بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يَّعۡفُوۡنَ اَوۡ يَعۡفُوَا الَّذِىۡ بِيَدِهٖ عُقۡدَةُ النِّكَاحِ ‌ؕ وَاَنۡ تَعۡفُوۡٓا اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ؕ وَ لَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ

اور اگر تم نے عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے انہیں طلاق دے دی درآں حالیکہ تم ان کا مہر مقرر کرچکے تھے تو تمہارے مقرر کیے ہوئے مہر کا نصف (ادا کرنا واجب) ہے ‘ البتہ عورتیں کچھ چھوڑ دیں ‘ یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ کچھ زیادہ دے دے (تو درست ہے) اور تمہارا زیادہ ادا کرنا تقوی کے زیادہ قریب ہے ‘ اور تم ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرنے کو فراموش نہ کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے کیے ہوئے کاموں کو دیکھنے والا ہے

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 237