سرسیداحمد خان کون تھے؟ ھمیں اس بات سے غرض نہیں البتہ وہ کیا کہہ گئے ھمیں اس سے ضرور غرض ھے . فیس بک پر سب سے بڑا المیہ یہ ھے کہ ھم کسی شخصیت کا تصور ذھن و قلوب میں چسپاں کرکے اسکے ھر منفی و مثبت انداز کو سراہنا شروع کردیتے ھیں حالانکہ ھر شخص سے ذھول و نسیان ممکن ھے، قرآن حکیم کے بعد ھر کتاب میں لغزش و غلطی کا امکان ھے اسی طرح قرآن کے بعد ھر ھر شخصیت سے ذھول و نسیان ممکن ھے ….. سرسیداحمد کے اقاویل و فرمودات ھم فیس بک کے قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ھیں. واضح رہے کہ ھم اپنی ذاتی رائے اس میں ذکر نہ کرینگے اور فیصلہ اپنے قاری کے سپرد کرتے ھیں

نوٹ. یہ اقوال انکی تفسیر سے نقل کئے گئے ھیں

سرسیداحمد صاحب معجزات انبیاء کے منکر تھے، ھذہ ناقۃ اللہ لکم آیۃ یہ اونٹنی تمہارے لئے نشانی ھے … اسکی توجیہ سرسید صاحب یوں کرتے ھیں ” قوم ثمود کو جو احکام حضرت صالح علیہ السلام نے نسبت ناقۃ کے بتائے اس سبب سے اس پر بھی آیت کا لفظ اطلاق ھوا” .. اپنی تفسیر کے ص 139 میں فرماتے ھیں ” مگر اس تفسیر میں چند نقصان ھیں اول تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ خدا نے لوگوں کے نہ ماننے یا جھٹلانے سے کیوں معجزوں کا بھیجنا بند کردیا “

…… ملائکہ کے خارجی وجود کے منکر تھے . ص 140 میں فرماتے ھیں” جبریل و میکائیل یہودیوں نے فرشتوں کے لئے مقرر کئے تھے اور انکے ہاں سات فرشتے نہایت مشہور ہیں مگر اسکا ثبوت نہیں کہ کسی نبی نے انکو بتایا تھا کہ یہ فرشتوں کے نام ھیں بلکہ ایسا معلوم ھوتا ھے کہ صفت انبیاء میں کوئی صفت باری میں سے کسی خاص لفظ کے ساتھ تعبیر کی گئی تھی پھر رفتہ رفتہ وہ لفظ فرشتہ کا نام متصور ھونے لگا الخ” ….. سرسیداحمد فرماتے ھیں ” مگر ھمارے ہاں کے علماء نے بھی یہودیوں کی تقلید میں انکو فرشتوں کے نام قرار دئیے ھیں الخ ” سرسیداحمد فرماتے ھیں ” علماء یہود یہ سمجھتے ھیں کہ جبریل بڑے زبان داں ھیں اسی سبب سے مسلمانوں نے تصور کیا ھے کہ یہی خدا کی وحی یعنی قرآن کی آیتیں خدا سے سن کر یاد کرتے تھے اور آنحضرت کو سناتے تھے”

فرماتے ھیں ” بہرحال ھم کو اس میں شبہ نہیں کہ یہ الفاظ صفات باری تعالٰی پر مستعمل تھے آخر کو انہیں الفاظ کو فرشتوں کا نام سمجھنے لگے الخ” . فرماتے ھیں ” مگر جبریل و میکائیل آیت قل من کان عدوا للہ و ملائکتہ و رسلہ و جبریل و میکال فان اللہ عدو للکافرین میں حکایتا نام ھونے سے انکو ایسے واقعی پر جیسا کہ یہودیوں نے اور انکی پیروی میں مسلمانوں نے تصور کیا ھے استدلال نہیں ھوسکتا “

فرماتے ہیں ” قرآن میں فرشتوں کا ذکر آیا ھے اور اسلئے ہر ایک مسلمان کو جو قرآن پر یقین رکھتا ھے فرشتوں کے موجود ھونے اور انکے مخلوق ھونے پر یقین کرنا ضروری ھے جہاں تک بحث ھے اس پر بحث ھے کہ وہ کیسی مخلوق ھے الخ” …. واضح رہے کہ اس سے قبل سید صاحب فرما چکے کہ ملائکہ خدا کی صفات ھیں اور اب یہی صفات مخلوق بن گئیں کیونکہ خدا کی صفات مخلوق نہیں ھو سکتیں…. فرماتے ھیں قرآن میں اس قسم کا کلام غیر مقصود نہایت کثرت سے ھے

سرسیداحمد فرماتے ھیں مشرکین و اہل کتاب کے عندیہ میں بہت سی باتیں سمائی ھوئی تھیں جنکا دراصل کچھ وجود نہ تھا یا وجود تھا مگر اسکی جو حقیقت کہ وہ سمجھتے تھے دراصل وہ نہ تھی یہ قول سیدصاحب نے ص 140 پر فرمایا اس تمہید کا حاصل یہ ھے کہ قرآن میں تبعا ایسی بہت سی باتیں مذکور ھیں جنکا دراصل واقعی وجود نہ تھا لیکن انکو مخاطب سمجھتے تھے لہذا فرشتوں کی بابت بھی یہی حکم ھے کہ جس قدر قرآن میں وجود ملائکہ پر بحث ھے وہ کلام غیر مقصود ھے . ص 147 پر فرماتے ھیں زمانہ کی تمام قوموں کا یہ حال تھا کہ جو امور عجیب و غریب انکے سامنے پیش آتے تھے جسکی علت انکی سمجھ سے باھر تھی اسکو کسی ایسی قوت یا ایسے شخص سے منسوب کرتے تھے جو انسان سے برتر اور خدا سے کمتر تھی الخ . ص 150 پر فرماتے ھیں بعض لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ یہودیوں کا یہ دستور ہے کہ خدا کی عظمت اور قدرت کے ظہور کو فرشتوں کی وساطت کی طرف منسوب کرتے ہیں . ص 151 پر فرماتے ھیں اب ھم کو اس بات کی تلاش کرنی ھے کہ قدیم مشرکین عرب کا یعنی اس زمانہ کے عربوں کا جبکہ یہودیوں کا میل جول عرب میں نہ تھا فرشتوں کی نسبت کیا خیال تھا وہ لفظ ملک اور ملائکہ کو انہیں معنی میں خیال کرتے کہ جن میں یہودی کرتے تھے یا نہیں . جہاں تک ھم نے تفتیش کی ھے قدیم عربوں کا لفظ ملک اور ملائکہ کی نسبت ایسا خیال نہیں جیسا یہودیوں کا ھے ثابت نہیں ھوا الخ …. خیال رہے کہ یہود اور اہل اسلام میں ملائکہ کی نسبت چنداں اختلاف نہیں لیکن سیدصاحب یہود کے نام سے حقارت دلانے کے لئے تعبیر کرتے ھیں…..

سیدصاحب فرماتے ہیں ملائکہ کا اطلاق ان قدرتی قوی پر جن سے انتظام عالم مربوط ھے اور ان شئون قدرت کاملہ پروردگار پر جو اسکی ہر ایک مخلوق میں بہ تفاوت درجہ ظاہر ھوتی ھیں ملائکہ کا اطلاق ھوا ھے ….. خیال رہے کہ سید صاحب قبل ازیں یہ فرما چکے کہ ملائکہ سے مراد خدا تعالیٰ کی صفات ھیں یہاں خود اسکے مخالف ھوگئے اور ایک جگہ اس سے اگلے ہی صفحہ پر آپ نے جبریل کو ملکہ نبوت کہہ دیا. اب سیدصاحب کے نزدیک ملائکہ کا اطلاق ان تین امور پر ھے ملکہ نبوت، صفات خدا تعالیٰ، قوائے مدبر عالم . یہ تینوں آپس میں غیر اور نقیض ھیں ،،،، سیدصاحب فرماتے ھیں ان آیات میں جنکی ھم تفسیر لکھتے ھیں کلام مقصود اسقدر ھے کہ جو شخص اس وحی کا عدو ھو جو خدا نے محمد رسول اللہ علیہ السلام کے دل میں ڈالی ھے الخ اس جگہ وہ جبریل سے مراد وحی لیتے ھیں . واضح رہے کہ جبریل کے سید صاحب نے تین معنی بیان کئے 1 وحی 2 وحی کا پہنچانے والا 3 ملکہ نبوت . یہ تینوں آپس میں متضاد ھیں . ص 152 میں فرماتے ھیں پس درحقیقت یہودی جسکو جبرئیل کہتے تھے اور جسکا نام حکایتا خدا نے بیان کیا وہ ملکہ نبوت آنحضرت علیہ السلام میں تھا جو وحی کا باعث تھا ،،،

ص 36 پر جنت کے بارے میں سیدصاحب فرماتے ھیں پس بہشت کی کیفیت بالذات کا جسکو قرۃ اعین کے ساتھ تعبیر کیا ھے بیان کرنا گو کہ خدا ہی اسکا بیان کرنا چاہے محال سے بھی بڑھ کر محال ھے . ص38 میں کہتے ھیں یہ سمجھنا کہ جنت مثل ایک باغ کے پیدا ہوئی ھے اس میں سنگ مرمر اور موتی کے جڑاو محل ھیں باغ میں شاداب و سرسبز درخت ھیں دودھ و شراب کی نہریں بہ رہی ھیں ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ھے، ساقی و ساقنین نہایت خوبصورت چاندی کے کنگن پہنے ہوئے جو ھمارے ہاں کی گھوسنیں پہنتی ھیں شراب پلارہی ھیں، ایک جنتی ایک حور کے گلے میں ہاتھ ڈالے پڑا ھے، ایک نے ران پر سر دھرا ھے ایک چھاتی سے لپٹا رہا ھے، ایک نے لب جان بخش کا بوسہ لیا ھے کوئی کسی کونے میں کچھ کررہا ھے، کوئی کسی کونے میں کچھ بیہودہ پن ھے جس پر تعجب ھوتا ھے اگر یہی بہشت ھے تو بلامبالغہ ھماری خرابات اس سے ہزار درجہ بہتر ھے انتہی. ص 40 پر فرماتے ھیں حکماء الہی اور انبیاء دونوں ایک سا کام کرتے ھیں ….. مزید فرماتے ھیں تربیت یافتہ دماغ ان چیزوں سے محض راحت سمجھتا ھے نہ یہ کہ وہاں ایسی چیزیں بھی موجود ھیں اور کوڑ مغز ملا یا شہوت پرست زاھد یہ سمجھتا ھے کہ درحقیقت بہشت میں حوریں ملیں گی اور میوے کھاویں گے اور شرابیں پئیں گے .

واضح رہے کہ ھم نے صرف سیدصاحب کے اقوال ذکر کئے ھیں ان پر رد یا تردیدی دلائل اور اپنا موقف ذکر نہ کیا . پوسٹ کے علاوہ کمنٹس سے گریز کریں، سخت کمنٹس یا بیہودہ گفتگو سے اجتناب کریں پوسٹ کے مندرجات کے علاوہ کمنٹس ڈلیٹ کردیئے جائیں گے

ابوالحقائق احمد

کراچی پاکستان