اﷲ کی بارگاہ میں تین شخص ناپسند ترین ہیں

حدیث نمبر :140

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ کی بارگاہ میں تین شخص ناپسند ترین ہیں حرم میں بے دینی کرنے والا ۱؎ اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی۲؎ مسلمانوں کے خون ناحق کا جویاں تاکہ اس کی خونریزی کرے۳؎(بخاری)

شرح

۱؎ الحاد کے معنی ہیں میلان اور جھکنا۔شریعت میں باطل کی طرف جھکنے والے کو ملحد کہتے ہیں۔بدعقیدہ اور گنہگار دونوں ملحد ہیں،یعنی حدود مکہ مکرمہ میں گناہ کرنے والا یا گناہ پھیلانے والا یا بدعقیدگی اختیار کرنے والا یا رائج کرنے والا کہ اگرچہ یہ حرکتیں ہر جگہ ہی بری ہیں مگر حرم شریف میں بہت زیادہ بری کہ اس مقام کی عظمت کے بھی خلاف ہے اور جیسے حرم میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ایسے ہی ایک گناہ کا عذاب بھی ایک لاکھ ہے اسی لیئے حضرت ابن عباس نے مکہ چھوڑکر طائف میں قیام کیا۔

۲؎ یعنی مسلمان ہو کر مشرکانہ رسوم کو پسند کرے اور پھیلائے جیسے نوحہ،سینہ کوبی،فال نکالنا وغیرہ اس سے روافض کو عبرت چاہیئے کہ انہوں نے جاہلیت کی رسموں کو عبادت سمجھ رکھا ہے۔

۳؎ یعنی مسلمان کو ظلمًا قتل کرنا تو بڑا گناہ ہے قتل کی کوشش بھی بدترین جرم ہے۔اس میں وہ سب لوگ داخل ہیں جو بے قصور کو قتل کریں،کرائیں،مشورہ دیں اورقتل کے بعد قاتل کو ناحق چھڑانے کی کوشش کریں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.