صفرالمظفر کے بارے میں توہمات اور اسلام کی تعلیمات

قرآن مجید میں ہے :-

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ………..

ترجمہ

بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی قرآن ) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے ( ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب المرجب) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے…….

اور پھر وہ دھوکے سے اپنی ضرورت کے پیش نظر ان حرمت والے مہینوں کی ترتیب کو بدل دیا کرتے

قرآن مجید میں ہے

اِنَّمَا النَّسِیۡٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الۡکُفۡرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُحِلُّوۡنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوۡنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوۡا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوۡا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ؕ…………….

(ترجمہ)

ان کا مہینے پیچھے ہٹانا (ترتیب کو بدلنا) یہ کفر میں بڑھنا ہے اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں…………

مشرکین عرب لوٹ مار اور قتل و غارت کرنا ان کے معمولات میں شامل تھا ۔ اور ذوالقعدۃ، ذوالحج اور محرم یہ تین مہینے متواتر حرمت والے تھے۔ ان تین مہینوں میں قتال سے صبر کرنا مشرکین عرب کے لیے بہت مشکل اور دشوار تھا۔ انہیں جب محرم کے مہینے میں کسی سے لڑنے کی ضرورت پیش آتی تو وہ محرم کے مہینہ کی ترتیب بدل دیتے، اور صفر کے مہینہ کو محرم قرار دیتے اور اصل محرم کے مہینہ میں جنگ کر لیتے۔ اسی طرح وہ ہر سال محرم کے مہینہ کو ایک ماہ موخر کرتے رہتے۔

حتی کہ جس سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا، اس سال گیارہ مرتبہ محرم کا مہینہ موخر ہو کر اپنی اصل جگہ پر آچکا تھا۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر اپنی اصل پر آچکا ہے۔

جس شکل پر جب اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا.

صفر المظفر کے بارے میں چند احادیث

چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :

لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرَۃَ وَلَاھَامَۃَ وَلَا صَفرَ (صحیح بخاری)

بدشگونی اور مخصوص پرندے کی بد شگونی اور صفر کی نحوست وغیرہ یہ سب باتیں بے حقیقت ہیں ۔

اور ایک دوسری حدیث

رسولﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’عدویٰ نہیں ، یعنی مرض لگنا اور متعدی ہونا نہیں ہے اور نہ بدفالی ہے اور نہ ہامہ ہے، نہ صفر ہے—-

تیسری روایت میں ہے،

کہ ایک اعرابی نے عرض کی، یارسول اﷲ! (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) اس کی کیا وجہ ہے کہ ریگستان میں اونٹ ہرن کی طرح (صاف ستھرا) ہوتا ہے اور خارشی اونٹ جب اس کے ساتھ مل جاتا ہے تو اسے بھی خارشی کر دیتا ہے؟ حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: ’’پہلے کو کس نے مرض لگا دیا۔‘‘ یعنی جس طرح پہلا اونٹ بیمار ہوا اسی طرح سارے……

کچھ لوگ ماہ صفر کو منحوس تصور کرتے، جس کی کوئی حقیقت نہیں.

ابو داود شریف کی روایت ہے کہ ،

رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے سامنے بدشگونی کا ذکر ہوا۔ حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: نیک فال اچھی چیز ہے اور براشگون کسی مسلم کو واپس نہ کرے یعنی کہیں جارہا تھا اور برا شگون ہوا تو واپس نہ آئے، چلا جائے جب کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جو ناپسند ہے یعنی برا شگون پائے تویہ کہے۔ اَللّٰھُمَّ لَا یَـأْ تِیْ بِالْحَسَنَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّاٰتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

✭═══─┉●┉─═══✭

لیکن أفسوس کہ اسلامی تعلیمات کے برعکس موجودہ دور کے بہت سے مسلمان ماہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں اور اہل جاہلیت کی روش پر ابھی بھی قائم ہیں ,

چند جہالتیں

جہالت نمبر1

کچھ لوگ جہالت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مہینے میں مصائب و آلام کی ہوائیں پوری تیزی کے ساتھ چلنے لگتی ہیں

جہالت نمبر2

ہر سال دس لاکھ اسّی ہزار بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان میں صرف ایک مہینہ صفر میں نو لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں .

جہالت نمبر3

یہ اس مہینے میں نحوست ہے. چنانچہ وہ اس مہینہ کو منحوس خیال کرتے ہوئے صدقہ کرتے ہیں حالانکہ صدقہ صرف اسی مہینے میں نہیں بلکہ پورا سال چاہیے.

جہالت نمبر4

یہ مہینہ رحمتوں اور برکتوں سے خالی رہتا ہے.

جہالت نمبر5

شادی جوڑوں کو اس ماہ کے ابتدائی تیرہ دنوں میں ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا ہے. کہتے ہیں کہ ابتدائی 13 دن نحوست والے ہیں.

جہالت نمبر6

بعض مسلمان ماہ محرم میں اور صفر میں معزز ہستیوں کی وفات اور شہادت سے جوڑتے ہیں اگر کسی کی وفات اورشہادت کی وجہ سے نحوست ہوتی ہے تو پھر ان کے بارے میں کیا کہیں گے.

ربیع الأول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا.

جمادی الأول میں خلیفہ اول, یار غاررسول ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا.

ذی الحجہ میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زخمی ہوئے اور خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت ہوئی.

رمضان المبارک میں خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی.

اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام, صحابہ کرام اور ائمہ اسلام کی وفات اور شہادت کے ایام و مہینوں کو منحوس قرار دیں , تو کوئی مہینہ, بلکہ کوئی دن نحوست سے خالی نہ رہے.

مگر میرا یہ کہنا ہے

کوئی مہینہ اور دن منحوس نہیں ہوتا منحوس آدمی کا اپنا ناجائز عمل اور غلط عقیدہ ہوتا ہے.

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے.

مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ ؕ .

اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور تجھے جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے.

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی