مسئلہ رویت ہلال

مفتی منیب الرحمن‘ چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان

 Tahaffuz, October 2008

حکمت نظام شمس وقمر

کائنات اﷲ تعالیٰ کے تکوینی نظام کے تحت چل رہی ہے۔ نظام شمسی و قمر بھی اسی کا حصہ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

(۱) ترجمہ:سورج اور چاند (قادر مطلق کے طے کردہ) ایک حساب کے مطابق چل رہے ہیں (الرحمن ۵)

(۲) ترجمہ: اور سورج (اﷲ کی طرف سے) اپنی مقررہ منزل کی جانب (مسلسل) محو سفر ہے۔ یہ بہت علم والی ایک غالب ہستی کا مقرر کیا ہوا نظام ہے اور ہم نے چاند کے لئے منزلیں مقرر کررکھی ہیں (یٰس ۳۸۔۳۹)

نظام شمس و قمر کی من جملہ حکمتوں میں سے کچھ یہ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

(۱) ترجمہ: لوگ آپ سے ہلال (پہلی تاریخ کا چاند) کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہئے‘ یہ لوگوں کے (دینی اور دنیوی) کاموں اور حج کے اوقات کی نشانیاں ہیں (البقرہ ۱۸۹)

(۲) ترجمہ: وہی ہے جس نے سورج کو روشنی دینے والا اور چاند کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو (یونس ۵)

اسلام کی عبادات میں سے اوقات نماز اور روزے کے سحروافطار کا تعلق نظام شمسی سے ہے اور ماہ رمضان کے آغاز واختتام اور زکواۃ و حج کا تعلق نظام قمری سے ہے۔

رمضان مبارک کے آغاز کامدار ’’رویت ہلال‘‘ ہے۔ کیونکہ رسول اﷲﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’نئے چاند کو دیکھے بغیر رمضان کا آغاز نہ کرو اور اسے دیکھے بغیر اس کا اختتام نہ کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہونے کی بناء پر (۲۹ رمضان کو) چاند نظر نہ آئے تو ۳۰ کا مہینہ مکمل کرلو (صحیح بخاری رقم الحدیث ۱۹۰۶ صحیح مسلم‘ رقم الحدیث ۱۰۸۰)

مسقل قمری کلینڈر کا مسئلہ

آج کل بعض جدت پسند اہل علم یہ کہتے ہیں کہ رویت ‘ علم کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ موجودہ دور میں سائنسی اور فنی ذرائع علم سے چاند کی رویت کا ظن غالب ہوجاتا ہے تو اس پر اعتماد کرکے مستقل اسلامی کلینڈر بنالیا جائے۔ ہم کہتے ہیں ’’رویت‘‘ کا حقیقی معنی ’’آنکھ سے دیکھنا‘‘ ہے اسے ’’علم‘‘ کے معنی میں لینا مجاز ہے اور اصول فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب تک کسی لفظ کا حقیقی معنی لینا دشوار نہ ہو تو اسے مجاز پر محمول نہیں کریں گے۔ ہمارے نظام رویت کا مدار بنیادی طور پر رویت بصری پر ہے۔ لیکن اگر سائنسی اور فنی ذرائع سے ہمیں کسی چیز کا علم قطعی یا ظن غالب ہوجائے تو شرعا اس سے استفادہ کرنے میں حرج نہیں بلکہ کرنا چاہئے اور ہم بہت سے دینی معاملات پر ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہم دینی مسائل کو شرعی اصولوں ہی کے مطابق حل کرتے ہیں‘ لیکن ان اصولوں کا اطلاق کرنے میں قطعی سائنسی معلومات پر مدار رکھ سکتے ہیں۔ مثلا ہمارے قدیم فقہاء کا خیال تھا کہ کان میں ایک روٹ ہے جو معدے کی جانب جاتا ہے لہذا انہوں نے یہ مسئلہ وضع کیا کہ کان میں دوا یا تیل ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہی۔ مگر اب چونکہ علم تشریح الاعضاء (Anotomy)نے بہت ترقی کرلی ہے اور ہمیں قطعیت کے ساتھ معلوم ہوگیا ہے کہ کان میں کسی مائع چیز کے جانے کا کوئی منفذ (Rout) نہیں ہے۔ لہذا اب عصر حاضر کے فقہہاء نے اس مسئلے کو تبدیل کیا اور قرار دیا کہ کان میں دا یا تیل ٹپکانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا‘ اگرچہ بعض قدامت پسند علماء اب بھی سابق تحقیق پر قائم ہیں اور یہ تو ہوتا رہتا ہے۔ جیسے لائوڈ اسپیکر پر نماز پڑھانے کے جواز کے مسئلے کو علماء کے درمیان قبول عام ملنے میں کافی وقت صرف ہوا اور اب غالب ترین اکثریت اسے تسلیم کرچکی ہے۔ اسی طرح قرائن عقلیہ جو قطعی ہوں یا ظن غالب کے درجے میں ہوں ان سے بھی قضا کے معاملات میں استفادہ کیا جاتا ہے اور فقہ میں اس کے بکثرت شواہد موجود ہیں۔ اس سے قطر نظر کہ ہمارے نزدیک رویت ہلال کا اصل مدار عینی رویت پر ہے۔ ہمارے ہاں چند منحرفین کو موجودہ نظام کا پابند بنانے میں حکومت ناکام ہے تو محض سائنٹفک نظام کا پابندی انہیں کون سی اتھارٹی بنائے گی؟

نئے چاند کا چھوٹا بڑا ہونا

نئے قمری چاند کے تعین کا مدار شرعا اور سائنسی طور پر ہلال کے چھوٹا بڑا ہونے یا مطلع پر اس کے وقت سے نہیں ہوتا‘ جیسا کہ ہمارے ہاں بعض اوقات اہل علم بھی کہہ دیتے ہیں کہ چاند کافی بڑا ہے ار کافی دیر تک مطلع پر موجود رہا ہے‘ لگتا ہے کہ ایک دن پہلے کا ہے۔ یہ سوچ اور طرز فکر غیر شرعی اور غیر سائنسی ہے۔

ابو البحتری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرے کے لئے گئے جب ہم وادی بطن نخلہ میں پہنچے تو ہم نے چاند دیکھنا شروع کیا‘ بعض لوگوں نے کہا یہ تیسری تاریخ کا چاند لگتا ہے اور بعض نے کہا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاندلگتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہماری ملاقات حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے ہوئی تو ہم نے (قیاس کی بنیاد پر اختلاف کی) یہ صورت حال ان سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا ’’تم نے چاند کس رات کو دیکھا تھا؟‘‘ ہم نے کہا فلاں رات کو‘ انہوں نے کہا رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’اﷲ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھادیا‘ درحقیقت یہ اسی رات کا چاند ہے‘ جس رات کو تم نے اسے دیکھا ہے‘‘ (صحیح مسلم‘ رقم الحدیث ۱۰۸۸)

اس بارے میں یہ شریعت کی اصل ہے۔ اس لئے کسی عالم یا تعلیم یافتہ انسان کا نیا چاند دیکھ کر یہ کہنا کہ دویا تین تاریخ کا لگتا ہے۔ یہ غیر شرعی اور غیر عالمانہ ہے۔ اسی طرح سائنسی حقیقت بھی یہی ہے مثلا کسی قمری مہینے کی ۲۹ تاریخ گزرنے کے بعد شام کو نئے چاند کا غروب آفتاب کے فورا بعد مطلع پر ظہور تو ہے‘ جسے سائنسی اصطلاح میں نئے چاند کی پیدائش کہتے ہیں۔ مگر اس کا درجہ چار پانچ ہے‘ اس کی عمر ۱۵ گھنٹے ہے اور مطلع پر ظہور پانچ یا دس منٹ ہے تو چاند موجود تو ہے مگر اس کی رویت کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے لہذا یہ قمری مہینہ ۳۰ دن کا قرار پائے گا۔ اب اگلی شام اس چاند کی عمر چالیس گھنٹے ہوجائے گی۔ مطلع پر اس کا درجہ ۱۲ یا اس سے اوپر ہوجائے گا اور مطلع پر اس کا استقرار بھی نسبتا زیادہ وقت کے لئے ہوگا اور اس کا حجم (Size) بھی بڑا ہوگا۔ لیکن یہ قطعیت کے ساتھ چاند کی پہلی تاریخ ہوگی۔ لہذا میری اہل علم اور اہل وطن سے اپیل ہے کہ روایات کے حصار سے نکلیں اور حقیقت پسند بنیں۔

کیا کئی قمری مہینے مسلسل ۲۹ دن یا ۳۰ دن کے ہوسکتے ہیں؟

قرآن سنت میں ایسی کوئی تصریح نہیں کہ زیادہ سے زیادہ کتنے قمری مہینے مسلسل ۳۰ دن کے ہوسکتے ہیں اور کتنے مسلسل ۲۹ دن کے ہوسکتے ہیں۔ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ‘ العزیز نے علامہ قطب الدین شیرازی مصنف تحفہ شاہیہ وزیج بیگی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’زیادہ سے زیادہ مسلسل چار قمری تین قمری مہینے ممکنہ طور پر ۲۹ دن کے ہوسکتے ہیں (فتاویٰ رضویہ‘ جلد ۲۶‘ ص ۴۲۳‘ رضا فائونڈیشن)

امام احمد قسطلانی نے ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے ’’دو یا تین قمری مہینے مسلسل ۲۹ دن کے ہوسکتے ہیں‘ ۴ سے زائد ناقص نہیں ہوسکتے‘‘ (جلد ۳ ص ۳۵۷)

ایک ماہر فلکیات نے لکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلسل ۵ قمری مہینے ۲۹ دن کے ہوسکتے ہیں‘ لیکن یہ سب امکانات کی بات ہے۔ ان پر کسی شرعی فیصلے کا مدار نہیں ہے۔

شہادت کے ردوقبول کا اختیار

شہادت کے ردوقبول کا اختیار قاضی کے پاس ہے۔ شریعت کا اصول بھی یہی ہے اور جدید دور کے قانونی ضوابط بھی یہی ہیں۔ شہادت علی الطلاق حجت نہیں ہے۔ ورنہ شاہد خود قاضی بن جائے گا۔ گواہ کا کام قاضی تک گواہ پہنچانا ہے‘ فیصلہ کرنا قاضی کا کام ہے۔ میں اس مسئلے کو ایک مثال سے واضح کروں گا۔ ایک مقدمہ قتل میں مقتول کی لاش پڑی ہوئی ملی‘ جسے گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ دو گواہان نے عدالت مین حلفیہ گواہی دی کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ فلاں شخص نے اپنے پستول سے گولی مار کر اسے ہلاک کیا ہے اور وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے یہ جرم نہیں کیا۔ جب لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیاتو اس کے جسم سے ’’تھری ناٹ تھری‘‘ کے گولی نکلی اور اسلحے کے ماہر نے کہا اس پستول سے کوئی گولی نہیں چلی تو کیا عینی شاہدوں کی بنیاد پر عدالت قصاص میں اس شخص کو سزائے موت کا حکم صادر کر دے گی‘ ہرگز نہیں۔ اگر شہادت علی الطلاق حجت ہو‘ جرح کے ذریعے اس کی صداقت کو جانچنے کا کوئی اعبتار نہ ہو تو پھر موجودہ نظام میں وکالت کے ادارے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی جس کا کام گواہ کی صداقت کو جرح کے لئے جانچنا ہوتا ہے۔

آئے روز ہماری اعلیٰ عدالتیں (بشمول پشاور ہائی کورٹ) قتل اور دیگر مقدمات میں حلفیہ شہادتوں کو رد کرتی ہیں اور ان کے خلاف فیصلے دیتی ہیں۔ لیکن کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ مسجد قاسم علی خان پشاور میں مولانا شہاب الدین پوپلزئی نے متوازی عدالت لگا کر ان شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر فرمادیا ہو اور عدالت کے فیصلے کو اپنی یا گواہان کی توہین قرار دیا ہو۔

قضا ریاست کی طرف تفویض ہوتی ہے

رویت ہلال کا فیصلہ ایک قضا ہے اور اس کے لئے ایک ادارہ ’’مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان‘‘ قائم کیا گیا ہے۔ قاضی کے تقرر کا اختیار شریعت اسلام میں اور جدید نظام آئین و قانون میں بھی خلیفہ یا سربراہ مملکت کو ہے‘ کسی شخص کو یہ اعتبار نہیں کہ خود قاضی بن بیٹھے اور متوازی عدالت لگائے۔ پاکستان میں بھی (بشمول صوبہ سرحد) کسی بھی مسئلے میں پاکستان کی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے مقابلے میں متوازن عدالتیں نہیں لگائی جاتیں‘ یہاں تک کہ جب متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے حسبہ بل کو سپریم کورٹ نے خلاف آئین قرار دیا تو اس فیصلے کا بھی ان کی طرف سے پسندیدگی کے باوجود احترام کیا گیا۔ اسی طرح چیف جسٹس کیس میں حکومت نے اپنی خواہش کے برعکس سپریم کورٹ فل بنچ کے فیصلے کو تسلیم کیا۔ لیکن صرف رویت ہلال کے مسئلے پر صوبہ سرحد میں چند علماء متوازی عدالتیں لگا کر شہادتیں قبول کرتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ یہ شرعی لوگوں کا غیر شرعی اقدام ہے اور یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے‘ ہر دور میں ان حضرات کا طرز عمل یہی رہا ہے اور ہر دور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے فیصلے سے ان چند حضرات نے اختلاف کیا اور اس سے مذہبی انتشار کو فروغ ملا اور مذہبی عناصر طعن و تشنیع کا نشانہ بنے۔ میرے نزدیک اس سلسلہ میں قاضی حسین احمد ‘مولانا فضل الرحمن اور صوبہ سرحد کی حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے کو کنٹرول کریں۔

قضاء قاضی میں خطا واقع ہو‘ تب بھی وہ شرعا اور قانونا موثر ہوتا ہے۔ اگر کوئی قاضی فیصلے میں دانستہ خیانت کرتا ہے تو آخرت میں عنداﷲ مسئول ہوگا‘ مگر فیصلہ پھر بھی نافذ ہوگا اور اگر اس سے فیصلے میں اجتہادی طور پر خطا واقع ہوجاتی ہے تو وہ آخرت میں بری ہے اور اسے ایک اجر بہرحال ملے گا اور اس کا فیصلہ بہرصورت موثر نافذ ہوگا۔

ہمارے میڈیا کا طرز عمل

ہمارے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا طرز عمل میں بھی تضاد ہے۔ میڈیا کے معزز ذمہ داران اپنی رپورٹس اور تجزیاتی کالموں میں انتشار پر اظہار افسوس بھی کرتے ہیں‘ لیکن انتشار کی خبروں کو فروغ بھی دیتے ہیں اور کھل کر ان کی مذمت بھی نہیں کرتے۔

پاکستان واحد ملک ہے جہاں رویت ہلال کے مسئلے پر کارٹون بھی بنتے ہیں اور کالم بھی لکھے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہے‘ ورنہ دیگر مسلم ممالک میں یہ روش نہیں ہے۔ بہت سے فاضل کالم نگاروں کے کالم پڑھنے کو ملتے ہیں جن میں وہ آغاز تو اس سے کریں گے کہ سائنس کا دور ہے‘ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور ہم ابھی رویت ہلال کے مسئلے پر جھگڑ رہے ہیں‘ لیکن پھر رویت ہلال کے فیصلے کو سائنسی بنیاد پر پرکھنے کے بجائے روزمرہ کالم نگاری کی ضرورت کے تحت نشانہ تضحیک بناتے ہیں تو کالم کا اختتام آغاز کے برعکس ہوتا ہے۔ چونکہ وہ اپنی ریاست کے بادشاہ ہوتے ہیں اس لئے ہم ان کی خدمت میں یہی گزارش کرسکتے ہیں کہ:

ہرچہ از دوست می رسد نکوست