عورت کوزندہ دفن کرنے والوں کا قیامت کے دن انجام

پروفیسر مسعوداحمد صاحب

نسائیات کی تاریخ بڑی دردناک اور کربناک ہے۔ یہ انسانیت کی پیشانی پر بدنما داغ ہے۔ حیف‘ جس کے آغوش میں انسان نے پرورش پائی‘ اسی آغوش کو زخمی کیا… جس نے بلندیوں پر پہنچایا‘ اسی کو پستیوں میں ڈالا… سرزمین عرب میں ایام جاہلیت میں معاشرے کی نظر میں خواتین کی جو قدروقیمت تھی‘ اس کا کچھ اندازہ ایک عرب شاعر کے ان خیالات سے ہوتا ہے۔

۱۔ لڑکیوں کو دفن کرنا ہی سب سے بڑی فضیلت ہے ۔

۲۔ موت عورت کے حق میں عزیز ترین مہمان ہے ۔

قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں لڑکیوں کی ولادت مرد کے لئے عذاب جاں تھی… جب کوئی مرد یہ خبر سنتا تو اس کا چہرہ مارے غصے کے سیاہ ہوجاتا اور وہ اسی غم میں پیچ و تاب کھاتا ۔ (سورہ زخرف آیت ۱۷)

لوگ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے جس کے لئے قرآن کریم میں فرمایاگیا کہ قیامت کے دن دفن ہونے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا بتا تجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا ۔ (سورہ تکویر آیت ۸/۹)

یعنی ایسے سفاک باپ کو قیامت کے دن چھوڑا نہیں جائے گا۔

ایک صحابی نے ایام جاہلیت میں اپنی بیٹی کو زندہ دفن کرنے کا دردناک واقعہ سنایا تو وہ خود بھی روئے اور سرکار دوعالمﷺ بھی روتے رہے۔

ہندوستان کا حال عرب سے بھی بدتر تھا۔ یہاں مرنے والے شوہروں کے ساتھ ان کی زندہ بیویاں جلائی جاتی تھی۔ اس رسم کو ’’ستی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ فرانس کے مشہور مورخ ڈاکٹر گستائولی بان نے لکھا ہے۔

’’یہ رسم ہندوستان میں عام ہوچلی تھی کیونکہ یونانی مورخوں نے اس کا ذکر کیا ہے‘‘

(ڈاکٹر گستائولی بان‘ تمدن ہند)

ابن بطوطہ  (م۔ ۷۷۹ھ … ۱۳۷۸ئ) جب ہندوستان آیا تو اس نے یہ وحشت ناک منظر خود دیکھے جس کا اپنے سفرنامہ میں ذکر کیا ہے ۔ (سفرنامہ ابن بطوطہ)

ایسا ہی ایک منظر دیکھتے دیکھتے وہ بے ہوش ہوکر گھوڑے سے زمین پر گرنے لگا تو لوگوں نے سنبھالا ۔(سفرنامہ ابن بطوطہ)

۱۸۳۹ء میں لارڈ بنٹنگ نے ستی ہونے یا ستی میں مدد دینے کو جرم قرار دیا۔ پھر بھی ماضی قریب میں ہندوستان میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں شوہر کی لاش کے ساتھ اس کی زندہ بیوی کو پھونک دیا گیا۔ یہ خبر ساری دنیا میں حیرت سے سنی گئی۔

یورپ بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ وہاں ۱۴۹۴ء اور ۲۲۔۱۵۲۱ء میں جادوگری کے الزام میں سینکڑوں عورتوں اور بچوں کو ذبح کردیا گیا ۔

بقول ڈاکٹر اسپرنگر عیسائی دنیا میں ۹۰ ہزار عورتوں کو مختلف نامعقول الزامات میں زندہ جلادیا گیا ۔

آج کل بوسنیا میں مسلمان عورتوں کے ساتھ نصاری جو سفاکانہ سلوک کررہے ہیں‘ سن سن کر روح انسانیت کانپ رہی ہے۔ امریکہ جس کا شمار ترقی یافتہ براعظم میں کیا جاتا ہے وہاں عورتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے‘ شاید تاریخ کے کسی دور میں ایسا سلوک نہیں کیا گیا ہوگا۔ ہر پانچ منٹ کے بعد ایک عورت کا دامن عصمت تار تار کیا جاتا ہے۔ یعنی چوبیس گھنٹے میں عصمت دری کے ۲۸۸ حادثات رونما ہوتے ہیں…آپ خود اپنے ضمیر سے پوچھیں۔ یہ جنت ہے یا جہنم؟ مختلف جرائم کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ چوبیس گھنٹے میں اٹھارہ سو جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ انا ﷲ و انا الیہ راجعون

اسلام نے عورت پر بڑا کرم فرمایا اور اس کو پستیوں سے بلندیوں پر پہنچایا… اور ایسا رئوف و رحیم رسولﷺ مبعوث فرمایا جس نے دنیا کی چیزوں میں خوشبو اور عورت کو پسند فرمایا… روسی فلسفی ٹالسٹائی ( ۱۹۱۰ئ) نے حضور انورﷺ کی سیرت پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہ حدیث پیش کی ہے۔

’’دنیا کی چیزیں صرف مال و متاع ہیں اور دنیا کی اچھی متاع نیک عورت ہے‘‘

آپ نے عورتوں پر جو کرم فرمایا وہ تاریخ انسانیت میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا… چند اقوال اور واقعات ملاحظہ فرمائیں۔

(۱) ایک صحابی نے عرض کیا ’’یارسول اﷲ سب سے زیادہ مجھ پر کس کا حق ہے‘‘ فرمایا ’’تیری ماں کا‘‘ یہ سوال تین مرتبہ کیا گیا‘ آپ نے یہی فرمایا ’’تیری ماں کا‘‘ پھر چوتھی مرتبہ عرض کیا ’’سب سے زیادہ مجھ پر کس کا حق ہے؟‘‘ تو فرمایا ’’تیرے باپ کا‘‘

آپ نے ملاحظہ فرمایا… اسلام کی نظر میں ماں کی کتنی قدرومنزلت ہے۔

(۲) حضرت علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہ الکریم کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد (م ۱۱ھ … ۶۳۲ھ) کا جب انتقال ہوا‘ حضور انورﷺ نے اپنی چادر شریف ان کے کفن کے لئے عطا فرمائی… اور جب لحد کھودی گئی تو آپ نے لحد میں اتر کر اپنے دست مبارک سے بغلی قبر کھودی اور مٹی باہر نکالی اور پھر خود لیٹ کر دیکھا ۔

اس قبر شریف کی منزلت کا کیا کہنا۔ افسوس صد افسوس جنت البقیع شریف میں اس قبر شریف کی چاروں طرف بلند دیواریں چن دی گئی ہیں۔ شاید اس لئے کہ عاشقان رسولﷺ اس کی زیارت سے محروم رہیں۔

(۳) حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا (م ۶۳ھ / ۶۸۲) بیوہ ہوگئیں۔ آپ کے ساتھ یتیم بچے بھی تھے۔ پریشانی کا عالم‘ کوئی یارومددگار نہیں… سرکار دوعالمﷺ نے اپنے لئے پیغام بھیجا… حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا چونکہ عیالدار تھیں۔ خیال آیا کہ شاید سرکار دوعالمﷺ بچوں کا بوجھ محسوس کریں۔ آپ نے عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا ’’عیال دار ہوں‘ یتیم بچے میرے ساتھ ہیں‘‘ سرکار دوعالمﷺ نے جو جواب عنایت فرمایا وہ ان مردوں کے لئے عبرت و نصیحت ہے جو عیالدار بیوہ عورتوں کا بوجھ اٹھانے سے پہلوتہی کرتے ہیں… آپ نے فرمایا … ’’تمہاری عیال‘ اﷲ اور اس کے رسول کی عیال ہے‘‘

(مدارج النبوت)

(۴) آپ کی رضاعی بہن شیما بنت حارث حالت کفر میں ایک جہاد میں قید ہوکر آئیں اور سرکار دوعالمﷺ کے سامنے پیش کی گئیں تو آپ پہچان گئے اور اپنی چادر شریف پر بٹھایا۔ فرمایا ’’اگر تم میرے پاس رہنا چاہتی ہو تو میرے پاس رہو‘ اپنے قبیلے میں جانا چاہتی ہو تو جاسکتی ہو‘‘ شیما نے عرض کیا کہ ’’اپنے قبیلے میں جانا چاہتی ہوں‘‘ آپ نے بہت سے اونٹ اور بکریاں دے کر اعزاز و اکرام سے روانہ کیا ۔ (سیرت حلبیہ)

ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضور انورﷺ خواتین پر کتنے مہربان تھے؟ عورتوں پر آپ کا یہی کرم تھا کہ جب پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو خواتین اور بچیاں استقبال کے لئے باہر آگئیں اور خوشی کے ترانے گانے لگیں… مدینہ منورہ میں حضور انورﷺ کے مستقل قیام سے ان کو کتنی خوشی تھی‘ اس کا اندازہ اس شعر سے لگایا جاسکتا ہے۔

نحن جوارین من بنی نجار

یا حبذا محمد من جار

جب سرکار دوعالمﷺ دنیا سے پردہ فرمارہے تھے تو خدمت اقدس میں خواتین ہی موجود تھیں۔ غم و الم کا عالم تھا۔ حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا (م ۵۰ھ / ۶۷۰ئ) فرمارہی تھیں ’’اے اﷲ آپ کی ساری تکلیفیں مجھ کو عطا فرمادے‘‘ محبت بھری اس دعا کو سرکار دوعالمﷺ سن رہے تھے۔ فرمایا ’’صفیہ نے سچ کہا‘‘ … آپ نے وصیت فرمائی کہ جب جسد اطہر پر مرد صلواۃ پڑھ چکیں تو عورتوں سے کہنا کہ وہ قطار در قطار آکر صلواۃ و سلام پیش کریں۔ سبحان اﷲ کیسا کرم فرمایا کہ دنیا سے پردہ فرماتے وقت بھی یاد رکھا… یہ تمام حقائق خواتین کے لئے باعث صد افتخار ہیں۔ وہ جتنا فخر کریں‘ کم ہے۔

کسی دوسری مذہبی کتاب میں خواتین کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی اہمیت قرآن حکیم نے دی ہے۔ سورہ مریم‘ حضرت مریم علیہا السلام کے نام سے معنون کی گئی… سورہ بقرہ‘ سورہ تحریم‘ سورہ نور وغیرہ میں خواتین کے لئے بہت سے احکام و مسائل ہیں… پھر اہم خواتین کا قرآن کریم میں ذکر کیاگیا ہے مثلا حضرت حوا علیہا السلام‘ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا‘ حضرت ذکریا علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ازواج مطہرات‘ حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادیاں‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور ہمشیرہ‘ حضرت یوسف علیہ السلام کی زوجہ مکرمہ‘ حضرت مریم علیہا السلام‘ ملکہ فرعون‘ ملکہ سبا اور صحابیات رضی اﷲ تعالیٰ عنہن

اﷲ تعالیٰ نے عورت اور مرد کے ازدواجی تعلق کو اتنا مقدس بنایا کہ اس کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا اور اس کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ انسان سکون و چین حاصل کرے اوراس تعلق کو محبت و مہربانی کا تعلق قرار دیا جس میں ہوس پرستی کا شائبہ تک نہیں… اسلام کا یہ تصور کہیں نہیں ملتا جبکہ جرمن فلاسفر نٹشے نے تو یہاں تک لکھا ہے

’’عورت کا مقصد حیات صرف یہ ہے کہ وہ مرد کی قید میں رہے اور اس کی خدمت کرتی رہے‘‘

روس کا مشہور فلسفی کائونٹ لیوٹالسٹائی (م ۱۹۱۰ئ) بھی خواتین کے متعلق اچھی رائے نہ رکھتا تھا۔ اس نے اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی رائے کا اس طرح اظہار کیا ہے۔

’’مرد کا فرض ہے کہ عورت سے اچھا سلوک کرے ار اس کی باگ ڈھیلی نہ چھوڑے بلکہ اسے گھر میں بند رکھے کیونکہ گھر عورت کی آزادی کے لئے کافی ہے‘‘

نکاح جیسے مقدس رشتے کے بارے میں بھی ٹالسٹائی کی رائے اچھی نہیں۔ شاید اس لئے کہ اس تجربے میں وہ ناکام ونامراد رہا‘ وہ لکھتا ہے

’’ہمارے زمانے میں نکاح محض ایک دھوکہ اور فریب ہوگیا ہے… ہم اس کو محض نفسانی خواہش پورا ہونے کا وسیلہ جانتے ہیں‘‘ (ٹالشتائی‘ پیغمبر اسلام)

اﷲ تعالیٰ نے خواتین کو بڑی رعایتیں دی ہیں اور رنج و مصیبت میں ان کا پاس و لحاظ رکھا ہے… مثلا مطلقہ عورت کے لئے یہ حکم ہے کہ عدت پوری ہونے تک اس کا خاوند اس کو راحت و آرام سے اپنے گھر میں رکھے۔ اس پر تنگی نہ کرے۔ اگر وہ حاملہ ہے تو پھر حمل کی مدت پوری ہونے تک اس کا سارا خرچہ برداشت کرے اور اس کی آسائش و آرام کا پورا پورا خیال رکھے… بچہ کی ولادت کے بعد اگر مطلقہ بیوی دو سال اس کو دودھ پلاتی ہے تو دو سال کی اجرت بھی ادا کرے ‘شاید یہ باتیں عجیب لگیں مگر یہ سب کچھ قرآن کریم میں ہے۔ ہم خواتین کو بتاتے نہیں‘ اپنے حقوق خوب یاد رکھتے ہیں… خواتین کو احکام شریعت کی پیروی کرتے ہوئے کسب معاش کی اجازت ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا کہ مرد کی کمائی میں سے مرد کا حصہ ہے اور عورت کی کمائی میں سے عورت کا حصہ ہے ۔ حضور انورﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت زینب بنت حجش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا (م ۲۰ھ / ۶۴۰ئ) اپنے ہاتھ سے چمڑے کی دباغت دیتیں‘ فروخت کرکے جو رقم آتی غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کردیتیں۔

(الاصابتہ فی معرفتہ صحابہ)

اﷲ تعالیٰ نے گھروں میں رہنے والی شریف خواتین کی عزت نفس کی حفاظت کے لئے مردوں کو بغیر اجازت لئے گھر کے اندر داخل ہونے سے منع فرمایا ۔اگر کسی خاتون سے بات کرنی ہے تو ادب یہ سکھایا کہ پردے کے پیچھے سے بات کی جائے ۔ اگر کوئی دعوت پر بلائے اور گھر میں خواتین بھی موجود ہوں تو کھانے کے بعد خواہ مخواہ باتوں میں مصروف نہ ہوں بلکہ کھا پی کر چلے آئیں ۔

حضور انورﷺ کے طفیل یہ سارے آداب ہم کو مل گئے‘ اب یہ ہماری بدنصیبی کہ ہم عمل نہیں کرتے۔

اﷲ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا۔ اس سے زیادہ کون ہمارے احوال سے واقف ہوگا؟ ہماری بھلائی اور برائی کا اس سے زیادہ کس کو علم ہوگا؟ ہم کو جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور جن سے روکا گیا‘ وہ صرف اور صرف ہماری بھلائی کے لئے… اﷲ تعالیٰ بے نیاز ہے‘ ذرا سوچیں تو سہی بندوں سے اس کو کیا غرض ہوگی؟ وہ ہمارے فائدے کے لئے جو حکم دیتا ہے… پردے کے بارے میں خواتین کو جو حکم دیا گیا وہ انہیں کے فائدے کیلئے ہے اگر وہ سوچیں اور غوروفکر کریں… سورہ نور اور سورہ احزاب میں خواتین کے پردے سے متعلق جن آداب کا ذکر کیا گیا وہ ہماری توجہ کے مستحق ہیں‘ توجہ فرمائیں۔

(۱) اپنے اپنے گھروں میں رہیں‘ دور جاہلیت کی طرح بے پردہ نہ پھریں ۔

(۲) دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالی رہیں اور غیر مردوں کو اپنا سنگھار نہ دکھائیں ۔

(۳) ہاں ان رشتہ داروں پر چھپا سنگھار ظاہر ہوجائے تو حرج نہیں مثلا خاوند‘ باپ (دادا پردادا) سسر‘ بیٹے‘ بھانجے‘ بھتیجے‘ بہت ہی بوڑھے اور نابالغ ملازم اور نوعمر لڑکے۔

(۴) خواتین بوقت ضرورت باہر نکلیں تو چادر کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈال لیں تاکہ پہچانی جائیں (کہ شریف ہیں) اور شرارت کرنے والے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ۔

(۵) مسلمان مردوں کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔

(۶) مسلمان عورتوں کو بھی حکم دیا جائے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآن حکیم ہم سے کس شرم و حیا اور غیرت وحمیت کا تقاضا کرتا ہے… روسی فلسفی ٹالسٹائی نے بھی سج بن کر‘ خوشبو لگا کر عورت کے باہر نکلنے سے متعلق یہ حدیث پیش کی ہے جس میں حضور انورﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔

’’جو عورت خوشبو لگا کر گھر سے نکلی پھر اس غرض سے لوگوں کے پاس سے گزری کہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں‘ وہ زانیہ ہے اور جنہوں نے اسے دیکھا ان میں سے ایک ایک کی آنکھ زانیہ ہے‘‘

موجودہ صورتحال‘ دل درد مند کے لئے تشویش ناک ہے‘ جس سے گھر میں رہنے اور پردہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ وہ بے پردہ گھر سے باہر ہے۔اور جس سے دروازہ کھلا رکھنے اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کے لئے کہا گیا تاکہ وہ بند دروازوں اور سخت پردوں میں رہے… اسلامی معاشرے کے ہر حاکم و افسر کو ہدایت کی گئی تھی۔ وہ دروازہ کھلا رکھے‘پہرے نہ لگائے… مگر یہاں تو رسائی بھی بہت مشکل ہے اور کبھی کبھی ناممکن بھی ہوجاتی ہے… خواتین کے آداب مردوں نے اپنالئے‘ اے کاش! ہم عقل سلیم سے کام لیتے۔

قرآن حکیم میں پردے کے متعلق جو کچھ ہدایات دی گئیں‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا (م ۵۸ھ / ۶۷۷ئ) نے اس پر عمل کرکے بہترین نمونہ پیش کیا… ازواج مطہرات میں علم ودانش میں کوئی آپ کا ثانی نہ تھا… تاریخ و حدیث سے ہمیں ان واقعات کا علم ہوتا ہے۔

۱۔ ایک مرتبہ حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا باریک دوپٹہ اوڑھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ نے ان کا دوپٹہ چاک کردیا اور فرمایا ’’اﷲ تعالیٰ نے سورہ نور میں کیا فرمایا ہے؟‘‘ اس تنبیہ کے بعد دبیز کپڑے کی چادر منگوا کر حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا کو عنایت فرمائی ۔

۲۔ ایک مرتبہ کسی کے ہاں آپ کا جانا ہوا‘ صاحب خانہ کی دو جوان لڑکیاں بغیر چادر‘ باریک دوپٹہ اوڑھے نماز پڑھ رہی تھیں‘ آپ نے ہدایت فرمائی کہ آئندہ دبیز کپڑے کی چادر اوڑھ کر نماز پڑھی جائے ۔

۳۔ ایک مرتبہ ابن اسحاق نابینا‘ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ پردے میں ہوگئیں… ابن اسحاق نے عرض کیا کہ میں تو نابینا ہوں۔ آپ نے پردہ کیوں فرمایا… فرمایا‘ میں تو بینا ہوں‘ دیکھ رہی ہوں ۔

۴۔  حضور انورﷺ کے عہد مبارک میں خواتین مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوتیں اور عیدین کے لئے بھی حاضر ہوتیں مگر نامساعد حالت کی وجہ سے عہد فاروقی میں خواتین پر پابندی لگادی گئی اور انہوں نے مسجد نبوی شریف میں آنا بند کردیا… حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ (م ۲۳ھ/ ۴۔۶۴۳ئ) کے اس عمل کی تائید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

’’اگر رسول اﷲﷺ کو معلوم ہوتا کہ خواتین کی حالت یہ ہوگئی ہے تو آپ ان کو مسجد میں آنے سے اس طرح روکتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا‘‘

مندرجہ بالا واقعات سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا خواتین سے کیا توقع رکھتی ہیں اور کیا چاہتی ہیں… اسلام جہاں جہاں پھیلا‘ ایشیا میں‘ افریقہ میں‘ یورپ میں… ساتھ ساتھ پردہ بھی پھیلتا چلا گیا۔ یہ ہمیشہ اسلامی شعائر میں ایک عظیم شعار شمار کیا گیا… انتہائی عروج کے زمانے میں جبکہ اسلامی سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ پردہ مسلم اور غیر مسلم خواتین کے درمیان ایک نشان امتیاز بنا رہا… بلکہ غیر مسلم حکومتوں میں بھی یہ امتیاز قائم رہا۔

۱۹۱۴ء سے قبل روس میں مسلم خواتین پردے میں رہتیں‘ قرآن کریم حفظ کرتیں‘ وہاں حفظ قرآن کا عورتوں اور مردوں میں عام رواج تھا۔ (اخبار الموید مصر ۱۵ اگست ۱۹۰۲ئ)

روس کی مسلم خواتین مدارس بھی قائم کرتیں۔ ایک روسی خاتون صفیہ علیہ خانم نے اپنے خرچ سے ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا تھا… الغرض ماضی میں اسلامی معاشرے میں جو کچھ ترقی ہوئی‘ پردے میں رہ کر ہی ہوئی‘ حد تو یہ ہے کہ خواتین جہاد میں شریک ہوتیں‘ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں‘ کبھی خود جہاد میں حصہ لیتیں۔ یہ سب کچھ حیا کے ساتھ‘ پردہ میں رہ کر ہی کیا جاتا… دور جدید میں جہاں اسلامی انقلاب آیا‘ یا اسلام کے نام پر انقلاب آیا‘ وہاں پہلی بات یہ دیکھی گئی کہ بے پردہ عورتیں‘ پردہ دار ہوگئیں اور ان کی ہیبت دشمنان اسلام کے دلوں میں ایسی بیٹھی کہ وہ خوفزدہ ہوگئے… جدید معاشرے کی بے پردگی نے اسلامی معاشرے کو کچھ نہ دیا اور نہ تاریخ میں کسی باب کا اضافہ کیا… یہ دردمند خواتین کے لئے سوچنے کی بات ہے… اگر بے پردگی ترقی کی ضامن ہوتی تو آج سارے عالم میں ہم اس طرح رسوا نہ ہوتے… مشہور مورخ آرنلڈ ٹوئمبی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ انسانی معاشروں کی تباہی میں عورت کی آزارہ روی اور بے پردگی کو بڑا دخل ہے… مورخ موصوف نے عالمی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد اس رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس لئے اس کو کسی تعصب یا تنگ دلی پر محمول نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ اس تاریخ حقیقت پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر کرنا چاہئے… حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے معاشرے کی بنیاد پاکیزگی پر رکھی ہے۔ ہمہ گیر پاکیزگی… زندگی کے ہر شعبے کی پاکیزگی… مغربی سازشیوں نے اسلام کی ہر معقول بات کو نامعقول بنا کر دکھایا… اور اپنی ہرنامعقول بات کو معقول بناکر دکھایا ایسا پروپیگنڈہ کیا کہ عقلیں مائوف ہوگئیں اور آنکھیں پٹ ہوگئیں۔ اسلام نے خواتین پر بے شمار احسانات کئے مگر ایک پردے کی معقول ہدایت (جو خواتین ہی کی عصمت و عفت اور حسن و جمال کی حفاظت کی ضامن ہے) بعض خواتین کو اچھی نہیں معلوم ہوئی۔ دشمنان اسلام نے اس کی اچھائیوں کو چھپایا اور نام نہاد برائیوں کو اچالا… اس طرح خواتین کے ذہنوں کو پراگندہ کرکے اسلام کی سچائی سے ان کو دور کردیا… ذرا غور کریں‘ خواتین کی بے پردگی نے جسمانی آرائش و زیبائش کا راستہ کھولا‘ پھر اس نے بے حیائی کی صورت اختیار کی اور بے حیائی نے عریانی اور بدکرداری کا دروازہ کھول دیا… نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب یورپ و امریکہ انسانوں کی سرزمین نظر نہیں آتے‘ حیوانوں اور درندوں کے جنگل معلوم ہوتے ہیں… اس بے حیائی کے جو نتائج سامنے آئے‘ ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

۱۔ خواتین کا غیر محفوظ ہونا

۲۔ خواتین کے اغوا‘ اور زنا کی وارداتیں عام ہونا

۳۔ خواتین میں جذبہ امومت کا مرجانا

۴۔ بدنگاہی اور پراگندہ خیالی عام ہونا

۵۔ مردوں کا جنسی امراض میں مبتلا ہونا

۶۔ عورت کے تقدس کا پامال ہونا

ابھی کچھ روز کی بات ہے۔ پردہ دار خواتین کی عزت کی جاتی تھی اور اب بھی کی جاتی ہے… بسوں میں اس کے لئے سیٹ خالی کردی جاتی تھی لیکن بے پردہ خاتون کی تکریم کے لئے لوگ تیار نہیں… وہ بسوں میں جس حال میں سفر کرے کسی کو کوئی سروکار نہیں… دور جدید میں عورت کی بے پردگی نے اس کو اس حد تک رسوا کیا ہے کہ وہ اخبارات و رسائل اور اشتہارات کی زینت بن کر نفع اندوزی کا ایک وسیلہ بن کر رہ گئی ہے… جہاں جہاں خواتین کو جگہ دی جاتی ہے‘ احترام کی وجہ سے نہیں‘ تجارت چمکانے اور نفع حاصل کرنے کے لئے… عورت پر اسلام کی نظر مشفقانہ ہے اور جدید معاشرے کی نظر خالصتاً تاجرانہ ہے… سچی بات یہ ہے کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی عظمت و شوکت کا دارومدار صرف اور صرف حضور اکرمﷺ کی پیروی میں ہے… عالمی سطح پر ہماری رسوائی کی بڑی وجہ دلوں کا عشق مصطفےﷺ سے خالی ہونا اور عمل کا سنت نبویﷺ سے عاری ہونا ہی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ (م ۲۳ھ ۴۔۶۴۳) نے سچ فرمایا۔

’’ہم وہ قوم ہیں جس کو اﷲ نے اسلام کی بدولت عزت دی‘‘