شیخ الحدیث والتفسیر استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی منظور احمد فیضی علیہ الرحمہ

Tahaffuz, July 2008

مفتی محمد اکرام الحسن فیضی

آپ کی پیدائش
آپ کی پیدائش بستی فیض آباد علاقہ مدینتہ الاولیاء اوچ شریف ضلع بہاولپور پاکستان کے ایک عظیم علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔ آپ پیر طریقت‘ عارف باﷲ‘ عاشق رسول اﷲ‘ پروانہ مدینہ منورہ‘ فنا فی الشیخ‘ استاذ العلماء و العفاء حضرت علامہ الحاج پیر محمد ظریف صاحب فیضی قدس سرہ کے دولت کدہ میں ۲ رمضان المبارک ۱۳۵۸ھ بمطابق ۱۶ اکتوبر ۱۹۳۹ء شب پیر بوقت صبح صادق جلوہ افروزہوئے۔
بسم اﷲ‘ آغاز تعلیم
جب آپ کی عمر مبارک کو چار سال چار ماہ چار دن ہوئے یعنی ۶ محرم الحرام ۱۳۶۲ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں جہاں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے) قبلہ شاہ جمالی کریم علیہ الرحمہ نے دوبارہ بیعت فرمایا اور قرآن مجید شروع کرایا اور سورہ فاتحہ شریف پڑھائی پھر آپ نے ابتدائی تعلیم قرآن پاک فارسی‘ صرف‘ نحو‘ فقہ‘ اصول فقہ‘ منطق‘ مشکواۃ شریف‘ جلالین تک اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔
ابھی آپ کافیہ نحو کی مشہور درسی کتاب پڑھتے تھے کہ غزالی زماں ‘ رازی دوراں ضیغم اسلام‘ علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی علیہ الرحمن نے آپ سے ’’عدل‘‘ کے متعلق سوال فرمایا۔ آپ نے تسلی بخش جواب دیا آپ خوش ہوئے اور فرمایا مولانا صاحب اپنا بیٹا مجھے دے دو۔
آپ کے والد ماجد نے جوابا عرض کیا حضور ابھی بچہ ہے آپ کی بات سمجھنے کے لائق ہوجائے تو پھر آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ چنانچہ حسب وعدہ آپ کو مشکواۃ‘ جلالین کی تکمیل کے بعد جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علم حدیث کے حصول کے لئے آپ کو غزالی‘ زماں رازی دوراں قبلہ کاظمی کریم علیہ الرحمہ کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپ نے تقریبا بیس سال کی عمر مبارک میں ۱۷ شوال المکرم ۱۳۷۸ھ بمطابق ۲۶ اپریل ۱۹۵۹ء کو جامعہ انوار العلوم ملتان سے سند فراغت حاصل فرمائی۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا اور بعدہ آپ نے اپنے والد ماجد سے علم تصوف میں تحفہ مرسلہ‘ لوائح جامی شریف‘ توفیقیہ شریف اور مثنوی شریف وغیرہ پڑھ کر حدیث شریف اور جملہ علوم عقلیہ ونقلیہ کی سند فراغت حاصل فرمائی۔
غزالی زمان رازی دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کے علاوہ مفتی اعظم آگرہ حضرت علامہ مفتی عبدالحفیظ حقانی اشرفی علیہ الرحمہ (والد ماجد استاذ العلماء علامہ محمد حسن حقانی صاحب مدظلہ) اور مفتی ملت حضرت علامہ سید مسعود علی قادری علیہ الرحمہ (والد ماجد‘ مبلغ اسلام علامہ سید سعادت علی قادری‘ و ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری علیہ الرحمہ) اور حضرت علامہ مولانا امید علی خان گیاوی علیہ الرحمہ سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا۔
سند الحدیث من الشیخ المحقق
شیخ المحققین برکت رسول اﷲ فی الہند محقق علی الاطلاق سندالمحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ جن کو ہر رات حضورﷺ کا دیدار نصیب ہوتا تھا… زہے نصیب… نے فراغت والے سال حضرت علامہ فیضی صاحب علیہ الرحمہ کو عالم رویا میں سند حدیث خود عطا فرمائی۔
اجازت و خلافت
آپ کو شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم حضرت مفتی مصطفیٰ رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ اور قطب مدینہ شیخ العرب و العجم حضرت سیدی ضیاء الدین احمد قادری مدنی علیہ الرحمہ اور غزالی زماں رازی دوراں امام اہلسنت ‘ حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ اور سلطان العارفین قلندر وقت حضرت مولانا خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی علیہ الرحمہ نے خلافت سے نوازا۔
جامعہ مدینتہ العلوم کا سنگ بنیاد
آپ نے فراغ علوم عقلیہ و نقلیہ کے بعد ۱۱ ذوالحجہ ۱۳۷۹ھ کو اپنے آبائی گائوں بستی فیض آباد علاقہ اوچ شریف مدینتہ اولیاء ضلع بہاولپور میں ایک بڑے ادارے جامعہ مدینتہ العلوم کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ اپنی مثال آپ تھا۔ ایک گائوں یں علم و عرفان کے سمندر جاری ہوگئے۔ مختصر عرصہ میں یہ ادارہ پورے پاکستان بلکہ برصغیر میں اچھی شہرت حاصل کرگیا اور پاکستان کے اطراف واکناف افغانستان‘ غزنی‘ بنگلہ دیش سے تشنگان علوم و معارف اپنی علمی و روحانی پیاس بجھانے کے لئے جوق در جوق گائوں میں آن پہنچے۔ ادارہ ہذا ۲۱ جمادی الثانی ۱۳۸۸ھ تک علم و حکمت کے دریا بہاتا رہا اور تشنگان علم ومعارف کی پیاس بجھاتا رہا۔
جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پورشرقیہ کا قیام
۱۲ جمادی الاولی ۱۳۸۸ھ کو آپ نے یہ ادارہ بستی فیض آباد اوچ شریف سے احمد پورشرقیہ منتقل فرمایا اور جامعہ فیضیہ رضویہ کے نام سے اپنے ذاتی مکان محلہ سعید آباد امیر کالونی کچہری روڈ میں اس کی نشاۃ ثانیہ فرما کر تعلیم و تدریس کا اہتمام فرمایا جوکہ آج تک جاری و ساری ہے۔ نزی اس جامعہ کا سنگ بنیاد آپ کے استاذ مکرم غزالی زماں علیہ الرحمہ نے رکھا۔
جامعہ فیضیہ رضویہ فیض الاسلام کا قیام
۲۱ مارچ ۱۹۹۵ء کو آپ نے اپنے ذاتی پلاٹ ۵ کنال میں اس جامعہ کی بنیاد اس وقت رکھی جب آپ کے والد محترم حضرت مولانا محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ اس دار فانی سے رحلت فرما کر عالم برزخ جلوہ گر ہوئے۔ آپ کا مزار مبارک اسی جامعہ فیض الاسلام میں مرجع خلائق ہے۔ انشاء اﷲ ادارہ آنے والے وقت کا عظیم ترین اور مثالی ادارہ ہوگا۔ آپ کا سالانہ عرس مبارک جامعہ فیض السلام دربار فیضیہ چشتیہ نزد ریلوے لائن قریش آباد احمد پور شرقیہ میں ۲۰‘۲۱ مارچ دھوم دھام اور احتشام سے ہوتا ہے۔ حضرت اباجی قبلہ علیہ الرحمہ کا مزار بھی اپنے والد ماجد کے پہلو میں ہے۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال ۲۹‘ ۲۸ جمادی الاول کو ہوتا رہے گا۔
آپ بطور محدث و مفسر
حضرت بیہقی وقت علیہ الرحمہ دیگر اساتذہ کے ساتھ خود بھی تدریسی فرائض انجام دیتے تھے بالخصوص تفسیر و حدیث کی تدریس میں مہارت تامہ کے مالک تھے اس لئے آپ تقریبا ہر سال ماہ رمضان المبارک میں دورہ تفسیر القران تمام علوم و فنون کے ساتھ خود پڑھاتے تھے۔ جس میں دور دراز سے علماء کرام اور طلباء شامل ہوکر علمی وروحانی فیض پاتے تھے۔ آپ کو فن حدیث سے خاصی شفقت تھا۔ آپ دورہ حدیث شریف کی تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ نیز آپ دو مرتبہ جامعہ ہدایت القرآن ملتان اور ایک مرتبہ جامعہ رکن الاسلام حیدرآباد میں اور ایک مرتبہ مدرسہ رضویہ مصباح القرآن میں دورہ تفسیر القرآن پڑھایا تھا۔
۷ جنوری ۲۰۰۲ئ‘ ۲۳ شوال المکرم ۱۴۲۲ھ بروز پیر کو آپ نے جامعتہ المدینہ گلستان جوہر کراچی میں بطور شیخ الحدیث تشریف لائے تھے اور بخاری و ابو دائود‘ نسائی‘ ابن ماجہ و موطائین کے اسباق آپ نے پڑھائے اور مسلسل تین سال آپ جامعتہ المدینہ میں شیخ الحدیث کے طور پر پڑھاتے رہے۔ جامعہ المدینہ کے طلباء حضرت اباجی قبلہ علیہ الرحمہ سے فیض لینے کے لئے حاضر رہتے۔
آپ بطور مناظر اسلام
ماضی میں مقام مصطفیﷺ عظمت صحابہ و اہلبیت اور ولایت اولیاء اﷲ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین پر مذاہب باطلہ کے پے درپے حملے ہوئے۔ ایسے میں اﷲ و رسول اﷲﷺ کے شیر اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے ہم مسلک علمائے اہلسنت اور مشائخ عظام کے شانہ بشانہ وہ کام کئے اور ان کو وہ دندان شکن اور مسکت جواب دیئے کہ مذاہب باطلہ کے محل لرز اٹھے آپ نے حق کو چمکانے اوراجاگر کرنے کے لئے باطل سے کئی مناظرے کئے ہیں جن کا احصاء ممکن نہیں‘ چند مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) آپ نے گدپور علاقہ روہانوالی ‘ ضلع مظفر گڑھ میں مولوی سعید احمد چتروڑی گستاخ رسولﷺ غیر مقلد نجدی سے مناظرہ کیا۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو فتح مبین عطا فرمائی اور اسے ذلت آمیز شکست فاش دی۔
(۲) اسی غیر مقلد مولوی سعید احمد چتروڑ گڑھی سے لاڑ کے نزدیک (ضلع لتان) مناظرہ طے پایا مگر مقررہ تاریخ پر علامہ فیضی صاحب علیہ الرحمہ بمعہ کتب حوالہ جات و تلامذہ مقررہ مقام پر پہنچ گئے مگر جب اس مولوی سعید کو معلوم ہوا کہ قبلہ علامہ فیضی صاحب جلوہ گر ہیں تو اس نے بھاگ نکلنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
(۳) آپ نے شیعہ مولوی قاضی سعید الرحمن سے علاقہ جندو پیر لیاقت پور ضلع رحیم یار خان میں مناظرہ کیا جوکہ رات گئے تک ہوتا رہا۔ جس میں قاضی سعید الرحمن شیعہ کو شکست فاش ہوئی۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ کی طرح کامیابی و کامرانی سے ہمکنار فرمایا۔
(۴) غیر مقلدوں کے امام مولوی عبداﷲ روپڑی سے حویلی لکھا علاقہ پاکپتن میں مناظرہ طے ہوا۔ آپ بمع  کتب و تلامذہ وغیرہ کے مقررہ تاریخ و مقام پہنچ گئی۔ دو دن تک اس کا انتظار کرتے رہے مگر اسے سامنے آنے کی تاب نہ ہوئی۔
(۵) ۲۴ دسمبر ۱۹۹۷ء کو آپ نے ایک مقلد وہابی قاری مولوی عبیدالرحمن سکنہ دائرہ دین پناہ ضلع مظفر گڑھ سے مناظرہ کیا۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب لبیبﷺ کے طفیل آپ کو فتح نصیب فرمائی۔ اور اسے ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا۔
(۶) آپ کی کتاب لاجواب ومستطاب ’’مقام رسول‘‘ پر مخالفین نے ای اے سی احمد پور شرقیہ کی عدالت میں ۱۹۸۴ء میں درخواست دی۔ اسی کتاب پر عدالت میں وکلاء و دانشوروں کے سامنے مناظرہ طے ہوا۔ وہاں بھی ان کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔
(۷) پھر انہیں نجدیوں نے ۱۹۹۲ء میں اسی کتاب کو بند کرانے کے لئے سیشن کورٹ میں رٹ دائر کی۔ بحمداﷲ وہ رٹ سیشن جج نے خارج کردی جس کی نقل اور فیصلہ بدست سیشن مقام رسول کے آخر میں موجود ہے۔ اہل علم و مصنف مزاج پڑھ کر خود فیصلہ فرماسکتے ہیں۔ اور حق باطل میں امتیاز کرسکتے ہیں۔
(۸) پھر کچھ عرصہ بعد ہائی کورٹ بہاولپور میں آپ نے مقام رسول پر قائم اعتراضات پر مناظرہ فرمایا الحمدﷲ اس میں بھی آپ کی تاریخی کامیابی ملی اور اسی شب جسٹس محبوب احمد صاحب کی دعوت پر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تحت محفل میلاد النبی ﷺ سے خصوصی خطاب فرمایا۔
(۹) ۱۹ جون ۲۰۰۲ء بمطابق ۷ ربیع الثانی ۱۴۲۳ھ کو آپ نے روافض سے تاریخی مناظرہ انٹرنیٹ پر فرمایا جوکہ رات ۳۰:۱۰ بجے شروع ہوا جبکہ صبح ۰۰:۰۹ پر اختتام پذیر ہوا ان کے چار مجتہدین جوکہ دبئی‘ لکھنو‘ قم تہران میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت اباجی قبلہ علیہ الرحمہ نے اکیلے ان چاروں کو شکست فاش دی۔ ان کے مناظر بدلتے رہے لیکن حضرت فیضی صاحب علیہ الرحمہ اکیلے مناظرہ فرماتے رہے۔
آپ بطور جادوبیاں خطیب
جہاں آپ ایک قابل ترین مدرس و مفسر ومحدث تھے‘ وہاں اﷲ تعالیٰ نے آپ کو فن خطابت میں بے پناہ صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ آپ کی زبان مبارک میں وہ شیرینی تھی کہ سننے والا یکسوئی کے ساتھ محو ہوکر آپ کے خطاب لاجواب سے مستفید ہوتا تھا آپ جماعت اہلسنت کے مایہ ناز خطیب تھے۔
کراچی میں قیام کے دوران آپ نے بیشتر علاقوں میں خطاب فرمایا اور کم ہی ایسی رات ہوتی کہ حضرت اباجی قبلہ علیہ الرحمہ نے خطاب نہ فرمایا ہو اور ایسے تحقیقی خطاب فرماتے کہ اہل کراچی عش عش کر اٹھتے۔ ایک مرتبہ قادری مسجد میں بیعت کی ضرورت و اہمیت پر علمی مذاکرہ ہوا جس میں کراچی کے اکثر علماء کرام تشریف لائے۔ حضرت اباجی قبلہ علیہ الرحمہ نے ایسا لاجواب خطاب فرمایا کہ علماء بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ اوراس کے باوجود صبح درس حدیث بھی دیتے تھے۔ جمعیت اشاعت اہلسنت کے زیر اہتمام بہت خطاب فرمائے اور جماعت اہلسنت پاکستان کراچی کے زیر اہتمام درس قرآن کی کئی محافل میں آپ نے خطاب فرمایا اور آخر میں انجمن ضیاء طیبہ کے زیر اہتمام درس قرآن کی کئی محافل سے خطاب فرمایا ور یہ سب آپ کے یادگار خطابات تھے۔
دورہ ختم نبوت
بروز پیر ۲۱ شعبان المعظم ۱۴۲۳ھ ‘ ۲۸ اکتوبر ۲۰۰۲ء تا رمضان المبارک ۱۴۲۳ھ ‘ ۱۰ نومبر ۲۰۰۲ء حضرت اباجی قبلہ علیہ الرحمہ نے دارالعلوم امجدیہ کراچی میں دورہ ختم نبوت کرایا جس میں کثیر تعداد میں فضلاء ‘علماء کرام طلباء آپ سے مستفیض ہوئے۔ شاہین تحریک ختم نبوت حضرت علامہ مولانامفتی محمد امین قادری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کی تحریک سے یہ دورہ ختم نبوت بہت کامیاب رہا اور حضرت اباجی قبلہ علیہ الرحمہ نے قادیانیت کا رد کیا‘ راقم الحروف بھی اس دورہ میں شریک درس تھا اور اس کو تحریر بھی کیا تھا۔
آپ کی مطبوعہ تصانیف
(۱) مقام رسول (۲) تعارف چند مفسرین‘ محدثین و مورخین (۳) اسلام اور داڑھی (۴) انوار القرآن (۵) فیضی نامہ (۶) حاشیہ کریما (۷) کلمات طیبات (۸) چہل احادیث (۹) وہابی کی تاریخ و پہچان (۱۰) عقائد و مسائل (۱۱) پانچ احادیث (۱۲) دس صیغہ درود و سلام (۱۳) گستاخان مصطفی کی جامہ تلاشی (۱۴) روحانی زیور (۱۵) نظریات صحابہ (۱۶) کتاب الدعوت والاذکار (۱۷) القول السدید (۱۸) مرج البحرین (۱۹) مقام صحابہ (۲۰) مقام اہل بیت (۲۱) مقام والدین (۲۲) نبوی دعائیں (۲۳) وضو کی شان (۲۴) خصائص مصطفیﷺ (۲۵) ضیائے میلاد النبیﷺ (۲۶) فضائل الحرمین (۲۷) مختار کل وغیرہ مطبوعہ تصانیف ہیں۔
تلامذہ
(۱) استاذ العلماء ‘ شیخ الحدیث والتفسیر‘ مناظر اسلام‘ جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ مفتی محمد اقبال سعیدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ شیخ الحدیث جامعہ انوار العلوم ملتان (۲) جانشین بیہقی دوراں مناظر اسلام حضرت علامہ صاحبزادہ مفتی محمد محسن فیضی صاحب دامت برکاتہم (۳) حضرت علامہ صوفی حفیظ الدین حیدر (۴) حضرت علامہ سید غیاث الدین شاہ صاحب (غزنی) (۴) علامہ صاحبزادہ نظام الدین صاحب فریدی صاحب (۵) علامہ مولانا قبول احمد فیضی صاحب (۶) علامہ غلام رسول سورتی صاحب علیہ الرحمہ (۷) علامہ غلام محمد سعیدی صاحب (۸) مولانا کریم بخش چشتی صاحب (۹) مولانا سراج احمد سعیدی صاحب (۱۰) مولانا مفتی عبدالرشید چشتی صاحب (۱۱) مولانا مفتی عبدالخالق عظمتی صاحب (۱۲) مولانا عبدالعزیز فیضی صاحب (۱۳) مولانا قاضی جلیل احمد یسنیٰ صاحب علیہ الرحمہ (۱۴) مولانا حق نوازصابری صاحب (۱۵) مولانا فدا حسین سعیدی صاحب (۱۶) مولانا عبدالرشید سعیدی (۱۷) مولانا غلام محمد ناجی
وصال
حضرت علامہ فیضی صاحب علیہ الرحمہ تقریبا ۶۷ سال کی عمر میں یکم جمادی الاخر ۱۴۲۷ھ ‘ ۲۷ جون ۲۰۰۶ء بروز منگل شب بدھ اذان عشاء کے وقت اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب کریمﷺ کے صدقے و طفیل حضرت کی مزار پر انوار پر رحمتوں کی بارش فرمائے اور حضرت کا فیض قیامت تک جاری و ساری رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامینﷺ