لوہے کا آنکڑا

نگہت راشد

جھوٹ اور اس سے بچنے سے متعلق بے شمار احادیث مبارکہ وارد ہیں۔صحیحین میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔

منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے‘ روزہ رکھے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔

(۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔

(۲) وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔

(۳) جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے (صحیح مسلم‘ صحیح بخاری)

نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

ہمارے ہاں عام طور پر محض اپنی بڑائی کی خاطر یا پھر کسی دنیوی مفاد کے پیش نظر بات بات پر جھوٹ بولنا بڑا عام ہوچکا ہے اور بعض لوگ اس قدر اعتماد سے جھوٹ بولتے ہیں کہ سننے والا اسے سچ سمجھ کر اس کی تصدیق بھی کررہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں سے متعلق نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔

’’یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات کرو اور وہ اس میں تمہاری تصدیق کرے لیکن تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو‘‘

امام بخاری روایت کرتے ہیں:

حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ جبرائیل اور میکائیل میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ارض مقدسہ لے گئے۔ میں نے دیکھا وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے اور دوسرا اس کے پاس کھڑا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے۔وہ آنکڑا اس کی بانچھ میں داخل کرتا ہے اور آنکڑے سے اس کی بانچھ کو گدی تک پہنچا دیتا ہے۔ پھر وہ آنکڑا دوسری بانچھ میں داخل کرتا ہے اور بانچھ کو گدی تک پہنچا دیتا ہے۔ اتنے میں پہلی بانچھ مل جاتی ہے وہ اس میں پھر آنکڑا ڈال دیتا ہے (الی اخیرہ) جبرائیل نے کہا کہ جس شخص کی بانچھ پھاڑ کر گدی تک پہنچائی جارہی تھی یہ وہ شص ہے جو جھوٹ بولتا ہے۔ پھر اس سے وہ جھوٹ نقل ہوکر ساری دنیا میں پھیل جاتا تھا۔ اس کو قیامت تک اسی طرح عذاب دیا جاتا رہے گا (صحیح بخاری ج ۱)

مذکورہ حدیث مبارکہ ان لوگوں کے لئے درس عبرت ہے جوکہ اپنے سیاسی اغراض و مفاد کی خاطر پورے ملک میں جھوٹی افواہیں پھیلاتے اور جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے پھرتے ہیں اور ملک کا امن وسکون غارت کرتے ہیں اور جس کی وجہ سے ملک کی پوری معیشت و سیاست پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔

بہزبن حکیم کہتے ہیں کہ میرے دادا رضی اﷲ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا اس شخص کے لئے عذاب ہے جو بات کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے تاکہ لوگوں کو ہنسائے‘ اس کے لئے عذاب ہے‘ اس کے لئے عذاب ہے۔ (سنن ابو دائود ج ۱)

وہ لوگ جو لوگوں کو محض ہنسانے اور اپنی واہ واہ کروانے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں ان کے لئے یہ حدیث ایک بہترین سبق ہے۔ دور حاضر میں ایسے وہ لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں جو محض چند روپوں کی خاطر اسٹیج پروگرام اور مختلف ڈراموں میں کام کرتے ہیں۔ یہ وہ بدقسمت لوگ ہیں جنہوں نے اس کام کو نہ صرف اپنی روزی کا ذریعہ بنا رکھا ہے بلکہ وہ ایسا کام کرنے کو عوام کی خدمت اور بعض تو اس کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔توبہ نعوذ باﷲ

جھوٹ بولنا ایک ایسی برائی ہے جس کو چھپانے کی خاطر انسان ہزاروں مزید جھوٹ بول جاتا ہے۔ وہ جتنا جھوٹ بولتا جائے وہ مزید اس کے شکنجے میں جکڑتا چلا جاتا ہے بالاخر اس کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے اور اس کاپول کھل جاتا ہے۔ اور پھر پورے معاشرے میں ذلیل و رسوا ہوجاتا ہے۔ جھوٹ بولنے کی وجہ سے انسان خود پر سے لوگوں کا اعتماد کھو دیتا ہے۔ جھوٹ کا سہارا لے کر وہ  جگہ جگہ ٹھوکریں کھاتا ہے اور پھر ناکامی و نامرادی کو وہ خود اپنا مقدر بنالیتا ہے۔

مسلمان کو چاہئے کہ وہ گفتگو میں اپنی زبان کی حفاظت کرے ہاں ایسا کلام جس میں کوئی بھلائی ہو‘ اس کے لئے زبان کا استعمال افضل ہے۔ کیونکہ خاموشی میں سلامتی ہے اور سلامتی سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔

نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔ ابوہریرہ راوی ہیں کہ :

ترجمہ : جو شخص اﷲ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ جب بھی بات کرے تو اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔

نیز ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ کون سا مسلمان افضل ہے۔ آپﷺ نے فرمایا وہ مسلمان جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں (صحیح مسلم ج ۱)

ہمارے معاشرے میں اور بدقسمتی سے مسلمانوں میں ایسے لوگ پیدا ہوچکے ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر جھوٹی گواہی دینے کو اپنا پیشہ بنا رکھا ہے اور ملک کی کسی بھی عدالت میں چلے جایئے ایسے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں عدالت کے اردگرد گھوم رہے ہوتے ہیں اور پیسے لے کر کسی کے بھی حق میں‘ کسی کے بھی خلاف ہر قسم کی جھوٹی گواہی دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ ان کا ضمیر مردہ ہوچکا ہے۔ انہیں ذرا سا بھی احساس نہیں ہوتا ہے کہ ان کی جھوٹی گواہی کے ذریعے سے کتنے خاندانوں کی زندگیاں اجڑ جاتی ہیں۔ کتنوں کو ان کی جھوٹی گواہی زندگی بھر کے لئے ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال سکتی ہے یا پھر ان کو تختہ دار پر پہنچا سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جس کی وجہ سے آج تک ہمارے ملک میں انصاف کا بول بالا نہ ہوسکا۔ ایسے لوگوں سے متعلق روایت ہے کہ جھوٹی گواہی اﷲ تعالیٰ کے ساتھ دو مرتبہ شریک ٹھہرانے کے برابر ہے ‘گویا کہ اس عمل کو شرک قرار دیا گیا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ قیامت کے دن جھوٹی گواہی دینے والے کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔ حتی کہ ان کے لئے جہنم کا فیصلہ سنا دیا جائے گا (الترغیب والترہیب ج ۳)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں۔

حضرت اسماء بنت یزید رضی اﷲ عنہما بیان فرماتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا تین صورتوں کے سوا جھوٹ بولنا جائز نہیں۔

(۱) ایک شخص اپنی بیوی کو راضی کرنے کیلئے جھوٹ بولے۔

(۲) جنگ میں جھوٹ بولنا

(۳) لوگوں میں صلح کروانے کے لئے جھوٹ بولنا

اس طریقے سے علامہ شامی نے احیاء العلوم کے حوالے سے لکھاہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کا اپنی عزت‘ جان‘ مال بچانے کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے اور دوسرے مسلمان کی جان‘ مال اور عزت بچانے کے لئے جوٹ بولنا واجب ہے (تبیان القرآن ج ۱ ص ۳۰۲)

جمہور فقہاء اسلام میں تعریض اور توریہ کے طورپر جھوٹ بولنا جائز لکھا ہے لیکن بعض فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ تعریض اور توریہ میں اس قدر وسعت ہے کہ اگر تعریض اور توریہ سے کام لیا جائے تو پھر حقیقتاً جھوٹ بولنے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

اس کو لکھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہو کہ تعریض اور توریہ کیا چیز ہیں۔

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا معاریض مسلمان کو جھوٹ بولنے سے مستغنی کردیتی ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا مجھے معاریض سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہیں۔

علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں کہ تعریض تصریح نہ کرنے کو کہتے ہیں اور معاریض کے معنی ایک چیز کا دوسری چیز سے توریہ یعنی کنایہ و اشارہ کرنا ہے۔

علامہ تقتازانی لکھتے ہیں کہ جب اشارہ ایک جانب کیا جائے اور مراد دوسری جانب ہو تو یہ تعریض ہے (مختصر المعانی ص ۴۴۱)

اور توریہ کی تعریف لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوں قریب اور بعید۔ اور بولنے والا کسی خفی قرینہ کی بناء پر اس لفظ کا بعید معنی مراد لے اور مخاطب اس سے قریب سمجھے (مختصر المعانی ص ۴۵۶)

قرآن و حدیث میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا  تین مقام پر جھوٹ بولنا اسی توریہ و تعریض کی قبیل سے ہے۔

ہجرت مدینہ کے موقع پر جبکہ کفار کی طرف سے بے حد خطرہ لاحق تھا‘ راستے میں ایک شخص جس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے حضورﷺ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا‘ یہ شخص کون ہے۔ آپ نے فرمایا ’’ہادی‘‘ ہیں۔

صحرا میں راستہ بتلانے والے کو ہادی کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک معنی ہدایت دینے والے کے بھی ہیں۔ چنانچہ ابوبکر نے اس کو صحرائے عرب کو قرینہ بنا کر یہ بتایا کہ یہ مجھے راستہ بتانے والے ہیں اور خود یہ مطلب لیا کہ یہ انسانیت کو کفر سے راہ راست پر لانے والے ہیں۔

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں آکر ایک شخص نے سواری طلب کی۔ آپﷺ نے فرمایا میں تم کو اونٹ کے بچے پر سوار کروں گا۔ اس شخص نے کہا یارسول اﷲﷺ میں اونٹ کے بچے کا کیا کروں گا۔ آپﷺ نے فرمایا جو اونٹ پیدا ہوتا ہے وہ اونٹ کا بچہ ہی ہوتا ہے (بخاری شریف)

اسی طریقے سے ایک بڑھیا حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور اس نے حضورﷺ سے دخول جنت کی دعا کی درخواست کی۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔ اس پر وہ بڑھیا بڑی پریشان ہوئی اور رونے لگی۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔ ہر بوڑھی عورت جوان ہوکر جنت میں داخل ہوگی۔ اس پر وہ ہنس پڑی۔

قرآن مجید کی آیات‘ احادیث‘ آثار صحابہ اور فقہاء کی تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس جگہ کسی مصلحت سے جھوٹ بولنا پڑے تو صراحتہ جھوٹ بولنے کے بجائے توریہ اور تعریض سے کام لینا چاہئے تاہم بعض مواقع پر صراحتہ جھوٹ بولنے کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ امام غزالی و علامہ شامی کے حوالے سے ذکر کیاگیا ہے کہ مسلمان کیلئے اپنی جان‘ مال و عزت بچانے کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے لیکن یہ رخصت ہے اور عزیمت اس کے برعکس ہے۔ اور دوسرے مسلمان کی جان‘ مال اور عزت بچانے کے لئے جھوٹ بولنا واجب ہے اور ان مواقع پر بھی توریہ مستحسن ہے (تبیان القرآن ج ۱ )

دیکھئے دین اسلام نے ہمارے لئے کتنی آسانیاں رکھی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم ان آسانیوں کا فائدہ اٹھانے سے غافل ہیں۔ یہ دراصل ہماری کم علمی اور دین اسلام کی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے۔ یہ ہر ہر مقام پر آکر خود ہماری رہنمائی کرتا ہے لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم خود اس سے کوسوں دور ہیں۔ اس لئے آج ہم بے راہ روی کا شکار ہیں۔

اﷲ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے اور میری اس حقیر سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین