بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَهَزَمُوۡهُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ وَالۡحِکۡمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ ‌ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ

سو اللہ کے حکم سے انہوں نے ان (کافروں) کو شکست دے دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے انہیں سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور جن چیزوں کا چاہا انہیں علم عطا فرمایا ‘ اور اگر اللہ بعض لوگوں (کے شر) کو بعض (نیک) لوگوں کے سبب سے دور نہ فرماتا تو ضرور زمین تباہ ہوجاتی لیکن اللہ تمام جہانوں پر فضل فرمانے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اللہ بعض لوگوں (کے شر) کو بعض (نیک) لوگوں کے سبب سے دور نہ فرماتا تو ضرور زمین تباہ ہوجاتی۔ (البقرہ : ٢٥١)

نیکوکاروں کی برکت سے گنہ گاروں سے عذاب کا دور ہونا :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جالوت اور اس کے لشکر کے فساد کو طالوت اور اس کے لشکر سے دور فرمادیا اور جالوت کو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ سے قتل کرا دیا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ عام قاعدہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے وہ مفسدین کے شر کو مصلحین سے دور فرماتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ زمین تباہ ہوجاتی اور قیامت آجاتی ‘ اس آیت میں مفسدین اور مصلحین کے متعلق کئی تقریریں کی گئی ہیں ‘ بعض ازاں یہ ہیں۔

(١) اللہ تعالیٰ ظالم اور جابر حکمران کے جبر کو کسی نیک شخص کے سبب سے دور کردیتا ہے جیسے فرعون کے جبر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور جالوت کے جبر کو حضرت داؤد (علیہ السلام) سے دور کردیا۔

(٢) اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر کو انبیاء (علیہم السلام) کی ہدایت اور تبلیغ سے دور فرما دیتا ہے :

(آیت) ” کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور “۔ (ابراہیم : ١)

ترجمہ : یہ کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو (کفر کے) اندھیروں سے (ایمان کی) روشنی کی طرف نکالیں۔

(٣) اللہ تعالیٰ علماء اور صالحین کے سبب سے لوگوں کو معاصی اور برائیوں سے دور کردیتا ہے :

(آیت) ” کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر “۔ (آل عمران : ١١٠)

ترجمہ : تم بہترین امت ہو جس کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔

(آیت) ” ادفع بالتیھی احسن السیءۃ “۔ (المؤمنون : ٩٦)

ترجمہ : برائی کو اچھے طریقہ سے دور کرو۔

(آیت) ” ویدرء ون بالحسنۃ السیءۃ “۔ (القصص : ٥٤)

ترجمہ : اور وہ بدی کو نیکی کے ذریعہ دور کرتے ہیں۔

اس مفہوم میں وہ حکام بھی داخل ہیں جو اللہ کے احکام کو نافذ کرتے ہیں اور اللہ کی حدود کو قائم کرتے ہیں :

(٤) اللہ تعالیٰ انبیاء ‘ خلفاء سلاطین اور حکام کے ذریعہ لوگوں سے قتل و غارت گری ‘ لوٹ مار ‘ اور فتنہ و فساد کو دور فرماتا ہے۔

(آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوت ومسجد یذکرفیھا اسم اللہ کثیرا “۔ (الحج : ٤٠)

ترجمہ : اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور راہبوں کی عبادت گاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں گرا دیں جاتیں جن میں اللہ کے نام کا بہ کثرت ذکر کیا جاتا ہے۔

امام (خلیفہ) یا سلطان یاحاکم کی حجت اور اس کی اطاعت پر حسب ذیل احادیث شاہد ہیں :

حافظ نور الدین الہیثمی بیان کرتے ہیں :

حضرت ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے سلطان کی عزت کی اللہ قیامت کے دن اس کو عزت عطا کرے گا ‘ اس حدیث کو امام احمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور امام احمد کے راوی ثقہ ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر میرا حق ہے اور تم پر امراء کا بھی حق ہے ‘ جب تک وہ تین چیزوں کو قائم رکھیں ‘ جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں ‘ جب وہ فیصلہ کریں تو عدل کریں اور جب وہ عہد کریں تو اس کو پورا کریں اور جس نے یہ نہیں کیا اس پر اللہ کی ‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘ ان کا فرض قبول نہ ہوگا نہ نفل ‘ اس کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس میں بعض راوی غیر معروف ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢١٦۔ ٢١٥‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بغیر امام کے مرگیا وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرا۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢١٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

(٥) اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کے سبب سے کفار اور فساق پر ہونے والے عذاب کو دور کردیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا تو اس عذاب سے زمین تباہ ہوجاتی ‘ اس کی تصدیق ان آیات میں ہے :

(آیت) ” وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیھم “۔ (الانفال : ٣٣)

ترجمہ : اور اللہ (کے شایان شان) نہیں کہ وہ انہیں عذاب دے درآں حالیکہ آپ ان میں موجود ہیں۔

(آیت) ” لوتزیلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذابا الیما “۔۔ (سورہ الفتح: ٢٥)

ترجمہ : اگر وہ ایمان والے وہاں سے نکل جاتے تو ہم ان (مکہ والوں میں سے) کافروں کو دردناک عذاب دیتے۔

حضرت خضر اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) نے گاؤں والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار بنادی حالانکہ ان لوگوں نے ان کی میزبانی اور ضیافت سے انکار کردیا تھا ‘ اور دیوار بنانے کی اجرت بھی نہیں لی ‘ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس کی وجہ بیان کی :

(آیت) ” واما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ وکان تحتہ کنزلھما وکان ابوھما صالحا “۔ (الکہف : ٨٢)

ترجمہ : اور رہی دیوار تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔

اور اس کی تصدیق ان احادیث میں ہے ‘ حافظ جلال الدین سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابن جریر اور امام ابن عدی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نیک مسلمان کے سبب سے اس کے پڑوس کے سو گھروں سے بلاؤں کو دور کردیتا ہے۔

امام ابن جریر اور امام ابن عدی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نیک مسلمان کے سبب سے اس کے پڑوس کے سو گھروں سے بلاؤں کو دور کردیتا ہے۔

امام ابن جریر نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ایک نیک مسلمان کے سبب سے اس کی اولاد ‘ اولاد در اولاد ‘ اس کے اہل خانہ اور اس کے پڑوس کی اصلاح فرما دیتا ہے اور جب تک وہ شخص ان میں رہے اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرماتا ہے۔

امام ابن ابی حاتم اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نمازیوں کے سبب بےنمازیوں سے عذاب کو دور کردیتا ہے ‘ اور حج کرنے والوں کے سبب سے حج نہ کرنے والوں سے عذاب کو دور کردیتا ہے ‘ زکوۃ نہ دینے والوں کے عذاب کو دور کردیتا ہے۔

امام احمد ‘ حکیم ترمذی اور امام ابن عساکر نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام میں چالیس ابدال ہیں ‘ جب بھی ان میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو اللہ دوسرے کو اس کا بدل بنا دیتا ہے ‘ ان کے وسیلہ سے بارش ہوتی ہے اور دشمنوں کے خلاف مدد حاصل ہوتی ہے ‘ اور ان کے سبب سے اہل شام سے عذاب دور کیا جاتا ہے اور امام ابن عساکر کی روایت میں ہے ‘ انکے سبب سے روئے زمین سے بلاء اور غرق کیے جانے کو دور کیا جاتا ہے۔

امام طبرانی نے ” معجم کبیر “ میں حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت میں تیس ابدال ہیں ‘ انہی کے وسیلہ سے زمین قائم ہے ‘ انہی کے وسیلہ سے بارش ہوتی ہے اور انہی کے وسیلہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٢٠‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 251