حدیث نمبر :138

روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایجاد کرے ہمارے دین میں وہ طریقہ جو اس دین سے نہیں وہ مردود ہے ۱؎

شرح

۱؎ یعنی وہ ایجاد کرنے والا مردود ہے یا اس کی یہ ایجاد مردود ہے۔خیال رہے کہ اَمر سے مراد دین اسلام ہے اور مَا سے مراد عقائد،یعنی جو شخص اسلام میں خلافِ اسلام عقیدے ایجاد کرے وہ شخص بھی مردود اور وہ عقائد بھی باطل۔لہذا روافض،قادیانی،وہابی وغیرہ بہتر۷۲ فرقے جن کے عقائد خلافِ اسلام ہیں باطل ہیں۔یا اَمر سے مراد دین ہے اور مَا سے مراد اعمال ہیں اور لَیسَ مِنہُ سے مراد قرآن و حدیث کے مخالف،یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جودین،یعنی کتاب و سنت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود ایسے عمل بھی باطل جیسے اردو میں خطبہ و نماز پڑھنا،فارسی میں اذان دینا وغیرہ۔اس کی تفسیر وہ حدیث ہے جو آگےآرہی ہے کہ جو کوئی بدعت ایجاد کرے تو اللہ سنت کو اٹھالیتا ہے۔ہماری اس تفسیر کی بنا پر یہ حدیث اپنے عموم پر ہے اس میں کوئی قید لگانے کی ضرورت نہیں۔مرقاۃ نے فرمایا لَیسَ مِنہُ سے معلوم ہوا کہ دین میں ایسے کام کی ایجاد جو کتاب و سنّت کے خلاف نہ ہو بُری نہیں۔