے حلالہ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے ‘ لیکن بعد میں بچوں کی دربدری اور دوسرے برے نتائج سے بچنے کیلیے اس وقت فریقین ہر قیمت پر صلح کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ میری تیس سالہ افتاء کی زندگی کا تجربہ ہے۔

صرف مرد کو طلاق کا اختیار کیوں دیا گیا :؟

طلاق دینے کا حق مرد کو تفویض کیا گیا ہے حالانکہ عقد نکاح عورت اور مرد دونوں کی باہمی رضامندی سے وجود میں آتا ہے تو پھر عورت کو یہ اختیار کیوں نہیں ہے کہ وہ بھی جب چاہے اس عقد کو ختم کردے ؟

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عورت مغلوب الغضب ہوتی ہے اور اس کو جلد غصہ آتا ہے اگر طلاق دینے کا معاملہ عورت کے اختیار میں ہوتا تو وقوع طلاق کی شرح دو چند سے بھی زیادہ بڑھ جاتی۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ عورت کے مطالبہ اور اس کی ضد پر شوہر طلاق دیتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مرد کے مقابلہ میں عورت کی قوت فیصلہ کمزور ہوتی ہے ‘ خصوص حیض کے ایام میں عورت ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوتی ہے اور ان ایام میں اس کا ذہن منتشر اور مزاج چڑچڑا ہوجاتا ہے ‘ اس لیے اگر طلاق دینے کا معاملہ عورت کے سپرد کیا جاتا تو شرح طلاق زیادہ ہوجاتی اور اکثر ہنستے بستے گھر ویران ہوجاتے ‘ تیسری وجہ یہ ہے کہ عورتیں ناقصلت العقل ہوتی ہیں جیسا صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم ‘ جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ ‘ سنن ابوداؤد ‘ مسند احمد بن حنبل اور مستدرک۔ ١ (بخاری ج ١ ص ١٤٤۔ ج ١ ص ٩٧۔ ج ١ ص ١٣١۔ ج ١ ص ٢٦١۔ ج ١ ص ٢٦٣۔ مسلم ج ١ ص ٦٠‘ ابوداؤد ج ١ ص ٢٨٧‘ ترمذی ص ٣٧٥‘ ابن ماجہ ص ٢٨٩‘ مسنداحمد بن حنبل ج ٢ ص ٦٧‘ مستدرک ج ٢ ص ١٩٠۔ ) میں اس کی تصریح ہے اور فسخ نکاح کا معاملہ ناقص العقل کے سپرد کرنے کے لائق نہیں ہے۔

طلاق کا معاملہ مرد کو مفوض کرنے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ چونکہ مرد اپنا مال خرچ کرکے حقوق زوجیت حاصل کرتا ہے اس لیے ان حقوق سے دست کش ہونیکا اختیار بھی اسی کو دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص اپنا روپیہ خرچ کرکے کوئی چیز حاصل کرتا ہے وہ اس چیز کو آخری حدتک رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور صرف اس وقت اس چیز کو چھوڑتا ہے جب اس کو چھوڑنے کے سوا اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہے۔ اس کے برخلاف حقوق زوجیت کو قائم کرنے میں عورت کو کوئی محنت کرنی پڑتی ہے نہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے اس لیے اگر طلاق کی باگ ڈور عورت کے ہاتھ میں دے دی جاتی تو عورت کو طلاق واقع کرنے میں اس قدر سوچ وبچار اور تامل کی ضرورت نہ ہوتی۔ علاوہ ازیں یہ اقدام عدل و انصاف کے بھی خلاف ہوتا۔

طلاق میں عورت کی رضا مندی کا اعتبار کیوں نہیں ہے ؟

یہ ٹھیک ہے کہ بعض اوقات عورت طلاق لینا نہیں چاہتی اور اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر وہ اپنے شوہر کے نکاح میں ہی رہنا چاہتی ہے لیکن مرد بدمزاج اور ظالم ہوتا ہے اور عورت کی مرضی کے خلاف وہ اس کو طلاق دیتا ہے ایسی صورت میں بعض عورتیں یہ کہتی ہیں کہ جب نکاح کے عقد میں اس کی مرضی کا دخل ہے تو طلاق میں اس کی رضا مندی کا دخل کیوں نہیں ہے ؟ اور اس کی مرضی کے بغیر طلاق کیوں مؤثر قرار دی جاتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی عقد کو بھی قائم کرنے کے لیے فریقین رضا مندی ضروری ہے۔ (مثلا وکالت ‘ اجارت ‘ مضاربت وغیرہ) لیکن عقد کو فسخ کرنے کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی ‘ کوئی ایک فریق بھی دوسرے کی مرضی کے خلاف عقد توڑ سکتا ہے ‘ اس لیے اگر کوئی شخص کسی عورت کو اپنے نکاح میں رکھنے پر آمادہ نہ ہو اور اس کے ساتھ عمل زوجیت پر تیار نہ ہو تو اس سے بہ زور یہ عمل نہیں کرایا جاسکتا ‘ نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم خواہی نخواہی اس عورت کو اپنے نکاح میں رکھو اور اس کو خرچ دیتے رہو اور چونکہ ازدواجی زندگی کا گاڑی میں اہم رول مرد ادا کرتا ہے کیونکہ عمل زوجیت اور نفقہ کی ادائیگی میں مرد فاعل ہوتا ہے اور عورت اس کے فعل کی محل یا منفعل ہوتی ہے۔ اس لیے عقد نکاح کو قائم رکھنے یا اس کو فسخ کرنے کا اختیار بھی صرف مرد کو دیا گیا ہے۔

خلع :

طلاق کو مرد کے اختیار میں دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وقوع طلاع میں عورت کا بالکل دخل نہیں ہے ‘ عورت کو خلع کا اختیار دیا گیا ہے اگر عورت کو مرد کی شکل و صورت پسند نہ ہو یا کسی اور طبعی نامناسبت کی وجہ سے وہ مرد کو ناپسند کرتی ہو تو وہ اپنا مہر چھوڑ کر یا کچھ اور دے دلا کر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

سید محمد قطب شہید لکھتے ہیں : امام بخاری اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس ابن شماس کی بیوی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں ثابت کے خلق اور اس کے دین کے بارے میں کوئی حرف گیری نہیں کرتی ‘ لیکن میں اسلام کے بعد کفر (ناشکری یا شوہر کے حقوق کو ادا نہ کرنا) کو ناپسند کرتی ہوں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس کا باغ واپس کردوگی ؟ (ثابت نے ان کو مہر میں باغ واپس کردو گی ؟ (ثابت نے ان کو مہر میں باغ دیا تھا) انہوں نے کہا : ہاں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثابت سے فرمایا : باغ لے لو اور اس کو طلاق دے دو (فی ظلال القرآن ج ٢ ص ١٩٩‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٣٨٦ ھ)

اس حدیث کی روشنی میں یہ ہونا چاہیے کہ جب کسی عورت کو کسی طبعی ناہمواری کی وجہ سے شوہر ناپسند ہو اور یہ نفرت اس قدر بڑھ جائے کہ وہ اس نفرت کی وجہ سے شوہر کے حقوق ادا نہ کرسکے تو پھر وہ قاضی اسلام سے رجوع کرے اور قاضی مہر واپس کرکے شوہر سے طلاق دلادے یاد رہے کہ یہاں قاضی شوہر سے طلاق دلوائے گا از خود نکاح فسخ نہیں کرے گا۔

قاضی اور حکمین کی تفریق :

طلاق دینا مرد کے اختیار میں ہے لیکن اگر مرد عورت پر تعدی اور ظلم کرتا ہے اور اس کو طلاق نہیں دیتا تو عورت کو حق ہے کہ وہ عدالت سے نکاح فسخ کرا لے اور مذہب مالکیہ کے مطابق یہ تفریق نافذ ہوجائے گی ‘ اسی طرح اگر خاوند تنگ کرنے کیلیے عورت کو نفقہ دے نہ طلاق دے ‘ تب بھی عورت عدالت سے تفریق کر اسکتی ہے ‘ اگر کسی نوجوان عورت کا خاوند پاگل ہوجائے اور ٹھیک نہ ہو سکے یا کسی اور ناقابل علاج بیماری میں مبتلا ہوجائے اور حقوق زوجیت ادا نہ کرسکے تب بھی عورت عدالت سے تفریق کر اسکتی ہے ‘ اگر کسی نوجوان عورت کا خاوند کسی جرم کی وجہ سے لمبی مدت کے لیے سزا یاب ہو یا اس کو عمر قید ہوجائے تب بھی عورت عدلت سے تفریق کرا سکتی ہے ‘ اگر کسی نوجوان عورت کا خاوند لاپتہ ہوجائے اور عورت کے گزر بسر کا ذریعہ نہ ہو تو بھی عورت عدالت تحقیق کے بعد فی الفور تفریق کردے گی۔ اگر عورت اور مرد میں اختلاف ہو اور حکمین کو مقرر کرلیں اور حکمین تفریق کا فیصلہ کر دین تو تفریق ہوجائے گی۔ یہ تمام صورتیں امام مالک کے نزدیک جائز ہیں اور فقہاء احناف نے تصریح کی ہے کہ ضرورت کے وقت امام مالک کے مذہب پر عمل درست ہے اور یہ بھی تصریح ہے کہ قاضی اپنے اجتہاد سے مذہب غیر کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے اور اس پر عمل صحیح ہے ‘ ان تمام امور کی باحوالہ ‘ مکمل مفصل اور مدلل بحث ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثالث باب ٤٠٤ (١١٢١۔ ١٠٩٢) میں بیان کردی ہے۔

تین طلاقوں کی تحدید کی وجوہات ‘ مصالح اور حکمتیں :

اسلام نے صرف تین طلاقوں کی گنجائش رکھی ہے ‘ پہلی اور دوسری طلاق دینے کے بعد مرد کو اس طلاق سے رجوع کرنے کا اختیار ہے لیکن تیسری طلاق دینے کے بعد مرد کو رجوع کرنے کا اختیار نہیں ہے اب اگر وہ مرد اور عورت پھر چاہیں تو اس کے سوال اور کوئی صورت نہیں ہے ‘ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے ‘ نکاح کرنے کے بعد وہ شخص اس سے عمل زوجیت (صحبت) کرے اور پھر اپنی مرضی سے جب اس کو طلاق دے دے تو پھر وہ عورت اس کی عدت گزار کر پہلے شوہر کے نکاح میں جاسکتی ہے ‘ ظاہر ہے کہ یہ ناگوار اور مشکل صورت ہے اس لیے مرد کو تیسری طلاق دینے سے پہلے اچھی طرح سوچ وبچار اور غور وفکر کرنا چاہیے تاکہ بعد میں پریشانی اور پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے اور رو دھو کر مفتیوں سے حیلے نہ پوچھے جائیں اور اپنا مذہب چھوڑ کر غیر مقلدیت کے دامن میں پناہ لینے کی ضرورت نہ پڑے ‘ اسلام نے اسی لیے بیک وقت تین طلاقیں دینے سے روکا ہے اور اس فعل کو معصیت اور گناہ قرار دیا ہے۔

سنت کے مطابق اور احسن طریقے سے طلاق دینے کے فوائد :

جب کوئی شخص سنت کے مطابق صحیح طریقہ سے عورت کی پاکیزگی کے ان ایام میں جن میں اس نے جماع نہ کیا ہو صرف ایک طلاق دے گا اور دوسری طلاق کے لیے اگلی پاکیزگی کے ایام تک رکا رہے گا جو تقریبا ایک ماہ کے برابر ہیں تو اس عرصہ میں وہ اس معاملہ پر سو دفعہ سے زیادہ غور کرے گا اور گمان غالب ہے کہ اس کی رائے بدل جائے گی (کیونکہ میں تیس سالہ افتاء کی زندگی میں بارہا دیکھ چکا ہوں کہ کل شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں اور آج وہ دوڑا چلا آرہا ہے کہ کوئی حیلہ بتلائیں کہ نکاح قائم رہ سکے۔ جب ایک دن میں رائے بدل جاتی ہے ‘ حالات بدل جاتے ہیں تو ایک ماہ میں تو بہت گنجائش ہے) اگر بیوی یا اس کے غلط طرز عمل کی وجہ سے یہ اختلاف کی صورت پیدا ہوئی ہے تو ایک ماہ میں اس کے طرز عمل میں تبدیلی یا مطالبہ طلاق ترک کردینے کا غالب امکان ہے ‘ اس طرح دوسری طلاق پڑنے کا خطرہ ٹل جائے گا اور تیسری طلاق کی نوبت نہیں آئے گی جب کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق احسن طریقہ یہ ہے کہ زمانہ طہر میں بشرط عدم مجامعت صرف ایک طلاق دی جائے اور عدت کے پورے زمانہ میں دوبارہ طلاق نہ دی جائے اور عدت کے اس تین ماہ میں طلاق سے رجوع کرنے کا زیادہ موقع رہے گا اور بالفرض رجوع نہیں کیا اور عدت گزر گئی اور عورت بائنہ ہوگئی اور بعد میں حالات سازگار ہوئے تو اب دوبارہ نکاح کرنے کی گنجائش ہے اور کسی حلالہ کی ضرورت نہیں ہے جب کہ تین طلاقیں دینے کے بعد یہ گنجائش نہیں رہتی۔

طلاق کی تدریج میں مرد کی اور تحدید میں عورت کی رعایت ہے۔

تین طلاق کی تحدید سے دراصل عورت کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے کیونکہ اگر طلاق میں کوئی تحدید نہ ہوتی تو عورت کی گلوخلاصی کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ زمانہ جاہلیت میں مرد عورت کو طلاق دیتا اور عدت پوری ہونے سے پہلے رجوع کرلیتا پھر طلاق دے دیتا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا تھا۔

امام رازی نے ”’ الطلاق مرتان “ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ (رض) کے پاس آکر یہ شکایت کی کہ اس کا شوہر اس کو بار بار طلاق دیتا ہے اور پھر رجوع کرلیتا ہے جس کی وجہ سے اس کو ضرر ہوتا ہے۔ اس پر موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

(آیت) ’ الطلاق مرتن فامساک بمعروف اوتسریح باحسان “۔ (البقرہ : ٢٢٩)

ترجمہ : دوبارہ طلاق دینے کے بعد دستور کے مطابق عدت میں روکنا ہے یا حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ان ظنا ان یقیما حدود اللہ “۔ (البقرہ : ٢٣٠)

ترجمہ : پھر اگر اسے (تیسری) طلاق دے دی تو وہ عورت اس (تیسری طلاق) کے بعد اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ (وہ عورت) اس کے علاوہ کسی اور مرد سے نکاح کرے ‘ پھر اگر (دوسرا خاوند) اس کو طلاق دے دے تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ (دوسرا خاوند کی عدت گزارنے کے بعد) وہ آپس میں رجوع کرلیں اگر وہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔

ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کے نتائج :

چونکہ تیسری طلاق آخری حد ہے اور اس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں ہے اس لیے تیسری طلاق دینے سے پہلے بہت سوچ و بچار اور غور وخوض کرنا چاہیے اور اس آخری قدم اٹھانے سے پہلے دوستوں اور رشتہ داروں سے مشورہ بھی کرلینا چاہیے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب اسلام کی ہدایت کے مطابق طلاق وقفہ وقفہ سے دی جائے ‘ اگر ایک مجلس میں بیک وقت تین طلاقیں دے دی گئیں تو پھر بعد میں پریشانی اور پشیمانی کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوگا اس لیے بکثرت احادیث اور آثار میں بیک وقت تین طلاقیں دینے کو معصیت اور گناہ فرمایا ہے لیکن اگر کسی شخص نے بدقسمتی سے معصیت کا ارتکاب کرکے ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں تو اس کو اب صبر و استقامت اور حوصلہ سے اس اقدام کے نتیجہ اور انجام کا سامنا کرنا چاہیے اور اپنے ہاتھوں کی ہوئی اس علیحدگی کو قبول کرلینا چاہیے۔ حلالہ کا مکروہ حیلہ اختیار کرے نہ غیر مقلد مولویوں کے خلاف شرع فتوی پر عمل کرنے کے لے دربدر مارا مارا پھرے ‘ کیونکہ تین طلاقو وں کو ایک طلاق قرار دینا عقل اور درایت کے بھی خلاف ہے اور قرآن اور حدیث کے بھی خلاف ہے۔ عدوی معاملات میں یہ کہیں نہیں ہوتا کہ کوئی شخص تین یا پانچ یا دس عدد کو ایک عدد قرار دے اور اگر کوئی شخص دس روپوں کو ایک روپیہ قرار دے تو یہ منطق اور قانوں دونوں کے خلاف ہے ‘ پھر تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیتے وقت ان لوگوں کی منطق کہاں رخصت ہوجاتی ہے۔ آئندہ مباحث میں ہم انشاء اللہ ایک مجلس کی تین طلاقوں پر گفتگو کریں گے۔ پہلے ہم ایک مجلس کی تین طلاقوں کے جواز اور عدم جواز میں اختلاف فقہاء بیان کریں گے ‘ پھر تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے پر غیر مقلدین کے دلائل پیش کرکے ان کا جائزہ لیں گے ‘ اس کے بعد قرآن مجید ‘ احادیث ‘ آثار صحابہ اور اقوال تابعین کی روشنی میں جمہور فقہاء اسلام کا یہ مؤقف پیش کریں گے کہ اگر کسی شخص نے بدقسمتی سے معصیت کا ارتکاب کرکے ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں تو وہ بہرحال نافذ ہوجائیں گی۔

سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں :

بیک وقت تین طلاقیں دے کر عورت کو بدر کردینا نصوص صریحہ کی بناء پر معصیت ہے۔ علماء امت کے درمیان اس مسئلہ میں جو کچھ اختلاف ہے وہ صرف اس امر میں ہے کہ ایسی تین طلاقیں ایک طلاق رجعی کے حکم میں ہیں یا تین طلاق مغلظہ کے حکم میں لیکن اس کے بدعت اور معصیت ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔

حالانکہ امام شافعی کا اس میں اختلاف ہے ‘ وہ بیک وقت تین طلاقوں کو بدعت اور گناہ نہیں ‘ مباح کہتے ہیں اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے۔ سیدابوالاعلی نے مذہب فقہاء کی تحقیق کیے بغیر یہ لکھ دیا ہے۔ (حقوق الزوجین ص ١٥٠‘ مطبوعہ ادارۃ ترجمان ‘ لاہور بائیسویں پارہ ‘ ١٩٨٦ ء)

بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کے حکم میں میں جمہور کا مؤقف :

جمہور علماء اہل سنت کے نزدیک بیک وقت دی گئی تین طلاقیں واقعی ہوجاتی ہیں۔ علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : امام شافعی ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ اور قدیم وجدید جمہور علماء کے نزدیک یہ تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٤٧٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : جس شخص نے بیک وقت تین طلاقیں دیں وہ واقع ہوجائیں گی خواہ دخول سے پہلے دی ہوں یا دخول کے بعد۔ حضرت ابن عباس (رض) ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) حضرت ابن عمر (رض) ‘ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) ‘ حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت انس (رض) کا یہی نظریہ ہے ‘ اور بعد کے تابعین اور ائمہ کا بھی یہی موقف ہے۔ ١ (علامہ ابو محمد عبداللہ بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ ‘ المغنی ج ٧ س ٢٨٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

قاضی ابن رشد مالکی لکھتے ہیں کہ جمہور فقہاء کا یہی مؤقف ہے کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقوں سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ (ہدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٤٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

علامہ الحصکفی الحنفی لکھتے ہیں کہ بار بار لفظ طلاق کا تکرار کرنے سے تمام طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور اگر طلاق دینے والا تاکید کی نیت کرے تو اس کا دیانۃ اعتبار ہوگا۔ ٢ (علامہ علاؤالدین الحصکفی الحنفی متوفی ١٠٨٨ ھ ‘ درمختار علی ھامش ردالمختار ج ٢ ص ٦٣٢‘ مطبوعہ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ) (یعنی قضاء اعتبار نہیں ہوگا)

بیک وقت دی گئی تین طلاقوں میں شیخ ابن تیمیہ اور انکے موافقین کا مؤقف :

شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : اگر کسی شخص نے ایک طہر میں ایک لفظ یا متعدد الفاظ کے ساتھ تین طلاقیں دیں ‘ مثلا کہا کہ تم کو تین طلاقیں یا کہا کہ تم کو طلاق ہے ‘ تم کو طلاق ہے ‘ تم کو طلاق ہے ‘ یا کہا : تم کو تین طلاقیں یادس طلاقیں یا سو طلاقیں ‘ یا ہزار طلاقیں ‘ اس قسم کی عبارات میں متقدمین اور متاخرین علماء کے تین نظریات ہیں ایک اور چوتھا قول بھی ہے جو محض من گھڑت اور بدعت ہے ‘ پہلا قول یہ ہے کہ یہ طلاق مباح اور لازم ہے ‘ یہ امام شافعی کا قول ہے۔ امام احمد کا بھی ایک قول یہی ہے۔ یہ قول متقدمین میں بکثرت صحابہ اور تابعین سے منقول ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ طلاق حرام ہے لیکن اس سے صرف ایک طلاق لازم آتی ہے ‘ یہ قول صحابہ میں حضرت زبیر بن عوام (رض) ‘ حضرت عبدالرحمان بن عوف (رض) سے منقول ہے۔ حضرت علی (رض) ‘ اور حضرت ابن مسعود سے بھی مروی ہے اور حضرت ابن عباس (رض) کے دو قول ہیں تابعین اور بد کے لوگوں میں سے طاؤس خلاص بن عمرو محمد بن اسحاق سے منقول ہے ‘ داؤد اور ان کے اکثر اصحاب کا یہی قول ہے ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین اور انکے بیٹے جعفر بن محمد کا بھی یہی قول ہے ‘ اسی وجہ سے شیعہ حضرات کا بھی یہی مسلک ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے بعض اصحاب کا بھی یہی قول ہے۔ چوتھا قول بعض معتزلہ اور بعض شیعہ کا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے سے کوئی طلاق نہیں پڑتی ‘ سلف صالحین میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں تھا اور تیسرا قول ہی وہ ہے جس پر کتاب وسنت سے دلائل موجود ہیں۔ (مجموع الفتاوی ج ٣٣ ص ٧٠٩‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)

شیخ ابن قیم لکھتے ہیں کہ بیک وقت تین طلاقوں کے وقوع کے بارے میں چارمذاہب ہیں ‘ بہلا مذہب یہ ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں ‘ یہ قول ائمہ اربعہ ‘ جمہور تابعین اور بکثرت صحابہ کا ہے (رضی اللہ عنہم) دوسرا مذہب یہ ہے کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ مردود ہے کیونکہ یہ بدعت محرمہ ہے اور بدعت اس حدیث کی وجہ سے مردود ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص نے ایساعمل کیا جو ہمارے دین میں نہیں ہے وہ مردود ہے۔ اس مذہب کو ابو محمد بن حزم نے بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ امام احمد نے فرمایا : یہ باطن ہے اور رافضیوں کا قول ہے۔ تیسرا مذہب یہ ہے کہ اس سے ایک رجعی طلاق واقع ہوتی ہے ‘ یہ مذہب حضرت ابن عباس (رض) سے ثابت ہے ‘ جیسا کہ امام ابو داؤد نے ذکر کیا ہے امام احمد نے کہا : یہ ابن اسحاق کا مذہب ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص سنت کی مخالفت کرے اس کو سنت کی طرف لوٹانا چاہیے۔ (تابعین میں سے) طاؤس اور عکرمہ کا بھی یہی قول ہے اور شیخ ابن تیمیہ کا بھی یہی نظریہ ہے چوتھا مذہب یہ ہے کہ مدخول بہا اور غیر مدخول بہا میں فرق ہے ‘ مدخول بہا کو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور غیر مدخول بہا کو ایک طلاق واقع ہوتی ہے ‘ یہ قول حضرت ابن عباس (رض) کے تلامذہ کا ہے اور اسحاق بن راھویہ کا بھی یہی مسلک ہے (زاد المعارج ٤ ص ٥٤‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر)

بیک وقت دی گئی طلاقوں میں علماء شیعہ کا مؤقف :

جیسا کہ ابن تیمیہ نے لکھا ہے ‘ بعض شیعہ کا مؤقف یہ ہے کہ اگر بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ (شرائع الاسلام ج ٢ ص ٥٧)

اور جمہور شیعہ کا مذہب یہ ہے کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقوں سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔ شیخ ابو جعفر کلینی روایت کرتے ہیں :

زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی ایکعلیہ السلام سے پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک مجلس یا متعدد مجالس میں تین طلاقیں دیں درآں حالیکہ وہ عورت حیض سے پاک تھی ؟ انہوں نے کہا : یہ ایک طلاق ہوگئی۔ (الفروع من الکافی ج ٦ ص ٧١۔ ٧٠‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ایران)

عمرو بن براء کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ سے کہا کہ ہمارے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص جب اپنی بیوی کو ایک طلاق دے یا سو طلاقیں دے تو صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے اور ہمیں آپ سے اور آپ کے آباء (علیہم السلام) سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جب کوئی شخص ایک بار طلاق دے یا سو بار طلاق دے تو وہ ایک طلاق ہوتی ہے۔ ابوعبداللہ (علیہ السلام) نے کہا : مسئلہ اسی طرح ہے جس طرح تمہیں پہنچا ہے۔ (الفروع من الکافی ج ٦ ص ٧١ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ایران)

تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے پر شیخ ابن تیمیہ اور ان کے موافقین کے دلائل :

شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” الطلاق مرتان “ اس سے معلوم ہوا کہ وہ طلاق رجعی جس میں طلاق کے بعد رجوع کیا جاتا ہے ایک بار دینے کے بعد دوسری مرتبہ دی جاتی ہے ‘ جیسے کسی شخص نے کہا : جاؤ دو بار تسبیح کرو یاتین بار تسبیح کرو یا سو بار تسبیح کرو ‘ اس پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اتنی بار تسبیح کرے کہ یہ عدد پورا ہوجائے ‘ مثلا کہے : سبحان اللہ ‘ سبحان اللہ تو یہ دو بار ہوگا اور اگر اس نے کہا : دو بار سبحان اللہ (سبحان اللہ مرتان) یا سو بار سبحان اللہ (سبحان اللہ مأۃ مرۃ) کہا تو یہ ایک تسبیح شمار کی جائے گی ‘ علی ہذا القیاس جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تمہیں دو طلاقیں یا تمہیں تین طلاقیں یا تمہیں دس طلاقیں یا تمہیں ہزار طلاقیں تو یہ ایک طلاق شمار کی جائے گی۔ اس کو واضح کرنے کے لیے شیخ ابن تیمیہ نے ایک مثال دی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشروع فرمایا ہے کہ نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ ’ تنتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا جائے ‘ اب اگر کوئی شخص کہے : سبحان اللہ ‘ الحمد للہ ‘ اللہ اکبر عدد خلقہ (اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر) تو یہ صرف ایک تسبیح شمار کی جائے گی۔

شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : ہمارے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ایک لفظ کے ساتھ تین طلاقیں دی ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر تین طلاقیں لازم کردی ہوں ‘ اس بارے میں کوئی حدیث صحیح یا احسن مروی نہیں ہے اور نہ کسی مستند کتاب میں کوئی ایسی حدیث نقل کی گئی ہے ‘ اس سلسلے میں جتنی احادیث نقل کی گئی ہیں وہ سب ائمہ حدیث کی تصریح کے مطابق ضعیف ہیں ‘ بلکہ موضوع ہیں ‘ بلکہ ” صحیح مسلم “ اور دیگر سنن اور مسانید میں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے : حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے اور حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : لوگوں نے اس کام میں عجلت کرنی شروع کردی ہے جس میں انہیں مہلت دی گئی تھی ‘ اگر ہم ان پر یہ تین طلاقیں نافذ کردیں تو بہتر ہوگا ‘ پھر آپ نے یہ تین طلاقیں نافذ کردیں اس سلسلے میں دوسری حدیث یہ ہے : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں ‘ پھر سخت غمگین ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے سوال کیا : تم نے کس طرح طلاق دی تھی ؟ انہوں نے کہا : میں نے تین طلاقیں دی تھیں۔ آپ نے فرمایا : ایک مجلس میں ؟ انہوں نے کہا : جی آپ نے فرمایا : یہ ایک طلاق ہوئی ہے ‘ اگر تم چاہو تو اس سے رجوع کرسکتے ہو۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ پھر حضرت رکانہ نے رجوع کرلیا شیخ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ استفسار فرمایا : ایک مجلس میں ؟ اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اگر ایک مجلس میں تین طلاقیں نہ دی جائیں تو پھر وہ ایک نہیں قرار دی جاتیں اور جب ایک مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں تو وہ ایک قرار دی جائے گی ‘ حضرت رکانہ کی یہ حدیث شیخ ابن تیمیہ نے ” مسند احمد “ کے حوالے سے بیان کی ہے۔ (مجموع الفتاوی ج ٣٣ ص ١٤۔ ١١‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز )

شیخ ابن تیمیہ اور ان کے موافقین کے دلائل کے جوابات :

شیخ ابن تیمیہ نے ” الطلاق مرتان “ سے یہ استدلال کیا ہے کہ ہر طلاق الگ الگ دی جائے تب وہ متعدد طلاقیں متصور ہوں گی اور اگر کسی نے کہا : تم کو تین طلاقیں “ تو چونکہ یہ طلاق ایک بار دی گئی ہے اس لیے یہ ایک طلاق ہی شمار ہوگی۔

شیخ ابن تیمیہ کا یہ استدلال خود انہیں بھی مفید نہیں ہے کیو کہ اس استدلال کا یہ تقاضا ہے کہ کسی شخص نے ایک بار مجلس میں تین بار کہا : میں نے تم کو طلاق دی ‘ میں نے تم طلاق دی ‘ میں نے تم کو طلاق دی ‘ تو یہ تین طلاقیں واقع ہونی چاہئیں کیونکہ یہ تین بار دی گئی ہیں ‘ حالانکہ شیخ کے نزدیک یہ بھی ایک طلاق ہے جیسا کہ اس سے پہلے باحوالہ گزر چکا ہے۔

زنا کی شہادات اور قسامت کی قسموں پر قیاس کے جوابات :

شیخ ابن قیم جو زیہ نے زنا کی چار شہادتوں اور قسامت کی پچاس قسموں سے بیک وقت دی گئیں تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے پر استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں چار بار گواہی دیتا ہوں کہ فلاں شخص نے زنا کیا ہے ‘ تو اس کی یہ گواہی مردود ہوگی جب تک چار آدمی الگ الگ گواہی نہ دیں ‘ اسی طرح اگر ایک آدمی یہ کہے کہ میں پچاس قسمیں کھاتا ہوں کہ میں قتل کیا نہ قاتل دیکھا ہے تو اس کی یہ قسم معتبر نہیں ہوگی جب تک کہ پچاس آدمی الگ الگ قسمیں نہ کھائیں ‘ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں تم کو تین طلاقیں دیتا ہوں تو یہ تین طلاقیں بھی معتبر نہیں ہوں گی ‘ جب تک کہ وہ الگ الگ تین طلاقیں نہ دے۔ (زادالمعادج ٤ ص ٥٥‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ مصر ١٣٦٩ ھ)

اس استدلال کا ایک جواب تو یہی ہے کہ یہ دلیل خود شیخ ابن قیم کو بھی مفید نہیں ہے کیونکہ اس دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مجلس میں اگر تین بار الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں تو وہ واقع ہوجانی چاہئیں ‘ حالانکہ ان کے نزدیک ایک مجلس میں الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں تو وہ بھی واقع نہیں ہوتیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ زنا کی شہادت اور قسامت پر طلاق کا قیاس درست نہیں ہے کیونکہ جو شخص یہ کہے کہ میں زنا کی چار گواہیاں دیتا ہوں یا میں قتل نہ کرنے کی پچاس قسمیں کھاتا ہوں اس کی گواہی اور قسم مطلقا مردود ہے ‘ برخلاف طلاق کے کیونکہ جو شخص کہے : میں تم کو تین طلاقیں دیتا ہوں اس کی طلاق ان کے نزدیک بھی مطلقا مردود نہیں ہے بلکہ ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔ یہ دوسرا جواب علامہ آلوسی کی عبارت سے مستفاد ہے۔

علامہ آلوسی نے اس استدلال کے جواب میں لکھا ہے کہ شہادات لعان اور رمی جمرات پر طلاق کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے ‘ دونوں کے احکام الگ الگ ہیں ‘ اور ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ‘ علاوہ ازیں طلاق کا معاملہ حلت اور حرمت سے ہے ‘ اور اس میں احتیاط یہی ہے کہ جو تین طلاقیں بیک وقت دی گئی ہیں اور واقع مان لی جائیں۔ ١ (علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٢ ھ ‘ روح المعانی ج ٢ ص ١٣٩‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اور یہ مسلم اصول ہے کہ جب اباحت اور تحریم میں تعارض ہو تو تحریم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کو شیخ ابن تیمیہ اور ان کے موافقین ایک طلاق دے کر نکاح کو مباح کہتے ہیں اور جمہور ان تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرکے نکاح کو حرام کہتے ہیں اور اس اصول کے مطابق جمہور کے قول کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ اباحت اور تحریم کے تعارض میں تحریم ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

تسبیح فاطمہ پر قیاس کے جوابات :

پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں کہ : حضور کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی لخت جگر خاتون جنت سے فرمایا تھا کہ بیٹی نماز کے بعد ٣٣ بار سبحان اللہ ‘ ٣٣ بار الحمد اور ٢٤، بار اکبر پڑھا کرو ‘ یہ لونڈیوں سے بہتر ہے ‘ اب اگر کوئی شخص سبحان اللہ تینتیس بار (ایک دفعہ) کہہ دے تو کیا وہ اس اجر و وثواب کا مستحق ہوگا ؟۔ ٢ (پیر محمد کرم شاہ الازہری ‘ دعوت فکر ونظر مع ایک مجلس کی تین طلاقیں ص ٢٢٩‘ مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور ١٩٨٩ ء) (پیر صاحب اس سے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تین طلاقیں کہنے طلاقیں واقع نہیں ہوتیں)

یہ دلیل سب سے شیخ ابن تیمیہ نے قائم کی تھی اس کے بعد شیخ ابن تیمیہ کے متبعین مزید مثالوں کے ساتھ اس کو نقل کرتے چلے گئے ہیں ‘ ہم اس دلیل کے چار جواب بیان کرچکے ہیں کہ یہ استدلال ان حضرات کو بھی مفید نہیں ہے کیونکہ ایک مجلس میں کلمات متعددہ سے تین بار تین طلاقیں دی جائیں تو اس دلیل کے اعتبار سے وہ نافذ ہونی چاہئیں حالانکہ یہ لوگ اس کو بھی تین طلاق نہیں مانتے بلکہ ایک طلاق کہتے ہیں ‘ دوسرا یہ کہ جب اباحت اور تحریم میں تعارض ہو تو ترجیح تحریم کی ہوتی ہے ‘ تیسرا جواب ہم نے علامہ آلوسی سے نقل کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دفعہ مثلا یوں کہہ دے کہ سو بار سبحان اللہ تو اس حدیث پر عمل نہیں ہوگا اور یہ تسبیح فاطمہ نہیں ہوگی اور وہ اس کے اجر کا مستحق نہیں ہوگا ‘ اس کے برخلاف کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے : تم کو تین طلاقیں تو آپ بھی یہ تو مانتے ہیں کہ ایک طلاق ہوجائے گی اس لیے یہ قیاص صحیح نہیں ہے۔ علامہ آلوسی نے جو دوسرا جواب دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا حرام کو حلال کرنا ہے اس لیے اس قسم کی تک بندیوں اور ڈھکوسلوں سے اللہ اور رسول کے حرام کردہ کو حلال نہیں کرنا چاہیے۔

حضرت عمر (رض) پر عہد رسالت کے معمول کو بدلنے کے الزام کے جوابات :

شیخ ابن تیمیہ اور ان کے موافقین کی دوسری دلیل :” صحیح مسلم “ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کے عہد میں بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا جاتا ہے اور حضرت عمر (رض) نے یہ کہا کہ اگر ان کو تین طلاق ہی قرار دیا جائے تو بہتر ہوگا اور پھر انہوں نے ایسا ہی کردیا ‘ جس طرح شیخ ابن تیمیہ اور اس کے موافقین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے ‘ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کی صریح مخالفت کی اور تمام صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کو قبول کرلیا ‘ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو حضرت ابوبکر (رض) اور ان کے دور میں فوت ہونے والے صحابہ کے علاوہ کوئی صحابی اس قابل نہیں رہے گا کہ اس کے دین پر اعتماد کیا جائے اور اس کی روایت کو قبول کیا جائے یہی وجہ ہے کہ جمہور فقہاء اسلام نے اس حدیث کا ظاہر معنی نہیں لیا ‘ اور اس حدیث کے متعدد جوابات دیئے ہیں۔ ١ (حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری محقق سنی حنفی عالم ہیں ‘ اس مسئلہ میں ان کی رائے ائمہ اربعہ کے متفق علیہ موقف سے مختلف ہے تاہم ہماری معلومات کے مطابق انہوں نے اس رائے پر فتوی نہیں دیا ‘ لیکن چونکہ غیر مقلد حضرات ان کارسالہ مسلسل چھاپ رہے ہیں اس لیے ہم نے ان کے دلائل کا جواب ضروری سمجھا تاکہ عوام اہل سنت ان کے حوالے سے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ (غلام رسول سعیدی غفرلہ) ایک جواب یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

صحیح مسلم کی زیر بحث روایت غیر صحیح اور مردود ہے۔

قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں نافذ ہوجاتی ہیں ‘ جیسا کہ انشاء اللہ عنقریب واضح ہوگا اور ” صحیح بخاری “ اور ” صحیح مسلم “ کی متفق علیہ حدیث ہے جس کو صحاح ستہ کے دیگر مؤلفین نے بھی روایت کیا ہے کہ حضرت عویمر (رض) نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان طلاقوں کو نافذ کردیا ‘ نیز دیگر احادیث صحیحہ اور بکثرت آثار صحابہ اور قوال تابعین سے ثابت ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں نافذ ہوجاتی ہیں (جس کا تفصیلی بیان عنقریب آرہا ہے) اور ” صحیح مسلم “ میں حضرت ابن عباس (رض) کی یہ روایت چونکہ قرآن مجید ‘ احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کی صراحت کے خلاف ہے اس لیے یہ روایت شاذ اور معلل ہے اور استدلال سے خارج ہے۔

صحیح مسلم کی زیر بحث روایت کے غیر صحیح ہونے پر دوسری دلیل :

اس روایت کے شاذ معلل اور مردود ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) خود یہ فتوی دیتے تھے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں واقعی ہوجاتی ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ متصور نہیں ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک چیز روایت کریں اور فتوی اس کے خلاف دیں ‘ اس لیے یہ روایت شاذ ہے اور حضرت ابن عباس (رض) کی طرف روایت کو منسوب کرنے میں طاؤس کو وہم ہوا ہے۔ (فتح الباری ج ٩ ص ٣٦٣‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

” صحیح مسلم “ کی اس زیر بحث حدیث کو طاؤس نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی کی صراحت کے مطابق یہ طاؤس کا وہم ہے ‘ اس کی مزید وضاحت امام بیہقی کے بیان سے ہوتی ہے۔

امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن میں امام بخاری اور امام مسلم کا اختلاف ہے ‘ امام مسلم نے اس کو روایت کیا ہے اور امام بخاری نے اس کو ترک کردیا ہے ‘ اور میرا گمان یہ ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث کو اس لیے ترک کیا ہے کہ یہ روایت حضرت ابن عباس (رض) کی باقی روایات کے مخالف ہے ‘ پھر امام بیہقی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس نے فرمایا : پہلے انسان تین طلاق دینے کے بعد رجوع کرلیتا تھا ’ ” الطلاق مرتان “ نے اس کو منسوخ کردیا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا : جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں وہ اس پر حرام ہوگئی ‘ مجاہد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے پوچھا : میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دیں ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : تم تین طلاقیں لے لو اور ستانوے طلاقوں کو چھوڑ دو ‘ مجاہد سے ہی روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دیں ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ‘ تمہاری بیوی تم سے علیحدہ ہوگئی ‘ تم نے اللہ کا خوف نہیں کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کوئی مخرج نہیں رکھا ‘ ان کے علاوہ عطاء ‘ عمرو بن دینار اور مالک بن حارث وغیرہ طاؤس کے علاوہ حضرت ابن عباس کے تمام تلامذہ حضرت ابن عباس سے یہی روایت کرتے ہیں کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقیں نافذ ہوجاتی ہیں ‘ اس کے برخلاف صرف طاؤس نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت کیا ہے کہ عہد رسالت اور عہد ابوبکر میں تین طلاقیں ایک قرار دی جاتی تھیں اس لیے یہ روایت طاؤس کے وہم پر محمول کی جائے گی اور صحیح نہیں ہے۔ (سنن کبری ج ٧ ص ‘ ٣٣٧ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

اعتبار راوی کی روایت کا ہے یا اس کی رائے کا ؟

پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں : اس حدیث کا یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ صحابہ کرام کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے خصوصا حضرت ابن عباس روای حدیث کا فتوی بھی اس کے خلاف ہے تو اس روایت پر عمل کرنا کیونکر درست ہوسکتا ہے الی قولہ۔ اس کے متعلق مختصر یہ گزارش ہے کہ حضور کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان عالیشان کے سامنے کسی کا قول حجت نہیں ‘ نیز حضرت ابن عباس (رض) سے بھی دو رورایتیں آئی ہیں ‘ ایک وہ جو اوپر گزری ‘ دوسری وہ جسے مسند میں امام احمد نے نقل کیا ہے : حضرت ابن عباس (رض) کا نظریہ یہ تھا کہ ہر طہر کے وقت طلاق دی جائے۔ دوسرے صحابہ کرام کے اقول کا ذکر جابجا گزر چکا ہے ‘ نیز اصول فقہ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ ” اعتبار راوی کی روایت کا ہے نہ کہ اس کی ذاتی رائے کا “۔ (دعوت فکر ونظر مع ایک مجلس کی تین طلاقیں ص ٢٢٩‘ مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور ١٩٧٩ ء)

بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان عالیشان کے مقابلہ میں کسی کا قول حجت نہیں ہے لیکن یہ کون سی حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا جائے۔ اگر مسلم کی حدیث مذکور مراد ہے تو اول تو اس میں آپ کے کسی فرمان کا ذکر نہیں ہے۔ ثانیا اسی حدیث میں تو بحث ہو رہی ہے کہ یہ ثابت اور صحیح نہیں ہے طاؤس کا وہم ہے۔

مشہور غیر مقلد عالم قاضی شوکانی نے بھی اعتراف کیا ہے :

امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس (رض) کے تمام شاگردوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے طاؤس کے برخلاف روایت کیا ہے۔ سعید بن جبیر ‘ مجاہد اور نافع نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس کے برخلاف روایت کی ہے۔ (نیل الاوطارج ٨ ص ٢٢‘ مطبوعہ مکتبہ الکایات الازہریہ ‘ قاہرہ ‘ ١٣٩٨ ھ)

اور چونکہ ” صحیح مسلم “ کی یہ روایت طاؤس کے وہم پر مبنی ہے اس لیے صحیح نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) پر عہد رسالت کے معمول کی مخالفت اور تمام صحابہ پر مداہنت کی تہمت لگانے سے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ایک معقول وجہ (طاؤس کے وہم) کی بنیاد پر اس حدیث کو مسترد کردیا جائے۔

پیر محمد کرم شاہ صاحب نے لکھا ہے : نیز اصول فقہ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ ” اعتبار روای کی روایت کا ہے نہ کہ اس کی رائے کا “ اس کے بارے میں گزارش ہے کہ عام روایوں کے بارے میں بیشک ایسا ہی ہے لیکن جب صحابی رسول کسی حدیث کی روایت کریں اور ان کا عمل یا فتوی اس حدیث کے خلاف ہو تو پھر دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں یا تو یہ روایت صحیح نہیں یا اس صحابی کے نزدیک منسوخ ہوچکی ہے کیونکہ صحابی رسول سے یہ متصور نہیں کہ وہ ایک حدیث کرے اور عمل اس کے خلاف کرے۔ کتب صحاح میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے ‘ اور امام طحاوی نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ‘ انہوں نے تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کیا۔ اس روایت کو بیان کرنے کے بعد امام طحاوی لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعد اس کو ترک کردیا اور یہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ ان کے نزدیک کسی دلیل سے رفع یدین منسوخ ہوچکا ہو۔ ١ (امام ابوجعفر احمد بن الطحاوی الحنفی متوفی ٣٢١ ھ ‘ شرح معانی الآثار ج ١ ص ١٣٣‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان لاہور ‘ ١٤٠٤ ھ) نیز حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کو سات مرتبہ دھونا ضروری ہے اور خود تین مرتبہ دھوتے تھے۔ امام طحاوی لکھتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہیں اور اس کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث سن کر اس پر عمل کرنا ترک کردیں گے ‘ اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کی عدالت (نیکوکاری) ساقط ہوجائے گی اور وہ اس قابل بھی نہیں رہیں گے کہ ان کی کوئی بات قبول کی جائے چہ جائیکہ ان کی روایت قبول کی جائے ‘ اس لیے ضروری ہے کہ یہ کہا جائے کہ حضرت ابوہریرہ کے نزدیک یہ روایت منسوخ ہوچکی ہے۔ (شرح معانی الآثار ج ١ ص ‘ ١٣ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٤ ھ)

جب صحابی رسول کا عمل یا فتوی اس کی روایت کے خلاف ہو تو اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس روایت کی نسبت اس صحابی کی طرف صحیح نہیں ہے ‘ یا پھر اس روایت میں کوئی تاویل ہے۔ علامہ پر ہاروی لکھتے ہیں :

راوی کا عمل جب حدیث کے خلاف ہو تو یہ اس حدیث کی صحت میں طعن کا موجب ہے ‘ یا اس حدیث کے منسوخ ہونے پر دلیل ہے یا پھر اس حدیث میں تاویل ہے اور اس کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے (النبراس ص ٢٣‘ مطبوعہ شاہ عبدالحق اکیڈمی ‘ بندیال ‘ الطبعۃ الاولی ‘ ١٣٩٧ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) کی حدیث جس کو طاؤس نے بیان کیا ہے ایسی ہی ہے ‘ قوی ترین بات یہ ہے کہ چونکہ یہ طاؤس کا وہم ہے اس لیے صحیح اور ثابت نہیں ہے۔ جمہور فقہاء اسلام نے اس کو منسوخ قرار دے کر بھی جواب دیا ہے اور اس کا ظاہری معنی چھوڑ کر تاویل بھی کی ہے ‘ عنقریب ہم بعض تاویلات کا ذکر کریں گے۔

پیر محمد کرم شاہ صاحب نے اس بحث میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طواف میں رمل کرتے تھے اور ان کا قول یہ ہے کہ رمل سنت نہیں ہے “۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رمل کے معاملہ میں حضرت ابن عباس کی رائے جمہور کے خلاف ہے اور تین طلاقوں کے مسئلہ میں ان کی روایت دیگر احادیث اور جمہور کے موافق ہے ‘ اور ان کی منفرد رائے کو ترک کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ انکی جو روایت جمہور کے موافق ہو اس کو بھی ترک کردیا جائے۔

نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر راوی کا عمل اور فتوی اس کی روایت کے خلاف ہو تو غیر مقلدین اور شوافع کا وہی مسلک ہے جو پیر محمد اکرم شاہ صاحب نے ” فتح الباری “ کے حوالے سے بیان کیا ہے اور ” نیل الاوطار “ میں بھی مشہور غیر مقلد عالم قاضی شوکانی نے ایسا ہی لکھا ہے۔ ١ (قاضی محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی : ١٢٥٠ ھ نیل الاوطار ج ٨ ص ٢٢‘ مطبوعہ مکتبۃ الکلیات الازھریہ ‘ قاہرہ “ ١٣٩٨ ھ) اور حق اور صواب احناف اور مالکیہ کا نظریہ ہے جس کو ہم نے امام طحاوی اور علامہ پر ہاروی کے حوالوں سے بیان کیا ہے۔

صحیح مسلم میں درج طاؤس کی روایت کے غلط اور شاذ ہونے پر مزید دلائل :

طاؤس کی اس روایت کے وہم اور غلط ہونے پر ایک اور واضح قرینہ یہ ہے کہ خود طاؤس کا فتوی بھی اس روایت کے خلاف تھا ‘ طاؤس یہ کہتے تھے کہ اگر غیرمدخولہ کو ایک مجلس میں تین لفظوں کے ساتھ تین طلاقیں دی جائیں تو یہ ایک طلاق ہوگی (کیونکہ وہ پہلی طلاق کے بعد بائنہ ہوجاتی ہے اور بعد کی طلاقوں کا محل نہیں رہتی) طاؤس مدخولہ کی تین طلاقوں کو ایک طلاق نہیں قرار دیتے تھے۔ امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں : لیث بیان کرتے ہیں کہ طاؤس اور عطاء کہتے تھے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو مقاربت سے پہلے تین طلاقیں دے تو وہ ایک طلاق ہوگی (المصنف ج ٥ ص ٢٦ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗالطبعۃ الاولی ١٤٠٦ ھ)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ طاؤس مطلقا تین طلاقوں کو ایک نہیں کہتے تھے اس لیے طاؤس کی یہ روایت جس کو امام مسلم نے بیان کیا ہے وہم اور مغالطہ سے خالی نہیں ہے۔

علامہ ماردینی طاؤس کی اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

علامہ ابن عبدالبر (صاحب ” استذکار “ ) نے کہا ہے کہ طاؤس کی یہ روایت وہم اور غلط ہے۔ علماء میں سے کسی نے اس کو قبول نہیں کیا۔ حضرت ابن عباس سے طاؤس کی یہ روایت اس لیے صحیح نہیں ہے کہ ثقہ راویوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس کے خلاف روایت کیا ہے۔ (الجوہر النقی علی ھامش البیہقی ج ٧ ص ٢٣٨۔ ٢٣٧‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

نیز علامہ ابو جعفر بن نحاس ” کتاب الناسخ والمنسوخ “ میں لکھتے ہیں کہ طاؤس ہرچند کہ نیک شخص ہیں لیکن وہ حضرت ابن عباس (رض) سے بہت سی روایات میں متفرد ہیں ‘ اہل علم ان روایات کو قبول نہیں کرتے ‘ ان روایات میں سے ایک روایت وہ بھی ہے جس میں انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے تین طلاقوں کے ایک ہونے کی روایت کی ہے ‘ لیکن حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت علی سے صحیح روایت یہی ہے کہ تین طلاقیں ‘ تین ہی ہوتی ہیں۔

طاؤس کی روایت کا صحیح محمل :

جمہور فقہاء اسلام نے اولا تو اس حدیث کے فنی سقم کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کیا ‘ ثانیا بر سبیل تنزل اس میں تاویل کی اور کہا کہ دور رسالت اور دور صحابہ میں لوگ تاکید کی نیت سے تین بار طلاق دیتے تھے ‘ بعد میں حضرت عمر کے دور میں لوگوں نے تین طلاق دینے کی نیت سے تین بار طلاق کہنا شروع کردیا اس لیے حضرت عمر (رض) نے ان کی نیات کے اعتبار سے ان تین طلاقوں کو تین طلاقیں ہی قرار دیا۔ ان جوابات سے واضح ہوگیا کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی امر کو نہیں بدلا بلکہ اسی چیز کو نافذ کیا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث سے ثابت ہے ‘ امام ترمذی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت رکانہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : یا رسوال اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی ہے۔ آپ نے فرمایا : تم نے طلاق البتہ سے کیا مراد لیا تھا ؟ میں نے کہا : ایک طلاق ! آپ نے فرمایا : قسم بخدا ! میں نے کہا : قسم بخدا ! آپ نے فرمایا : پس یہ وہی طلاق ہے جس کا تم نے ارادہ کیا ہے یعنی ایک۔ ١ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ١٨٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام ابوداؤد نے تین اسانید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ٢ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٠٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ ٣ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ١٤٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی) اس حدیث سے ظاہر ہوگیا کہ مجلس واحد میں لفظ واحد سے تین طلاقوں کا ارادہ کیا جائے تو یہ جائز ہے کیونکہ اگر یہ جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت رکانہ سے یہ ایک عبارت سے صرف ایک طلاق ہوتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت رکانہ سے طلاق کی تعداد کا دریافت کرنا اور ان کی مراد پر قسم لینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مجلس واحد میں لفظ واحد سے تین طلاقیں مؤثر ہوجاتی ہیں اور حضرت عمر (رض) نے جو فیصلہ نافذ کیا وہ اس حدیث کے مطابق تھا اور جمہور فقہاء اسلام کا نظریہ یہ بھی اسی حدیث کے تابع ہے۔

حضرت رکانہ سے متعلق مسنداحمد کی روایت کے فنی اسقام :

شیخ ابن تیمیہ نے حضرت رکانہ سے متعلق ایک دوسری روایت ” مسند احمد “ کے حوالے سے ذکر کی ہے جس میں یہ ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک طلاق قرار دیا اور انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا۔ شیخ ابن تیمیہ نے ” مسند احمد “ کی اس حدیث کو جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ ‘ سنن ابوداؤد کی مذکورہ الصدر روایت پر ترجیح دی ہے۔ لیکن شیخ ابن تیمیہ کا جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ اور سنن ابوداؤد کی روایت پر مسند احمد کو ترجیح دینا عدل و انصاف سے سخت بعید ہے ‘ کیونکہ اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ ” مسند احمد “ میں صرف احادیث صحیحہ کو جمع کرنے کا التزام نہیں کیا گیا ‘ اس میں ضعیف ‘ حسن صحیح ہر قسم کی احادیث ہیں برخلاف جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ اور سنن ابو داؤد کے ‘ کیونکہ یہ ان کتب احادیث میں سے ہیں جن میں احادیث صحیحہ جمع کرنے کا التزام کیا گیا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ اور سنن ابوداؤد کو صحاح ستہ میں شمار کیا جاتا ہے اور مسند احمد کو صحاح ستہ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ امام ابوداؤد کے علم میں بھی مسند احمد کی یہ روایت تھی جس میں طلاق البتہ کی بجائے تین طلاقوں کا ذکر ہے ‘ لیکن انہوں نے اس روایت کو اپنی کتاب میں درج نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی : ” ھذا اصح من حدیث ابن جریح ان رکانۃ طلق امراتہ ثلاثا لانھم اھل بیتہ وھم اعلم بہ۔ ١ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٠١ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

یہ حدیث ابن جریج کی روایت کی بہ نسبت صحیح ہے جس میں ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں کیونکہ اس حدیث کی روایت حضرت رکانہ کے اہل بیت سے ہے اور وہ اپنے گھر کے واقعات کو دوسروں کی نسبت زیادہ جاننے والے تھے ‘۔ امام ابو داؤد نے اپنی تینوں احادیث یزید بن رکانہ سے روایت کی ہیں ‘ اسی طرح امام ترمذی نے بھی یزید بن رکانہ کی روایت سے حدیث بیان کی ہے ‘ اس کے برخلاف امام احمد نے ” مسند احمد “ میں ابن جریج سے حضرت رکانہ کی روایت بیان کی ہے اور یہ بالکل معقول اور انصاف کی بات ہے کہ حضرت رکانہ کے گھر کا واقعہ وہی درست ہوگا جو انکے بیٹے نے بیان کیا ہے اور ان کے بیٹے کی روایت کے خلاف اگر کسی غیر متعلق شخص نے کوئی واقعہ بیان کیا ہے تو وہ درست قرار نہیں دیا جائے گا۔

شیخ ابن تیمیہ نے البتہ والی روایت کو مرجوح قرار دینے کے لیے کسی کتاب کا حوالہ دیئے بغیر لکھا ہے : امام احمد بن حنبل ‘ امام بخاری ‘ ابوعبید اور ابو محمد بن حزم نے البتہ والی روایت کو ضعیف قرار دیا اور بیان کیا ہے کہ اس کے راوی مجہول ہیں ‘ ان کی عدالت اور ضبط کا حال معلوم نہیں ہے۔ (مجموع الفتاوی ج ٣٣ ص ١٥‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)

امام احمد بن حنبل چونکہ اس روایت کو اپنی کتاب میں درج کرنے والے ہیں اس لیے وہ ایک فریق کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا اگر ان کی تضعیف بالفرض ہو بھی تو خارج از بحث ہے اور ابن حزم کا حوالہ دینا ‘ شیخ ابن تیمیہ کی مغالطہ آفرینی ہے۔ شیخ ابن حزم نے ” سنن ابوداؤد “ کی ایک اور روایت کو بعض بنی ابی رافع کی وجہ سے مجہول لکھا ہے جس کا ذکر باحوالہ آگے آرہا ہے۔ رہے امام بخاری تو ان کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے البتہ والی روایت کی تضعیف کی ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ امام بخاری نے ” مسند احمد “ والی روایت کو مضطرب اور معلل قرار دیا ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے۔ ٢ (حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٤ ھ التلخیص الحبیر ج ٤ ص ١٢٥٥‘ نزار مصطفیٰ الباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) اور علامہ ابن عبدالبر نے اس کو ” تمہید “ میں ضعیف قرار دیا ہے۔

علامہ ابن جوزی ” مسند احمد “ والی حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ‘ اس کی سند کا ایک راوی ابن اسحاق مجروح ہے اور دوسرا راوی داؤد اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ امام ابن حبان نے کہا ہے کہ اس کی روایات سے اجتناب کرنا واجب ہے اور البتہ والی (صحاح ستہ کی) روایت صحت کے قریب ہے اور ” مسند احمد “ والی روایت میں راویوں کی غلطی ہے۔ (العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیہ ج ٢ ص ١٥١‘ مطبوعہ اداراۃ العلوم الاثریہ ‘ فیصل آباد)

علامہ ابوبکر رازی جصاص نے ” مسند احمد “ کی اس روایت کے بارے میں یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٣٨٨ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ رکانہ کی حدیث منکر ہے اور صحیح روایت وہ ہے جو ابوداؤد ‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی تھی (فتح القدیر ج ٣ ص ٢٣١‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

حضرت رکانہ سے متعلق صحاح کی روایت کی تقویت :

شیخ ابن تیمیہ نے حضرت رکانہ کی البتہ والی روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس حدیث کے راوی مجہول ہیں اور ان کی عدالت اور ضبط کا حال معلوم نہیں ہے۔ شیخ ابن تیمیہ کی یہ بات بھی عدل و انصاف اور حقیقت اور صداقت سے بہت دور ہے یہ حدیث ترمذی ‘ ابن ماجہ اور داؤد میں ہے ‘ امام ابو داؤد نے اس کو تین مختلف سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اختصار کے پیش نظر ہم صرف امام ترمذی کی سند کے راویوں کی عدالت اور ضبط کا حال بیان کررہے ہیں۔

امام ترمذی نے اس حدیث کو ازھناد از قبیصہ از جریر بن حازم از زبیر بن سعید از عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ بیان کیا ہے۔ سند کے پہلے راوی ھناد ہیں ‘ ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : امام احمد بن حنبل نے کہا : تم ھناد کو لازم رکھو ‘ ابوحاتم نے کہا : وہ بہت سچے ہیں ‘ قتیبہ نے کہا : میں نے دیکھا کہ وکیع ‘ ھناد سے زیادہ کسی کی تعظیم نہیں کرتے تھے ‘ امام نسائی نے کہا کہ وہ ثقہ ہیں ‘ امام ابن حبان نے بھی ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ١١ ص ٧١‘ مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ‘ ہند ‘ ١٣٢٥ ھ)

اس سند کے دوسرے روای قبیصہ ہیں ‘ ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ حافظ ابو زرعہ سے قبیصہ اور ابو نعیم کے بارے میں پوچھ گیا تو انہوں نے کہا : ان دونوں میں قبیصہ افضل ہیں ‘ ابن حاتم کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے قبیصہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ بہت سچے ہیں ‘ اسحاق بن یسار نے کہا : میں نے شیوخ میں سے قبیصہ سے بڑھ کر کوئی حافظ نہیں دیکھا ‘ امام نسائی نے کہا : ان سے روایت میں کوئی حرج نہیں اور امام ابن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٨ ص ٣٤٩۔ ٣٤٨‘ مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ‘ ہند ‘ ١٣٢٥ ھ)

اس حدیث کے تیسرے راوی ہیں : جریر بن حازم ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حماد جتنی تعظیم جریر بن حازم کی کرتے تھے کسی اور کی نہیں کرتے تھے ‘ عثمان دارمی نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ یہ ثقہ ہیں دوری کہتے ہیں : میں نے یحییٰ سے پوچھا کہ جریر بن حازم اور ابو الاشہب میں کس کی روایت بہتر ہے ؟ انہوں نے کہا : جریر کی روایت احسن اور اسند ہے۔ ابو حاتم نے کہا : یہ بہت سچے اور نیک ہیں۔ (تہذیب التہذیب ج ٢ ص ٧٠‘ مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ‘ ہند ‘ ١٣٢٥ ھ)

اس حدیث کے چوتھے راوی زبیر بن سعید ہیں ‘ ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : دوری نے ابن معین سے نقل کیا کہ یہ ثقہ ہیں ‘ دارقطنی نے کہا : یہ معتبر ہیں ‘ اور امام ابن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٣ ص ٣١٥‘ مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ‘ ہند ‘ ١٣٢٥ ھ)

اس حدیث کے پانچویں راوی ہیں : عبداللہ بن یزید بن رکانہ یہ خود حضرت رکانہ کے اہل بیت سے ہیں ‘ امام ابن حبان نے انکا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ ١ (حافظ بن حبان تمیمی متوفی ٣٥٤ ھ ‘ کتاب الثقات ج ٧ ص ١٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠١ ھ)

اور حافظ ابن حجر نے اس کو مقرر رکھا ہے۔ ٢ (حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ ‘ تہذیب التہذیب ج ٥ ص ٢٢٥‘ مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ‘ ہند ‘ ١٣٢٥ ھ)

حضرت رکانہ سے متعلق ’‘’ سنن ابوداؤد “ کی ایک شاذ روایت کے ضعف کا بیان :

پیر محمد کرم شاہ صاحب نے ” سنن ابوداؤد “ کی اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے کہ جس میں ہے : حضرت عبد یزید ابورکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اپنی بیوی ام رکانہ سے رجوع کرلو۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے تو اسے تین طلاقیں دے دی ہیں ‘ آپ نے فرمایا : میں جانتا ہوں ‘ تم اس سے رجوع کرلو۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٩٩۔ ٢٩٨‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث سے پیر صاحب کا استدلال اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اس کی سند میں بعض بنی ابی رافع موجود ہیں ‘ جو مجہول ہیں۔ غیر مقلدین کے بہت بڑے عالم شیخ ابن حزم اس حدیث کی سند پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ (شیخ ابن تیمیہ نے ” سنن ابوداؤد “ کی جس حدیث کے بارے میں ابن حزم کا حوالہ دیا تھا ‘ وہ اصل میں یہ حدیث ہے)

ہمارے علم میں اس حدیث کے سوا ان لوگوں کی اور کوئی دلیل نہیں ہے ‘ اور یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ ابو رافع کی اولاد میں سے جس شخص سے یہ روایت ہے اس کا نام لیا گیا ‘ اور مجہول راوی کی روایت دلیل نہیں ہوسکتی۔ (المحلی ج ١٠ ص ١٦٨‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ ١٣٥٢ ھ)

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ” مستدرک “ کی بعض روایات میں بعض بنی ابی رافع کی تعیین محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع سے کردی گئی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع کے بارے میں لکھتے ہیں امام بخاری نے کہا : یہ منکر الحدیث ہے۔ ابن معین نے کہا : یہ ” لیس بشیء “ ہے ابو حاتم نے کہا : یہ ضعیف الحدیث ‘ منکر الحدیث اور ذاہب الحدیث ہے۔ ابن عدی نے کہا : یہ کوفہ کی شیعہ میں سے ہے اور فضائل میں اس نے ایسی روایات بیان کی ہیں جن کا کوئی مطابع نہیں ہے ‘ ابن حبان نے اس کا ثقات میں ذکر کیا۔ برقانی نے دارقطنی سے روایت کیا کہ یہ متروک ہے یاد رہے کہ امام بخاری نے فرمایا ہے : جس شخص کے بارے میں میں یہ کہوں کہ یہ منکر الحدیث ہے اس سے روایت کرنا صحیح نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ملحوظ رہنی چاہیے کہ امام ابن عدی نے اس کو شیعہ لکھا ہے اور تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا شیعہ حضرات کا مسلک ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٢٢١‘ مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ‘ ہند ‘ ١٣٢٥ ھ)

اس روایت کی سند اس پائے کی نہیں ہے ‘ جس سے حلال اور حرام کے مسئلہ میں استدلال ہو سکے ‘ خصوصا جبکہ اس روایت سے وہ چیز حلال ہورہی ہو جو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی صراحت سے حرام ہوچکی ہو اور ائمہ اربعہ اور جمہور مسلمین کا اس کی حرمت پر اتفاق ہو۔

شیخ ابن تیمیہ اور ان کے حامیوں کے پاس تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کے لیے صرف یہ تین روایات تھیں : ایک صحیح مسلم کی روایت جو طاؤس کا وہم اور شاذ روایت ہے ‘ دوسری ” مسند احمد “ کی روایت جو مضطرب ‘ منکر ‘ معلل اور ضعیف روایت ہے ‘ تیسری ” سنن ابوداؤد “ کی یہ روایت جو مجہول ‘ منکر اور متروک کی روایت ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 229

2 comments

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.