تدفین کے بعد ٹہرنا

حدیث نمبر :131

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ ٹھہرتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو پھر اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو ۱؎ کہ اس سے اب سوالات ہورہے ہیں۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ ہمارے ہاں رواج ہے کہ بعد دفن فورًا واپس نہیں ہوتے بلکہ قبر کے آس پاس حلقہ بنا کر کھڑے ہوتے ہیں کچھ پڑھ کر بخشتے ہیں اور میت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے،یہ تمام فعل سنت ہیں،بعض جگہ بعد دفن قبر پر اذان بھی کہتے ہیں،یہ بھی اسی حدیث سے نکل سکتا ہے کہ اس میں مردے کو تلقین ہے اور اس کے ثبات قدمی کی کوشش ہے حدیث میں ہے:”لَقِّنَوْا مَوْتَاکُمْ بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ”۔

۲؎ یعنی ہونے ہی والے ہیں کیونکہ حساب قبر لوگوں کے لوٹنے کے بعدشروع ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ زندوں کی دعا سے مردوں کو فائدہ ہوتا ہے ایسے ہی ان کے صدقات وخیرات میت کو مفید ہیں۔ابو امامہ کی روایت میں ہے کہ حضور ارشاد فرماتے ہیں دفن کے بعد قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ کہو اے فلاں ابن فلاں اپنا وہ کلمہ یاد کر جسے تو دنیا میں پڑھتا تھا۔تیرا رب اﷲ ہے،تیرا دین اسلام ہے،تیرے نبی محمد مصطفےٰ ہیں۔(اشعۃ)مرقاۃ نے فرمایا کہ قبر پر ختم قرآن کرنا مستحب ہے،بیہقی نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ بعد دفن سرہانۂ قبر پر سورہ بقر کا پہلا رکوع اور پائنتی پر آخری رکوع پڑھنا مستحب ہے۔شیخ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ قبر پر قرآن پڑھنا بہت اعلٰی ہے۔اشعۃ میں ہے کہ اگر اس وقت دو چار فقہی مسائل بیان کرکے ثواب میت کو پہنچائے تو اچھا ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.