بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُـنُوۡدِۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبۡتَلِيۡکُمۡ بِنَهَرٍ‌ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّىۡ‌ۚ وَمَنۡ لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡٓ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَةً ۢ بِيَدِهٖ‌‌ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡهُ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَةَ لَنَا الۡيَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ‌ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰهِۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً ۢ بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ

پھر جب طالوت اپنے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا تو اس نے (اہل لشکر سے) کہا : بیشک اللہ تمہیں ایک دریا کے ذریعہ آزمائش میں مبتلا کرے گا ‘ سو جس نے اس سے (پانی) پی لیا اور میرے طریقہ پر نہیں ہوگا ‘ اور جس نے اس دریا سے صرف ایک آدھ چلو کے علاوہ نہ پیاوہ میرے طریقہ پر ہوگا ‘ تو چند لوگوں کے سوا سب نے اس سے خوب پانی پیا ‘ پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ ایمان والے اس دریا سے گزر گئے تو (پانی پینے والوں نے) کہا : آج جالوت اور اس کے لشکریوں سے لڑنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ‘ جن لوگوں کو یہ یقین تھا کہ وہ اللہ سے ملاقات کرنے والے ہیں انہوں نے کہا ؛ بہت دفعہ اللہ کے حکم سے قلیل جماعتیں کثیر جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں ‘ اور اللہ (مدد کرنے کے لیے) صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

طالوت کی فتح اور جالوت کی شکست کا بیان :

طالوت عمالقہ سے قتال کرنے کے لیے اپنے لشکر کے ساتھ بیت المقدس سے روانہ ہوئے اس کی تفسیر میں حافظ جلال الدین سیوطی نے یہ حدیثیں بیان کی ہیں :

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے کہ اسی ہزار بنو اسرائیل طالوت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے ‘ اس زمانہ میں جالوت سب سے زیادہ طاقت ور شخص تھا اور اس کی بہت زیادہ ہیبت تھی ‘ وہ اپنے لشکر میں سب سے آگے رہتا تھا اور ابھی اس کا لشکر اس تک نہیں پہنچ پاتا تھا کہ وہ دشمن کو شکست دے دیتا تھا ‘ جب طالوت کا لشکر روانہ ہوا تو طالوت نے اہل لشکر سے کہا : عنقریب اللہ تمہیں ایک دریا کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرے گا ‘ سو جس نے اس دریا سے (سیر ہو کر) پی لیا وہ میرے طریقہ پر نہیں ہوگا ‘ اور جس نے اس سے صرف ایک آدھ چلو کے علاوہ نہ پیا وہ میرے طریقہ پر ہوگا ‘ چار ہزار کے سوا باقی سب نفوس نے جالوت کی ہیبت سے اس دریا سے پانی پی لیا اور ان چار ہزار افراد نے ہی اس دریا کو عبور کیا اور باقی ماندہ چھہتر ہزار لشکری دریا عبور نہ کرسکیں جن لوگوں نے دریا سے سیر ہو کر پانی پیا تھا وہ سخت پیاس میں مبتلا ہوگئے اور جنہوں نے چلو بھر کر پانی پیا تھا ان کو پیاس نہیں لگی اور جب طالوت نے اس کے ساتھ مومنوں نے دریا عبور کرلیا اور انہوں نے جالوت کو دیکھا تو انہیں نے کہا آج ہم جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ان میں سے بھی تین ہزار چھ سو اسی نفوس واپس ہوگئے اور طالوت اہل بدر کی تعداد کے مطابق تین سو تیرہ نفوس کے ساتھ باقی رہ گئے۔

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس دریا میں ان کو مبتلا کیا گیا تھا وہ فلسطین میں تھا (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣١٨ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

حافظ ابن عساکر روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : طالوت کا لشکر ایک لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ افراد پر مشتمل تھا ‘ تین سو تیرہ افراد کے سوا باقی سب نے اس دریا سے پانی پی لیا ‘ اور یہ غزوہ بدر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی تعداد کے برابر تین سو تیرہ افراد تھے۔ طالوت نے ان سب کو واپس کردیا اور ان کے ساتھ صرف تین سو تیرہ افراد رہ گئے ‘ جب طالوت اور ان کے ساتھ مومنوں نے دریا کو عبور کرلیا تو انہوں نے طالوت سے کہا : آج ہم جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے اور جو لوگ آخرت اور اللہ سے ملاقات پر یقین رکھتے تھے ‘ انہوں نے کہا : کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے قلیل جماعت کثیر جماعت پر غالب آجاتی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کی مدد کرتا ہے ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فتح اور نصرت کی دعا کی اور دعا وہ واحد ہتھیار ہے جو صرف مومنوں کے پاس ہے اور کافروں کے پاس نہیں ہے۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو ایک زرہ دی اور فرمایا : جس شخص کے جسم پر یہ زرہ پوری آجائے گی وہ اللہ کے حکم سے جالوت کو قتل کردے گا ‘ اور طالوت کے منادی نے ندا کی : جو شخص جالوت کو قتل کرے گا میں اس کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کر دوں گا اور اپنا آدھا ملک اور آدھا مال اس کو دے دوں گا (یہ زرہ حضرت داؤد پر پوری آئی تھی) حضرت داؤد کا پورا نام ونسب یہ ہے :

داؤدبن ایشا بن حصرون بن قانص بن یہودا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام۔

وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت داؤد نے اپنے تو بڑے میں ہاتھ ڈالا تو تین پتھر مل کر ایک پتھر بن گئے، حضرت داؤد نے اس پتھر کو نکال کر اپنی منجنیق میں ڈال دیا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے بندے داؤد کی مدد کرو ‘ جب حضرت داؤد نے آگے بڑھ کر اللہ اکبر کہا تو جن وانس کو چھوڑ کر تمام فرشتوں اور حاملین عرش نے نعرہ تکبیر بلند کیا ‘ جب جالوت نے اللہ اکبر کی گونج دار آوازوں کو سنا تو اس نے یہ سمجھا کہ تمام دنیا نے مل کر اس پر حملہ کردیا ہے ‘ زور سے آندھی چلی اور ان پر اندھیرا چھا گیا ‘ جالوت خود الٹ کر گرگیا ‘ حضرت داؤد نے منجنیق میں پتھر ڈال کر اسے چھوڑا تو اس سے تین پتھر نکلے ‘ ایک پتھر جالوت کی پیشانی پر لگ کر آر پار ہوگا اور وہ مقتول ہو کر زمین پر جا گرا دوسرا پتھر لشکر جالوت کے میمنہ پر جا کر گرا اور ان کو تباہ کردیا ‘ تیسرا پتھر ان کے میسرہ پر گرا اور ان کو یوں لگا جیسے ان پر پہاڑ آگرا ہو وہ سب گھبرا پیٹھ موڑ کر بھاگے اور ایک دوسرے کے پاؤں تلے روندے گئے اور کچلے گئے ‘ طالوت بنواسرائیل میں کامیاب اور کامران ہو کر لوٹے اللہ نے ان کو ان کے دشمنوں پر فتح اور نصرت عطا فرمائی ‘ طالوت نے حسب وعدہ حضرت داؤد سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور ان کو نصف سلطنت اور نصف مال عطا کردیا اور اس کے بعد حافظ ابن عساکر نے حضرت ابن عباس (رض) اور مکحول سے ایک طویل قصہ روایت کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس فتح کے بعد بنواسرائیل حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زیادہ پسند کرنے لگے اور وہ چاہتے تھے کہ پورا ملک ان ہی کو دے دیا جائے ‘ طالوت کو اس سے حسد ہوا اور اس نے حضرت داؤد کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا لیکن طالوت کی بیٹی جو حضرت داؤد کی اہلیہ تھیں انہوں نے ان کو بروقت سازش سے آگاہ کردیا ‘ طالوت اور اس کے گھر والے مارے گئے اور تمام بنو اسرائیل حضرت داؤد کی زیر سلطنت آگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو زبور عطا کی اور ان کو زرہ بنانے کا عمل سکھایا اور پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے حلم کے تابع کردیا ‘ جب حضرت داؤد تسبیح کرتے تو وہ انکے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ طبری نے بیان کیا ہے کہ طالوت کی حکومت چالیس سال رہی۔ (مختصر تاریخ دمشق ‘ ج ١١ ص ١٧٠۔ ١٦٧ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 249