کافر پر اس کی قبر میں ننانوے۹۹ سانپ

حدیث نمبر :132

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر پر اس کی قبر میں ننانوے۹۹ سانپ مسلط کیے جاتے ہیں ۱؎ جو اسے قیامت تک نوچتے اور ڈستے رہیں گے ۲؎ اگر ان میں سے ایک سانپ زمین پر پھونک مار دے تو کبھی سبزہ نہ اگائے۳؎ اسے دارمی نے روایت کیا اور ترمذی نے بھی اسی کی مثل روایت کی انہوں نے ننانوے کی بجائے ستر فرمائے۴؎

شرح

۱؎ تنین زہر والے اژدھے کو کہتے ہیں چونکہ کافر ا ﷲ کے ننانوے ناموں کا منکر تھا۔اسی لئے اس پر ننانوے سانپ مقرر ہوئے نیز اﷲ کی سو رحمتیں ہیں ایک دنیا میں ننانوے مؤمن وں پر آخرت میں کافروں پر ان نعمتوں کے عوض سانپ مقرر ہوئے۔

۲؎ گوشت نوچنا،زہر نہ پہنچانا نھس ہے اور دانت مار کر زہر چھوڑ دینا لدغ یعنی کوئی نوچے گا کوئی ڈسے گا۔

۳؎ اس طرح کہ اس کی گرمی اور زہر کی وجہ سے مٹی پک جائے اور سبزے کے قابل نہ رہے آج جہاں ایٹم بم پڑا ہے وہاں کا علاقہ ناقابل کاشت ہوگیا۔

۴؎ ستر سے مراد بے شمار لینا یہ ننانوے کے خلاف نہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.