بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا عَرَّضۡتُمۡ بِهٖ مِنۡ خِطۡبَةِ النِّسَآءِ اَوۡ اَکۡنَنۡتُمۡ فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمۡ سَتَذۡكُرُوۡنَهُنَّ وَلٰـكِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوْلًا مَعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقۡدَةَ النِّکَاحِ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡكِتٰبُ اَجَلَهٗ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ فَاحۡذَرُوۡهُ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ

اور تم پر اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم (عدت والی عورتوں کو) اشارہ کنایہ سے نکاح کا پیغام دو ‘ یا تم اپنے دلوں میں چھپاؤ اللہ کو علم ہے کہ (عدت کے بعد) عنقریب تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے ‘ لیکن تم (عدت سے پہلے) ان سے کوئی خفیہ وعدہ نہ کرو ‘ البتہ شریعت کے موافق ان سے بات کرو ‘ اور جب تک عدت پوری نہ ہوجائے (ان سے) عقد نکاح کا عزم نہ کرو ‘ اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ سو اس سے ڈرتے رہو ‘ اور یقین رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب تک عدت پوری نہ ہوجائے (ان سے) عقد نکاح کا عزم نہ کرو۔ (البقرہ : ٢٣٥)

گناہ کے ارتکاب پر مواخذہ ہونے اور گناہ کے ارادہ پر مواخذہ نہ ہونے کی تحقیق :

اس آیت میں طلاق یا وفات کی عدت گزارنے والی عورت سے نکاح کرنے کے ارادہ سے بھی منع فرمایا ہے اور دوران عدت اس سے نکاح کا عزم (پکا ارادہ) کرنا حرام ہے اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے ‘ اور عزم کرنا دل کا فعل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دل کے افعال پر بھی مواخذہ ہوتا ہے۔ حرام کام کا کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے اور اس کا عزم بھی گناہ کبیرہ ہے ‘ عام طور پر مشہور ہے کہ برائی کا ارتکاب گناہ ہے اور اس پر مواخذہ ہوتا ہے لیکن اگر برائی کا صرف عزم کیا جائے اور برائی کا ارتکاب نہ کیا جائے تو مواخذہ نہیں ہوتا ‘ یہ قاعدہ صحیح نہیں ہے ‘ برائی کا عزم بھی گناہ ہے اور اس پر مواخذہ ہوتا ہے امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو مسلمان تلواروں سے لڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ تو قاتل ہے مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ بھی اپنے حریف کے قتل پر حریص تھا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ اگر کسی شخص نے قتل نہ کیا ہو بلکہ صرف قتل کا عزم کیا ہو وہ پھر بھی جہنمی ہوگا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ فعل حرام کا عزم اور پکا ارادہ بھی حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اس پر استحقاق عذاب ہے البتہ ” ھم “ پر مواخذہ نہیں ہوتا ” ھم “ اور ” عزم “ میں یہ فرق ہے کہ اگر کوئی شخص راجح اور غالب طور پر کسی کام کو کرنا چاہے اور مرجوح اور مغلوب طور پر کام نہ کرنا چاہے تو یہ ” ھم “ ہے اور جب سو فیصد کسی کام کا پختہ ارادہ ہو تو یہ عزم ہے ‘ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دل میں کسی کام کے کرنے کا اچانک خیال آئے تو اس کو ھاجس کہتے ہیں اور بار بار یہ خیال آئے تو اس کو خاطر کہتے ہیں اور جب ذہن اس کام کے کرنے کا منصوبہ اور پروگرام بنائے تو اس کو حدیث نفس کہتے ہیں ‘ اور جب راجح اور غالب جانب اس کام کے کرنے کی اور مرجوح اور مغلوب جانب اس کا کو نہ کرنے کی ہو مثلا ٩٩ فیصد کرنا چاہتا ہو اور ایک فیصد نہ کرنا چاہتا ہو تو اس کو ” ھم “ کہتے ہیں اور جب یہ ایک فیصد بھی ختم ہوجائے اور سوفیصد کام کرنا چاہتا ہو تو یہ عزم ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کا کوئی دشمن ہو اور اس کے دل میں اچانک اس کو قتل کرنے کا خیال آئے تو یہ ھاجس ہے یہ خیال بار بار آئے تو خاطر ہے اور جب وہ اس کو قتل کرنے کا منصوبہ اور پروگرام بنائے مثلا فلاں جگہ سے پستول حاصل کرے گا اور فلاں وقت اور فلاں جگہ جا کر اس کو قتل کرے گا تو یہ حدیث نفس ہے ‘ اور جب ٩٩ فیصد اس کو قتل کرنا چاہے لیکن ایک فیصد اس کو قتل نہ کرنا چاہے مبادا پکڑا جائے اور اس کو پھانسی ہوجائے تو یہ ” ھم “ ہے اور جب یہ ایک فیصد نفی بھی زائل ہوجائے اور وہ دشمن کو قتل کرنے کا پختہ اراد کرلے خواہ اس کو نتیجہ میں پھانسی ہوجائے تو یہ عزم ہے ‘ اس عزم کے بعد اگر وہ کسی وجہ سے اس کو قتل نہ بھی کرے تب بھی وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار پائے گا اور اس سے مواخذہ ہوگا۔ بہ اعتبار لغت کے ھم اور عزم دونوں کے معنی ارادہ ہیں لیکن اصطلاح شرع میں ” ھم “ وہ ارادہ ہے جس میں جانب مخالف کی بھی کسی درجہ میں گجائش ہو اور عزم وہ ارادہ ہے جس میں جانب مخالف کی بالکل گنجائش نہ ہو اور حرام فعل کا ارتکاب اور حرام فعل کا عزم دونوں گناہ کبیرہ ہیں جب کہ حرام فعل کا ” ھم “ گناہ نہیں ہے ‘ پچھلی امتوں سے معصیت کے ” ھم “ پر بھی مواخذہ ہوتا تھا اور ہماری امت سے صرف معصیت کے عزم پر مواخذہ ہوتا ہے اور ھاجس “ خاطر اور حدیث نفس کے درجہ میں ان سے مواخذہ ہوتا تھا نہ ہم سے مواخذہ ہوتا ہے ‘ نیز نیکی کا اگر ” ھم “ کرلیاجائے (یعنی ارادہ تو ہو لیکن سو فیصد نہ ہو) اور پھر بعد میں وہ نیکی نہ کی جائے تو اس ھم پر اجر وثواب مل جاتا ہے لیکن اگر معصیت کا ” ھم “ کیا جائے اور وہ معصیت نہ کی جائے تو گناہ نہیں ہوتا ‘ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور احسان ہے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل فرماتا ہے : جب میرا بندہ کسی معصیت کا ” ھم “ مثلا (٩٩ فیصد) ارادہ کرے تو اس کو نہ لکھو اور جب وہ اس معصیت کا ارتکاب کرے تو اس کی ایک معصیت لکھ دو ‘ اور جب وہ کسی نیکی کا ” ھم “ (مثلا ٩٩ فیصد ارادہ) کرے اور اس نیکی کو نہ کرے (تو پھر بھی) اس کی ایک نیکی لکھ دو اور جب وہ اس نیکی کو کرلے تو اس کی دس نیکیاں لکھ دو ‘ ایک اور سند سے یہ روایت ہے کہ دس سے ساتھ سو تک نیکیاں لکھ دو ۔ ١ (امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ ‘ صحیح مسلم ج ١ ص ٧٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کی مکمل تفصیل اور تحقیق ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ کی جلد اول میں کی ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 235