بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ

وہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے ؟ تو اللہ اس کو بڑھا کر اس کے لیے کئی گنا کردے ‘ اور اللہ ہی تنگی اور کشادگی فرماتا ہے اور اسی کی طرف تم (سب) لوٹائے جاؤ گے

اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دینے کا بیان :

کائنات کی ہر چیز اللہ کی ملک ہے اس لیے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے کو مجازا قرض فرمایا ہے یا اللہ کے بندوں کو قرض دینا گویا اللہ کو قرض دینا ہے اور اس میں مناسبت یہ ہے کہ جس طرح مقروض ‘ قرض خواہ کو قرض واپس کردیتا ہے اسی طرح تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے گا۔

اس سے پہلی آیت میں جہاد کا حکم دیا تھا اور جہاد مال کے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ جہاد کے لیے سواریاں ‘ آلات حرب اور خوراک اور رسد کو مال کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا اس لیے اس آیت میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے مال خرچ کرنا ے کو اللہ کو قرض دینے کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے اور اس میں بتایا ہے کہ یہ مال ضائع نہیں ہوگا بلکہ آخرت میں کئی گنااجر وثواب کے ساتھ مل جائے گا ‘ دنیا میں لوگ زیادہ سے زیادہ دگنے چوگنے سود پر قرض دے دیتے ہیں ‘ اللہ تمہیں اس مال کا اجر دس ‘ ستر گنا ‘ سات سوگنا ‘ چودہ سو گنا اور اس سے سے بھی زائد عطا فرمائے گا دوسری وجہ یہ ہے کہ آدمی کسی محبت اور تعلق کی وجہ سے قرض دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ اور کون محبت کا مستحق ہے ‘ سو اگر تم محبت کی بناء پر مال خرچ کرتے ہو تو اللہ سے اور اللہ کے دین کی سربلندی سے زیادہ اور کوئی محبت کا محل نہیں ہے اور اگر فائدہ اور بڑھوتری کے لیے مال خرچ کرتے ہو تو اس سے زیادہ اور کوئی فائدہ کی صورت نہیں ہے ‘ اور اس قرض کو قرض حسن فرمایا یعنی یہ قرض اخلاص نیت اور پاکیزہ مال کے ساتھ دیا جائے لوگ جو آپس میں قرض کا لین دین کرتے ہیں وہ برابر برابر ہونا چاہیے ‘ اگر قرض دینے نیت اور پاکیزہ مال کے ساتھ دیا جائے ‘ لوگ جو آپس میں قرض کا لین دین کرتے ہیں وہ برابر برابر ہونا چاہیے ‘ اگر قرض دینے والا یہ شرط لگائے کہ وہ اصل رقم سے ایک معین رقم زائد لے گا تو یہ سود ہے اور اگر مقروض بغیر کسی پیشگی شرط کے قرض خواہ کو اصل رقم سے کچھ زائد ادا کر دے تو یہ قرض حسن ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عموما جب کسی سے قرض لیتے تو اس کو اصل سے زائد ادا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا : لوگوں میں اچھا شخص وہ ہے جو قرض کو اچھی طرح ادا کرے اللہ تعالیٰ آخرت میں اس قرض کا اجر کئی گنا زائدبڑھا چڑھا کر عطا فرمائے گا ‘ نیز فرمایا اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے یہ اس لیے فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے تم تنگی مبتلا ہوجاؤ گے ‘ کیونکہ اس سے تنگی نہیں ہوتی ‘ تنگی اور کشادگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ وقدرت میں ہے۔

قبض اور بسط کا معنی :

اللہ تعالیٰ اپنی جبروتیت سے موحدین کی ارواح کو نورازلی میں قبض کرلیتا ہے اور عارفین کے اسرار کو مشاہدہ ذات میں بسط کردیتا ہے ایک قول یہ ہے کہ قبض اللہ کا سر ہے اور بسط اس کا کشف ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ مریدین کے لیے قبض ہے اور مرادین کے لیے بسط ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ مشتاقین کے لیے قبض ہے اور عارفین کے لیے بسط ہے اور مشہور یہ ہے کہ قبض اور بسط بندہ کی ترقی کی دو حالتیں ہیں ‘ جب عارف پر خوف کا غلبہ ہو تو یہ قبض کی حالت ہے اور جب اس پر رجاء کا غلبہ ہو تو یہ بسط کی حالت ہے اور جب اس کی قلب پر واردات غیبیہ ہوں تو آثار جلال کو قبض اور آثار جمال کو بسط کہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دینے کے متعلق احادیث :

حافظ جلال الدین سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام سعید بن منصور ‘ امام ابن سعد ‘ امام بزار ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر ‘ امام حکیم ترمذی ‘ امام طبرانی اور امام بیہقی ‘ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : وہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے ؟ تو اللہ اس کو بڑھا کر اس کے لیے کئی گنا کر دے ‘ تو حضرت ابوالدحداح انصاری کہا : یارسول اللہ ! کیا واقعی اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے ؟ بڑھا کر اس کے لیے کئی گنا کردے ‘ تو حضرت ابوالدحداح ! انہوں نے کہا : یارسول ! اپنا ہاتھ بڑھائیں۔ ‘ آپ نے ہاتھ بڑھائیں ‘ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ‘ انہوں نے کہا : میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا اور ان کے باغ میں چھ سو کھجور کے درخت تھے ‘ ام الدحداح اور ان کے بچے اس باغ میں تھے ‘ ابوالداح وہاں گئے اور ام الدحداح کو آواز دے کر کہا : اے ام الدحداح ! یہاں سے نکلو ‘ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔

امام ابو الشیخ اور امام بیہقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر ایک فرشتہ یہ کہتا رہتا ہے کہ وہ کون ہے جو آج اللہ کو قرض حسن دے اور کل اس کی جزا لے لے اور ایک اور دروازہ پر فرشتہ یہ کہتا ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی طرف بڑھو ‘ وہ قلیل مال جو کافی ہو وہ اس زیادہ مال سے بہتر ہے جو غافل کرنے والا ہو ‘ اور ایک اور دروازہ پر فرشتہ یہ کہتا ہے کہ اے بنو آدم ! موت کے لیے جھگڑے پالو اور ویران ہونے کے لیے مکان بناؤ۔

امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حسن سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل فرماتا ہے : اے ابن آدم ! اپنے خزانے کو میرے پاس امانت رکھو ‘ نہ جلے رکھو ‘ نہ جلے گا ‘ نہ ڈوبے گا ‘ نہ چوری ہوگا اور تمہاری ضرورت کے وقت میں تم کودے دوں گا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣١٣۔ ٣١٢‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 245