معرکہ کربلا کیا سیاسی اقتدار کی جنگ تھا؟

معرکہ کربلا کیا سیاسی اقتدار کی جنگ تھا؟

سید انجم رضوی,  Tahaffuz, July 2008

اعلان نبوت سے لے کر آج تک ہر دو رمیں بنام اسلام عقائد باطلہ کا ظہور وقفہ وقفہ سے ہوتا رہا۔ نئے نئے نظریات اور اعتقادات جو بظاہر خوشنما نظر آتے تھے‘ آہستہ آہستہ اپنی گمراہی کا انکشاف از خود کرتے رہے۔ دلچسپ اور دلنواز خول میں لپٹی خباثت بہرحال آشکارہ ہوہی جاتی ہے۔ اور پھر شفیع امم‘ نبی محتشم ﷺ کا مقدس خاندان یعنی اہل بیت کرام وہ معیار حق ہیں جو فورا ہی حق و باطل کے درمیان امتیاز کو واضح کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیب داں نبیﷺ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ’’میں تمہارے درمیان قرآن پاک‘ اپنی سنت اور اہل بیت چھوڑے جارہا ہوں‘‘ اس حدیث مبارک سے اہل بیت کرام کا راہ حق اور باعث نجات ہونا یقینا ثابت ہوتا ہے۔ اہل بیت کرام کے فضائل ومناقب کا بیان ایک مستقل موضوع ہے کسی ایک مضمون میں ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کیو ٹی وی کے حوالہ سے برصغیر میں جانے جاتے ہیں۔ ان کی چند تقریریں عوام میں کافی مقبول ہیں۔ کسی دینی مدرسہ سے باقاعدہ فارغ نہ ہونے کے باوجود ان کی تقاریر میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے بے شمار حوالے عوام کو متحیر کرتے ہیں۔ ویسے یہ کوئی بہت زیادہ حیرت انگیز بات بھی نہیں۔ ہاں! عوام کے لئے دلچسپی کا پہلو یہ ہوتا ہے کہ کوٹ پینٹ میں ملبوس ایک ’’ڈاکٹر‘‘ قرآن و حدیث کی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات بھی الگ ہے کہ ذاکر نائیک کے پیش کردہ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کے تراجم کس قدر درست اور ان کا استدلال کس درجہ مناسب ہے۔ اور حق پرست علمائے کرام ان کی تقاریر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور وہ انہیں کس قدر پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔
ذاکر نائیک کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی تقاریر میں چند ایسی متنازع باتیں ضرور کہہ گزرتے ہیں جن کا تعلق مختلف طبقات کے جذبات سے ہوتا ہے اور جو انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ ان باتوں کو مسلکی عناد اور مکاتب فکر کے تعصب پر محمول کرتے ہوئے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ کبھی وہ جشن میلاد النبیﷺ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘ کبھی اپنے محدود علم کے ذریعے وسیلے کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ کبھی علم غیب کے موضوع پربیباکانہ لب کشائی کرتے ہیں تو کبھی بزم خود جلیل القدر محدث کے فرائض انجام دیتے ہوئے احادیث مبارکہ کے طبقات کا جائزہ لیتے ہیں۔ لیکن معاشرہ کے باشعور افراد بخوبی جانتے ہیں کہ عوام الناس کی ایک مختصرطبقہ کو چھوڑ کر ڈاکٹر صاحب کی تقاریر نظر التفات سے نہیں دیکھی جاتیں اور بالخصوص طبقہ علماء پھر چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو‘ ڈاکٹر صاحب کی تقاریر کو اہمیت نہیں دیتے۔ علمائے کرام کے فرائض منصبی ان کو اس بات کی نہ تو اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اتنی فرصت ہوتی ہے کہ وہ روز بہ روز ذاکر نائیک کی تقاریر سن سن کر ان کا ردبلیغ کرتے پھریں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر سے متعلق ایک عام سا مثبت تاثر معاشرہ میں پروان چڑھانا جارہا ہے اور کم علم عوام انہیں اسلام کا مخلص داعی اور مبلغ سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ تو ذاکر نائیک صاحب ہی بتاسکتے ہیں کہ ان کے اس ’’جدید دعوتی نظام‘‘ نے کتنے افراد کو حلقہ بگوش اسلام کیا ہے۔ لیکن قربان جایئے آل رسولﷺ کے معیار حق ہونے پر کہ بالاخر انہی کے صدقہ و طفیل ذاکر نائیک کے حقیقی خدوخال عوام کے سامنے آگئے اور ان کے عقائد و نظریات منظرعام پر آگئے۔
گزشتہ دنوں ذاکر نائیک کے ایک متنازع بیان پر پونہ میں کافی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی مگر پربات آئی گئی ہوگئی۔ لیکن اب جبکہ ذاکر نائیک کی زبان بے مہار آل رسول ﷺ کی شان ذی وقار میں گستاخانہ لب و لہجہ اختیار کرگئی تو پھر محبان رسولﷺ اور عاشقان اہل بیت عظام کا غصہ بھی حدوںکو پار کرگیا۔ یہ فطری بات بھی ہے اور اسلام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اﷲ و رسول اور اہل بیت سے محبت کی جائے۔ ذاکر نائیک کا بیان کسی ’’متنازعہ مسئلہ‘‘ پر نہیں ہے۔ یہ براہ راست مسلمانوں کے مذہبی جذبات پر ناپاک حملہ ہے۔ کیونکہ علمائے حق کی نظر میں یزید پلید کبھی بھی ’’متنازع‘‘ نہیں رہا۔ اسے علماء کے تمام ہی طبقات نے فاسق و فاجر اور لعنتی تسلیم کیا ہے۔ پھر ذاکر نائیک کا بیان ’’مسلکی تنازع‘‘ بھی نہیں ہے۔ تقریبا تمام ہی مسالک کے نزدیک یزید کو رضی اﷲ عنہ کہنا اور حق و باطل میں خط امتیاز کھینچنے والے معرکہ کربلا کو ’’اقتدار کی جنگ‘‘ کہنا ناقابل برداشت ہے اور اسے شیعہ سنی اختلافات کا شاخسانہ بتانا بڑی جہالت ہے۔ کیا اہل بیت اطہار سے صرف شیعہ حضرات ہی محبت کرتے ہیں اور یزید کی تعریف سے صرف انہیں کو تکلیف ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ سنی مسلمانوں کی غالب اکثریت کو ذاکر نائیک نے تکلیف پہنچائی ہے اس لئے اس معاملہ میں محض شیعہ حضرات کو نشانہ بناکر انہیں خاموش رہنے کی بار بار تلقین کرنا بھی درست نہیں۔ ممبئی کے کمشنر آف پولیس کا یہ اعلان کہ محرم کی مجالس میں اس معاملہ پر لب کشائی نہ کی جائے‘ بڑا عجیب محسوس ہوتا ہے۔ ایک شخص پہلے تو ہمارے جذبات کو مجروح کرے‘ پھر لوگوں کے ردعمل سے گھبرا کرمعافی کا ناٹک کرے اور پھر ہمیں ہی ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے کے لئے کہا جائے‘ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کوئی بھی معیاری مسلمان یہ بات ہرگز گوارا نہیں کرسکتا کہ شان رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم یا ان کی اولاد کی شان میں کوئی شاتم گستاخی بکے یاپھر دشمنان خدا یا ان کی اولاد کی شان میں کوئی شاتم گستاخی بکے یا پھر دشمنان خدا و رسول و اہل بیت کی مدح سرائی کرے۔ ذاکر نائیک نے یزید پلید کو رضی اﷲ عنہ کہہ کر اور معرکہ کربلا کو سیاسی جنگ بتا کر اہل بیت کرام سے اپنی مذموم دشمنی کا ببانگ دہل اعلان کیا ہے۔ ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی کے ازالہ کے لئے دنداں شکن جواب دینا ’’مسلکی جنون‘‘ نہیں ہے بلکہ عین ایمانی تقاضا ہے۔ محرم کی مجلس کا اس قدر خوف کیوں ہے؟ گستاخان خدا اور رسول و اہل بیت کو اپنے ناپاک عقائد سے باز رہنے کی تلقین کرنے کی بجائے حق پرست مسلمانوں کو احقاق حق و ابطال باطل سے روکنا تعصب سے تعبیر کیا جائے گا۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
اہل بیت کرام سے بغض و عناد رکھنا ویسے بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مصطفے جان رحمت ﷺ کے دور مبارک سے لے کر آج تک ہر دور ایک ایسا طبقہ ضرور رہا ہے جو آل رسولﷺ کی عظمت و رفعت سے بوجہ حسد ہمیشہ جلتا کڑھتا رہا ہے۔ طبقہ خوارج آئے روز اپنے عقائد کی خباثت کا اظہار کرتے رہتے ہیں اورعاشقان آل رسولﷺ ان کا دندان شکن جواب بھی دیتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے ایک صاحب ہیں محمود احمد عباسی جو بغض اہل بیت کے اسی مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور اپنی تصانیف کے ذریعہ مسلمانوں میں اپنی خباثتیں بکھیرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ شاید ذاکر نائیک نے ان کی ایک آدھ تصنیف کا مطالعہ مرعوب اور مغلوب ذہنیت کے ساتھ کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یزید پلید کو رضی اﷲ عنہ کہہ رہے ہیں۔ محمود احمد عباسی نے اپنی اولین تصنیف ’’خلافت معاویہ و یزید‘‘ لکھ کر اپنی رسول اور آل رسول سے دشمنی کا برملا اعلان کیا تھا۔ اس بدنام زمانہ کتاب میں یزید کو خلیفہ اسلام قرار دیتے ہوئے (معاذاﷲ) امام عالی مقام امام حسین رضی اﷲ عنہ کو باغی قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات الگ ہے کہ خوش عقیدہ علمائے کرام نے اس مذموم کتاب کے رد میں تصانیف کا ایک انبار لگادیا اور ’’خلافت معاویہ و یزید‘‘ کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی۔ پھر جماعت اسلامی کے بانی ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی ایک تصنیف ’’خلافت و ملوکیت‘‘ منظر عام پر آئی۔ اس کے چند اقتباسات بھی کافی متنازع قرار دیئے گئے۔ بالخصوص خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے متعلق استدلال پر کافی اعتراضات کئے گئے۔ اس کتاب کے جواب کے طور پر بھی محمود احمد عباسی نے ایک کتاب بعنوان ’’تبصرہ محمودی برہفوات مودودی‘‘ تالیف کی۔ یہ کتاب بھی اپنے بیشتر گمراہ کن مواد کی وجہ سے کافی مطعون کی گئی۔ عباسی کی اس کتاب کے رد میں بھی کئی کتابیں لکھی گئیں۔ ان میں پاکستان کے مایہ ناز عالم دین حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی کی تصنیف’’امام پاک اور یزید پلید‘‘  سرفہرست کہی جاسکتی ہے۔
اپنی کتاب میں علامہ اوکاڑوی نے دلائل وبراہین کے انبار لگادیئے ہیں۔ آپ نے تحقق انیق فرماتے ہوئے یزیدی ٹولہ کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے۔ اوکاڑوی صاحب کی تصنیف ’’امام پاک اور یزید پلید‘‘ محمود احمد عباسی اور مودودی صاحب کے اختلافات سے قطع نظر عباسی کی کتاب ’’تبصرہ محمودی برہفوات مودودی‘‘ کے حصہ دوم جو سوالات پر مشتمل ہے‘ کے مدلل جوابات پر محیط ہے۔ علامہ اوکاڑوی نے اس کتاب میں یزید پلید کے کفر و ضلالت اور فسق و فجور کو مسند حوالہ جات کے ذریعہ پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے۔ علاوہ اوکاڑوی کی مذکورہ تصنیف ڈاکٹر ذاکر نائیک کے علاوہ غلامان یزید پلید کے لئے بھی تازیانہ عبرت ہے۔
یزید پلید کی تکفیر میں گوکہ ائمہ اربعہ میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر اس کے فاسق اور فاجر ہونے میں چاروں امام متفق ہیں۔ یہ ایک طویل بحث ہے۔ ناچیز چوں کہ گدائے اہل بیت اطہار ہونا باعث نجات تصور کرتا ہے‘ اس لئے اس موضوع پر کئی تصانیف زیر مطالعہ رہ چکی ہیں اور امام عالی مقام امام حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت عظمیٰ اور اہل بیت اطہار کے فضائل و مناقب میں سیر حاصل گفتگو کرنے کا بحمدہ تعالیٰ متحمل ہے۔ لیکن یہاں طوالت کے خوف کے پیش نظر یزید پلید کی خباثتوں پر مبنی چند مستند حوالے پیش کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہے۔ جن کے مطالعہ کے بعد قارئین کرام خود فیصلہ فرمالیں گے کہ یزید پلید کو رضی اﷲ عنہ کہنے والے اور اس خبیث کی مدح سرائی کرنے والے کا شریعت مطہرہ میں کیا مقام ہے۔
حضرت علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ جو ہندوپاک میں بلا تفریق مسلک قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں جن کانام محتاج تعارف نہیں۔ ان کی ایک فارسی تصنیف ’’تکمیل الایمان‘‘ کے صفحہ نمبر ۹۷سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔
’’بعض علماء یزید بدبخت کے بارے میں (لعنت کرنے میں) توقف کرتے ہیں۔ اور بعض لوگ تو براہ غلو و افراط یزید کے معاملے میں اور اس کی دوستی میں اس قدر بہہ گئے ہیں کہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے اتفاق سے امیر ہواتھا اور اس کی اطاعت امام حسین پر واجب تھی۔ ہم اس قول اور اس اعتقاد سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حاشا کہ وہ یزید امام حسین کے ہوتے ہوئے کیونکر امام و امیر ہوسکتا ہے اور مسلمانوں کا اتفاق بھی اس پر کب ہوا؟ صحابہ کرام اور تابعین جواس کے زمانے میں تھے سب اس کے منکر اور اس کی اطاعت سے خارج تھے؟ اسی طرح علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ مدینہ منورہ کی ایک جماعت جو یزید پلید سے ملاقات کرکے لوٹی تھی‘ اس کا قول اس طرح نقل فرماتے ہیں۔
’’(یزید) اﷲ کا دشمن‘ شرابی‘ تارک الصلواۃ‘ زانی‘ فاسق اور حرام چیزوں کا حلال کرنے والا ہے‘‘
پھر آگے محدث دہلوی صاحب تحریر فرماتے ہیں…
’’ایسی باتیں بنانے والوں (یزید پلید کی حمایت کرنے والوں) پر افسوس ہے کہ وہ صریح احادیث نبویﷺ پر نظر نہیں رکھتے کہ حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد کے ساتھ بغض رکھنا اور ان کو ایذا پہنچانا اور ان کی توہین کرنا حقیقت میں رسول اﷲﷺ کے ساتھ بغض رکھنا اور آپ کو ایذا پہنچانا اور آپ کی توہین کرناہے اور یہ بلاشک و شبہ موجب کفر و لعنت اور خلود نار جہنم ہے‘‘
علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ یزید پلید کے سیاہ کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید تحریر فرماتے ہیں:
’’یزید ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ہے۔ اس شقی نے اس امت میں وہ کام کئے کہ کسی اور نے نہیں کئے (مثلا) امام حسین کے قتل اور اہل بیت کی اہانت کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی تخریب کے لئے لشکر بھیجنا اور صحابہ وتابعین کے قتل کا حکم کرنا اور مدینہ منورہ کی تخریب کے بعد حرم مکہ کو ڈھانے کا حکم دینا وغیرہ‘‘ پھر محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اس طرح فرماتے ہیں:
’’آیئے! ہم جیسے گنہ گار بھی اس دعا میں شامل ہوجائیں ’’حق تعالیٰ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے دلوں کو اس کی اور اس کے دوستوں اور مددگاروں کی محبت و دوستی سے محفوظ رکھے اور ہر اس شخص جس نے اہل بیت نبوت سے برائی کی ہو اور ان کا برا چاہا ہو‘ کی محبت سے بچائے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ اﷲ تعالیٰ اپنے احسان و کرم سے ہم کو اور ہمارے دوستوں کو قیامت کے دن اہل بیت نبوت کے سچے محبوں میں اٹھائے اور دنیا و آخرت میں دین اسلام اور ان کے طریقہ پر رکھے وھو قریب مجیب امین (بحوالہ’’ امام پاک اور یزید پلید‘‘) انہی دعائیہ کلمات پرمبنی وصیت شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے اپنے بیٹے جاوید کو کی ہے‘ جو اس طرح ہے)
’’جاوید کو میری عام وصیت یہی ہے کہ وہ دنیا میں شرافت اور خاموشی کے ساتھ اپنی عمر بسر کرے۔ باقی دینی معاملے میں صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ میں اپنے عقائد میں بعض جزوی مسائل کے سوا‘ جو ارکان دین سے نہیں ہیں‘ سلف صالحین کا پیروکار ہوں اور یہی راہ بعد کامل تحقیق کے محفوظ معلوم ہوتی ہے۔ جاوید کو بھی میرا یہی مشورہ ہے کہ وہ اسی راہ پر گامزن رہے اور اس بدقسمت ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی غلامی نے جو دینی عقائد کے نئے فرقے مختص کرلئے ہیں ان سے احتراز کرے۔
بعض فرقوں کی طرف لوگ محض اس واسطے مائل ہوجاتے ہیں کہ ان فرقوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں دنیوی فائدہ ہے۔ میرے خیال میں بڑا بدبخت ہے وہ انسان جو صحیح دینی عقائد کو مادی منافع کی خاطر قربان کردے۔ غرض یہ ہے کہ طریقہ حضرات اہل سنت محفوظ ہے‘ اسی پر گامزن رہنا چاہئے اور ائمہ اہل بیت کے ساتھ محبت اور عقیدت رکھنی چاہئے۔ محمد اقبال ۱۷ اکتوبر ۱۹۳۵ء (اوراق گم گشتہ مرتب رحیم بخش شاہین‘ مطبوعہ مرکزی مکتبہ اسلامی‘ دہلی)
شاعر مشرق ‘نباض قوم اور اسلام و مسلمانوں کا بے پناہ درد رکھنے والے ڈاکٹر اقبال بھی اپنے بیٹے جاوید کو ائمہ اہل بیت اطہار سے عقیدت و محبت رکھنے کی تلقین فرما رہے ہیں اور کامل تحقیق کے بعد حضرات اہل سنت و جماعت کے طریقے پر گامزن رہنے کی وصیت فرما رہے ہیں۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اﷲ علیہ نے بھی اپنی تصنیف تاریخ الخلفاء میں یزید پر لعنت ملامت کی ہے۔ یہاں تک کہ ابن تیمیہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ ’’وہ (یزید) کسی مدح و ثناء اور تعظیم و تفضیل کا مستحق نہیں ہے‘‘ اب آیئے! ہم بطور حرف آخر یزید پلید کے ہم عصر صحابی حضرت عبداﷲ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اﷲ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
’’خدا کی قسم! ہم یزید کے خلاف اس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جب کہ ہمیں یہ خوف لاحق ہوگیا کہ اس کی بدکاریوں کی وجہ سے ہم پر آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں۔ کیونکہ یہ شخص (یزید) مائوں‘ بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح جائز قرار دیتا اور شراب پیتا اور نمازیں چھوڑتا تھا‘‘ (طبقات ابن سعد ۵ ص ۶۶‘ ابن اثیر ۴‘ ص ۴۱‘ بحوالہ امام پاک اور یزید پلید)
یزید پلید کے فسق و فجور سے متعلق صحابی رسول حضرت عبداﷲ بن حنظلہ رضی اﷲ عنہ کے اس اعلان حق کے بعد اب اس کے ’’معصوم‘‘ ہونے کی گنجائش قطعی باقی نہیں رہتی اور یزید پلید کے فاسق و فاجر ہونے میں کسی بھی دور کے علمائے حق میں اختلاف نہیں رہا۔ جہاں تک یزید کے کفر کا معاملہ ہے تو ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ نے سکوت فرمایا ہے۔ لیکن یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امام اعظم نے یزید کو مسلمان بھی نہیں کہا ہے۔ اور جس شخص کے ایمان کی گواہی دینے میں امام اعظم رحمتہ اﷲ علیہ سکوت فرمالیں اس کی بدبختی کا اندازہ ہم خود بھی لگاسکتے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ممبئی کے ایڈیشنل پولیس کمشنر کے آفس میں لی گئی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ کسی بھی صحابی یا تابعی کو رضی اﷲ عنہ کہہ سکتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ محض تابعی ہی کیوں بلکہ کسی بھی ولی کامل اور نیک بندہ کو بھی رضی اﷲ عنہ کہہ سکتے ہیں اور یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے‘ ہم اپنے علماء اور بزرگوں کو صدیوں سے رضی اﷲ عنہ لکھتے آرہے ہیں۔ مگر معاملہ یزید پلید جیسے ایک شقی القلب شخص کا ہو تو پھر اوپر پیش کئے گئے مباحث سے یہ نکتہ روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا ہے کہ یزید پلید کے لئے یہ دعائیہ کلمہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ماضی میں کبھی حق پرست علماء نے یزید پلید کے لئے رضی اﷲ عنہ کہا ہے۔ جہاں تک علمائے اہلسنت کا سوال ہے تو انہوں نے یزید پلید کے ایمان و فکر میں امام اعظم کی پیروی کرتے ہوئے سکوت فرمایا ہے تاہم یزید پلید کے فاسق و فاجر ہونے نے اس پر لعنت و ملامت کرنے میں تو کسی کو کوئی تردد نہیں ہے۔
اخبارات میں شائع شدہ خبروں کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنے موقف سے رجوع نہیں کیا ہے بلکہ اسے ثابت کرنے کے لئے یہ بے سروپا دلائل پیش کئے ہیں اور پھر یہ کہہ دیا ہے کہ ’’میری باتوں سے اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہوں تو میں معافی چاہتا ہوں‘‘ دراصل اپنے موقف پر اڑے رہتے ہوئے اس طرح معافی طلب کرنے سے ’’معاملہ ختم‘‘ نہیں ہوتا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ذاکر نائیک اپنے موقف سے بھی رجوع کرتے۔ لہذا ہم جیسے سگان اہل بیت اطہار کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں اور ان کی بہتان تراشیوں کا دندان شکن جواب دیں۔ اتحاد ملت کے لئے یہی ضروری ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ ذاکر نائیک کی بیان بازیوں سے معاشرہ میں جو انتشاری کیفیت پیدا ہوگئی ہے اس کا سدباب کرنا قوم کے حق ہی میں ہے۔ پھر مسٹر نائیک نے اپنے گمراہ کن موقف کی تائید میں مزید غلط فہمیوں کو پیدا کرنے کی نیت سے امام غزالی اور امام احمد رضا رضی اﷲ عنہا کا بھی تذکرہ کردیا ہے‘ اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ مذکورہ بالا شخصیات جلیلہ کی کتابوں سے اسے ثابت کریں۔ ورنہ فورا توبہ کریں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.