حدیث نمبر :143

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ تین ٹولے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی خدمت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت معلوم کرنے کے لیے حاضرہوئے ۱؎ جب انہیں عبادات کی خبر دی گئی تو غالبًا انہوں نے اسے کچھ کم سمجھا ۲؎ تو بولے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیانسبت رب تعالٰی نے ان کی اگلی پچھلی سب لغزشیں بخش دیں۳؎ لہذا ان میں ایک بولاکہ میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا ۴؎ دوسرا بولامیں ہمیشہ روزہ دار رہوں گا کبھی افطار نہ کروں گا ۵؎ تیسرا بولا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا کبھی نکاح نہ کروں گا۶؎ پھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم ہی وہ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا خبردار رہو کہ خدا کی قسم میں تم سب میں اﷲ سے زیادہ ڈرنے والا اور خوف کرنے والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں افطاربھی کرتا ہوں نمازبھی پڑھتا ہوں سوتابھی ہوں بیویوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۷؎ جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۸؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ رھط دس سے کم کی جماعت کو کہا جاتا ہے،یہاں غالبًا بمعنی فرد ہے،یعنی۳ صحابہ حضرت علی،عثمان ابن مظعون اور عبداﷲ ابن رواحہ یا مقداد ابن اسود حضور کی رات کی عبادتوں کو معلوم کرنے کے لیئے کسی بیوی پاک کے پاس حاضر ہوئے ورنہ دن کی عبادات تو وہ جانتے ہی تھے۔(مرقاۃ)

۲؎ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حضور ساری رات جاگتے ہی ہوں گے اور سوا عبادت کے کوئی کام نہ کرتے ہوں گے مگر بتایا یہ گیا کہ شب میں سوتے بھی ہیں،جاگتے بھی ہیں،اور جاگتے میں عبادت بھی کرتے ہیں،دنیاوی کام بھی تب انہیں یہ خیال گزرا۔

۳؎ سبحان اﷲ! کیا ادب ہے کہ اس کمئ عبادت کو حضور کی عظمت شان کی دلیل بنایا اور یہ توجیہ کی کہ عبادت کی زیادتی گناہ معاف کرانے کے لیئے چاہیئے،حضور بے گناہ ہیں اگر بالکل عبادت نہ کریں تو بھی درست ہے۔خیال رہے کہ کہ یہ کلام قرآن کریم سے ماخوذ ہے:”لِّیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ”اس آیت کی بہت توجیہیں کی گئی ہیں،مگر قوی بات یہ ہے کہ ذَنْب سے مراد لغزش ہے نہ کہ گناہ۔عشق کہتا ہے کہ”ذَنۡۢبِکَ”سے مراد امت کے گناہ ہیں،جن کا بخشواناحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ذمہ ہے،جیسے پیروی کرنے والا وکیل کہتا ہے کہ آج میرا مقدمہ ہے۔

۴؎ یعنی ہر رات تمام شب بیدار رہ کر۔

۵؎ سوا ممانعت کے پانچ دنوں کے شوال کی پہلی اور بقر عید کی دسویں،گیارھویں،بارھویں،تیرھویں تاریخ کہ ان میں روزے رکھنا حرام ہیں۔

۶؎ کہ نکاح ہی رب سے غفلت،دنیا میں پھنسنے کا ذریعہ ہے،اسی وجہ سے طلب معاش کی فکر ہوتی ہے۔

۷؎ سبحان اﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم کو عیسائیوں اور سادھوؤں کی طرح تارك الدنیا نہ بنایا بلکہ دنیا کو دین بنایا کیونکہ حضور کا ہر کام سنت۔لہذا افطار بھی سنت،رات کو تہجد پڑھنا اور سونا بھی سنت،نکاح کرنا،اولاد حاصل کرنا،دنیوی کاروبار کرنا سبھی سنت اور عبادت ہے جس پر ثواب ملتا ہے۔ان شاءاﷲ !مؤمن کو ان سب کاموں پر ثواب ہے۔اس جگہ مرقاۃ نے خوف صحابہ کا بہت بڑا قصہ بیان کیا ہے۔

۸؎ یعنی جو کسی سنت کو برا جانے وہ اسلام سے خارج ہے یا جو بلا عذر ترک سنت کا عادی ہوجائے وہ میرے پرہیزگاروں کی جماعت سے خارج ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔خیال رہے کہ نکاح اکثر سنت ہے کبھی فرض اور کبھی حرام بھی ہوجاتا ہے۔چنانچہ نامرد کو نکاح منع ہے حضور علیہ ا لصلوۃ والسلام کی ہرسنت پر عمل کی کوشش کرنی چاہیئے۔