کلام رضا میں پھولوں کا تذکرہ

مولانا محمد سیف علی سیالوی

 

 

 

مشکواۃ ‘ باب مناقب اہل بیت النبیﷺ میں حدیث پاک ہے مدنی کریم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں۔

الحسن و الحسین ہما ریحانی من الدنیا

’’حسن اور حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہمایہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں‘‘

صوفیائے کرام نے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے اپنے کلام میں پھولوں کا تذکرہ بڑی محبت سے کیا ہے۔ امام عشق و محبت مجدد دین و ملت الشاہ احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ جب اﷲ عزوجل کے حبیب‘ طبیبوں کے طبیبﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں اپنا نعتیہ کلام ’’خدائق بخشش‘‘ لے کر آتے ہیں تو پھولوں کے ذکر اور ان کی بھینی بھینی خوشبوئوں سے اپنے کلام کو سنوارتے اور معطر کرتے چلے جاتے ہیں۔

قارئین کرام چمنستان رضا میں مکی‘ مدنی پھولوں کا تذکرہ پڑھ کر ضرور خوش ہوںگے۔

ان دو کا صدقہ جن کو کہا مرے پھول ہیں

کیجئے رضا کو حشر میں خنداں مثال گل

اے میرے پیارے آقا! اپنے جن دو شہزادوں حسنین کریمین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو آپ نے اپنا پھول فرمایا‘ انکا صدقہ بروز قیامت احمد رضا کو سارے غموں سے نجات دلا کر پھول کی سی مسکراہٹ عطا ہوجائے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دیکھو

ایسے سخی کا منگتا پھرتا ہے مارا مارا

حدیث مبارکہ آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں! جس میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا حسن اور حسین میرے پھول ہیں۔ ایک روایت میں ہے حضورﷺ دونوں شہزادوں کو سونگھ رہے تھے‘ عرض کیا گیا ہم تو اپنے بچوں کو چومتے ہیں اور آپ سونگھتے ہیں۔ فرمایا! یہ دونوں میرے پھول ہیں۔ اور پھول چومے ہی نہیں جاتے سونگھے بھی جاتے ہیں۔

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی

زہراء ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

اے عبد مصطفی گدائے درخیر الورٰی احمد رضا! اس کرم و رحمت کے باغ کی کیا بات ہے جس باغ رسالت کی کلی سیدۃ النساء العالمین فاطمتہ الزہراء اور سید شباب اہل الجنتہ حسین و حسن جس باغ کے مہکتے ہوئے پھول ہوں۔ اے میرے اﷲ! ہمیں ان نفوس قدسیہ کی محبت عطا فرما کیوں کہ

بے حب اہل بیت عبادت حرام ہے

زاہد تیری نماز کو میرا سلام ہے

آیئے! دوبارہ مرکز علم و عرفاں بریلی شریف چلتے ہیں

چرچے ہوتے ہیں کملائے ہوئے پھولوں میں

کیوں یہ دن دیکھ پائے جو بیابان عرب

وہ پھول جو مرجھا کر خشک ہوجاتے ہیں ان میں اس بات کی دہائی ہوتی ہے کہ اے کاش! ہم کسی باغ میں ہونے کی بجائے عرب شریف کے کسی جنگل میں ہوتے تاکہ مرجھا جانے کی تکلیف سے تو محفوظ رہتے۔

محمد مصطفی کے باغ کے سب پھول ایسے ہیں

جو بن پانی کے تر رہتے ہیں مرجھایا نہیں کرتے

ناظرین ذی احتشام! حدائق بخشش کے ورق الٹئے اور دیکھئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پھر کتنی خوبصورت تلمیح استعمال کرتے ہوئے فرماتے ہیں

سرتا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

لب پھول‘ دہن پھول‘ ذقن پھول‘ بدن پھول

گلشن رسالت کے مہکتے ہوئے پھول اﷲ عزوجل کے لاڈلے رسولﷺ سرانور سے لے کر قدم مبارک تک پھول کی لطافت والے ہیں‘ ہونٹ‘ منہ‘ ٹھوڑی اور سارا جسم اقدس گویا پھول ہے۔

سر سے پائوں تک تنویر ہی تنویر ہے

جیسے منہ سے بولتا قرآن وہ تفسیر ہے

محو حیرت ہے یہ دنیا مصطفی کو دیکھ کر

وہ مصور کیسا ہوگا جس کی یہ تصویر ہے

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ مکتوبات دفتر دوم مکتوب نمبر ۱۰۰ میں فرماتے ہیں:

’’مخلوق میں آپﷺ سے زیادہ کوئی شے لطیف نہیں‘ اسی لئے اﷲ تعالیٰ عزوجل نے آپﷺ کا سایہ نہیں بنایا۔ کیونکہ سایہ ہر شے کا شے سے لطیف تر ہوتا ہے۔ اگر آپ کا سایہ بھی ہوتا تو وہ آپ کے جسم انور سے لطیف تر ہوتا۔ اور چونکہ آپ کے جسم سے لطیف تر کوئی شے ہے ہی نہیں اس لئے سایہ نہیں‘‘

صدقے میں تیرے باغ تو کیا لائے ہیں تن پھول

اس باغیچہ دل کو بھی تو ایما ہر کہ بن پھول

یارسول اﷲﷺ آپ کے طفیل چمن میں تو پھول کھلے ہی ہیں بلکہ خوردو پودے بھی جنگل میں پھولوں سے لدے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کا ارشاد و حکم اس دل کی کل کو ہوجائے تو یہ پھولوں کی طرح کھل جائے بقول شخص

جس طرف بھی چشم محمد کے اشارے ہوگئے

جتنے بھی ذرے سامنے آئے سب ستارے ہوئے

لیجئے! اب کلک رضا لرزے میں آتا ہے اور حسب عادت مدحت مصطفیﷺ کرتا ہے

واﷲ جو مل جائے میرے گل کا پسینہ

مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول

مخدومہ کائنات حضرت آمنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

’’جب آپ علیہ السلام پیدا ہوئے تو آپ سے اس قدر تیز خوشبو کستوری کی مانند آئی کہ سارا گھر مہک گیا ‘‘ (زرقانی شریف جلد اول)

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں

حضرت سیدنا انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کے جسم اقدس کی خوشبو ایسی تھی کہ ایسی خوشبو مشک و عنبر بلکہ کسی چیز میں نہ تھی۔ چہرہ پر پسینہ آتا تو موتیوں کی طرح محسوس ہوتا۔ (مسلم ‘ بابطیب رائحتہ النبی ولین مسہ)

سب سے بہترین خوشبو

حضرت سیدنا انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ساقی کوثرﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور دوپہر کے وقت قیلولہ فرمایا۔ آپﷺ کو بوقت آرام بہت پسینہ آیا۔ میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا شیشی لے کر آپﷺ کا پسینہ مبارک جمع کرنے لگیں۔ آپﷺ کی آنکھ کھل گئی۔ فرمایا ’’اے ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کیا کررہی ہو؟‘‘ عرض کیا ’’یارسول اﷲﷺ آپ کا پسینہ مبارک جمع کررہی ہوں تاکہ میں بطور خوشبو استعمال کروں کیونکہ اس کی خوشبو سب سے زیادہ بہتر ہے‘‘ (ایضا)

کیسا رتبہ ہے صدیق و فاروق کا

جن کا گھر رحمتوں کے خزینے میں ہے

ایسی خوشبو نہیں ہے کسی پھول میں

جیسی میرے نبی کے پسینے میں ہے

ہمارے آقاﷺ کی بارگاہ میں تمام حسینان عالم کے حسن و جمال گم ہوکر رہ گئے۔ اور ان کے دہن جو اپنی جگہ پھول کی مہک رکھتے ہیں‘ جب سراجا منیرا محبوب خدا کے نورانی چہرے کے سامنے آئے تو مہک کی بجائے گرم ہوا کا منظر پیش کرتے دکھائی دینے لگے۔

بجھ گئیں جس کے آگے سب ہی مشعلیں

شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبیﷺ

سارے جہاں کا حسن متفرق دیکھنا ہو تو اﷲ عزوجل کے سارے نبیوں کے چہروں میں دیکھا جاسکتا ہے اور اگر سارے جہاں کا سارا حسن ایک جگہ اکھٹا دیکھنا ہو تو رخ والضحیٰ کا نظارہ کیا جائے۔

کیا غازہ ملا گرد مدینہ کا جو ہے آج

بکھرے ہوئے جوبن میں قیامت کی پھبن پھول

اے پھولو! آج تمہارا حسن اتنے شباب پہ کیوں نظر آرہا ہے‘ کیا تمہیں آج غبار مدینہ تو ہاتھ نہیں آگیا۔ جس کو تم نے چہروں پر بطور غازہ (پائوڈر) کے مل لیا۔ غبار مدینہ کی عظمت کے کیا کہنے حضور علیہ السلام نے اﷲ عزوجل کی قسم اٹھا کر فرمایا۔

والذی نفسی بیدہ ان فی غبارھا شفاء من کل داء

’’یعنی مدینہ پاک کے غبار میں ہر بیماری کا علاج ہے‘‘

۲۴ جون ۲۰۰۷ء برو زاتوار روزنامہ جناح میں یہ خبر شائع ہوئی کہ سعودی عرب کے ڈاکٹر ایاز حسن اے کمال اور ڈاکٹر کے۔ ایس عباس اقبال نے کہا ہے کہ خاک مدینہ میں کینسر جیسے موذی مرض کا کامیاب علاج ہوسکتا ہے۔ اور اس کا تجربہ کیا گیا ہے۔ خاک مدینہ سے کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جو سو فیصد کامیاب رہا۔ ڈاکٹر ایاز حسن اے کمال اور ڈاکٹر کے ایس عباس اقبال نے کہا ہے کہ خاک شفا کو امریکی ماہرین طب نے بھی تسلیم کرلیا ہے اور دوا کم قیمت پر دستیاب ہے جس کی آئندہ قیمت مزید کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوائی کو استعمال کرنے والے مریضوں کو دوبارہ کینسر نہیں ہوگا۔ یہ جسم میں بیماری کے مکمل خاتمے میں انتہائی موثر کردار ادا کرے گی۔

غبار راہ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے

یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاک شفا کردے

اﷲ رب العالمین نے سورۃ عادیات میں ان گھوڑوں کی اور ان کے قدموں سے اڑنے والی خاک کی قسم یاد فرمائی ہے جن پر ساقی کوثرﷺ کے صحابہ کرام سوار ہوکر جہاد کو جاتے تھے تو گویا خاک مدینہ کی بھی قسم یادفرمائی گئی ہے۔

دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم

دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم

اے حبیبﷺ آپ کے جمال باکمال کا کیا کہنا کہ دشمنوں کی نظر میں آپ مرغوب و محبوب ہیں اور ہماری پستی کی بھی انتہا ہے کہ ہم اپنوں کو بھی نہیں بھاتے۔ دشمنی کے باوجود کفار ساقی کوثرﷺ کو صادق وامین کہتے اور جانتے تھے۔

تفسیر روح البیان پارہ ۷ میں ہے کہ اخنس بن شریق اور ابوجہل کی باہم ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا ’’اے ابوالحکم! (کفار ابوجہل کو ابوالحکم کہتے تھے) یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو تیری بات سن سکے۔ اب تو مجھے ٹھیک بتادے کہ محمدﷺ سچے ہیں یا نہیں؟‘‘ ابوجہل نے کہا ’’اﷲ عزوجل کی قسم! محمدﷺ بے شک سچے ہیں‘ کبھی کوئی جھوٹا حرف ان کی زبان پر نہیں آیا۔ مگر بات یہ ہے کہ قصی کی اولاد ہیں پہلے ہی سارے اعزاز ان کے پاس ہیں۔ اب اگر نبوت کا اعزاز بھی لے گئے تو باقی قریشوں کے پاس کیا رہ جائے گا‘‘ ثابت ہوا کہ ہر قوم ساقی کوثرﷺ کے صدق کا اعتقاد رکھتی ہے لیکن ان کی ظاہری تکذیب کا باعث ان کا حسد ہونا ہے فی زمانہ بھی یہ مہلک مرض عام ہے

خوش رے گل پہ عندلیب خار حرم مجھے نصیب

میری بلا بھی ذکر پر پھول کے خار کھائے کیوں

اے بلبل! تجھے پھول مبارک ہو‘ مجھے تیرے اوپر نہ رشک آتا ہے نہ میں تجھ پر حسد کرتا ہوں‘ اس لئے کہ اگر تجھے کسی باغ کا پھول نصیب ہے تو مجھے مدینہ کا کانٹا مل گیا ہے۔ اور مدینے کاایک کانٹا تیرے ہزار پھولوں سے بہتر ہے۔ کیونکہ وہ شہر محبوب کا کانٹا ہے۔

ہمیں گل سے بہتر ہے خار مدینہ

کہ سب جنتیں ہیں نثار مدینہ

حضرت احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ خامہ فرسائی کرتے ہیں

پھول کیا دیکھوں میری آنکھ میں

دشت طیبہ کے خار پھرتے ہیں

پھول کو دیکھوں ہی کیوں میری آنکھ کے تصور میں تو مدینہ طیبہ کے کانٹے سامنے ہیں۔ جس پر ہمہ قسم کے پھول قربان کئے جائیں۔ حقیقی عاشق مدینہ بھی وہی ہے جسے مدینہ پاک کی ہر شے جملہ نعمتوں سے محبوب و مرغوب تر ہو۔

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

آقادوجہاںﷺ کو اﷲ تعالیٰ عزوجل نے کمال کا حسن عطا فرمایا ہے کہ آپ کے حسن میں عیب تو کیا عیب کا گمان بھی نہیں ہوسکتا۔ دنیا کا وہ کون سا پھول ہے جس کے ساتھ کانٹا نہ ہو‘ مگر مدینہ کا پھول ہر قسم کے کانٹے سے محفوظ اور ہر طرح کا کانٹا آپ سے دور ہے اور ہر شمع کے ساتھ دھوئیں کا ہونا لازم ہے۔ لیکن آپ ایسی شمع رسالت ہیں کہ جہاں دھوئیں کا نام و نشاں تک نہیں۔

الغرض اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے مذکورہ بالا شعر میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے‘ کہ دنیا کی حسین و جمیل چیزوں میں کوئی نہ کوئی عیب ضرور نظر آتا ہے۔ چاند باوجود اپنے حسن و جمال کے ایک سیاہ دھبہ رکھتا ہے‘ پھول اپنے حسن و لطافت کے ساتھ کانٹا بھی رکھتا ہے‘ شمع اپنے نورو روشنی کے ساتھ ساتھ دھواں بھی رکھتی ہے‘ مگر اﷲ رے حسن و جمال مصطفیﷺ کہ یہی ایک حسن کامل ہے جس میں کسی عیب و نقص کی گمان تک نہیں۔

جب صبا آتی ہے طیبہ سے ادھر کھلکھلا پڑتی ہیں کلیاں یکسر

پھول جامہ سے نکل کر باہر رخ رنگین کی ثنا کرتے ہیں

جب مدینہ کی طرف سے خوشبودار ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل کر باغ کی طرف آتی ہے‘ تو غنچے وجد میں جھوم جاتے ہیں اور یکدم قہقہ مار کر خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ اور پھر ہمارے آقا کی شان میں بلبلیں نغمہ سرا ہوجاتی ہیں اور اپ کی عظمت پر حسد کرنے والوں سے کہتی ہیں۔ منکرو! آئو! ہمارے ہمنوابن جائو۔

انعام لیں بہار جناں تہنیت لکھیں

پھول پھلے تو نخل مرام ابو الحسین

جنت کی بہاریں مبارک باد لکھ کر انعام حاصل کریں اور ابو الحسین کے مقاصد کا درخت خوب پھلے پھولے کامیاب وکامران رہے۔

مشکبو کوچہ پہ کس پھول کا جھاڑا ان سے

حوریو عنبر سارا ہوئے سارا گیسو

حضور ساقی کوثرﷺ کے سارے گیسو خالص مشک و عنبر ہیں۔ اسی لئے جب کسی گلی کوچہ سے گزرتے ہیں تو وہ گلی کوچہ معنبر و معطر ہے‘ اسے کسی پھول کا جھاڑا نصیب ہوا ہے‘ حضور ساقی کوثرﷺ کے سوا اور کہاں سے اس کے نصیب چمکے‘ ہمارے نبی کریمﷺ کے سارے گیسو معطر و معنبر ہیں۔

اعلیٰ حضرت اس مضمون کو یوں بھی ادا کرتے ہیں

وہ کرم کی گھٹا گیسوئے مشک سا

سکہ ابرو رفت پہ لاکھوں سلام

اس عنوان پر اعلیٰ حضرت کی مزید فصاحت و بلاغت دیکھئے فرماتے ہیں

بھینی خوشبو سے مہک جاتی ہیں گلیاں واﷲ

کیسے پھولوں میں بسائے ہیں تمہارے گیسو

اے میرے اﷲ! تونے اپنے محبوب کی زلفوں کو کس باغ کے پھولوں سے بسایا‘ بنایا‘ سنوارا ہے۔ کہ جدھر جاتے ہیں تیری ذات کی قسم ہے کوچہ و بازار مہک جاتے ہیں۔ اور ایسے کہ دنیا کے پھول سے تو یہ خوشبو ملتی نہیں ہے۔ یقینا تونے جنت کے پھول سے ہی زلف محبوب کو سنوارا ہوگا۔ حضرت مولا مشکل کشا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے ساقی کوثرﷺ کو غسل دیا تو ایسی خوشبو پھوٹی کہ اس طرح کی خوشبو ہم نے نہ دیکھی‘ نہ سونگھی‘نہ سنی (کتاب الشفا)

گونج گونج اٹھے ہیں نغمات رضا سے بوستان

کیوں نہ ہو کس پھول کی مدحت میں وامنقا رہے

اے رضا! تونے ایسا محبوب چنا ہے کہ جس کے عشق میں تونے نغمہ سرائی کی تو دلوں کی بند کلیاں کھل اٹھیں۔ باغ عالم میں بہار آگئی اور زمین و آسمان میں تیری نعمتوں کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ کیوں نہ ہو‘ یہ پھول ہی ایسا ہے۔ جس کی تعریف میں بلبل چمنستان رسالت میں اپنی چونچ کھولی ہے‘ اور رطب اللسان ہوئی ہے

وہ  گل ہیں لب ہائے ناز اْن کہ ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے

گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھو گلشن گلاب میں ہے

حضور ساقی کوثرﷺ کے لبہائے مبارک بھی کیسی عجیب شان رکھتے ہیں‘ گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی زیادہ نرم و نازک اور جب آپ ان لبوں کو حرکت دیتے ہیں‘ تو قرآن و حدیث کے ہزاروں پھول ان سے برآمد ہوتے ہیں‘ باغ میں پھول تو اے بلبل! تونے بہت دیکھے ہوں گے لیکن ذرا ادھر بھی دیکھ! تجھے عجیب نظارہ دکھائی دے گا۔ کہ سارا گلشن ہی ہمارے پھول محمد مصطفیﷺ میں سمایا ہوا ہے۔

قارئین کرام! اس کلام کو بار بار پڑھیں اور سمجھیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ایسے مبارک اشعار ایسے شاعر کے ہی ہوسکتے ہیں جو ہروقت تصور مصطفیﷺ میں گم رہے اور عشق حبیبﷺ کے سمندر میں غوطہ زن رہے اور وہ ہمارے اعلیٰ حضرت ہیں‘ جو یقینا ایسے ہی ہیں کہ جن کی زندگی کا ہر لمحہ خیال مصطفیﷺ سے پرنور رہتا تھا اور جن کا دل ہروقت عشق مصطفیﷺ سے مسرور رہتا تھا۔ؒ

باغ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا

مست تو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا

طیبہ کے گلشن میں ایک ایسا پیارا اور نورانی پھول کھلا کہ جس کی قلب و روح کو معطر کردینے والی خوشبو سے مست وسرشار ہوکر بلبلوں نے نور کا ترانہ گانا شروع کردیا اور اسی دن سے لے کر آج تک گا رہی ہیں‘ اور قیامت تک گاتی رہیں گی۔ جن میں سے ایک بلبل چمنستان رسالت مآبﷺ اعلیٰ حضرت کی ذات ہے اور نور کا ترانہ قصیدہ نور ہے‘ جو پوری دنیا میں پوری عقیدت و محبت کے ساتھ جھوم جھوم کر پڑھا اور سنا جاتا ہے۔

صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دن ہو بھلے

لوا کے تلے ثنا میں کھلے رضا کی زباں تمہارے لئے

ایسی بادصبا چلے جو باغات میں پھل اور پھول کھلادے اور نہ صرف پھول کھلیں بلکہ ہمارے نصیب میں کھلیں‘ اور قیامت کے دن لواء الحمد(حمد کا جھنڈا) ہاتھ میں لے کر جب محبوب خدا نکلیں‘ تو اس وقت احمد رضا کو زبان سے کچھ کہنے کی اجازت ہوجائے تو میری زبان اے میرے آقاﷺ وہاں بھی آپ کی تعریف کا قصیدہ ہی پڑھے گی۔ غلامان مصطفیﷺ کی پہچان ہی عظمت مصطفیﷺ کا اظہار و بیان کرنا ہے۔ ان کو حمدخدا بھی کرنی ہو تو نعت مصطفیﷺ کا حوالہ دیئے بغیرکر ہی نہیں سکتے اور وہ اس لئے کہ خدا عزوجل اور مصطفیﷺ کا آپس میں اتنا گہرا تعلق ہے کہ جیسے دو کمانوں کو ملائے بغیر دائرہ نہیں بن سکتا۔ اسی طرح خدا عزوجل اور مصطفیﷺ کو مانے بغیر بندہ ایماندار نہیں ہوسکتا۔ دونوں کومانے تب مومن اور صرف ایک کا بھی انکار کردے تو کافر۔

دوسری بات یہ ہے کہ خدا اور محبوب خدا میں چپقلش یا ضد اور مقابلہ بازی نہیں ہے کہ خدا کی تعریف کریں تو رسالت خطرے میں پڑجائے اور رسول علیہ السلام کی تعریف کریں تو توحید کو خطرہ لاحق ہوجائے اور خدا ناراض ہوجائے (نعوذ باﷲ) بلکہ ان کا آپس میں اتنا پیار ہے کہ ایک کی تعریف کی جائے تو دوسرا خوش ہوتا ہے۔ اس لئے اہل اﷲ مکہ شریف میں جاکر درود و سلام اتنا زیادہ پڑھتے ہیں کہ طواف و سعی کی جگہ بھی درودشریف پڑھتے رہتے ہیں اور مدینہ شریف میں جاکر ذکر الٰہی کی کثرت کرتے ہیں تاکہ اﷲ عزوجل کے گھر حضورﷺ کا ذکر کریں گے تاکہ مصطفی کریمﷺ کو ہم پہ پیار آجائے گا۔ کہ میرے امتی میرے پیارے اﷲ عزوجل کو یاد کررہے ہیں۔

کون جان بسکے مہک رہی کسی دل میں اس سے کھٹک رہی

نہیں اس کے جلوے میں یک رہی کہیں پھول ہے کہیں خار ہے

میرے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

کوئی وہ خوش نصیب ہے جس نے ساقی کوثرﷺ کے عشق و محبت کو اپنی جان میں بسایا ہوا ہے۔ اور ہمیں جو ایمان‘ دین‘ اسلام اور صراط مستقیم ملا ہے وہ آپﷺ کی عظیم قربانیوں کا صدقہ ملا ہے۔ اس دین کی خاطر آپ نے کس قدر ظلم و ستم برداشت فرمائے اور طائف کے بازاروں میں لہولہان ہوئے‘ اسی وجہ سے ہماری گردن آپ کے احسانات کے سامنے جھکی رہنی چاہئے۔

حضورﷺ کی یاد اہل ایمان اور آپ کے وفاداروں کے دلوں میں جان بن کر مہک رہی ہے۔ اور ایک وہ بدبخت ہیں کہ جن کے لئے آقاﷺ کی یاد سوہان روح بنی ہوئی ہے اور وہ ذکر مصطفیﷺ کو دن رات ختم کرنے کی فکر میں ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ آپﷺ کے جلوے ایک کام نہیں کرتے‘ بلکہ دو کام کرتے ہیں جو ماننے والے ہیں اور حضورﷺ کی اس کائنات میں جلوہ گری کو اﷲ تعالیٰ عزوجل کا بہت بڑا احسان سمجھتے ہوئے یہ عقیدہ رکھیں۔

تثلیث و آذری کو مٹانے کے واسطے

دنیا میں ایک خدا کا پرستار آگیا

جو وفادار بن کر دامن کرم میں آگیا وہ پھول بن کر جنت میں پہنچ گیا۔ اور جو غدار بن کر گستاخ ہوگیا‘ وہ کانٹا بن کر دوزخ کا ایندھن ہوگیا۔

(بشکریہ ماہنامہ اہلسنت گجرات دسمبر ۲۰۰۷)