جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے

حدیث نمبر :136

روایت ہے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب میت قبر میں داخل کی جاتی ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتاہے ۱؎ تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۲؎ (ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ احساس منکر نکیر کے جگانے پر ہوتا ہے۔خواہ دفن کسی وقت ہو چونکہ نماز عصر کی زیادہ تاکید ہے اور آفتاب کا ڈوبنا اس کا وقت جاتے رہنے کی دلیل ہے،اسی لئے یہ وقت دکھایا جاتا ہے۔

۲؎ یعنی اے فرشتو سوالات بعد میں کرنا عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ وہی کہے گا جو دنیا میں نماز عصر کا پابند تھا،اﷲ نصیب کرے اسی لیئے رب فرماتا ہے:”حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی”تمام نمازوں کی خصوصًا عصر کی بہت نگہبانی کرو۔صوفیاءفرماتے ہیں جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے۔خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سوکر اٹھا ہوں نزع وغیرہ سب بھول جائے گا ممکن ہے کہ اس عرض پر سوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکی۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.