بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ

اور (اے مسلمانو ! ) تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو ‘ اور یقین رکھو کہ اللہ بہت سننے والا بہت جاننے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مسلمانو ! ) تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ (البقرہ : ٢٤٤)

جہاد کی تحریک :

اس سے پہلی آیت میں طاعون سے بھاگنے والوں کا جو قصہ بیان کیا گیا وہ مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے تھا کیونکہ موت سے کسی کو مفر نہیں تو کیوں نہ موت کو شہادت کی صورت میں گلے لگایا جائے۔ پہلے فرمایا تھا : ان لوگوں کے واقعہ میں غور وفکر کرو اور اب فرمایا ہے : اللہ کی راہ میں جہاد کرو ‘ اس سورت میں دین اسلام کے بنیادی احکام بیان کیے گئے ہی اور نماز ‘ روزہ ‘ حج اور جہاد کا بار بار عجیب و غریب پیرایوں سے ذکر کیا گیا ہے ‘ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ مسلمانوں کو معاشرتی مصروفیات اور کاروبار حیات میں مشغولیت کی وجہ سے جہاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ (البقرہ : ٢٤٥)