حدیث نمبر :141

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گی ۱؎ عرض کیا گیا منکرکون ہے؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری کی بہشت میں گیا جس نے میری نافرمانی کی منکرہوا ۲؎(بخاری)

شرح

۱؎ یہاں امت سے مراد امت اجابت ہےجنہوں نے حضور کی تبلیغ کو قبول کرکے کلمہ پڑھ لیا ورنہ حضور کی امت دعوت تو ساری خلقت ہے۔

۲؎ انکار سے مراد عملی انکار ہے اور اس میں گنہگار مسلمان داخل ہیں اور جنت میں داخلے سے مراد اوّلی داخلہ ہے،یعنی متقی مؤمن اوّلی داخلہ کے مستحق ہیں،فاسق اس کے مستحق نہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہے اور اگر انکارسے اعتقادی انکار مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان جنت کا مستحق ہے کافر نہیں،مگر پہلے معنی زیادہ صحیح ہیں۔