بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ وَلِىُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡلِيٰٓـــُٔهُمُ الطَّاغُوۡتُۙ يُخۡرِجُوۡنَهُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے ‘ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے ‘ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے دوست شیطان ہیں ‘ وہ ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں ‘ وہ دوزخی لوگ ہیں ‘ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘۔

مومنوں کو ظلمات سے نکالنے کے محامل :

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا : ہدایت گمراہی سے خوب واضح ہوچکی ہے ‘ اس پر یہ سوال ہوتا تھا کہ جب ہدایت گمراہی سے خوب واضح ہوچکی ہے ‘ اس پر یہ سوال ہوتا تھا کہ جب ہدایت گمراہی سے خوب واضح ہوچکی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ سب لوگ ایمان نہیں لائے ؟ لہذا اس آیت میں بتلایا ہے کہ ایمان کی دولت اللہ کی توفیق سے نصیب ہوتی ہے اور جن لوگوں نے شیاطین سے دوستی رکھی وہ اللہ کی توفیق سے محروم ہوگئے اور شیطان نے انہیں کفر کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔

ولی کا یہاں معنی ہے مددگار ‘ محب ‘ اور کارساز یعنی اللہ مؤمنین کا محب ہے یا مدد گا رہے یا کار ساز ہے ‘ اس آیت میں فرمایا ہے : اللہ مؤمنوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکلتا ہے اس پر سوال ہے کہ مومن تو ایمان کی وجہ سے نور میں ہیں نہ کہ ظلمات میں پھر ان کو ظلمات سے نکالنے کا کیا معنی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اخراج کے دو معنی ہوسکتے ہیں حقیقت اور مجاز اگر حقیقت مراد ہو تو ایمان والوں سے مراد ہے : جنہوں نے ایمان لانے کا ارادہ کیا تو ان کو اللہ کفر کے اندھیروں سے ایمان کے نور کی طرف نکالتا ہے یا معنی ہے : اللہ مؤمنوں کو ان کے نفوس کی ظلمانیت سے آداب شریعت کی طرف نکالتا ہے یعنی ان کو رضاء ‘ صدق ‘ توکل ‘ معرفت اور محبت الہی کی راہ میں ڈال دیتا ہے ‘ یا معنی ہے : ان کو وحشت اور فرقت کے اندھیروں سے سکون اور وصل کے نور کی طرف نکالتا ہے ‘ یا اخراج سے مجازا باز رکھنا مراد ہے یعنی مؤمنوں کو ظلمات کفر سے دور رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے دوست طاغوت ہیں وہ ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔ (البقرہ : ٢٥٧)

کفار کو نور سے نکالنے کے محامل :

یہاں پر بھی یہ سوال ہے کہ کفار کے لیے نور کب ثابت ہے جو انہیں نور سے نکال کر ظمت کی طرف لایا گیا ‘ کفر تو ہے ہی ظلمت اس کے متعدد جوابات ہیں۔

بعض مفسرین نے کہا : اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے وہ لوگ ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے ‘ پھر شیطان کے بہکانے میں آکر وہ ہمارے نبی سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے اور آپ کے ساتھ انہوں نے کفر کیا اور یوں وہ نور سے نکل کر ظلمت میں آگئے۔ بعض نے کہا : اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلہ سے فتح کی دعائیں کرتے رہے اور جب آپ مبعوث ہوگئے تو انہوں نے شیطان کے کہنے میں آکر آپ کے ساتھ کفر کیا اور یوں روشنی سے اندھیرے میں آگئے بعض نے کہا : انہوں نے فطرت اسلام کے نور کو ترک کرکے کفر کے اندھیرے کو اختیار کیا ‘ بعض نے کہا : عالم ارواح میں انہوں نے ” بلی “ کہہ کر جو اقرار کیا تھا اس کے نور سے نکل کر وہ کفر کے اندھیروں میں آگئے۔

طاغوت کا معنی :

طاغوت کا لفظ طغیان سے ماخوذ ہے ‘ اور طغیان کا معنی ہے : کسی چیز کی حد سے تجاوز کرنا ‘ یہ لفظ اصل میں ملکوت طرح مصدر ہے اور اس میں تاء زائد ہے۔ طاغوت سے مراد بت ہیں یا شیطان ‘ بعض محققین نے کہا : طاغوت چار ہیں : (١) ابلیس لعنہ اللہ (٢) وہ شخص جو اپنی عبادت کیے جانے پر راضی ہو (٣) وہ شخص جو لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کی دعوت دے (٤) جو شخص وحی الہی کے بغیر علم غیب کا مدعی ہو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 257