بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَهُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ۖ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوۡتُوۡا ثُمَّ اَحۡيَاھُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡکُرُوۡنَ

کیا آپ نے ان لوگوں نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکلے ‘ سو اللہ نے ان سے فرمایا : مرجاؤ ‘ پھر اللہ نے ان کو زندہ کردیا ‘ بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے ‘ لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

طاعون سے ڈر کر بھاگنے والوں کا مرنا اور دوبارہ زندہ ہونا :

یہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ طلاق بہ منزلہ موت ہے اور طلاق سے رجوع کرنا بہ منزلہ حیات ہے ‘ اور یہ موت اور حیات مجازا ہے اور جہاد کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جان دینا بہ ظاہر موت ہے اور حقیقۃ شہادت کی صورت میں حیات ہے ‘ سو اس سے پہلی آیت میں دنیاوی اور معاشرتی زندگی کے اعتبار سے موت اور حیات کا ذکر کیا گیا تھا اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ دینی اور اخروی اعتبار سے موت اور حیات کا ذکر فرما رہا ہے ‘ اور چونکہ قریب ترین امت اسرائیل تھی ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد کے معاملہ میں بنو اسرائیل کے احوال بیان فرمائے ‘ یہ لوگ طاعون کی صورت میں موت کے ڈر سے بھاگے ‘ اللہ نے ان پر موت طاری کی اور پھر ان کو زندہ کیا۔ اس میں بھی موت اور حیات کا ذکر ہے ‘ پھر ان کو جہاد کا حکم دیا ‘ اس میں بھی موت اور حیات کا ذکر ہے۔

حافظ جلال الدین سیوطی بیان فرماتے ہیں : امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام حاکم نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ان لوگوں کی تعداد چار ہزار تھی اور یہ داوردان نام کے ایک شہر کے رہنے والے تھے یہ لوگ طاعون کے ڈر سے اس شہر سے بھاگ نکلے۔ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام ابن ابی حاتم نے سدی کی سند سے حضرت ابومالک سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ داوردان نام کی ایک بستی جو واسط کے قریب تھی اس میں طاعون پھیل گیا۔ لوگوں کی ایک جماعت تو اس میں ٹھہری رہی اور ایک جماعت بھاگ نکلی ‘ جو لوگ ٹھہرے رہے تھے ان میں مرگئے اور بھاگنے والے بچ گئے ‘ جب طاعون ختم ہوگیا تو وہ لوگ واپس آگئے ‘ اس شہر کے زندہ بچنے والے لوگوں نے کہا : ہمارے بھائی ہم سے زیادہ سمجھ دار نکلے ‘ کاش ‘ ہم سب ان کی طرح نکل جاتے اور سب بچ جاتے ‘ اور اگر ہم اگلے طاعون تک زندہ رہے تو ایسا ہی کریں گے۔ اگلے سال پھر طاعون آیا ‘ اس بار سب نکل بھاگے ‘ جو پہلے رہ گئے تھے وہ بھی اور جو نکل گئے تھے وہ بھی ‘ ان لوگوں کی تعداد تیس ہزار سے زائد تھی ‘ وہ لوگ دو پہاڑوں کے درمیان ایک وادی میں قیام پذیر ہوئے اللہ تعالیٰ نے انکے پاس دو فرشتے بھیجے ‘ ایک فرشتہ وادی میں قیام پذیر ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس دو فرشتے بھیجے ‘ ایک فرشتہ وادی کے اوپر تھا اور دوسرا وادی کے نیچے تھا ‘ ان دونوں فرشتوں نے ان کو ندا کرکے کہا : مرجاؤ ‘ تو وہ سب مرگئے پھر جب تک اللہ نے چاہا وہ اسی طرح مردہ پڑے رہے ‘ پھر وہاں سے حضرت حزقیل نبی (علیہ السلام) کا گزر ہوا ‘ انہوں نے اتنی ساری ہڈیوں کو دیکھا تو بہت حیران ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کہ آپ یہ ندا کریں کہ اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تمہیں مجتمع ہونے کا حکم دیتا ہے تو وادی کے اوپر اور نیچے سے تمام ہڈیاں مجتمع ہوگئیں اور ہر جسم کی ہڈیاں آپس میں جڑ گئیں اور بغیر خون اور گوشت کے ہڈیوں کے اجسام بن گئے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ یہ کہیں کہ اے ہڈیو ! اللہ تمہیں گوشت سے ملبوس ہونے کا حکم دیتا ہے تو تمام ہڈیوں پر گوشت آگیا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ آپ ان کو ندا کرکے یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے تو وہ سب زندہ ہو کر اٹھ گئے اور بےاختیار انکی زبانوں پر جاری ہوا ‘ ” سبحانک لا الہ الا انت “ اور پھر وہ اپنے شہروں کی طرف واپس گئے ‘ وہ وہاں رہنے لگے مگر وہ جب بھی کوئی لباس پہنتے تو وہ ان کے جسم پر ایک بوسیدہ کفن کی صورت اختیار کرلیتا جس سے اس زمانہ کے لوگوں نے پہچان لیا کہ یہ لوگ درحقیقت مرچکے ہیں ‘ وہ لوگ اپنی طبعی حیات پوری ہونے تک وہاں رہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣١٠ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

وقت سے پہلے موت آنے اور تیسری موت کے اشکال کا جواب :

اس روایت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اللہ نے تو فرمایا ہے :

(آیت) ” لکل امۃ اجل اذا جآء اجلہم فلا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “۔ (یونس : ٤٩)

ترجمہ : ہر گروہ کے لیے ایک وقت مقرر ہے ‘ جب ان کا وقت آئے جائے گا تو وہ اس سے ایک ساعت پیچھے ہٹیں گے نہ آگے بڑھیں گے۔۔

پھر طاعون سے بھاگنے والے ان لوگوں کو وقت سے پہلے موت کیسے آگئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ موت وہ نہیں تھی جو طبعی حیات مکمل ہونے کے بعد طاری ہوتی ہے وہ موت اپنا وقت پورا ہونے کے بعد ان پر طاری ہوئی ‘ یہ موت طاعون سے بھاگنے کی سزا کے طور پر تھی اور اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت حزقیل (علیہ السلام) کی وجاہت کو ظاہر فرمایا کہ ان کی دعا سے مردوں کو زندہ کردیا ‘ اسی طرح یہ اشکال ہے کہ قرآن مجید میں ہے کہ قیامت کے دن کفار کہیں گے :

(آیت) ” ربنا امتنا اثنتین واحییتتنااثنتین “۔ (المومن : ١١)

ترجمہ : اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دوبارہ موت دی اور دوبارہ زندہ فرمایا :

ان آیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان کے لیے دو موتیں اور دو زندگیاں ہیں ‘ ایک موت نطفہ کی صورت میں اور اس کے بعد ولادت کی صورت میں حیات ‘ دوسرموت طبعی حیات پوری ہونے کے بعد اور دوسری حیات قیامت کے دن جب مردوں کو اٹھایا جائے گا ‘ اور ان لوگوں کے لیے تین موتیں اور تین حیاتیں ہوگئیں اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے عادۃ اور معمول کے مطابق دو موتیں اور زندگیاں ہیں اور ان پر جو تیسری حیات آئی وہ خلاف عادت اور خلاف معمول تھی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا۔ (البقرہ : ٢٤٣)

” الم تر “ (کیا آپ نے نہیں دیکھا) کی تحقیق “۔

رویت کے معنی دیکھنا ہے اور یہ لفظ رویت قلبی یعنی علم کے معنی میں بھی آتا ہے ‘ اس لیے کا آپ نے نہیں دیکھا ‘ اس کا معنی ہے : کیا آپ نے نہیں جانا، ؟ یہ جملہ ان چیزوں کے لیے کہا جاتا ہے جو پہلے مذکور ہوں اور جن کا پہلے علم ہو اور ان کا استعمال ان چیزوں کو یاد دلانے ‘ ان کو مقرر اور ثابت کرنے اور ان پر تعجب میں ڈالنے کے لیے ہوتا ہے اور کہیں اس کے بغیر بھی اس جملہ کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس وقت یہ کسی چیز کی خبر دینے اور اس خبر پر تعجب میں ڈالنے کیلیے ہوتا ہے اور کبھی اس کو مجازا استعمال کرتے ہیں اور جس نے کسی چیز کو نہیں دیکھا ہوا ہوتا اس کو اس شخص کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں جس نے اس چیز کو دیکھا ہوا ہوتا ہے تاکہ مخاطبن اس پر متنبہ ہو کہ یہ چیز اس پر مخفی نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس کو اس پر تعجب ہونا چاہیے تھا یا یہ بتلانا ہے کہ اس کے بعد جو واقعہ ذکر کیا جارہا ہے اس پر غور وفکر کیا جائے اور اس سے عبرت حاصل کی جائے اور اس واقعہ میں لائق غور یہ چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں لوگوں پر موت طاری کرنے کے بعد ان کو زندہ کردیا اور جو اس دنیا میں موت کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن بھی مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے اور عبرت کا تعلق اس چیز سے ہے کہ طاعون سے ڈر کر شہر چھوڑ کر بھاگنا اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب ہے ‘ سو طاعون سے گھبرا کر شہر نہیں چھوڑنا چاہیے ‘ اس میں تقدیر پر ایمان رکھنے کے علاوہ حکمت ہے کہ طاعون زدہ علاقہ کے لوگ جب دوسرے علاقوں میں جائیں گے تو طاعون کے جراثیم اپنے ساتھ لے جائیں گے اور دوسرے علاقوں میں بھی طاعون پھیل جائے گا ‘ طاعون زدہ علاقہ میں جانا بھی نہیں چاہیے ‘ شام کے علاقہ عمواس میں طاعون پھیلا ہوا تھا ‘ حضرت عمر وہاں نہیں گئے اور فرمایا : ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کسی علاقہ میں طاعون کے متعلق سنو تو وہاں مت داخل ہو اور اگر تم کسی علاقہ میں ہو اور وہاں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٥٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

طاعون کی مفصل بحث ہم البقرہ : ٥٩ میں کرچکے ہیں اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقدیر پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور موت سے نہیں بھاگنا چاہیے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 243