حدیث نمبر :127

روایت ہے حضرت زیدابن ثابت سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پرسوار تھے۲؎ اور ہم حضور کے ساتھ تھے کہ اچانک آپ کا خچر بدکا ۳؎ قریب تھا کہ آپ کو گرادیتا ناگاہ وہاں پانچ چھ قبریں تھیں حضور نے فرمایا کہ ان قبروں کو کوئی پہچانتا ہے ؟۴؎ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں حضور نے فرمایا یہ کب مرے عرض کیا زمانہ شرک میں۵؎ تب حضور نے فرمایا کہ یہ گروہ ۶؎ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں۷؎ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑو گے تو میں اﷲ سے دعاکرتا کہ اس عذاب سے کچھ تمہیں بھی سنا دے جو میں سن رہا ہوں۸؎ پھر ہماری طرف چہرہ کرکے فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے اﷲ کی پناہ مانگو سب نے کہا ہم دوزخ کے عذاب سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں فرمایا عذاب قبر سے اﷲ کی پناہ مانگو سب بولے ہم عذاب قبرسے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں ۹؎ فرمایا کھلے چھپے فتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگو سب بولے ہم کھلے چھپےفتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۱۰؎ فرمایا دجال کے فتنہ سے اﷲ کی پناہ مانگو سب بولے کہ ہم دجال کے فتنہ سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۱۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،مدنی ہیں،کاتب وحی،علم فرائض کے امام ہیں،آپ کے حالات پہلے ذکر کیئے جاچکے۔

۲؎ بنی نجار انصار کا ایک بڑا قبیلہ ہے،انہی کی چھوٹی بچیاں ہجرت کے دن حضور کی تشریف آوری پردف بجاتی اور گاگا کر خوشیاں مناتی تھیں۔

۳؎ عذاب قبر دیکھ کر معلوم ہوا کہ جس خچر پر حضور سوار ہوجائیں اس کی آنکھ سے غیبی حجاب اٹھ جاتے ہیں کہ وہ قبر کے اندر کا عذاب دیکھ لیتا ہے ، تو جس ولی پر حضور کا دستِ کرم پڑ جائے وہ عرش وفرش دیکھ لیتا ہے ، خیال رہے کہ جانور قبر والونکی چیخ وپکار سن لیتے ہیں جیساکہ پچھلی حدیث میں گزرچکا ، مگر عذابِ قبر کا دیکھنا حضور کی برکت سے تھا ورنہ ہمارے گھوڑے دن رات قبروں پر گزرتے ہیں نہ بدکتے ہیں نہ اچھلتے ہیں۔

۴؎ یہ سوال اپنی بے علمی کی بنا پر نہیں کہ بلکہ دوسرے کی زبان سے یہ حالات سنوانے کیلیئے ہیں ، حضور اپنے صحابہ اور انکی قبروں کو پہچانتے ہیں ، ہر ایک کے دفن میں شرکت فرماتے تھے ، رب تعالٰی نے موسٰی علیہ السلام سے پوچھا تھاکہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ حالانکہ رب تعالٰی علیم وخبیر ہے حضور تو قبر کا عذاب ملاحظہ فرمارہے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ان سے بے خبر ہوں

۵؎ آپ کی تشریف آوری سے پہلے یا بعد آپ کا انکار کر کے ، اس سے معلوم ہوا کہ ظہورِاسلام سے پہلے جو مشرک ہوکر مرا اسے بھی عذابِ قبر ہوگا اور کفار کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوتا نہ اس کے لیئے دعائے مغفرت کی جائے، نہ ایصال ثواب وغیرہ، مردے کو کوئی دوامفید نہیں ، کافر کو کوئی دعا فائدہ مند نہیں۔ اسی لیئے حضور نے ان کےلیئے دعا بھی نہ فرمائی اور سبزہ وغیرہ بھی نہ ڈالا جیساکہ گنہگاروں کی قبرپر کھجور کی شاخ گاڑی تھی جس کا ذکر آگے آوئے گا۔ بعض مسلمان مشرکوں کو خوش کرنے کے لیئے گاندھی کی سمادھ پر پھول ڈالتے ہیں ، سخت ناجائز ہے

۶؎ مشرکین وکفار کا امت یعنی جماعت جو دین یا زمانہ یا جگہ میں جمع ہو(مرقاۃ)

۷؎ پہلے گزرچکا کہ قبر سے مراد عالم برزخ ہے مشرکین ہند کے مردے جلادیئے جاتے ہیں انہیں بھی عذاب برزخ ہوتا ہے۔

۸؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب سارے مسلمانوں سے ہے نہ کہ صرف صحابہ سے بعض صحابہ اور اولیاء اﷲ تو عذاب قبر کو سنتے اور دیکھتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ عذاب قبرایسی دہشتناک چیزہے کہ اگر عوام اسے دیکھ لیں تو دہشت سے دیوانے ہوجائیں،اور اپنے مردوں کو دفن کرنا بھول جائیں،یہ مطلب نہیں کہ دفن نہ کرنے سے عذاب نہیں ہوتا،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،کوئٹہ کا زلزلہ دیکھ کر لوگوں کے ہوش اڑ گئے تھے اور بہت سے دیوانے ہوگئے تھے۔

۹؎ اگرچہ عذاب قبر پہلے ہے اور عذابِ دوزخ بعد میں،لیکن چونکہ عذابِ دوزخ سخت ہے اور عذاب قبر ہلکا کہ دوزخ میں آگ ہے اور قبر میں آگ کا اثر اس لیئے دوزخ کا ذکر پہلے فرمایا اور قبر کا بعد میں۔

۱۰؎ کھلے فتنے بداعمالیاں ہیں یعنی جسم کے گناہ اور چھپےفتنے بدعقیدگیاں،حسد،کینہ وغیرہ ہیں یعنی دل کے گناہ۔مطلب یہ ہے کہ ان تمام برائیوں سے پناہ مانگو جو عذابِ دوزخ یا عذابِ قبر کا سبب ہیں چونکہ بظاہر یہ تکلیف دہ نہیں ہوتے اس لیئے ان کا ذکر بعد میں کیا گیا۔

۱۱؎ یہ دعا آیندہ نسلوں کی تعلیم کے لیئے اور صحابہ کرام کے دلوں میں فتنۂ دجال کی ہیبت قائم کرنے کے لیئے ہے،ورنہ حضور کو علم تھا کہ صحابہ کے زمانہ میں نہ دجال آئے گا نہ اس کے فتنے۔