تقویٰ اور پرہیزگاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں

حدیث نمبر :144

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی کام کیا پھر اس کی اجازت ہوگئی ۱؎ مگر ایک گروہ نے اس سے پرہیز کیا۲؎ یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے خطبہ پڑھا اور اﷲ کی حمدکی پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان چیزوں سے بچتے ہیں جو میں کرتا ہوں اﷲ کی قسم میں ان سب سے اﷲ کو زیادہ جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اﷲ سے خوف والا ہوں۳؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی مباح دنیوی کام کیا جس کی وجہ سے لوگوں کے لیئے مباح ہی نہیں بلکہ سنت بن گیا۔حدیث میں ذکر نہ ہوا کہ وہ کون سا کام تھا شاید روزے دار کے لیئے بیوی کو بوسہ تھا یا سفرمیں روزۂ رمضان کا چھوڑنا۔(مرقاۃ)

۲؎ یہ سمجھ کر کہ اگرچہ جائز یہ بھی ہے مگر اس کا نہ کرنا تقویٰ ہےحضور کا یہ فعل فقط بیان جواز کے لیئے ہے۔

۳؎ کہنا کہ نہیں تقویٰ اور پرہیزگاری میری اطاعت میں ملے گی جیسے رات کو خوف خدا میں رونا سنت اور عبادت ہے،ایسے ہی آرام سے سونا بھی سنت اور عبادت ہے کیونکہ دونوں میرے طریقے ہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.