بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ سَرِّحُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ‌ ۖ وَلَا تُمۡسِكُوۡهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا‌ ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ ‌ؕ وَلَا تَتَّخِذُوۡٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا‌ وَّاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَمَآ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ الۡكِتٰبِ وَالۡحِكۡمَةِ يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ

اور جب تم عورتوں کو (رجعی) طلاق دو ‘ پھر وہ اپنی عدت (کی میعاد) کو پہنچیں تو انہیں دستور کے مطابق (اپنے نکاح میں) روک لو یا ان کو حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دو ‘ اور ان کو ضرر پہنچانے کے لیے نہ روکے رکھو تاکہ تم ان پر زیادتی کرو ‘ اور جس نے ایسا کیا تو بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا ‘ اور اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بناؤ ‘ اور تم پر جو اللہ کی نعمت ہے (اس کو) یاد کرو اور اللہ نے تم پر جو کتاب اور حکمت ناز کی ہے وہ تم کو اس کی نصیحت کرتا ہوں اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اور یقین رکھو کہ اللہ پر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان (عورتوں) کو ضرر پہنچانے کیلیے (اپنے نکاح میں) نہ روکے رکھو تاکہ تم ان پر زیادتی کرو اور جس نے ایسا کیا تو اس نے بیشک اپنی جان پر ظلم کیا۔ (البقرہ : ٢٣١)

جس عورت کو خاوند خرچ نہ دے اس کی گلو خلاصی آراء ائمہ :

ائمہ ثلاثہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ کسی شخص کا اپنی منکوحہ کو بہ طور ظلم اور زیادتی کے اپنے نکاح میں روکے رکھنا جائز نہیں ہے ‘ بایں طور کہ اس کو نہ کھانے ‘ پینے ‘ کپڑوں اور رہائش کے اخرجات دے اور نہ اس کو اپنے نکاح کی قید سے آزاد کرے۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اس صورت کا حکم یہ ہے کہ قاضی ان کا نکاح فسخ کردے اور عدت کے بعد وہ عورت نکاح ثانی کے لیے آزاد ہے اور فقہاء احناف کے نزدیک اس صورت میں قاضی کو تفریق کا حق نہیں ہے۔ ائمہ ثلاثہ کہتے ہیں کہ جب خاوند نامرد ہو تو فقہاء احناف کے نزدیک بھی قاضی کو تفریق کا حق ہے ‘ جب کہ خاوند کے مرد ہونے سے عورت کی شہوانی تسکین ہوتی ہے اور کھانے پینے کے خرچ نہ ہونے سے اس کی زندگی خطرہ میں پڑجائے گی اس لیے اس صورت میں قاضی تفریق کرنے کا زیادہ مستحق ہے ‘ فقہاء احناف نے اس آیت کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ استدلال اس آیت کے شان نزول کے خلاف ہے ‘ علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

بعض علماء نے اس آیت کو بہ طور ظلم عورت کو نکاح میں روکنے کے ممانعت اور حسن معاشرت کے ساتھ عورت کے ہمراہ رہنے کے حکم پر محمول کیا ہے ‘ لیکن یہ تقریر اس آیت کے شان نزول کے خلاف ہے کیونکہ امام ابن جریر ‘ ا ا ابن المنذر وغیرہ نے سدی سے روایت کیا ہے کہ ثابت بن یسار انصاری نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور جب اس کی عدت ختم ہونے میں دو یا تین دن رہ گئے تو اس سے رجوع کرلیا اور اس کو پھر طلاق دے دی اور جب دوبارہ اس کی عدت ختم ہونے میں دو یا تین دن رہ گئے تو اس سے پھر رجوع کرلیا اور سہ بارہ اسی طرح کیا حتی کہ اس عورت کی عدت نوماہ ہوگئی تب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنی عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لیے (عدت میں) نہ روکے رکھو۔ (روح المعانی ج ٢ ص ‘ ١٤٣۔ ١٤٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ آلوسی کا یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ خصوصیت مورد کا لحاظ نہیں ہوتا بلکہ عموم الفاظ کا لحاظ ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ہمدری ‘ قوت استدلال اور عدل و انصاف اور ہمہ گیری اور ہمہ جہتی کے لحاظ سے ائمہ ثلاثہ کا مسلک راجح ہے ‘ اور علماء احناف کو اس خالص انسانی مسئلہ میں ائمہ ثلاثہ کے مسلک پر فتوی دینا چاہیے جب کہ فقہاء احناف نے یہ تصریح کی ہے۔

کہ ضرورت کے وقت مذہب غیر پر فتوی دینا جائز ہے۔ میں نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثالث کے اخیر میں اس مسئلہ پر بہت تفصیل اور تحقیق سے گفتگو کی ہے۔

خرچ سے محروم عورت کی گلوخلاصی پر جمہور فقہاء کے دلائل :

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں اللہ نے اس آیت میں دستور کے مطابق عورتوں کو نکاح میں رکھنے کا حکم دیا ہے اور دستور کے مطابق رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ خاوند اس کو کھانے پینے کا خرچ دے اور اگر یہ نہیں دے سکتا تو پھر اس کو طلاق دے دے ‘ اور اگر وہ اس کو پھر بھی طلاق نہیں دیتا تو وہ عورت کو دستور کے مطابق رکھنے کے حکم میں سے خارج ہوگیا ‘ اب حاکم اس عورت پر طلاق واقع کردے گا تاکہ شوہر کی طرف سے نفقہ نہ ملنے کی وجہ سے عورت کو ضرر نہ لاحق ہو ‘ کیونکہ بھوک اور پیاس پر کوئی صبر نہیں کرسکتا (اس کے برعکس شہوانی خواہش پوری نہ ہونے پر صبر ہوسکتا ہے۔ ) امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ اسحاق ‘ ابو ثور ‘ ابوعبید ‘ یحییٰ قطان اور عبدالرحمان بن مہدی کا یہی مذہب ہے اور انہوں نے کہا : یہی سنت ہے اور اس کو حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے۔

اس کے برعکس امام ابوحنیفہ ‘ ثوری اور زہری کا یہ قول ہے کہ جب شوہر خرچ نہ دے تو عورت پر صبر لازم ہے اور حاکم کے حکم سے یہ نفقہ شوہر کے ذمہ ہوگا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “۔ (البقرہ : ١٨٠)

ترجمہ : اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو اس کو فراخ دستی تک مہلت دو ۔

(قرض لے کر بیوی کو کھلانا اس وقت متصور ہوگا جب اس کی نیت بیوی کو تنگ کرنا اور ضرر پہنچانا نہ ہو ‘ اور مفروضہ صورت میں شوہر دانستہ بیوی کو خرچ نہیں دیتا) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : rnّ (آیت) ” وانکحوا الایامی منکم والصلحین من عبادکم وامآئکم ان یکونوا فقرآء یغنہم اللہ من فضلہ “۔ (النور ٣٢)

ترجمہ : اور تمم اپنے بےنکاح (آزاد) مردوں اور عورتوں کا نکاح کردو اور اپنے نیک غلاموں اور باندیوں کا نکاح کردو ‘ اگر وہ فقراء ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فقراء کا نکاح کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس لیے فقر علیحدگی کا سبب نہیں بن سکتا (کسی شخص کا فقر کی وجہ سے نفقہ دینے پر قادر نہ ہونا اور بات ہے وہ قرض لے کر بھی بیوی کو کھلا سکتا ہے اور کسی شخص کا قدرت کے باوجود عورت کو محض تنگ کرنے کے لیے نفقہ نہ دینا اور چیز ہے اور ہماری بحث اسی میں ۃ ے اور زیر بحث آیت میں بھی عورت کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نکاح میں روکے رکھنے سے منع کیا ہے۔ سعیدی غفرلہ)

نیز شوہر اور بیوی کے درمیان اجماعا نکاح منعقد ہوگیا ‘ اب یہ نکاح اجماع سے منسوخ ہوگا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے جس کا کوئی معارض نہیں ہے۔ ائمہ ثلاثۃ کی رائے کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : امام بخاری حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوشحالی ہو ‘ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے ‘ اپنے عیال سے خرچ کی ابتداء کرو ‘ عورت کہے گی ‘ یا مجھے کھلاؤ یا مجھے طلاق دو ‘ غلام کہے گا : مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو ‘ بیٹا کہے گا : مجھے کھلاؤ مجھے کس پر چھوڑتے ہو ؟ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٠٦ مسند احمد ج ٢ ص ٥٢٧۔ ٥٢٤۔ ٢٥٢)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ بیوی کو یا خرچ دیا جائے ورنہ اس کو طلاق دے دی جائے اور یہ ائمہ ثلاثہ کے موقف پر قوی دلیل ہے بلکہ اس اختلاف میں بہ منزلہ حکم ہے۔ نفقہ نہ دینے کی وجہ سے قاضی جو تفریق کرے گا وہ امام شافعی کے نزدیک طلاق بائنہ ہے اور امام مالک کے نزدیک طلاق رجعی کے قائم مقام ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ١٥٦۔ ١٥٥‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بناؤ۔ (البقرہ : ٢٣١)

مذاق میں دی ہوئی طلاق کا نافذ ہونا :

حافظ جلال الدین سیوطی بیان کرتے ہیں : امام ابن المنذر اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ایک آدمی کسی شخص سے کہتا : میں نے تم سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا۔ پھر کہتا : میں تو تم سے مذاق کررہا تھا اور کوئی شخص کہتا : میں نے غلام آزاد کردیا اور پھر کہتا : میں تو مذاق کررہا تھا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ ” اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزیں ایسی ہیں کہ کوئی شخص ان کو مذاق سے کہے یا بغیر مذاق کے وہ نافذ ہوجائیں گی : طلاق ‘ عتاق اور نکاح۔

امام ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص بغیر ارادہ طلاق کے مذاق سے طلاق دے دیتا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ ” اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق کو لازم کردیا۔

امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام حاکم اور امام بیہقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی ہے : نکاح ‘ طلاق اور رجوع کرنا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٨٦ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

احکام شرعیہ کو مذاق بنالینا حرام ہے اور ان کا مذاق اڑانا کفر ہے ‘ مذاق میں طلاق دینا حرام ہے اور یہ طلاق نافذ ہوجائے گی۔ اسی طرح عمل گناہ کرتے رہنا اور زبان سے توبہ کرتے رہنا بھی احکام شرعیہ کو مذاق بنانا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 231