بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَـتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ

یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم حق کے ساتھ آپ پر تلاوت فرماتے ہیں ‘ اور بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم حق کے ساتھ آپ پر تلاوت فرماتے ہیں ‘ اور بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں۔ (البقرہ : ٢٥٢)

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر دلیل اور آپ کو تسلی دینے کا بیان :

ان آیات کا اشارہ ان ہزاروں اسرائیلیوں کی طرف ہے جو طاعون کی صورت میں موت کو دیکھ کر شہر چھوڑ کر بھاگے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری کردی ‘ پھر ایک نبی کی دعا سے ان کو زندہ کردیا ‘ اور طالوت کو بادشاہ بنایا اور اس کی بادشاہت کی دلیل پر تابوت کو نازل کیا ‘ اور عمالقہ اور جالوت کو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھوں قتل کرایا ‘ اور یہ تمام واقعات اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ‘ اس کی حکمت اور اس کی رحمت پر دلالت کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان آیات کو آپ پر ہم تلاوت فرماتے ہیں ‘ حالانکہ ان آیات کو آپ پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے تلاوت کیا تھا ‘ اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا پڑھنا گویا اللہ کا پڑھنا ہے ‘ اس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اسی طرح مشرف فرمایا ہے جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت افزائی کے لیے فرمایا :

(آیت) ” ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ “۔ (الفتح : ١٠)

ترجمہ : بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا : ہم ان آیات کو حق کے ساتھ آپ پر تلاوت کرتے ہیں جو اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) جس طرح سابقہ امتوں نے اللہ کی راہ میں سختیوں اور مصائب کو برداشت کیا اس طرح آپ کی امت کو بھی جہاد فی سبیل اللہ میں سختیوں اور مشقتوں کو برداشت کرنا چاہیے یعنی یہ واقعات حق ہیں اور ان میں تدبیر کرکے ان پر عمل کرنا چاہیے۔

(٢) حق سے مراد یقین ہے یعنی ان واقعات کے ثبوت میں کوئی شک نہیں ہے ‘ کیونکہ سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی یہ واقعات ایسی طرح لکھے ہوئے ہیں۔

(٣) ہم نے ان واقعات کو ایسی فصیح وبلیغ عبارات میں بیان کیا ہے کہ کوئی شخص ان کی نظیر نہیں لاسکتا ‘ اور یہ آپ کے برحق ہونے پر دلیل ہے۔

(٤) یہ آیات حق ہیں ‘ یعنی یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں ‘ یہ القاء شیطان سے ہیں نہ کاہنوں اور جادوگروں کی تحریف ہیں نہ شعر و شاعری ہیں ‘ اس کے بعد فرمایا : بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں ‘ کیونکہ یہ آیات دو وجہ سے آپ کی رسالت پر دلالت کرتی ہیں :

(١) آپ نے سابقہ امتوں کے یہ واقعات بیان فرمائے جن کی تصدیق اس زمانہ کی آسمانی کتابوں میں موجود تھی حالانکہ سب جانتے تھے کہ آپ نے کسی مکتب میں جا کر پڑھنا نہیں سیکھا ‘ نہ علماء اہل کتاب سے آپ نے یہ واقعات سنے اس کے باوجود جب آپ نے بغیر پڑھے اور سنے یہ واقعات بالکل درست بیان فرمادیئے تو یہ اس بات پر روشن دلیل ہے کہ اللہ نے اپنی وحی کے ذریعہ آپ کو ان سے مطلع فرمایا اور اس نے اپنا کلام آپ پر نازل فرمایا :

(٢) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما کر آپ کو یہ بتایا کہ ہر زمانہ میں رسولوں کی مخالفت ہوتی رہی ہے اور ان کا انکار کیا جاتا رہا ہے ‘ سو اگر کچھ لوگ آپ کو نہیں مانتے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ‘ رسولوں سے ہمیشہ اسی طرح ہوتا آیا ہے ‘ ہر زمانہ میں رسولوں کو اسی لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچا دیں اور وہ اپنی خوشی اور اختیار سے اس کو قبول کرلیں ‘ کسی رسول کو بھی جبرا مسلمان کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ‘ سو اگر بعض ضدی اور ہٹ دھرم لوگ آپ کی رسالت کو نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ کو کلی طور نہ ماناجانا عین تاریخ رسالت کے مطابق ہے اور اگر یہ آپ کو رسول نہیں مانتے تو کیا ہوا ہم تو کہتے ہیں کہ آپ ضرور اللہ کے رسولوں میں سے ہیں !

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 252