عظمت نماز

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیٔ کریم علیہ السلام نے فرمایا بتائو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو ،کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گا ،صحابہ نے عرض کی اس کا کچھ میل باقی نہ رہے گا آپ نے فرمایا بس یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے ۔اللہ ان کے ذریعہ گناہوں کو مٹادیتا ہے ۔ (بخاری ومسلم)

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ بندے اور کفر کے درمیان حد فاصل صرف نماز ہے ۔ (مسلم شریف)

حضرت بریدہ ر ضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا :ہمارے اور کافروں کے درمیان نماز ہی کا عہد ہے ،پس جس نے اس کو چھوڑا اس نے کافروں جیسا کام کیا ۔ (ابن ماجہ)

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سردی کے موسم میں جبکہ پتے جھڑ رہے تھے ،حضورا باہر تشریف لے گئے (میں آپ کے ساتھ تھا )پس آپ نے ایک درخت کی دوٹہنیاں پکڑیں(اور انہیں ہلایا )تو ان سے پتے جھڑنے لگے۔آپ نے فرمایا:اے ابو ذر!میں نے عرض کیا ،لبیک یا رسول اللہا! آپ نے فرمایا جب بندئہ مسلم خالص اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے اس درخت سے جھڑ رہے ہیں ۔ (مشکوٰۃشریف)

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز کے لئے مارو اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔ (ابو دائود)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما،حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آپ نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جس نے نماز کی پابندی کی تو نماز اس کے لئے ذریعۂ نور ہے ،کمالِ ایمان کی دلیل اور سبب نجات ہوگی قیامت کے دن اور جو نماز کی پابندی نہ کرے گا اس کے لئے نہ نور ہوگا ،نہ دلیل ہوگی اور نہ نجات اور قیامت کے دن اس کا حشر قارون ،فرعون ،ہامان،اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا ۔ (مشکوٰۃ)

حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول ﷺ نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر خیال نہ کرتے تھے ۔ (ترمذی شریف)

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جس نے دورکعت نماز بغیر سہو کے ادا کی اللہ تعالیٰ نے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے۔ (ترمذی شریف)

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا جس نے نماز عشاء جماعت سے ادا کی ،گویا اس نے نصف شب عبادت کی اور جس نے نماز فجر بھی جماعت سے ادا کی ،گویا اس نے پوری رات عبادت میں گزاری۔ (مسلم شریف)

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ میں نے حضور ﷺ سے سنا کہ جو نماز فجر کے لئے چلا وہ ایمان کا جھنڈا لیکر چلا اور جو بازار کی طرف (بلا ضرورت) چلا وہ شیطان کا جھنڈا لیکر چلا ۔ (ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور صف اول میں کتنا ثواب ہے اور موقع نہ پائیں تو وہ اس کے لئے قرعہ اندازی کریں ،اور اگر وہ نماز ظہر کا اجر جان لیںتو اس کی طرف سبقت کریں ،اور اگر نماز فجر وعشاء کا ثواب جان لیں تو ان دونوں میں ضرور شریک ہوں ،چاہے سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ (بخاری ومسلم)

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ محتشمﷺن نے فرمایا ہے کہ بندہ جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تواس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اس کے اوراللہ کے درمیان جو حجاب ہے وہ اٹھا دیا جاتا ہے اور حوریں اس کا استقبال کرتی ہیں جب تک کہ نمازی ناک نہ صاف کرے۔ (طبرانی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا: تم میں رات اور دن کو فرشتے باری باری آتے ہیں اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر چڑھتے ہیں وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہو تی ہے۔ ان سے ان کا رب پوچھتا ہے ( حالانکہ وہ ان کو خوب جانتا ہے )کس طرح چھوڑا ہے تم نے میرے بندوں کو ؟ وہ کہتے ہیں ہم نے ان کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری شریف)

حضور سید عالمﷺ نے فرمایا:جب بندہ اول وقت میں نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز آسمانوں تک جاتی ہے اور وہ نورانی شکل میں ہوتی ہے یہاں تک کہ عرش الٰہی تک جا پہنچتی ہے اور نمازی کے لئے قیامت تک دعا کرتی رہتی ہے کہ اللہ د تیری حفاظت فرمائے جیسے تونے میری حفاظت کی ہے اور جب آدمی بے وقت نمازپڑھتاہے تو اس کی نماز سیاہ شکل میں آسمان کی طرف چڑھتی ہے جب وہ آسمان تک پہنچتی ہے تو اسے بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر پڑھنے والے کے منہ پر مارا جاتا ہے۔ (بیہقی)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کر کے فجر کی ادائیگی کے لئے آیا اور دو رکعت سنت پڑھ کر نماز با جماعت کے انتظار میں محوِ ذکر رہا تو اس کی نماز ابرار کی سی نمازہو جائے گی۔ اور اس کا نام رحمانی قاصدوں میں لکھا جائے گا۔ (طبرانی )

حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور اقدس ا ارشاد فرماتے ہیں جو اللہد کے لئے چالیس روز با جماعت نماز ادا کرے اور تکبیر اولیٰ پائے تو اس کیلئے دو آزادیاں ہیں ایک نار جہنم سے اور دوسری نفاق سے۔ (ترمذی )

نبیٔ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایارات میں میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیااور ایک روایت میں ہے کہ اپنے رب کو نہایت ہی جمال کے ساتھ تجلی کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے فرمایا : اے محمد(ﷺ)! میں نے کہا ’’لَبَّیْکَ وَ سَعْدَیْکَ ‘‘ اس نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ ملائکہ کس امر میں بحث کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں جانتا اس نے اپنا دست قدرت میرے شانوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور جو کچھ مشرق و مغرب کے درمیان ہے میں نے جان لیاپھر فرمایا اے محمد (ﷺ )جانتے ہو ملائکہ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟میں نے عرض کیا ہاںدرجات و کفارات اور جماعتوں کے چلنے اور سردی اور پورا وضو کرنے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں اور جس نے اس کی محافظت کی خیر کے ساتھ زندہ رہے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو گا جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہواتھا۔(ترمذی شریف )٭٭٭٭