باب الاعتصام بالكتاب والسنۃ

قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنے کا باب ۱؎

الفصل الاوّل

پہلی فصل

۱؎ اعتصام عَصْمٌ سے بنا معنے منع اور روک۔پاک دامنی کو اسی لیئے عصمت کہتے ہیں کہ وہ گناہوں سے روک دیتی ہے۔اس کے لغوی معنے ہیں مضبوط پکڑنا چھوٹنے اور بھاگنے سے روک لینا۔اصطلاح شریعت میں حقانیت پر اعتقاد اور اس پر ہمیشہ عمل کرنے کو اعتصام کہا جاتا ہے۔کتاب سے مراد قرآن شریف ہے اور سنت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے فرمان اور وہ افعال اور احوال ہیں جو مسلمانوں کے لیئے قابل عمل ہیں،حضور کے یہ افعال شریعت کہلاتے ہیں اور احوال شریف طریقت۔صوفیاء کے نزدیک حضور کے جسم شریف کے حالات شریعت ہیں،قلب کے حالات طریقت،روح کے احوال حقیقت،اور سر کے حالات معرفت،سنت ان سب کو شامل ہے۔خیال رہے کہ حضور کی خصوصیات سنت نہیں لہذا نو بیویاں نکاح میں رکھنا،اونٹ پر طواف کرنا،منبر پر نماز پڑھانا وغیرہ اگرچہ حضور کے افعال کریمہ ہیں،لیکن ہمارے واسطے ناقابل عمل۔ہر سنت حدیث ہے ہر حدیث سنت نہیں،اسی لیئے مصنف رحمۃ اﷲ علیہ نے یہاں سنت فرمایا حدیث نہ فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی”یہ نہ فرمایا بِحَدِیْثِی،نیز ہمارا نام بحمدہٖ تعالٰی اہل سنت یعنی ساری سنتوں پر عامل اہل حدیث نہیں،کیونکہ ساری حدیثوں پر کوئی عمل نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی اہلِ حدیث ہوسکتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ شریعت کے دلائل چار ہیں قرآن،سنت،اجماعِ امت اور قیاسِ مجتہد،لیکن کتاب و سنت اصل اصول ہیں اور اجماع و قیاس ان کے بعد کہ اگر کوئی مسئلہ ان دونوں میں نہ مل سکے تو ادھر رجوع کرو،نیز قیاس قرآن و سنت کا مظہر ہے۔اس لیئے مصنف نے صرف کتاب و سنت کا ذکر کیا ان دونوں کا ذکر نہیں کیا ورنہ وہ دونوں بھی اشد ضروری ہیں۔خلافت صدیقی اور فاروقی اجماع امت سے ہی ثابت ہے اور ان کا انکار کفر۔باجرہ اور چاولوں میں سود حرام ہے مگر کتاب و سنت میں اس کا ذکر نہیں،قیاس سے حرمت ثابت ہے اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ اول و دوم۲ میں دیکھو۔کتاب و سنت سمندر ہےکسی امام کے جہاز میں بیٹھ کر اس کو طے کرو۔کتاب و سنت طب ایمانی کی دوائیں ہیں کسی طبیب روحانی یعنی امام مجتہد کے مشورے سے انہیں استعمال کرو۔