شوہر حقوق کے آئینے میں

بنت فضل بیگ مہر

بیویوں کے خاوندوں پر کئی حقوق ہیں۔ بیویوں کے حقوق کے بارے میں سورۃ النساء آیت نمبر ۱۹ میں اﷲ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

ترجمہ کنزالایمان: اور ان سے اچھا برتائو کرو‘ پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اﷲ اس میں بہت بھلائی رکھے۔

سورۃ البقرہ آیت نمبر ۲۲۸ میں ارشاد فرمایا۔

ترجمہ کنزالایمان: عورتوں کا بھی حق (مردوں پر) ایسا ہی ہے جیسا ان پر (مردوں کا حق) ہے شرع کے موافق اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے۔

سورۃ الروم آیت نمبر ۲۱ میں ارشاد فرمایا۔

ترجمہ کنزالایمان: اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پائو اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی‘ بے شک اس میں نشانیاں ہیں‘ دھیان کرنے والوں کے لئے۔

اس آیت کے تحت مفتی محمد خلیل خان قادری فرماتے ہیں۔ آیت کریمہ میں تین باتیں بیان فرمائی گئیں جو خانگی نظام‘ زندگی کے لئے سنگ بنیاد اور بطور اصل کے بیان ہوئی ہیں اور جس کا لحاظ شوہر و بیوی دونوں کو یکساں رکھنا ضروری ہے۔

اول: مردوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہاری بیویاں تمہاری ہی ہم جنس مخلوق ہیں۔ تمہاری جیسی خواہشات‘ جذبات اور احساسات ان میں بھی موجود ہیں۔ بے روح مخلوق اور بے حس جسم نہیں۔

دوم: ان کی پیدائش کا منشاء یہ بھی ہے کہ وہ تمہارے لئے سرمایہ راحت و تسکین ہیں۔ تمہارے لئے سکون قلب کا باعث ہیں۔ تمہارے درد کا درماں اور تمہارے غم کا مداواہیں۔ تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں تاکہ تمہارا دل ان سے لگے‘ تمہارا جی ان سے بہلے۔

سوم: تمہارے اور ان کے تعلقات کی بنیاد ہی باہمی محبت‘ اخلاص اور ہمدردی پر ہونی چاہئے (سنی بہشتی زیور‘ حصہ دوم ص ۲۰۷)

مذکورہ آیت مبارکہ سے یہ بات بھی ظاہر ہورہی ہے کہ میاں بیوی کی گھریلو زندگی پرسکون اور خوشگوار ہونی چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر عورت کی تخلیق کا مقصد پورا نہیں ہوتا کیونکہ اسے تو رب تعالیٰ نے سکون و آرام کا باعث قرار دیا ہے۔

ممکن ہے کہ اس لڑائی جھگڑے والی صورتحال پیدا کرنے میں عورت کی بجائے مرد یا پھر دونوں ہی قصوروار ہوں۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو بھی سمجھیں اور اپنے فرائض کو بھی اور پھر ہر ایک اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔

اب وہ احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں جن میں شوہر  و بیوی کے حقوق بیان فرمائے گئے ہیں۔

حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ میں تمہیں عورتوں کے ساتھ اچھے برتائو کی وصیت کرتا ہوں۔ تم میری اس وصیت کو قبول کرو۔ بے شک وہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کروگے تو توڑ دوگے اور اگر اس کو چھوڑ دو تو یہ ٹیڑھا ہی رہے گا۔

دوسری روایت میں ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی وہ تمہارے لئے سیدھی نہیں ہوسکتی۔ اگر تم اس سے نفع لینا چاہو تو اسی حالت میں نفع حاصل کرو اور اگر تم سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دوگے اور اس کاتوڑنا اسے طلاق دینا ہے (بخاری و مسلم)

آقائے دوجہاںﷺ نے فرمایا۔ عورتوں کے معاملے میں تم اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیونکہ تم نے ان کو اﷲ تعالیٰ کی امان کے ساتھ لیا ہے۔ (مشکوٰۃ)

حضورﷺ نے فرمایا تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہو (ترمذی)

نور مجسمﷺ کا ارشاد ہے‘ جب تم کھائو اسے بھی کھلائو‘ جب تم پہنو اسے بھی پہنائو‘ اس کے منہ پر نہ مارو‘ اسے گالی نہ دو اور اسے گھر سے نہ نکالو (ابودائود‘ ابن ماجہ)

پیارے آقاﷺ نے فرمایا‘ کوئی مومن اپنی ایمان والی بیوی کو برا نہ جانے‘ اگر اس کی کوئی عادت ناپسند ہوتو کوئی دوسری عادت پسند بھی ہوگی (مسلم)

حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے‘ کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں‘ اور تم میں بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کریں (ترمذی)

ان احادیث کریمہ کی روشنی میں فقہاء کرام نے شوہر پر بیوی کے مندرجہ ذیل شرعی حقوق بیان کئے ہیں۔

(۱) مرد جیسا خود کھائے ویسا ہی بیوی کو کھلائے۔

(۲) جیسا خود پہنے ویسا لباس اسے پہنائے نیز اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کے دیگر جائز ضروریات پر خرچ کرے یا اسے خرچہ دے۔

(۳) حسب استطاعت‘ بیوی کے لئے رہائش کا مناسب انتظام کرے۔

ان فرائض کے علاوہ بیوی سے حسن اخلاق سے پیش آنا‘ اس کی مناسب عرصہ بعد اس کے والدین سے ملاقات کرانا‘ اس کی دینی تربیت کرنا وغیرہ یہ سب شوہر کی اخلاقی ذمہ داریاں ہیں جوکہ بیوی کے حقوق میں سے ہیں۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں سے سب سے پہلی حدیث شریف کے تحت شارحین فرماتے ہیں کہ عورت کی فطرت میں عقل و فہم کے اعتبار سے کمزوری اور اپنی بات منوانے کی ضد شامل ہے اور یہی اس کا ٹیڑھا پن ہے۔ لہذا عورت میں اگر ایسی خامیاں ہوں جو خلاف شرع نہ ہوں تو ان خامیوں اور غلطیوں کو برداشت کیا جائے اور نرمی و محبت سے اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اگر ہر بات پر اسے ملامت کی جائے گی اور اس کی غلطیوں پر سخت رویہ اختیار کیا جائے گا تو پھر معاملہ بگڑ سکتا ہے۔

حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ‘ جو اپنی بیوی کی بداخلاقی پر صبر کرے۔ اﷲ تعالیٰ اسے حضرت ایوب علیہ السلام کے امتحان پر صبر کرنے سے زیادہ اجر دے گا اور جس عورت نے اپنے خاوند کی بداخلاقی پر صبر کیا۔ اﷲ تعالیٰ اسے فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کے برابر ثواب عطا کرے گا (مکاشفتہ القلوب)

مفتی خلیل خان قادری رحمتہ اﷲ علیہ ’’سنی بہشتی زیور‘’ حصہ دوم میں لکھتے ہیں کہ اسلامی خاندان میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا بہی خواہ‘ ایک دوسرے کا ہمدرد اور ایک دوسرے کا پردہ پوش رہنا چاہئے اور باہمی رواداری سے کام لینا چاہئے۔ دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ وہ اس کے لئے اوڑھنا بچھونا ہے۔ یہ اس کے لئے اوڑھنا بچھونا‘ جس طرح لباس جسم کے عیبوں کو چھپاتا ہے اور اس کے حسن و خوبی کو ابھارتا ہے‘ اسی طرح شوہر اور بیوی کا اخلاقی کمال یہ ہے کہ ایک دسورے کی کمزوری کو چھپائیں‘ اس پر صبر کریں اور ایک دوسرے کی خوبیوں کو نگاہ میں رکھیں اور بہتر سے بہتر صورت میں اپنے باہمی تعلقات کو ظاہر کریں۔

حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا‘ تم میں سے بہترین وہ آدمی ہے کہ جواپنی عورتوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں اپنی بیویوں کے ساتھ تم سب سے بہتر سلوک کرنے والا ہوں۔

حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اﷲﷺ عورتوں اور بچوں پر سب لوگوں سے زیادہ رحم دل تھے۔ جناب رسول اﷲﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ بے تکلفی برتتے اور اعمال و اخلاق میں ان کے ساتھ فراخدلی بھی فرماتے اور مذاق بھی کرتے۔ ایک بار آپﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ دوڑ لگائی‘ وہ آگے بڑھ گئیں۔ پھر (کچھ مدت کے بعد) دوبارہ دوڑ لگائی تو حضور اقدسﷺ آگے بڑھ گئے۔ آپﷺ نے فرمایا یہ اس کا بدلہ ہوگیا۔ آپﷺ اپنی ازواج مطہرات کا دل خوش کرنے کے لئے ایسا فرمالیتے۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ باوجود شدت کے فرماتے:

انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے گھر میں بچے کی طرح ہو جب تم اس سے (بہادری) کی بات تلاش کرو‘ تو پھر وہ مرد ہو۔

حکیم لقمان فرماتے ہیں: عقلمند کو چاہئے کہ گھر میں بچے کی طرح ہو‘ (یعنی نرم مزاج ہو) اور جب قوم میں کوئی کام ہو‘ تو وہ مرد ہو۔

مکاشفتہ القلوب میں ہے کہ ایک بدوی عورت کا خاوند فوت ہوچکا تھا‘ اس نے اس کی تعریف کی اور کہا ’’جب وہ گھر آتا‘ تو ہنستا ہوا آتا‘ باہر جاتا تو خاموش جاتا جو ملتا کھالیتا اور کچھ گم ہوجاتا‘ تو زیادہ پوچھ گچھ نہ کرتا‘‘

عورتوں کے ساتھ خوش خلقی اور نرمی سے پیش آنا چاہئے۔ اگر ان سے کوئی ناسمجھی کی بات پیش آجائے تو نظر انداز کردینا چاہئے۔ اﷲ عزوجل نے حکم دیا ہے کہ عورتوں کے حقوق کی تعظیم کرو اور اپنی رفیق زندگی کے ساتھ نیکی کرو۔ ان کو بہتر سے بہتر تعلیم دو تاکہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اچھی طرح سے کرسکیں کیونکہ اگر عورت خود ہی مودب نہیں ہوگی اس کو اچھی تعلیم و معاشرت حاصل نہ ہوگی تو اپنے بچوں کو کیا ادب سکھائے گی۔ عورت سے کوئی خطا ہوجائے تو اس کو برداشت کرے‘ نہ صرف یہ کہ برداشت کرے بلکہ اسے معاف کرکے ان سے ہنسی مذاق کرتا رہے تاکہ اسے احساس افسردگی نہ ہو۔ عورت پر عام طور پر بدگمانی نہ کرے۔ مرد کو یہ مناسب نہیں کہ خود عمدہ کھانے کھائے اور اہل و عیال کو خراب کھانے کھلائے جب کھانا کھانے بیٹھے تو بیوی بچوں کو ساتھ بٹھالے۔

اﷲ تبارک و تعالیٰ نے بیوی کو شوہر کے لئے باعث تسکین ہونا بیان فرمایا۔ نیز ان کے درمیان محبت و رحمت کے ایسے گرانقدر جذبات پیدا فرمائے کہ دونوں ایک دوسرے کا پردن بن گئے جو ہر عیب کو چھپالیتا ہے اور زیب و زینت کا باعث بھی ہے۔ جب اخلاص و محبت سے تعلق قائم ہوجائے تو پھر علیحدگی تو درکنار اس کا تصور ہی اذیت و پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔

’’زندگی کا سفر پرسکون انداز میں طے کرنے کے لئے میاں بیوی کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق نہایت خوش اسلوبی سے ادا کرتے رہیں‘‘