بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ اَنۡ يَّنۡكِحۡنَ اَزۡوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَيۡنَهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ ذٰ لِكَ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ ذٰ لِكُمۡ اَزۡکٰى لَـكُمۡ وَاَطۡهَرُؕ‌ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کے (انہی پہلے خاوندوں کے) ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو ‘ جب وہ دستور کے مطابق ایک دوسرے سے راضی ہوجائیں ‘ اس حکم کے ساتھ ہر اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ‘ یہ (حکم) تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور پاکیز ہے۔ اور اللہ (ہی) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں ان کے (ان ہی پہلے خاوندوں کے) ساتھ نکاح کرنے سے روکو جب وہ دستور کے مطابق ایک دوسرے سے راضی ہوجائیں۔ (البقرہ : ٢٣٢)

بغیر ولی کے عورت کے کیے ہوئے نکاح کے متعلق مذاہب اربعہ :

امام بخاری روایت کرتے ہیں : حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار کی بہن کو ان کے خاوند نے طلاق دے دی اور ان کو چھوڑے رکھا حتی کہ ان کی عدت پوری ہوگئی ‘ پھر ان کی بہن کے خاوند نے دوبارہ نکاح کا پیغام دیا تو حضرت معقل نے رشتہ دینے سے انکار کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٤٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا از خود نکاح کرنا جائز نہیں ہے ‘ وہ اس آیت سے اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ اگر بغیر ولی کے عورت کا از خود نکاح کرنا جائز ہوتا تو حضرت معقل کی بہن از خود اپنا نکاح اپنے پچھلے خاوند سے کرلیتیں اور ان کے خاوند کو یہ ضرورت نہ پڑتی کہ وہ ان کے بھائی سے رشتہ مانگیں ‘ اور نہ ان کے بھائی کے منع کرنے کی کوئی وجہ ہوتی ‘ اسی لیے امام شافعی نے کہا ہے کہ بغیر ولی کے عورت کے نکاح کے عدم جواز پر یہ آیت قوی دلیل ہے ‘ نیز ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ حدیث ہے۔

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس عورت نے اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے ‘ یہ تین بار فرمایا ‘ نیز فرمایا : جس عورت کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٨٤ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابوحنیفہ کے نزدک یہ جائز ہے کہ بالغہ عورت اپنا نکاح از خود کرلے ‘ ان کا استدلال بھی اسی آیت سے ہے ‘ وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں نکاح کا اسناد عورتوں کی طرف کیا گیا ہے اور ان کو نکاح سے روکنے سے منع فرمایا ہے اور اس لیے بھی کہ یہ خاص ان کا حق ہے کیونکہ وہی اہل مباشرت ہیں اس لیے ان کا یہ تصرف صحیح ہے اور حضرت عائشہ (رض) کی روایت کا یہ جواب دیتے ہیں کہ وہ نابالغہ اور مجنونہ پر محمول ہے۔

بغیر ولی کے عورت کے کیے ہوئے نکاح کے جواز کے متعلق احادیث اور آثار :

امام ابوحنیفہ کا استدلال حسب ذیل احادیث سے ہے :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غیر شادی شدہ لڑکی (خواہ کنواری ہو یا بیوہ) ولی کی بہ نسبت اپنے نکاح کی زیادہ حق دار ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٤٥٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غیر شادی شدہ لڑکی کا نکاح اس کے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے ‘ عرض کیا گیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی اجازت کیسے ہوگی ؟ اس کی خاموشی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حضرت خنساء بنت حزام انصاریہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے باپ نے ان کا نکاح کردیا درآں حالیکہ وہ بیوہ تھیں اور ان کو یہ نکاح ناپسند تھا ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں تو آپ نے اس نکاح کو مسترد کردیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٧٨۔ ٤٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر ایک عورت نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے بیٹے کے چچا (دیور) نے میرے نکاح کا پیغام دیا ‘ اور میرے باپ نے اس نکاح کو مسترد کردیا اور میرا نکاح وہاں کردیا جہان مجھے پسند نہیں تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلایا اور اس سے یہ معاملہ دریافت فرمایا : اس کے باپ نے کہا : میں نے اس کے نکاح میں کسی خیر کو ترک نہیں کیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ نکاح نہیں ہوا (اور عورت سے فرمایا :) جاؤ جس سے چاہو نکاح کرلو۔ (المصنف ج ٢۔ ٤ ص ١٣٤۔ ١٣٢‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ)

قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر کی بیٹی حفصہ کا نکاح منذر بن الزبیر سے کردیا۔ اس وقت حضرت عبدالرحمن موجود نہیں تھے جب وہ آئے تو انہوں ناراض ہو کر کہا : اے خدا کے بندو ! کیا مجھ ایسے شخص کی بیٹی کا نکاح اس کے مشورہ کے بغیر کیا جاسکتا ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) ناراض ہوئیں اور فرمایا : کیا تم منذر کو ناپسند کرتے ہو ؟ (المصنف ج ٢۔ ٤ ص مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ)

حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ولی کے بغیر ایک عورت کے نکاح کو جائز قرار دیا ‘ اس عورت کی مرضی سے اس کی ماں کا نکاح کردیا تھا (المصنف ج ٢۔ ٤ ص ١٣٣ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 232